شمالی ہند میں اردو کا ارتقا
شمالی ہند میں اردو کا ارتقا امیر خسرو (متوفی 1325 ء) کے بعد شمالی ہندوستان میں تقریباً دو سے ڈھائی سو سال تک ایک جمود کی سی کیفیت طاری رہی۔ اس دوران ہمیں بعض صوفیاء کرام کے کلام کے شانہ بہ شانہ نام دیو، کبیرداس اور گرو نانک کے کلام میں کھڑی بولی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک لمبے وقفے کے بعد سترہویں صدی کے ابتدائی دہائیوں میں نئے سرے سے ایک شعری فضا قائم ہوتی ہے لیکن اس دوران نثری تصانیف دستیاب نہیں ہوتیں۔ جو سب سے پہلی شعری تصنیف سامنے آتی ہے وہ محمد افضل افضل ؔ (متوفی 26-1625) کی ’بکٹ کہانی‘ ہے۔ یہ مثنوی کی ہیئت میں لکھا گیا ایک بارہ ماسہ ہے، جسے مسعود حسین خاں شمالی ہند میں اردو شاعری کا پہلا مستند نمونہ تسلیم کرتے ہیں۔ ’بکٹ کہانی‘ کے سنہ تصنیف کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کس سنہ میں تصنیف ہوئی۔ محمد افضلؔ کے نام اور وطن کے متعلق بھی محققین کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ بکٹ کہانی میں جا بہ جا ایک مصرعہ فارسی ہے تو دوسرا ہندی ہے۔ اس میں برج بھاشا کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ریختہ گوئی جس کی بنیاد شمالی ہندوستان میں تقریباً 300-250 سال پہل...