اشاعتیں

فردیات

یہ فراق ہے کہ وصال ہے یہ گرہ کبھی نہ سلجھ سکی وہ جو فاصلوں میں تھی تشنگی وہی قربتوں میں بھی پیاس ہے شہ رگ سے منسلک ہیں تصور کے سلسلے یوں تجھ کو بھول جانے میں جاں کا زیاں بھی ہے سوکھے ہوئے پھولوں کا کیوں کرتے ہو ماتم گلشن کے سنورنے کا پھر آئے گا موسم یک رنگ نہیں ہوتے یادوں کے یہ موسم تڑپائیں تو شعلہ ہیں بہلائیں تو شبنم اب محبت بھی شرطوں پہ ہونے لگی عاشقی میں تجارت کی خو آ گئی کتنا ہے رحم دل مرا صیاد دیکھیے مجھ کو رہا کیا ہے پروں کو تراش کر ہم عشق کی باتیں بھی بصد شوق کریں گے لیلٰیٔ کائنات کے گیسو تو سنور لیں موجِ بلا سے لایا تھا مجھ کو نکال کر ساحل پہ لاکے اس نے سفینہ ڈبو دیا اس دور ترقی کی آداب نرالے ہیں کرتے ہیں وہی بے گھر جو گود کے پالے ہیں جو آپ نے عطا کیا مجھ نامراد کو وہ خواب آج تک مری پیاسی نظر میں ہے بھوک کی ماری مشقت در بدر پھرتی رہی اور سرمائے کو محنت کا صلہ جاتا رہا خوشنما تکلم سے دل کے کنول کھلتے ہیں خارِ سخن سے لیکن قلب و جگر چھلتے ہیں میرے مولا تری رحمت کا اشارہ ہو اگر ریت کے ذرے بھی انجم سے نکھر جاتے ہیں اپنوں کی بستی میں رہتے دیکھو سب بیگانے لوگ اک دوجے کے درد و غم ...
 گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں ہمارے علماء نے جو قربانیاں دیں اسے نہ صرف برادران وطن بلکہ خود مسلمانوں نے بھی فراموش کر دیا۔ اور کیوں نہ ہو حصول آزادی کے بعد علماء نے سیاست کو جس طرح جنس ممنوع سمجھ لیا اور خود کو خانقاہوں اور مدارس میں محصور کر لیا اس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہونا تھا۔ تحریک آزادی کے درمیان علماء دین نے خود آگے بڑھ کر انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں نہ صرف مجاہدین آزادی کی قیادت کی بلکہ  حسب ضرورت غیرمسلم لیڈران سے باہمی تعاون بھی جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور نظریاتی اختلاف کے باوجود کانگریس میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے رواداری کی روایت رہی۔ لیکن آزادی کے بعد جب علماء نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی تو رفتہ رفتہ کانگریس میںہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا رجحان بڑھنے لگا۔ چند دہائیوں کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں کے حامی نہ صرف کانگریس بلکہ دیگر’’سیکولر‘‘ جماعتوں میں بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایسا بازار گرم ہوگیا جس کے نتیجے میں جگہ جگہ ’’دھرم سنسد‘‘ کے ذریعے مسل...
 ذرائع ابلاغ کی اہمیت : سیرت رسولﷺ کے آئینے میں عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا۔آج اطلاعات کی نشریات و ابلاغ عامہ کی برق رفتاری نے اس وسیع و عریض دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی بھی اطلاع سچی ہو یا جھوٹی، حق ہو یا باطل، اچھی ہو یا بری، چشم زدن میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔اخبار و رسائل، ریڈیو، ٹی وی کے علاوہ اس دور میں انٹرنیٹ نے احوال و پیا مات کی ترسیل میں بے انتہا سرعت پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے بہت قلیل وقت میں عالمی سطح پر بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم آج عوام الناس  کی ذہن سازی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ مرکزی ذرائع ابلاغ(مین اسٹریم میڈیا) کے علاوہ سوشل میڈیا بھی اپنے نظریات کی تبلیغ میں انتہائی موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف جہاں بین الاقوامی سطح پر بی بی سی، سی این این جیسے ادارے ہیں تو قومی سطح پر ہندی انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں بےشمار چینلز ہیں جو کسی خاص نظریے کی ترویج و اشاعت میں شب وروز کوشاں ہیں...

اردو کے مشہور ترقی پسند ریڈیائی ڈرامانگار

ترقی پسند تحریک ایک ایسی ہمہ گیر ادبی تحریک رہی ہے جس نے ادب کے ہر شعبے کو سیراب کیا ہے۔ شاعری ہو کہ ناول نگاری، افسانے ہوں کہ ڈرامے، مزاح ہو کہ تنقید، اس تحریک نے تمام اصناف ادب پر اپنے دیر پا اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تحریک نے ادب برائے زندگی کے نظریے کے تحت ادب کا رشتہ زندگی کے حقائق سے استوار کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے اور زندگی کے بنیادی مسائل بھوک، افلاس، سماجی پستی، ذہنی اور جسمانی غلامی، طبقاتی تصادم، جنسی اور نفسیاتی مسائل کو ادب کے دامن میں جگہ دے کر اسے وسعت بخشی۔ بالخصوص فکشن کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو فکشن یعنی افسانہ، ناول اور ڈرامے اسی کے زیر اثر وجود میں آئے، پروان چڑھے اور رفعت و بلندی سے ہمکنار ہوئے۔ اگر ہم اردو ڈراموں کی بات کریں تو اس تحریک نے ایک سے بڑھ کر ایک جواہر پارے عطا کیے۔ ۱۹۳۶؁ء سے ۱۹۴۷؁ ء تک کے زمانے کو ار دو ریڈیائی ڈراموں کا عہد زریں کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ترقی پسند تحریک کے آغاز اور ملک کی آزادی و تقسیم ہند کے واقعات کے نتیجے میں ملک و معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کے زیراثر ریڈیائی ڈراموں کے زبان، زمان و مکان اور کردار وغیر...

پریم چند اور حاشیائی سماج

پریم چند اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے ایک ایسے فنکار ہیں جنھوں نے معاشرتی اصلاح کے سوال کو ہمیشہ طبقاتی کشمکش کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ ان کا پورا کا پورا ادب طبقاتی شعور و کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔ انھوں نے اس کے محض خیالی نقشے نہیں کھینچے ہیں بلکہ اسے ہندوستانی نظام معاشرت کے آئینے میں پیش کیا ہے۔ بیسویں صدی کے تقریباً نصف حصے کی عوامی جد و جہد پریم چند کے ادب میں اپنی تمام تر صداقتوں کے ساتھ کارفرما ہے۔ پریم چند ایک ایسے وسیع التجربہ مصنف تھے جو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ پسماندہ طبقات کی زبوں حالی کے لیے وہ معاشرتی نظام ذمے دار ہے جو نا انصافی اور نفاق پر مبنی ہے۔ جس کے نتیجے میں طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے۔ پریم چند سماج کی اس غیر منصفانہ طبقاتی تقسیم سے نالاں تھے۔ عدم مساوات خواہ ذاتی و نسلی سطح پر ہو یا پھر معاشرتی و مذہبی انھیں قطعی منظور نہیں۔  پریم چند کے عہد تک اچھوتوں کی حالت نہایت تشویشناک ہو چکی تھی لوگوں کی خدمت کرنے والے ان افراد کی زندگی کو مختلف النوع معاشرتی، مذہبی اور اقتصادی ممنوعات کے دائرے میں محصور کر کے طرح طرح سے معتوب و مقہور کیا جاتا تھا۔ انھیں نہ ص...

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا

 شمالی ہند میں اردو کا ارتقا  امیر خسرو (متوفی 1325 ء) کے بعد شمالی ہندوستان میں تقریباً دو سے ڈھائی سو سال تک ایک جمود کی سی کیفیت طاری رہی۔ اس دوران ہمیں بعض صوفیاء کرام کے کلام کے شانہ بہ شانہ نام دیو، کبیرداس اور گرو نانک کے کلام میں کھڑی بولی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک لمبے وقفے کے بعد سترہویں صدی کے ابتدائی دہائیوں میں نئے سرے سے ایک شعری فضا قائم ہوتی ہے لیکن اس دوران نثری تصانیف دستیاب نہیں ہوتیں۔ جو سب سے پہلی شعری تصنیف سامنے آتی ہے وہ محمد افضل افضل ؔ (متوفی 26-1625) کی ’بکٹ کہانی‘ ہے۔ یہ مثنوی کی ہیئت میں لکھا گیا ایک بارہ ماسہ ہے، جسے مسعود حسین خاں شمالی ہند میں اردو شاعری کا پہلا مستند نمونہ تسلیم کرتے ہیں۔ ’بکٹ کہانی‘ کے سنہ تصنیف کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کس سنہ میں تصنیف ہوئی۔ محمد افضلؔ کے نام اور وطن کے متعلق بھی محققین کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ بکٹ کہانی میں جا بہ جا ایک مصرعہ فارسی ہے تو دوسرا ہندی ہے۔ اس میں برج بھاشا کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ریختہ گوئی جس کی بنیاد شمالی ہندوستان میں تقریباً 300-250 سال پہل...

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ

 ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ڈاکٹر جوہی بیگم الہ آباد گزشتہ چند دنوں میں ملک میں دو بڑے واقعات رونما ہوئے جن پر حکومت سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔ ساتھ ہی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ ان موضوعات پر کچھ بھی کہہ پانے میں معذور تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگ بار بار حکومت اور میڈیا کی ان دونوں معاملات میں خاموشی پر سوال اٹھا رہے تھے لیکن جواب ندارد تھا۔ وہ دو موضوعات تھے، گجرات کے ایک بندر گاہ مندرا سے برآمد ہوئی تین ہزار کلو گرام ہیروئن اور الہ آباد میں اکھاڑا پریشد کے کل ہند صدر آچاریہ نریندر گری کی خودکشی۔ چونکہ مندرا پورٹ ان دنوں اڈانی کی تحویل میں ہے اور اڈانی ہماری حکومت کے منظور نظر تو ایسے میں حکومت کوئی جواب کیسے دے سکتی ہے، اور میڈیا حکومت کے چہیتے اڈانی کی بندرگاہ سے برآمد ڈرگس کے بارے میں سوال کیسے کر سکتی ہے۔ ٹھیک یہی حال آچاریہ نریندر گری کی موت کا ہے۔ نریندر گری کی شبیہ مسلم مخالف سنت کی رہی ہے اس لیے وہ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کے قریبی تھے۔ ان کی خود کشی کے متعلق بارہ صفحات کا خودکشی نوٹ بہت کچھ کہہ دیتا ہے کہ ان کی موت آپسی رنجش اور رسہ کشی کے سبب ہوئی۔ ا...

تنقید کی تعریف اور اہمیت

تنقید اچھے برے میں تمیز کرنے کا نام ہے۔ ہر انسان میں تنقیدی شعور کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے، یہی شعور جب دائرۂ ادب میں داخل ہوتا ہے یعنی کسی فن پارے کے حسن و قبح کو ادب کے معیار پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے تو اسے ادبی تنقید کہتے ہیں۔ تنقید نگار کسی بھی تخلیق کی خوبی یا خامی کی نشاندہی کرنے کے لیے اس فن پارے کے باطن میں اتر کر اس کا عمیق مطالعہ کرتا ہے، اور فن پارے کو سمجھنے کی سعی کرتا ہے، ان تمام عوامل کا جائزہ لیتا ہے جو کسی فن پارے کی تخلیق کے محرک بنتے ہیں۔ یعنی تنقید کا مطلب کسی ادب پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ نقاد کسی مصنف کے کام کا تجزیہ نہایت باریک بینی سے کرتا ہے، اس کی مدلل وضاحت اور اس کی جمالیاتی قدروں کی نشاندہی کرتا ہے۔ فن پارے کی جانچ اور پرکھ کے اس عمل کے ذریعے نقاد ادب پارے کے مطلب اور اس کے مقصد کو قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تنقید کا بنیادی مقصد محض خوبیوں اور خامیوں کا اظہار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اہم مقصد کسی فن پارے کے تمام تر عناصر سے قاری کو روبرو کرانا ہوتا ہے۔ تنقید کا ارتقاء: اردو میں تنقید نگاری کی اب...