مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ
مقدمہ شعروشاعری: ایک تجزیہ Muqadma shero shairi by Altaf Husain Hali A critical study مولانا الطاف حسین حالیؔ نے اردو شعر و شاعری کی اصلاح کی غرض سے اپنے دیوان کا معرکۃالآرا مقدمہ شعر و شاعری کے عنوان سے لکھا۔ یہ مقدمہ در حقیقت اردو شاعری پر حالیؔ کا ایک عالمانہ اور بصیرت افروز تبصرہ ہے جس کے پسِ پردہ حالیؔ کا مقصد اردو شاعری کی خامیوں اور معائب کی نشاندہی کرنا اور ساتھ ہی سودمند مشورے بھی دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اردو شاعری کے اس سرمائے کو منتخب کیا یا جو سب سےزیادہ اصلاح کا متقاضی تھا اور اس حصے سے اغماض برتا جسے ان کی نظروں میں اصلاح کی حاجت نہیں تھی اور جو ان کے نزدیک لائق ستائش تھا۔ اس مقدمے میں انھوں نے ایک طرف جہاں اردو شعراء کو پامال شدہ راستوں کو ترک کرنے اور نئی۔نئی راہوں کی تلاش و جستجو کی ترغیب دی وہیں تنقیدی شعور بھی بیدار کیا۔ (Ibadat Barelvi) بقول عبادت بریلوی: ’’حالیؔ نے ان تمام حالات کو محسوس کر کے اس دبی بغاوت کا پرچم بلند کیا اور مقدمہ شعر و شاعری میں سب سے پہلے شعر و ادب ان کی اہمیت اور ضرورت اور تبدیلی سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ یہ بحث فلسفی...