اشاعتیں

نومبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اردو کے مشہور ترقی پسند ریڈیائی ڈرامانگار

ترقی پسند تحریک ایک ایسی ہمہ گیر ادبی تحریک رہی ہے جس نے ادب کے ہر شعبے کو سیراب کیا ہے۔ شاعری ہو کہ ناول نگاری، افسانے ہوں کہ ڈرامے، مزاح ہو کہ تنقید، اس تحریک نے تمام اصناف ادب پر اپنے دیر پا اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تحریک نے ادب برائے زندگی کے نظریے کے تحت ادب کا رشتہ زندگی کے حقائق سے استوار کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے اور زندگی کے بنیادی مسائل بھوک، افلاس، سماجی پستی، ذہنی اور جسمانی غلامی، طبقاتی تصادم، جنسی اور نفسیاتی مسائل کو ادب کے دامن میں جگہ دے کر اسے وسعت بخشی۔ بالخصوص فکشن کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو فکشن یعنی افسانہ، ناول اور ڈرامے اسی کے زیر اثر وجود میں آئے، پروان چڑھے اور رفعت و بلندی سے ہمکنار ہوئے۔ اگر ہم اردو ڈراموں کی بات کریں تو اس تحریک نے ایک سے بڑھ کر ایک جواہر پارے عطا کیے۔ ۱۹۳۶؁ء سے ۱۹۴۷؁ ء تک کے زمانے کو ار دو ریڈیائی ڈراموں کا عہد زریں کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ترقی پسند تحریک کے آغاز اور ملک کی آزادی و تقسیم ہند کے واقعات کے نتیجے میں ملک و معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کے زیراثر ریڈیائی ڈراموں کے زبان، زمان و مکان اور کردار وغیر...