لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
ابھی تک سننے میں آتا تھا کہ دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کے باعث گولیاں چلیں اور کچھ فوجیوں کو آ پنچھیی جان گنوانی پڑی۔ شاید یہ پہلی بار ہے کہ ایک ہی ملک کے دو صوبوں کے درمیان سرحد کے تنازعے)(Assam-Mizoram dispute) میں گولیاں چلیں اور 6 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ گزشتہ دوشنبہ کو آسام اورمیزورم کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ بحث موضوع گفتگو بنی۔ آسام کے وزیراعلی نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے دخل اندازی کی اپیل کی۔ اس سے قبل کے مرکزی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں کوئی پیش رفت ہوتی شام ہوتے ہوتے پولیس کے پانچ اہلکار اور ایک عام شہری کے جاں بحق ہونے کی خبر آ گئی۔ سرحدوں کا یہ تنازعہ1875 سے چلا آ رہا ہے۔ صرف آسام۔میزورم ہی نہیں بلکہ آسام۔میگھالیہ، مہاراشٹر۔کرناٹک، ہریانہ۔ہماچل پردیش جیسے کئی سرحدی تنازعات ملک میں عرصۂ دراز سے پائے جاتے ہیں۔ انتہائی حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ اس کو دور کرنے کے لیے آزادی کے بعد سے اب تک کی مرکزی حکومتوں نے کوئی پختہ کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایسے اختلافات کو سیاسی مفادات کی خاطر التوا میں رکھا گیا۔ آج میری گفتگو کا محور یہ نہیں...