اشاعتیں

ستمبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا

 شمالی ہند میں اردو کا ارتقا  امیر خسرو (متوفی 1325 ء) کے بعد شمالی ہندوستان میں تقریباً دو سے ڈھائی سو سال تک ایک جمود کی سی کیفیت طاری رہی۔ اس دوران ہمیں بعض صوفیاء کرام کے کلام کے شانہ بہ شانہ نام دیو، کبیرداس اور گرو نانک کے کلام میں کھڑی بولی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک لمبے وقفے کے بعد سترہویں صدی کے ابتدائی دہائیوں میں نئے سرے سے ایک شعری فضا قائم ہوتی ہے لیکن اس دوران نثری تصانیف دستیاب نہیں ہوتیں۔ جو سب سے پہلی شعری تصنیف سامنے آتی ہے وہ محمد افضل افضل ؔ (متوفی 26-1625) کی ’بکٹ کہانی‘ ہے۔ یہ مثنوی کی ہیئت میں لکھا گیا ایک بارہ ماسہ ہے، جسے مسعود حسین خاں شمالی ہند میں اردو شاعری کا پہلا مستند نمونہ تسلیم کرتے ہیں۔ ’بکٹ کہانی‘ کے سنہ تصنیف کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کس سنہ میں تصنیف ہوئی۔ محمد افضلؔ کے نام اور وطن کے متعلق بھی محققین کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ بکٹ کہانی میں جا بہ جا ایک مصرعہ فارسی ہے تو دوسرا ہندی ہے۔ اس میں برج بھاشا کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ریختہ گوئی جس کی بنیاد شمالی ہندوستان میں تقریباً 300-250 سال پہل...

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ

 ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ڈاکٹر جوہی بیگم الہ آباد گزشتہ چند دنوں میں ملک میں دو بڑے واقعات رونما ہوئے جن پر حکومت سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔ ساتھ ہی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ ان موضوعات پر کچھ بھی کہہ پانے میں معذور تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگ بار بار حکومت اور میڈیا کی ان دونوں معاملات میں خاموشی پر سوال اٹھا رہے تھے لیکن جواب ندارد تھا۔ وہ دو موضوعات تھے، گجرات کے ایک بندر گاہ مندرا سے برآمد ہوئی تین ہزار کلو گرام ہیروئن اور الہ آباد میں اکھاڑا پریشد کے کل ہند صدر آچاریہ نریندر گری کی خودکشی۔ چونکہ مندرا پورٹ ان دنوں اڈانی کی تحویل میں ہے اور اڈانی ہماری حکومت کے منظور نظر تو ایسے میں حکومت کوئی جواب کیسے دے سکتی ہے، اور میڈیا حکومت کے چہیتے اڈانی کی بندرگاہ سے برآمد ڈرگس کے بارے میں سوال کیسے کر سکتی ہے۔ ٹھیک یہی حال آچاریہ نریندر گری کی موت کا ہے۔ نریندر گری کی شبیہ مسلم مخالف سنت کی رہی ہے اس لیے وہ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کے قریبی تھے۔ ان کی خود کشی کے متعلق بارہ صفحات کا خودکشی نوٹ بہت کچھ کہہ دیتا ہے کہ ان کی موت آپسی رنجش اور رسہ کشی کے سبب ہوئی۔ ا...

تنقید کی تعریف اور اہمیت

تنقید اچھے برے میں تمیز کرنے کا نام ہے۔ ہر انسان میں تنقیدی شعور کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے، یہی شعور جب دائرۂ ادب میں داخل ہوتا ہے یعنی کسی فن پارے کے حسن و قبح کو ادب کے معیار پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے تو اسے ادبی تنقید کہتے ہیں۔ تنقید نگار کسی بھی تخلیق کی خوبی یا خامی کی نشاندہی کرنے کے لیے اس فن پارے کے باطن میں اتر کر اس کا عمیق مطالعہ کرتا ہے، اور فن پارے کو سمجھنے کی سعی کرتا ہے، ان تمام عوامل کا جائزہ لیتا ہے جو کسی فن پارے کی تخلیق کے محرک بنتے ہیں۔ یعنی تنقید کا مطلب کسی ادب پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ نقاد کسی مصنف کے کام کا تجزیہ نہایت باریک بینی سے کرتا ہے، اس کی مدلل وضاحت اور اس کی جمالیاتی قدروں کی نشاندہی کرتا ہے۔ فن پارے کی جانچ اور پرکھ کے اس عمل کے ذریعے نقاد ادب پارے کے مطلب اور اس کے مقصد کو قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تنقید کا بنیادی مقصد محض خوبیوں اور خامیوں کا اظہار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اہم مقصد کسی فن پارے کے تمام تر عناصر سے قاری کو روبرو کرانا ہوتا ہے۔ تنقید کا ارتقاء: اردو میں تنقید نگاری کی اب...

طنزومزاح

 طنزومزاح (Tanz-o-Mezah) ظرافت کی بنیاد پر وجود میں آنے والی تخلیقات کو عام طور پر مزاحیہ ادب کہا جاتا ہے۔ طنز و مزاح میں اگرچہ ظرافت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، لیکن طنز و مزاح دونوں علیحدہ علیحدہ نوعیت رکھتے ہیں۔ دونوں کے محرکات بھی مختلف اور متضاد ہوتے ہیں۔ طنز ذکاوتِ حس کی بنا پر پیدا ہونے والے ایک ایسے ردعمل کا اظہار ہوتا ہے جس میں غم و غصہ اور برہمی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کمزوریوں، خامیوں، خرابیوں، نقائص، بدنظمی، بدنمائی، بد سلیقگی، بے ڈھنگے پن اور تلخیوں وغیرہ کو استہزائیہ انداز میں پیش کر کے ان کے مضر اور نقصان دہ پہلوؤں کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے ہنگم اور قبیح معاملات کو بےنقاب کیا جاتا ہے۔ سماجی اور تہذیبی زندگی میں سرایت کیے ہوئے امراض کی تشخیص کی جاتی ہے، اور ناسوروں کو کریدا جاتا ہے۔ طنز اصل میں برہمی کا اظہار ہے جو برائیوں، خامیوں، خرابیوں اور ناانصافیوں وغیرہ سے شدید بیزاری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اپنی تصنیف اردو ادب میں طنز و مزاح میں طنز کے متعلق یوں رقمطراز ہیں: ’’طنز بنیادی طور پر ایک ایسے باشعور، حساس اور درد مند انسان...

اردو داستان کا ارتقاء

 اردو داستان کا ارتقاء (Evolution of Urdu Dastan) اردو داستان کی ابتداء فارسی کے ترجموں سے ہوتی ہے، لیکن’ قصہ مہر افروز دلبر‘سے’ الف لیلیٰ ‘اور ’بوستان خیال ‘کے تراجم کے زمانے تک داستانوں کا وافر ذخیرہ دکھائی دیتا ہے۔ ان داستانوں نے اردو نثر کے دامن کو نہ صرف تعداد کے اعتبار سے وسعت بخشی بلکہ اسالیب کی نیرنگی، تخیل کی بلند پروازی، رومانیت اور نادر تشبیہات سے اردو ادب کو زرخیز بنایا۔ ان داستانوں نے اردو نثر کے ارتقاء میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان سے انکار ممکن نہیں۔ ان داستانوں نے اردو ادب کو تقویت بخشی۔ یہ ایک عام خیال ہے کہ داستانی ادب کا آغاز فورٹ ولیم کالج کے قیام کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔ تحقیق کے ذریعے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر گیان چند جین اور سید وقار عظیم جیسے اردو کے مایۂ ناز محققین نے گراں قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ انھوں نے کم و بیش اردو کی تمام داستانوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے تقریباً نصف صدی قبل اردو داستان نویسی کی ابتدا ءہو چکی تھی، حا...

داستان : تعریف اور اجزائے ترکیبی

 داستان : تعریف اور اجزائے ترکیبی  داستان اردو نثر کی قدیم ترین صنف ہے جو قصہ یا کہانی کی ارتقائی شکل ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد کے مطابق: ’’ داستان کہانی کی طویل پیچیدہ بھاری بھرکم صورت ہے لیکن اپنی طوالت پیچیدگی بوجھل پن کے باوجود کہانی سے بنیادی طور پر مختلف نہیں...... یہ بھی دل بہلانے کی ایک صورت ہے۔ ...... داستان گوئی ایک دلچسپ مشغلہ ہونے کے ساتھ ساتھ فنی حیثیت بھی رکھتی ہے اور ہر کس و ناکس داستان گو نہیں ہو سکتا۔‘‘ (کلیم الدین احمد : اردو زبان ور فن داستان گوئی صفحہ ۱۴، ۱۵،۱۹) داستان کا آغاز قصے سے ہوتا ہے۔ عام طور پر داستانیں طویل قصوں پر مبنی ہوتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر قصہ طوالت کا حامل ہو۔زمانۂ قدیم میں تفنن طبع اور وقت گزاری کی ضرورت نے داستان کو جنم دیا۔ داستان کی دلچسپی اور اس کی دلکشی اس کے اسلوب میں مضمر ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص داستان گوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ داستان گوئی باقاعدہ ایک فن ہے۔ سماجی، تمدنی، تہذیبی، علمی و ادبی نقطۂ نظر سے اس کی حیثیت اور اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ تکنیکی اعتبار سے داستان کی کوئی باقاعدہ حیثیت نہیں ہوتی، اس کا پلاٹ غیرمرب...

ملا وجہی کی شاعری کی خصوصیات

 ملا وجہی کی شاعری کی خصوصیات  وجہی کے آباءو اجداد کا تعلق خراسان سے تھا لیکن وجہی کی پیدائش دکن میں ہوئی۔ اس نے دکنی اور فارسی میں ایسے فن پارے پیش کیے کہ سب کو اس کی صلاحیتوں کا قائل ہونا پڑا۔ دکنی شعر و ادب میں وجہی کا وہی مرتبہ ہے جو شمالی ہند میں غالبؔ کو حاصل ہے۔ مثنوی کے علاوہ وجہی نے غزل، نظم اور مرثیہ جیسی اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی۔ وہ دکنی زبان کے متقدمین شعراءفیروزؔ اور محمودؔکا بہت احترام کرتا تھا، اور گمان ہے کہ اس نے ان شعرا ءکے کلام سے استفادہ بھی کیا ہوگا۔ وجہی کی زود نویسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے اپنی مثنوی قطب مشتری محض بارہ روز کی قلیل مدت میں مکمل کی، جسے ایک شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ وجہی نے قطب مشتری میں ادب کے معیار اور تصنیف و تالیف کے قواعد سے جس طرح بحث کی ہے یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک نابغۂ روزگار تخلیق کار ہے، جس نے ادبی نثر و شاعری کو ایسے رموز سے آشنا کیا جو ابھی تک پردۂ اخفا میں تھے۔ اپنی تخلیقات کی صورت میں اس نےاردو شعر و ادب کے ایسے لازوال نقش چھوڑے جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ یہ وجہی ہی تھا جس نے سب سے پہلے اد...

ایہام گوئی

ایہام گوئی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی’ وہم ‘یا ’وہم میں ڈالنا ‘ہے۔ شعری اصطلاح میں وہ صنعت جس میں شاعر ایسا لفظ لائے جو ذومعنی ہو اسے صنعت ایہام کہتے ہیں، کیونکہ کہ اس صنعت کے استعمال سے قاری وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام صنعتِ ایہام ہے۔ اس صنعت کی خوبی یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے ذومعنی لفظ کا ایک معنی مفہوم کے قریب اور دوسرا بعید ہوتا ہے، لیکن شاعر کی مراد معنیٔ بعید سے ہوتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس میں شعر کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔ امیر خسرو کو اردو ادب میں صنعت ایہام استعمال کرنے والا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی کہہ مکر نیوں اور پہیلیوں میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ صنعت ایہام اس دور میں ہندی اور فارسی میں بھی استعمال ہوتی تھی۔ محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق کے مطابق اردو ایہام پر ہندی شاعری کا اثر زیادہ ہے۔ ہندی میں یہ صنعت سنسکرت سے پہنچی۔ سنسکرت میں اس کو شلیش النکار کہا جاتا ہے۔ لیکن ایہام اور شلیش میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ شلیش میں ایک شعر کے کئی معنی ہوسکتے ہیں لیکن ایہام میں شعر کا مطلب صرف ایک ہوتا ہے۔ شمالی ہند میں ول...