فردیات
یہ فراق ہے کہ وصال ہے یہ گرہ کبھی نہ سلجھ سکی وہ جو فاصلوں میں تھی تشنگی وہی قربتوں میں بھی پیاس ہے شہ رگ سے منسلک ہیں تصور کے سلسلے یوں تجھ کو بھول جانے میں جاں کا زیاں بھی ہے سوکھے ہوئے پھولوں کا کیوں کرتے ہو ماتم گلشن کے سنورنے کا پھر آئے گا موسم یک رنگ نہیں ہوتے یادوں کے یہ موسم تڑپائیں تو شعلہ ہیں بہلائیں تو شبنم اب محبت بھی شرطوں پہ ہونے لگی عاشقی میں تجارت کی خو آ گئی کتنا ہے رحم دل مرا صیاد دیکھیے مجھ کو رہا کیا ہے پروں کو تراش کر ہم عشق کی باتیں بھی بصد شوق کریں گے لیلٰیٔ کائنات کے گیسو تو سنور لیں موجِ بلا سے لایا تھا مجھ کو نکال کر ساحل پہ لاکے اس نے سفینہ ڈبو دیا اس دور ترقی کی آداب نرالے ہیں کرتے ہیں وہی بے گھر جو گود کے پالے ہیں جو آپ نے عطا کیا مجھ نامراد کو وہ خواب آج تک مری پیاسی نظر میں ہے بھوک کی ماری مشقت در بدر پھرتی رہی اور سرمائے کو محنت کا صلہ جاتا رہا خوشنما تکلم سے دل کے کنول کھلتے ہیں خارِ سخن سے لیکن قلب و جگر چھلتے ہیں میرے مولا تری رحمت کا اشارہ ہو اگر ریت کے ذرے بھی انجم سے نکھر جاتے ہیں اپنوں کی بستی میں رہتے دیکھو سب بیگانے لوگ اک دوجے کے درد و غم ...