اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

समकालीन दलित लेखन : संवेदना और सरोकार

  दलित वर्ग सामाजिक, आर्थिक, राजनीतिक, धार्मिक तथा सांस्कृतिक रूप से दबा कुचला समाज का वह उपेक्षित, शोषित, पीड़ित वंचित व त्याज्य वर्ग है जिसे वर्ण व्यवस्था के अमानवीय विधान के कारण सदियों से नारकीय जीवन जीने पर विवश किया गया। सामाजिक अन्याय, अत्याचार तथा शोषण के शिकार इस वर्ग को जहां एक ओर सामाजिक दृष्टि से निकृष्ट एवं हेय माना जाता रहा वहीं आर्थिक शोषण के चलते यह वर्ग गांव के बाहर मरे हुए जानवरों का मांस खाकर जीवन यापन करने को बाध्य हुआ। दलित चेतना समाज के इसी पीड़ित तथा संत्रस्त वर्ग की विदग्ध वेदना की अभिव्यक्ति है। दलित चेतना को व्याख्यायित करते हुए ओमप्रकाश वाल्मीकि कहते हैं- ”चेतना का सीधा सम्बन्ध दृष्टि से होता है जो दलितों की सांस्कृतिक, ऐतिहासिक, सामाजिक भूमिका की छवि के तिलिस्म को तोड़ती है, वह है दलित चेतना। दलित मतलब मानवीय अधिकारों से वंचित, सामाजिक तौर पर जिसे नकारा गया हो। उसकी चेतना यानि दलित चेतना।“1 यह पीड़ित समुदाय की अस्मिता की वह छटपटाहट और पीड़ा है जिसमें क्षोभ, विद्रोह निषेध तथा अस्वीकार के आक्रामक तेवर हैं जो दलित साहित्यकारों की रचनाओं में अभिव्यक्ति पाकर मूर्त...

दलित-विमर्श और प्रेमचंद

इस्मत चुग़ताई के साहित्य में विद्रोही चेतना

  रचनात्मक अभिव्यक्ति की सतह पर नारी चेतना विभिन्न भाषाओं के साहित्य के महिला लेखन में आरम्भ से विद्यमान रही है। जिन्होंने अपने-अपने समय के परिप्रेक्ष्य में इस चेतना को अभिव्यंजित किया है। आधुनिक युग के आते-आते नारी की रचनात्मक भूमिका अत्यन्त सक्रिय और उसका कार्य क्षेत्र व्यापक होता गया और स्त्री रचनाधर्मिता के राजनीतिक, सामाजिक, लैंगिक, वैश्विक परिपे्रेक्ष्य सामने आने लगे और महिलाओं की राजनीतिक समझ चेतना, सामाजिक अन्र्तदृष्टि और युग बोध के चित्र स्पष्ट होते गए महिला आन्दोलन की पृष्ठ भूमि में नारी चेतना ने आज अपनी एक विशिष्ट पहचान बना ली है। उर्दू-साहित्य में इस चेतना को मुखर अभिव्यक्ति प्रदान करने वाली लेखिकाओं में रशीद जहाँ, इस्मत चुग़ताई, क़ुर्रतुल ऐन हैदर, मुमताज़ शीरीं; रज़िया सज्जाद ज़हीर, रज़िया फ़सीह अहमद, सालेहा आबिद हुसैन, जमीला हाशमी, जीलानी बानो, ख़दीजा मस्तूर, हाजरा मसरूर, बानो क़ुदसिया आदि उर्दू-साहित्य के महिला लेखन को एक नया रूप एक नयी दिशा और एक नया क्षितिज प्रदान करने वाली इन लेखिकाओं में इस्मत चुग़ताई का नाम अग्रणी है। नारी जीवन को यदि इस्मत के साहित्य की धुरी कहा जाय तो ग़...

रशीद जहाँ की नारी चेतना

  भारतीय साहित्य में स्त्री विमर्श का जो स्वरूप आज हमें दिखाई देता है वह अपने भीतर वैचारिकता और आन्दोलनों की एक गहन पृष्ठभूमि रखता है। यह एक ऐसा अंतहीन संघर्ष है, ऐसा मानसिक, सामाजिक आलोड़न है जो सदियों से मात्र भोग्या समझी जाने वाली शोषित, वंचित नारी के मन में अपनी खोई हुई अस्मिता की प्राप्ति और मुक्ति की कामना के रूप में हमेशा पलता रहा। उन्नीसवीं सदी के अन्त तक आते-आते जब रूढ़ परम्पराओं और विचारों के बंधन टूटने की प्रक्रिया ने ज़ोर पकड़ा तो महिलाओं के जीवन और चेतना में महत्वपूर्ण परिवर्तन आए। स्त्रियों ने अपनी इस वैचारिक चेतना का सम्बन्ध साहित्य से जोड़ा और उन्हें रचनात्मक अभिव्यक्ति प्रदान करने की ओर उन्मुख र्हुइं यदि उर्दू साहित्य में महिला लेखन की बात करें तो उन्नीसवीं शताब्दी के अन्त से ही उनकी रचनाओं में स्त्री विमर्श की सुगबुगाहट सुनाई देने लगती है और बीसवीं शताब्दी के तीसरे दशक तक आते-आते स्त्री विमर्श का यह स्वर ज़ोर पकड़ता जाता है इस समय महिला लेखन के सन्दर्भ में एक नाम जो उभर कर सामने आता है वह रशीद जहाँ का है जिन्हें उर्दू साहित्य में नारी स्वतंत्रता की मांग को सबसे सशक्त ढंग...

کفارہ

 کہتے ہیں ہر شر میں خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اللہ نے اسے امی۔ابو کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کا بھی موقع عطا کر دیا ورنہ گزشتہ چھ سات برسوں میں وہ اپنے گھر پر محض ایک یا دو دن کے لئے ہی آ پاتا تھا، اس سے زیادہ کبھی اس کی چھٹی منظور ہی نہیں ہوئی۔ انہی خیالوں میںغرق ارشد گھر میں داخل ہوا تو باورچی خانے سے امی کی آواز آئی: کون؟ میں ہوں امی! السلام علیکم وعلیکم السلام امدادی کام سے آج بڑی جلدی فراغت ہو گئی؟ زبیدہ بیگم نے سوال کیا۔ امی کام ابھی ختم نہیں ہوا میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں چلا آیا۔ کیوں بیٹا؟ انھوں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ امی آپ پریشان نہ ہوں میں ٹھیک ہوں۔ سر میں درد کی وجہ شاید دھوپ کی شدت ہو، یہ کہہ کر ارشد صوفے پر نیم دراز ہو گیااور آنکھیں بند کر لیں۔ ادرک والی چائے بنا دوں شاید کچھ راحت ملے۔ آپ کیوں بنائیں گی سنبل کہاں ہے؟ اس نے چھوٹی بہن کے بارے میں امی سے دریافت کیا۔ وہ ابھی کچن کے کاموں سے فارغ ہو کر نہانے گئی ہے۔ میں چائے لے کر آتی ہوں تب تک تم منھ ہاتھ دھو کر فریش ہو لو۔اتنا کہہ کر امی باہر نکل گئیں سنبل! بی...

خمیازہ

 عطیہ تم امی جان کے ساتھ ساتھ معصوم سحر پر بھی ظلم کر رہی ہو، آج پورے ایک ہفتے ہو گئے دادی پوتی نے ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھی۔ امی جان کو چیسٹ انفیکشن ہوا تھا اور اب تو وہ پوری طرح سے صحت مند ہیں پھر کیوں سحر کو ان کے پاس جانے سے روک رہی ہو؟ خاور آپ مجھے مجرم سمجھ رہے ہیں تو سمجھا کیجئے لیکن میں اپنی بچی کی جان جوکھم میں نہیں ڈال سکتی۔ تو کیا سحر صرف تمھاری بیٹی ہے مجھے اس کی فکر نہیں؟ فکر ہوتی تو آپ ایسی باتیں نہ کرتے۔ ماں کی محبت سے مغلوب ہوکر آپ اپنی بچی کی صحت کو نظر انداز کر رہے ہیں مگر میں ایک ماں ہوں ایسی کوئی غلطی نہیں کر سکتی جس کا خمیازہ میری بچی کو بھگتنا پڑے۔ ٭٭٭ سحر میڈم! سحر میڈم! سیما کی آواز اسے ماضی کے دریچوں سے واپس کھینچ لائی۔  کیا ہوا سیما؟ آپ کی مما کو اس وقت بہت تیز فیور ہے، انھیں بخار کی دوا دے دوں؟ سیما کی ماں ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں نرس ہیں اس لئے اسے عام بخار، انفلوئینزاجیسی بیماریوں اور ان کے علاج کے متعلق اچھی خاصی معلومات ہے، مگر مسز خاور کو معمولی بخار نہیں بلکہ ٹی بی کا انفیکشن ہے لہٰذا وہ سحر سے دریافت کرنے چلی آئی۔ صبح بخار کی دوا دی...

عالم میں تباہی کے یہ تفریق من و تو

 فائزہ نے موبائل سائلنٹ موڈ پر لگانے کے لئے جیسے ہی پرس کھولا تو وقت دیکھ کر چونک پڑی، ساڑھے چھ بج رہے تھے اور کشن ابھی تک نہیں آیا، اسے معلوم تو ہے کہ آج میری مارننگ شفٹ میں ڈیوٹی ہے، کہیں بھول تو نہیں گیا، وہ زیر لب بڑبڑا رہی تھی۔ اس کی نگاہیں بار بار گیٹ کی جانب اٹھ جاتیں، بیل کی آواز سن کر اس نے تیز تیز قدموں سے چل کر گیٹ کھولا، سامنے کشن خجل سا کھڑا تھا۔ آج بہت دیر کردی کشن؟ آج میں ضرور لیٹ ہو جاؤں گی، فائزہ نے رکشہ میں بیٹھتے ہوئے کہا۔  کیا بتاؤں میڈم جی، رات میں چھوٹکے بٹوا کے بہت تیج بکھار ہوئے گیا۔ ساری رات نہ کھد سُووَانہ سووَے دہس۔  بس یہی میں سبیرے آنکھ لگ گئی۔  واپس لوٹ کر اسے ڈاکٹر کو ضرور دکھا دینا۔  کالج پہنچ کر اس نے رکشے سے اترتے ہوئے پرس سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اسے تھماتے ہوئے کہا، اسے رکھ لو بچے کو ڈاکٹر کو ضرور دکھا دینا۔ میڈم جی میرے پاس ابھی پیسے ہیں، نہیں ہوں گے تو مانگ لوں گا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ کشن فائزہ کے گھر سے تھوڑی دور پر ریلوے ٹریک کے کنارے بنی ایک کچی جھونپڑی میں اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ پچھلے دس سالوں سے رہ رہ...

یہ داغ داغ اجالا

 ایم۔ایس۔ڈگری کالج میں تانیثیت کے موضوع پر منعقدہ سہ روزہ سیمینار کا آج آخری دن تھا۔ پروفیسر شہنواز خان صدارتی خطبے کے لئے جیسے ہی مائک پر تشریف لائے سارا آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا۔ ادبی حلقوں میں تانیثیت کے ایکسپرٹ کے طور پر پروفیسر صاحب کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اس موضوع پر ملک کی کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں سیمینار منعقد ہو موصوف کے بغیر نا مکمل سمجھا جاتا ہے۔ اپنے تقریباً آدھا گھنٹے کے خطاب میں صنف نازک کے مذہبی و انسانی حقوق اور اس کی معاشرتی حیثیت کا جس باریک بینی اور دیانت داری سے تجزیہ پیش کیا ہر کوئی ان کی حق گوئی، انصاف پسندی اور انسانیت کا قائل ہو گیا۔ ہال میں موجود طلباء و دانشور سامعین نے بار بار تالیاں بجا کر ان کے خیالات کی تائید کی۔ اپنے صدارتی خطاب کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ معزز سامعین آپ نے میرے خیالوں سے اتفاق کیا، بے حد شکر گزار ہوں، لیکن آج کا یہ سیمینار اور اس موضوع پر منعقد ہونے والے تمام سیمینار اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوں گے جب ہمارے معاشرے میں عورت کو اس مقام پر فائز کیا جائے گا جس کی وہ مستحق ہے۔ اسے تابعداری اور حکم بجا لانے والا گوشت پوست کا...

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

 آج جبکہ ساری دنیا ایک مہلک وبا کورونا سے نبرد آزما ہے اور اس سے نجات کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگی ہے ، لوگ بلا تفریق مذہب و ملت ایک دوسرے کا درد بانٹنے اور ہر ممکن مدد بہم پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے حتیٰ کہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کی خدمت میں لگے ہیں، ایسے میں ہمارا ملک ہندوستان دنیا کے سامنے ایک الگ ہی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں عوام الناس کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ اس بھی زیادہ ہلاکت خیز ’’وائرس‘‘ فرقہ وارانہ منافرت کا شکار ہیں، جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ کورونا کا علاج تو ان شاء اللہ جلد دریافت کر لیا جائے گا لیکن فرقہ واریت کے وائرس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔  فرقہ وارانہ منافرت کا یہ زہر سوشل میڈیا پر جس زور و شور سے پھیلایا جا رہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن مین اسٹریم میڈیا(پرنٹ و الیکٹرانک دونوں) ان دنوں جس انسانیت سوز پستی کا شکار ہوئے ہیں وہ کسی بھی با شعور انسان کے لئے جھکجھور کر رکھ دینے والا ہے۔ نفرت آمیز صحافت بھی کوئی نئی بات نہیں ہے،لیکن اس وبا کے دور میں حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے...