اشاعتیں

جون, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فردیات

یہ فراق ہے کہ وصال ہے یہ گرہ کبھی نہ سلجھ سکی وہ جو فاصلوں میں تھی تشنگی وہی قربتوں میں بھی پیاس ہے شہ رگ سے منسلک ہیں تصور کے سلسلے یوں تجھ کو بھول جانے میں جاں کا زیاں بھی ہے سوکھے ہوئے پھولوں کا کیوں کرتے ہو ماتم گلشن کے سنورنے کا پھر آئے گا موسم یک رنگ نہیں ہوتے یادوں کے یہ موسم تڑپائیں تو شعلہ ہیں بہلائیں تو شبنم اب محبت بھی شرطوں پہ ہونے لگی عاشقی میں تجارت کی خو آ گئی کتنا ہے رحم دل مرا صیاد دیکھیے مجھ کو رہا کیا ہے پروں کو تراش کر ہم عشق کی باتیں بھی بصد شوق کریں گے لیلٰیٔ کائنات کے گیسو تو سنور لیں موجِ بلا سے لایا تھا مجھ کو نکال کر ساحل پہ لاکے اس نے سفینہ ڈبو دیا اس دور ترقی کی آداب نرالے ہیں کرتے ہیں وہی بے گھر جو گود کے پالے ہیں جو آپ نے عطا کیا مجھ نامراد کو وہ خواب آج تک مری پیاسی نظر میں ہے بھوک کی ماری مشقت در بدر پھرتی رہی اور سرمائے کو محنت کا صلہ جاتا رہا خوشنما تکلم سے دل کے کنول کھلتے ہیں خارِ سخن سے لیکن قلب و جگر چھلتے ہیں میرے مولا تری رحمت کا اشارہ ہو اگر ریت کے ذرے بھی انجم سے نکھر جاتے ہیں اپنوں کی بستی میں رہتے دیکھو سب بیگانے لوگ اک دوجے کے درد و غم ...

سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادوگری

شاعر مشرق علامہ اقبالؔ کا یہ مصرعہ موجودہ حکومت کی پالیسی پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔ پچھلے سات برس کی حکومت کی کارگزاریوں سے قطع نظر اگر ہم محض گزشتہ سال مارچ سے اب تک ملک کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو مرکزی حکومت کی سحر سازی اور ابلہ فریبی کے بیّن ثبوت مل جائیں گے۔ ۱۹؍مارچ  ۲۰۲۰ء کو رات آٹھ بجے وزیر اعظم نریندر مودی عوام سے خطاب کرتے ہیں اور ملک میں بڑھتے کورونا کے اثرات سے لوگوں کو واقف کراتے ہیں۔ ساتھ ہی ۲۲؍مارچ کو جنتا کرفیو کا اعلان کر تے ہیں اس کے علاوہ عوام سے میڈیکل اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے لئے شام پانچ بجے سے پانچ منٹ تک تالی، تھالی اور گھنٹی بجانے کی اپیل بھی کرتے ہیں۔ عوام ا لناس شام پانچ بجے تک توکرفیو پر پوری طرح عمل پیرا رہتے ہیں لیکن پانچ بجتے ہی جلوس کی شکل میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ مودی جی کے حکم کو نقارۂ خدا سمجھنے والے ’ اندھ بھکتوں‘ کی اس حرکت اور خود مودی جی کی شعبدہ بازی پرطرح طرح کے سوال اٹھنے لگتے ہیں تووہ ۲۴؍ مارچ کو رات آٹھ بجے ٹی وہ پر نمودار ہو کر رات بارہ بجے سے اچانک اکیس دن کے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیتے ہیں۔ ملک میں افراتفری اور خوف و ہراس کا ماحو...

روح جب وجد میں آئے تو غزل ہوتی ہے (غزل)

 روح جب وجد میں آئے تو غزل ہوتی ہے یا کوئی دل کو دُکھائے تو غزل ہوتی ہے بھیگتی رات میں گزرے ہوئے لمحوں کا وجود دل میں اک حشر اٹھائے تو غزل ہوتی ہے کبھی محفل میں کبھی گوشۂ تنہائی میں کوئی رہ رہ کے رلائے تو غزل ہوتی ہے غمِ جاناں ہی پہ موقوف نہیں شعر و غزل غمِ دوراں بھی ستائے تو غزل ہوتی ہے وادئ عشق کی مدہوش فضا میں شامؔا جھوم کر گیت کوئی گائے تو غزل ہوتی ہے

مکر و دغا فریب کا اک مایا جال ہے (غزل)

 مکر و دغا فریب کا اک مایا جال ہے وہ شخص جس کی سادگی اپنی مثال ہے اک وائرس نے یوں ہمیں محصور کر دیا کوئی نہیں یہ پوچھتا کیا حال چال ہے نشتر لگائیں آپ تو مرہم کا ہو گماں یہ ساحری بھی آپ کی واللہ کمال ہے فیضانِ سیاست ہے یہ در در کا بھکاری مل جائے اقتدار تو پھر مالامال ہے قاتل بھی آپ اور مسیحا بھی آپ ہیں یہ عشق کا معمہ سمجھنا محال ہے انسانیت کے قتل پہ خاموش تماشا اور جانور کی موت پہ شاماؔؔ وبال ہے

تیر نفرت کا دیکھو اثر کر گیا (غزل)

 تیر نفرت کا دیکھو اثر کر گیا ذہن میں دشمنی کا زہر بھر گیا امن کا جو پیمبر رہا عمر بھر اک درندے کی گولی سے وہ مر گیا عمر بھر جو رہا موت سے بے خطر زندگی سے وہی آج کیوں ڈر گیا نام تیرا عقیدت سے لے گا جہاں کام ایسا تو کوئی اگر کر گیا جس کی صورت سے وحشت تھی ہم کو کبھی آج دل میں وہی اپنے گھر گیا جبر سہتے رہیں اور کچھ نہ کہیں ایسے جینے سے اپنا تو جی بھر گیا بے وفائی کا الزام دے کر مجھے وہ مرے عشق کو معتبر کر گیا اس کے ترکِ تعلق کا اک فیصلہ میری ہستی کو زیر و زبر کر گیا ٹھوکریں کھا رہے ہیں یوں ہی در بدر عشق شاماؔ ہمیں بے ہنر کر گیا

بے زمان و مکان لگتا ہے (غزل)

بے زمان و مکان لگتا ہے یہ سفر بے نشان لگتا ہے ضرب پڑتے ہی چیخ اٹھتا ہے جو شجر بے زبان لگتا ہے میرے اپنوں کی مہربانی سے گھر بھی مجھ کو مکان لگتا ہے اک نیا زخم بخش دیتا ہے جب بھی وہ مہربان لگتا ہے آپ کے ایک روٹھ جانے سے روٹھا روٹھا جہان لگتا ہے مشکلوں کے سفر میں ساتھ ترا دھوپ میں سائیبان لگتا ہے شاماؔ کیوں تجھ کو اپنی بستی سے دشت یہ پر امان لگتا ہے

تصور مرا ہو بہ ہو بن گیا وہ (غزل)

 تصور مرا ہو بہ ہو بن گیا وہ مرا دل مری آرزو بن گیا وہ ہر اک سانس گاتی ہے نغمہ اسی کا کہ میری رگوں میں لہو بن گیا وہ اسی سے ہیں آباد تنہائیاں بھی مرے واسطے رنگ و بو بن گیا وہ نہیں مال و زر کی مجھے کوئی خواہش سراپا مری جستجو بن گیا وہ اسے بھول جاؤں یہ ممکن نہیں ہے کہ شاماؔ مری گفتگو بن گیا وہ

نئی صبحیں بنا لوں گی نئی شامیں بنا لوں گی (غزل)

 نئی صبحیں بنا لوں گی نئی شامیں بنا لوں گی میں اپنی زندگی کو اک نئے قالب میں ڈھالوں گی شکستہ پر ہوں میں لیکن، مری ہمت ہے فولادی میں اپنے حوصلوں سے آسماں کو بھی جھکا لوں گی بنا کر قوت بازو کو ہی پتوار میں اپنے اے بحر زندگی اک دن ترے ساحل کو پا لوں گی نہیں کچھ غم اگر گرداب میں میرا سفینہ ہے عصائے عزم سے میں اک نیا رستہ بنا لوں گی مری راہیں بہت مشکل، بڑی پر خار ہیں لیکن انہی راہوں پہ چل کے دیکھنا منزل کو پا لوں گی عزائم سے مرے شاماؔ اندھیرے ہار جائیں گے افق پر زندگی کے اک نیا سورج اگا لوں گی

میں رونا چاہتی تو ہوں مگر یوں رو نہیں سکتی (غزل)

 میں رونا چاہتی تو ہوں مگر یوں رو نہیں سکتی کہ اپنی برد باری کو میں ایسے کھو نہیں سکتی جہاں ہر سمت قتل و خون کے جلاد رقصاں ہوں میں ایسے شہر میں اک پل سکوں سے سو نہیں سکتی خطا تم سے ہوئی سرزد تمھیں کو توبہ کرنا ہے تمھارے داغِ نسیاں چاہ کر بھی دھو نہیں سکتی حسد سے زندگی انسان کی دشوار ہوتی ہے میں ایسے خار اپنے راستے میں بو نہیں سکتی ذہن پر بار ہیں یہ بے حس و بے جان سے رشتے کہ دوشِ نا تواں پر ان کو اب میں ڈھو نہیں سکتی مرے اعداء مرے حاسد ستم گر مجھ کو کہتے ہیں میں چاہوں بھی اگر شاماؔ ستم گر ہو نہیں سکتی

محبت کا حسیں ساحل بہت ہی دور ہے جاناں (غزل)

 محبت کا حسیں ساحل بہت ہی دور ہے جاناں نشاط وصل کی ساعت غموں سے چور ہے جاناں  وہ پہلے سے مراسم تو نہیں لیکن نہ جانے کیوں پریشاں دیکھ کر تم کو یہ دل رنجور ہے جاناں لیے پھرتے تھے جانے کب سے یہ حسرت نگاہوں میں دل مضطر تمھاری دید سے مسرور ہے جاناں محبت اچھے اچھوں کا جہاں برباد کرتی ہے ستم اس کا زمانے میں بہت مشہور ہے جاناں یوں لگتا ہے زمانے میں غموں کی حکمرانی ہے کہ بار غم اٹھانے کو بشر مجبور ہے جاناں اداسی ہی اداسی تھی اندھیرا ہی اندھیرا تھا تمھارے آنے سے چاروں طرف اک نور ہے جاناں بسے ہو تم رگ جاں میں مگر یہ بھی حقیقت ہے تمھارا ہاتھ ہاتھوں سے بہت ہی دور ہے جاناں اِدھر بے بس ہے شاماؔ اور اُدھر لاچار ہو تم بھی ہماری زندگی کیوں اس قدر محصور ہے جاناں

جذبات دل کے دل میں دبائے نہیں جاتے (غزل)

 جذبات دل کے دل میں دبائے نہیں جاتے صدمات محبت کے اٹھائے نہیں جاتے رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ دل ایسے مخلصوں کے دُکھائے نہیں جاتے رکھنا بہت سنبھال کے ان آنسوؤں کو تم یہ قیمتی گہر یوں لٹائے نہیں جاتے جو دوڑتے پھرے ہیں رگوں میں لہو کے ساتھ وہ لوگ کبھی دل سے بھلائے نہیں جاتے بجھتی ہوئی نظروں کو کوئی خواب اب نہ دو گھر ریت کے ساحل پہ بنائے نہیں جاتے ماضی کی قبر میں جنھیں دفنا چکے شاماؔ دل سے کیوں ان کی یاد کے سائے نہیں جاتے

زخم بھرتے نہیں چھپانے سے (غزل)

 زخم بھرتے نہیں چھپانے سے درد مٹتے نہیں دبانے سے آپ کا پیار ہے مری دنیا کیا غرض ہے مجھے زمانے سے جن کی فطرت میں بے وفائی ہو کیا ملے ان کو آزمانے سے میری قربت سے تھی جنھیں وحشت مضمحل ہیں وہ دور جانے سے جب کسی شے کو یاں ثبات نہیں فائدہ کیا فریب کھانے سے میرا ایمان ہے میری دولت مجھ کو رغبت نہیں خزانے سے لاکھ کوشش کرے کوئی شاماؔ عشق چھپتا نہیں چھپانے سے

خوں رنگ تمنا کا اثر ہے کہ نہیں ہے؟ (غزل)

 خوں رنگ تمنا کا اثر ہے کہ نہیں ہے؟ ہستی یہ مری زیر و زبر ہے کہ نہیں ہے؟ لب پہ ہنسی کی دھوپ ہے نمناک ہیں آنکھیں غم بھی خوشی سے شیر و شکر ہے کہ نہیں ہے؟ اس جیسا زمانے میں کوئی اور کہاں ہے؟ ممتاز ستاروں میں قمر ہے کہ نہیں ہے؟ تا عمر رہا سایہ فگن سب کے سروں پر کیا جانیے وہ بوڑھا شجر ہے کہ نہیں ہے؟ اوروں کو پرکھنے کا ہنر آتا ہے ہم کو آپ اپنے معائب پہ نظر ہے کہ نہیں ہے؟ نقش اس کے مٹانے میں ہمیں مٹ گئے شاماؔ اس بات کی اس کو ہی خبر ہے کہ نہیں ہے؟

کیا ہوا سر جو تن سے جدا ہو گیا (غزل)

 کیا ہوا سر جو تن سے جدا ہو گیا حق محبت کا کچھ تو ادا ہو گیا یہ مقدر بھی کیسی عجب چیز ہے شاہ تھا جو کبھی، وہ گدا ہو گیا سب کی آنکھوں کا تارا رہا عمر بھر اس نے سچ جب کہا تو برا ہو گیا زخم جانے ہی کتنے ہرے ہو گئے آج ان سے مرا سامنا ہو گیا جو وفاؤں کا پیکر تھا سب کے لیے لوگ کہتے ہیں وہ بے وفا ہو گیا تجھ سے شکوہ نہیں اے مرے ہم نشیں ہاں مقدر ہی مجھ سے خفا ہو گیا ایسا روٹھا وہ مجھ سے اے شاماؔ کہ بس روح کا جسم سے فاصلہ ہو گیا

ہم سانچے میں حالات کے ڈھل ہی گئے دیکھو (غزل)

 ہم سانچے میں حالات کے ڈھل ہی گئے دیکھو موسم کی طرح ہم بھی بدل ہی گئے دیکھو دنیا نے نگاہوں سے کئی بار گرایا ہر بار مگر گر کے سنبھل ہی گئے دیکھو کب سے تھے سنبھالے ہوئے اشکوں کی روانی ساحل پہ مژاں کے یہ مچل ہی گئے دیکھو جو آگ لگاتے تھے عداوت کی دلوں میں خود آج انہی شعلوں میں جل ہی گئے دیکھو وہ گل جو ابھی باغ میں تازہ ہی کھلے تھے گل چین کے ہاتھوں وہ مسل ہی گئے دیکھو یخ بستہ تھے سینے میں محبت کے جو احساس جذبوں کی حرارت سے پگھل ہی گئے دیکھو رفتار زمانہ کا اثر شاماؔ ہے شاید  آگے حد امکاں سے نکل ہی گئے دیکھو

یوں اشکوں کو چھپانا پڑ گیا ہے (غزل)

 یوں اشکوں کو چھپانا پڑ گیا ہے لبوں کو مسکرانا پڑ گیا ہے یقیں جس پر کیا خود سے زیادہ اسی کو آزمانا پڑ گیا ہے وفا کی بات بس رہنے ہی دیجے یہ قصہ اب پرانا پڑ گیا ہے کہ جس کو دیکھ کے جیتے تھے اب تک اسی سے دور جانا پڑ گیا ہے نہیں ہے تاب اس بے جان تن میں پہ بار غم اٹھانا پڑ گیا ہے جو شاماؔ نکلی اپنی جستجو میں مرے پیچھے زمانہ پڑ گیا ہے

دے میری نواؤں میں اثر اور زیادہ (غزل)

 دے میری نواؤں میں اثر اور زیادہ لفظوں کو برتنے کا ہنر اور زیادہ کچھ تو مری بے لوث محبت کا بھرم رکھ للّٰلہ یوں بیداد نہ کر اور زیادہ تجھ کو نظر انداز کیا جب کبھی میں نے اٹھتی ہے تری سمت نظر اور زیادہ ہمت کو شجاعت کو زرہ اپنی بنا لے دنیا کے مظالم سے نہ ڈر اور زیادہ اس دہر سے ظلمت کا ہر اک نقش مٹا دے باطل سے ہو تو سینہ سپر اور زیادہ شاہین ہے تو کب تری پرواز رکی ہے کرنا ہے ابھی تجھ کو سفر اور زیادہ شاماؔ پہ ترا لطف و کرم ہوتا ہے جب جب جھکتا ہے ترے سجدے کو سر اور زیادہ

آنکھوں میں صداقت کی وہ تنویر نہیں ہے (غزل)

 آنکھوں میں صداقت کی وہ تنویر نہیں ہے کیوں لب پہ ترے نعرۂ تکبیر نہیں ہے تعلیم کے شعبوں میں بھی حاوی ہے  سیاست یہ علم کی تذلیل ہے توقیر نہیں ہے پہلے سے مراسم نہ سہی اتنا بتا دے تو میری طرح بیکل و دلگیر نہیں ہے؟ پلکوں کے نشیمن میں اسے کیسے بساؤں وہ خواب کہ جس کی کوئی تعبیر نہیں ہے کچھ تو مری باتوں کا اثر اس پہ بھی ہوگا تاثیر سے خالی مری تقریر نہیں ہے سانچے میں عمل کے ہی سنورتا ہے مقدر اچھی بری انسان کی تقدیر نہیں ہے کیا سرد لہو ہو گیا مسلم کا رگوں میں لفّاظ ہیں سب، غازیٔ شمشیر نہیں ہے ہر دور میں معتوب رہی ہے یہ محبت جس کی ہو معافی یہ وہ تقصیر نہیں ہے آہن کی طرح شاماؔ محکم ہے ترا ایماں پانی پہ بنی کوئی یہ تصویر نہیں ہے

نہ حقیقت نہ خواب جیسی ہے (غزل)

 نہ حقیقت نہ خواب جیسی ہے زندگی تو عذاب جیسی ہے رات دن اس کو پڑھتی رہتی ہوں تیری صورت کتاب جیسی ہے ایک لمحہ اسے ثبات نہیں ہستی اپنی حباب جیسی ہے تشنہ کامی ہے عشق کا حاصل یہ محبت سراب جیسی ہے اس کا لہجہ ہے نرم ریشم سا بات اس کی گلاب جیسی ہے شہرِ دل خواہشوں کا ہے مدفن  کیفیت اضطراب جیسی ہے وقت کے بے رحم سوالوں کا زندگی تو جواب جیسی ہے جو محافظ ہے تیری عصمت کی  وہ حیا خود حجاب جیسی ہے یہ تری شرمگیں نظر شاماؔ رخ پہ گویا نقاب جیسی ہے

کتنے پر پیچ کتنے گہرے ہیں(غزل)

کتنے پر پیچ کتنے گہرے ہیں کون کہتا ہے ہم اکہرے ہیں صرف گفتار پر نہیں قدغن اب تو جذبات پہ بھی پہرے ہیں خود اسی نے کیا انھیں پامال خواب جس نے دیے سنہرے ہیں وقت بھی جن کو بھر نہ پائے گا دل کے کچھ زخم اتنے گہرے ہیں کوئی سنتا نہیں ہے فریادیں کیا زمانے کے کان بہرے ہیں شہرِ ماضی میں جا کے دیکھو تو وقت کے کارواں بھی ٹھہرے ہیں ان میں اپنا نہیں کوئی شاماؔ یوں شناسا تو سارے چہرے ہیں

جاگتی ہوں میں رات بھر تنہا (غزل)

 جاگتی ہوں میں رات بھر تنہا زندگی ہو رہی بسر تنہا زندگی کے عجب دوراہے پر کر گیا مجھ کو راہبر تنہا ساری خوشیاں تو عارضی ہیں مگر ہے فقط درد معتبر تنہا کتنے تارے فلک پہ ہیں لیکن چاند کرتا ہے کیوں سفر تنہا جس کی شاخیں تھیں سب پہ سایہ فگن رہ گیا آج وہ شجر تنہا قافلے منزلوں پہ جا پہنچے رہ گئی دل کی رہ گزر تنہا خواب پلکوں پہ سو گئے سارے جاگتی رہ گئی نظر تنہا شامؔا خوشیاں تو بانٹ دیتی ہوں اشک پیتی ہوں میں مگر تنہا

یوں زندگی کا زہر پیے جا رہے ہیں ہم (غزل)

 یوں زندگی کا زہر پیے جا رہے ہیں ہم مرنے کی آرزو میں جیے جا رہے ہیں ہم دامن ہے چاک اپنا گریباں ہے تار تار اوروں کے پیرہن کو سیے جا رہے ہیں ہم دنیا کو دل کے داغ دکھانا فضول ہے اشکوں کا جام ہنس کے پیے جا رہے ہیں ہم خود داری و انا  جہاں ہوتی ہے سنگسار اس بزم پہ ہی جان دیے جا رہے ہیں ہم جنبش ذرا سی اس کو نہ کر دے ذلیل و خوار اس واسطے لبوں کو سیے جا رہے ہیں ہم جور و ستم پہ اپنے پشیمان تم نہ ہو الزام اپنے سر یہ لیے جا رہے ہیں ہم ہر چند حق بیانی پہ معتوب ہیں مگر شاماؔ یہی گناہ کیے جا رہے ہیں ہم

زندگی کے بار کو ہنس کر اٹھانا چاہیے (غزل)

 زندگی کے بار کو ہنس کر اٹھانا چاہیے درد سینے میں چھپا کر مسکرانا چاہیے دشمنی کی آگ سے نفرت کا اٹھتا ہے دھواں پیار کی بارش سے یہ شعلہ بجھانا چاہیے جس جگہ انسانیت کی لہلہاتی ہو فصل بس وہیں سے ہم کو اپنا آب و دانہ چاہیے جانے والی ہے خزاں آنے ہی والی ہے بہار ہر دل مضطر کو یہ مژدہ سنانا چاہیے یہ جہاں تو آخرت کی کِشت ہے سنیے جناب جب جہاں جیسے ملے نیکی کمانا چاہیے کیا ہوا گر پر شکستہ ہے پرندِ زندگی حوصلوں کے پنکھ سے اس کو اڑانا چاہیے دشمنی کی رسم ہو یا دوستی کی ہو قسم ہو کوئی رشتہ دیانت سے نبھانا چاہیے کیوں ہے شاماؔ زندگی کی تلخیوں سے دل فگار راہ کیسی ہو کٹھن بڑھتے ہی جانا چاہیے

بے حسی پہ اے دنی تیری ضرر آتا نہیں (غزل)

 بے حسی پہ اے دنی تیری ضرر آتا نہیں چشمِ بینا رکھ کے بھی تجھ کو نظر آتا نہیں مال اور اولاد تیرے امتحاں کی چیز ہیں آخرت کی راہ میں یہ تیرا گھر آتا نہیں گر کے جو پہنچے بلندی پر وہی شاہین ہے گھونسلے میں رہ کے تو یہ بال و پر آتا نہیں عشق کا حاصل بقا ہے عشق نقشِ نا تمام گردشِ ایام کا اس پہ اثر آتا نہیں پاؤں کے نیچے ہیں کانٹے سر پہ تپتی دھوپ ہے میرے رستے میں کہیں کوئی شجر آتا نہیں خواب آنکھوں میں سجائے سوچتی ہے ایک ماں مجھ سے کیوں ملنے مرا نور نظر آتا نہیں دل کو جو کر لے مسخر حکمراں ہے بس وہی قلب کی تسخیر کا سب کو ہنر آتا نہیں جو ہیں اعلیٰ ظرف وہ طوفاں سے گھبراتے ہیں کب کیسی ہو موجِ بلا ان کو خطر آتا نہیں ہو رہی پامال تیری عزت و ناموس آہ ہوش میں تو کس لئے اے بے خبر آتا نہیں شاماؔ اپنے گیت سے تو قوم کو بیدار کر یوں تو سوکھی ٹہنیوں پر پھر ثمر آتا نہیں

کب ترے درد سے دل یہ بے کل نہ تھا (غزل)

کب ترے درد سے دل یہ بے کل نہ تھا  ایسی کوئی بھی ساعت کوئی پل نہ تھا   ہم نشیں جس جگہ قتل میرا ہوا  آشیاں تھا مرا کوئی مقتل نہ تھا  اس کی الفت نے یہ معجزہ کر دیا  دل کسی کے لیے اتنا پاگل نہ تھا  عمر بھر پاؤں میں آبلے ہی رہے  زندگی میں کہیں فرش مخمل نہ تھا  خون انصاف کا ہو رہا چار سو  سلسلہ جبر کا یوں مسلسل نہ تھا  ہر نفس یاد اس کی ستاتی رہی ہجر کا فیصلہ بھی مکمل نہ تھا  تیری شرم و حیا تیری پہچان ہے  شاماؔ ماتھے پہ کیوں تیرا آنچل نہ تھا