اشاعتیں

2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
 گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں ہمارے علماء نے جو قربانیاں دیں اسے نہ صرف برادران وطن بلکہ خود مسلمانوں نے بھی فراموش کر دیا۔ اور کیوں نہ ہو حصول آزادی کے بعد علماء نے سیاست کو جس طرح جنس ممنوع سمجھ لیا اور خود کو خانقاہوں اور مدارس میں محصور کر لیا اس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہونا تھا۔ تحریک آزادی کے درمیان علماء دین نے خود آگے بڑھ کر انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں نہ صرف مجاہدین آزادی کی قیادت کی بلکہ  حسب ضرورت غیرمسلم لیڈران سے باہمی تعاون بھی جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور نظریاتی اختلاف کے باوجود کانگریس میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے رواداری کی روایت رہی۔ لیکن آزادی کے بعد جب علماء نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی تو رفتہ رفتہ کانگریس میںہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا رجحان بڑھنے لگا۔ چند دہائیوں کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں کے حامی نہ صرف کانگریس بلکہ دیگر’’سیکولر‘‘ جماعتوں میں بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایسا بازار گرم ہوگیا جس کے نتیجے میں جگہ جگہ ’’دھرم سنسد‘‘ کے ذریعے مسل...
 ذرائع ابلاغ کی اہمیت : سیرت رسولﷺ کے آئینے میں عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا۔آج اطلاعات کی نشریات و ابلاغ عامہ کی برق رفتاری نے اس وسیع و عریض دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی بھی اطلاع سچی ہو یا جھوٹی، حق ہو یا باطل، اچھی ہو یا بری، چشم زدن میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔اخبار و رسائل، ریڈیو، ٹی وی کے علاوہ اس دور میں انٹرنیٹ نے احوال و پیا مات کی ترسیل میں بے انتہا سرعت پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے بہت قلیل وقت میں عالمی سطح پر بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم آج عوام الناس  کی ذہن سازی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ مرکزی ذرائع ابلاغ(مین اسٹریم میڈیا) کے علاوہ سوشل میڈیا بھی اپنے نظریات کی تبلیغ میں انتہائی موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف جہاں بین الاقوامی سطح پر بی بی سی، سی این این جیسے ادارے ہیں تو قومی سطح پر ہندی انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں بےشمار چینلز ہیں جو کسی خاص نظریے کی ترویج و اشاعت میں شب وروز کوشاں ہیں...