پریم چند اور حاشیائی سماج
پریم چند اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے ایک ایسے فنکار ہیں جنھوں نے معاشرتی اصلاح کے سوال کو ہمیشہ طبقاتی کشمکش کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ ان کا پورا کا پورا ادب طبقاتی شعور و کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔ انھوں نے اس کے محض خیالی نقشے نہیں کھینچے ہیں بلکہ اسے ہندوستانی نظام معاشرت کے آئینے میں پیش کیا ہے۔ بیسویں صدی کے تقریباً نصف حصے کی عوامی جد و جہد پریم چند کے ادب میں اپنی تمام تر صداقتوں کے ساتھ کارفرما ہے۔ پریم چند ایک ایسے وسیع التجربہ مصنف تھے جو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ پسماندہ طبقات کی زبوں حالی کے لیے وہ معاشرتی نظام ذمے دار ہے جو نا انصافی اور نفاق پر مبنی ہے۔ جس کے نتیجے میں طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے۔ پریم چند سماج کی اس غیر منصفانہ طبقاتی تقسیم سے نالاں تھے۔ عدم مساوات خواہ ذاتی و نسلی سطح پر ہو یا پھر معاشرتی و مذہبی انھیں قطعی منظور نہیں۔
پریم چند کے عہد تک اچھوتوں کی حالت نہایت تشویشناک ہو چکی تھی لوگوں کی خدمت کرنے والے ان افراد کی زندگی کو مختلف النوع معاشرتی، مذہبی اور اقتصادی ممنوعات کے دائرے میں محصور کر کے طرح طرح سے معتوب و مقہور کیا جاتا تھا۔ انھیں نہ صرف حقیر وکمتر خیال کیا جاتا تھا، بلکہ بنیادی حقوق انسانی سے بھی محروم رکھا گیا۔ زمین جائیداد رکھنے کا بھی انھیں حق حاصل نہ تھا، انھیں تعلیم کی روشنی سے محروم رکھا گیا۔ انھیں پکے مکان بنانے کی اجازت نہیں تھی وہ اونچی ذات والوں کے کنوؤں سے پانی نہیں بھر سکتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں کچھ ذاتیں ایسی بھی تھیں جنھیں عالی نسب ہندوؤں کی بستی میں داخل ہونے تک کی ممانعت تھی۔ سماج کے درماندہ افراد کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا پریم چند نے بہت باریکی سے مشاہدہ کیا تھا۔
پریم چند کے دل میں ذلت اور رسوائی کے دردسے تڑپتی انسانیت کے لیے ہمدردی کا دریا موجزن تھا۔ انھوں نے معاشرے سے عاق شدہ ان افراد کو اپنی کہانیوں کے دامن میں جگہ دی اور ان کے ذریعہ ان حالات کو تبدیل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جن کے تحت اچھوت طبقہ جانوروں کی طرح جینے پر مجبور تھا۔ ان کی تقریباً تین درجن کہانیاں ایسی ہیں جن کا تعلق اچھوت طبقے کے مسائل سے ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ کہانیوں میں انھیں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور کچھ میں ضمنی۔ ان کہانیوں کے کردار چمار، کرمی، گڑریا، کاچھی، گونڈ، دھوبی، مالی، بھنگی، گھسیارے، اہیر، مہتر، کہارن وغیرہ ہیں۔ مثال کے طور پر’ نجات‘ کا دکھی، ’گھاس والی‘ کی مُلیا، ’گلی ڈنڈا‘ کا گیا، ’حسن و شباب‘ کا بھگت رام، ’موٹھ‘ کا اوجھا، چمار ہیں۔ ’سوا سیر گیہوں‘ کا شنکر، ’قربانی‘ کے باپ بیٹے ہرکھو اور گردھاری، اور ’لال فیتہ‘ کا ہری بلاس کرمی ہیں۔ ’راہِ نجات‘ کا بدھو گڑریا ہے۔ ’تحریک خیر‘ کی بھُنگی گونڈن ہے۔ ’دودھ کی قیمت‘ کی بھُنگی، ’جرمانہ‘ کے حسینی اور اللہ رکھی اور ’الزام‘ کا رامو مہتر ہیں۔ ’نیچ ذات کی لڑکی‘ گورا کہارن ہے۔ ’حسن ظن‘ کا بیچو دھوبی ہے۔ ’اصلاح‘ کا درگا مالی ہے۔ اور ’بابا جی کا بھوگ‘ کا رام دھن اور’ اندھیر‘ کا گوپال اہیر ہیں۔
اعلی نسب ہندو شودروں کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے لہٰذا وہ ان درماندہ افراد سے بیگار لینا، ان کی عورتوں کی آبروریزی کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ وہ جب چاہتے جہاں چاہتے ان ننگے بھوکے افراد کو کام میں لگا دیتے نہ انھیں ان کے کھانے کی فکر تھی نہ ان کے جسمانی ضعف کی پرواہ۔ ان عسرت زدہ افراد میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ ان مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکیں پریم چند نے ان مفلوک الحال افراد کے درد کو شدت سے محسوس کیا اور اپنی متعدد کہانیوں میں انھیں من و عن بیان کردیا۔ ’نجات‘ کہانی کا دکھی چمار اس کی سب سے بڑی مثال ہے جو ایک برہمن گھاسی رام کے دروازے پر بیگار کرتے ہوئے بھوکا پیاسا دم توڑ دیتا ہے۔ اسی طرح ’گھاس والی‘ کہانی میں ٹھاکر چین سنگھ گاؤں کی ایک عورت ’مُلیا‘ جو کہ چمارن ہے، کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور ایسا کرنے میں اسے کسی طرح کا خوف یا حجاب مانع نہیں ہوتا کیونکہ ان عالی نسب افراد کی نظر میں ’’نیچی ذاتوں میں حسن کا اس کے سوا اور کام ہی کیا ہے کہ وہ اونچی ذات والوں کا کھلونا بنے‘‘
مذکورہ کہانیوں کا پلاٹ محض پریم چند کا تخیل نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنھیں پریم چند نے اپنے گردوپیش میں دیکھا تھا۔ ایسا ہی ایک حقیقی واقعہ انھوں نے اپنی ایک کہانی بعنوان’ میری پہلی رچنا‘ میں بیان کیا ہے۔ اس کہانی میں پریم چند اپنے ایک رشتے کے ماموں کی کارگزاری کا ذکر کرتے ہیں، جو گھر میں اکیلا پا کر ایک چمارن کے ساتھ منھ کالا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پریم چند نے اچھوتوں کے ساتھ کیے جانے والے بہیمانہ سلوک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیے جانے کے بے شمار مناظر ان کے مشاہدے سے گزرے تھے۔ انھوں نے ان افراد کے درد کو پوری شدت سے محسوس کیا اور اس سماج کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی جس نے اپنے ہی بھائیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا تھا۔ پریم چند شاید وہ پہلے مصنف ہیں جنہوں نےچھواچھوت کے مسئلے کو ادب کے دامن میں جگہ دی۔ ان کی کہانیاں ’مندر‘، ’ٹھاکر کا کنواں‘ اور ’دودھ کی قیمت‘ وغیرہ اس ضمن میں لکھی گئی کہانیاں ہیں۔ ا علیٰ ٰطبقات کے لوگ شودروں سے کام لیتے تو انھیں نجاست نہیں لگتی تھی لیکن اگر وہی شودر اپنی ضرورت سے ان کے پاس چلا جائے تو ان کا دھر م بھرشٹ ہوجاتا تھا۔ اعلیٰ نسب ہندوؤں کی اس دوغلی ذہنیت کو پریم چند نے’ دودھ کی قیمت‘ کہانی میں نہایت بے باکی سے بے نقاب کیا ہے۔اس کہانی میں زمیندار مہیش ناتھ اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے بھُونگی نامی ایک بھنگن سے دودھ پلواتے ہیں، ان کے بچے کو دودھ پلانے کے لیے بھُونگی اپنے بچے منگل کو دودھ نہیں پلاتی۔ منگل روز بروز کمزور ہوتا جاتا ہے اور مہیش ناتھ کا بچہ تندرست و توانا۔ بھُونگی کی موت کے بعد منگل یتیم ہو جاتا ہے لیکن زمیندار صاحب اس کی نگہداشت کی اخلاقی جرأت بھی نہیں دکھاتے۔ یہی نہیں اس کا دودھ شریک بھائی سریش بھی اس کے ساتھ اچھوتوں جیسا ہی برتاؤ کرتا ہے۔ ایک دن کھیل کھیل میں دونوں بچوں میں تکرار ہوئی توسریش منگل پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے اسے چھو لیا، اور اس جرم کی پاداش میں منگل کو اس گھر کے جھوٹے کھانے سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے جو اس کے گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا۔ پریم چند اس کہانی میں ان منافقین کی نقاب کشائی کرتے ہیں جو اپنی غرض کی خاطر اچھوت عورت کا دودھ بھی اپنی اولاد کے لیے جائز خیال کرتے ہیں لیکن مقصد براری کے بعد اسی ماں کی اولاد کے چھو لینے سے ناپاک ہو جاتے ہیں۔
کچھ اسی طرح کا نظارہ پریم چند کی کہانی ’نجات‘ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ پنڈت گھاسی رام دکھی چمار سے بیٹھک لیپنے کو کہتے ہیں۔ اس کے کام کرنے سے پنڈت یاپنڈتائن کو گھر نجس ہونے کا خطرہ نہیں لیکن جب دکھی اپنی غرض سے چلم کے لیے آگ لینے گھر میں داخل ہوتا ہے توپنڈتائن چراغ پا ہو جاتی ہے۔ اسے گھر نجس ہونے کا غم ستانے لگتا ہے۔ چھواچھوت کے مسائل پرپریم چند نے متعدد کہانیاں لکھی ہیں، جن میں’ صرف ایک آواز‘، ’نوک جھونک‘، ’دونوں طرف سے‘ اور ’تالیف‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی مشہور کہانی ’ٹھاکر کا کنواں‘ ہے، اس کہانی میں پریم چند اپنے عہد کے ایک مسئلے کی طرف قاری کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ ان کے عہد تک اچھوتوں کو اعلیٰ نسب ہندوؤں کے کنویں سے پانی بھرنے کی اجازت نہیں تھی، خواہ انھیں گندا بدبودار پانی ہی کیوں نہ پینا پڑے، یا پیاس سے مر ہی کیوں نہ جائیں۔ اس کہانی کے جوکھو اور گنگی اچھوت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جوکھو بیمار ہے اور پیاس سے بے حال ہو رہا ہے، یہ لوگ جس کنویں سے پانی بھرتے ہیں اس میں کوئی جانور مر گیا ہے، جس کے نتیجے میں پانی میں بدبو پیدا ہوگئی ہے۔ گنگی ٹھا کر کے کنویں سے پانی بھرنا چاہتی ہے لیکن جوکھو اسے ایسا کرنے سے روکتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے انسان کی شکل میں یہ درندے انھیں جانوروں سے بھی بدتر خیال کرتے ہیں، اسی لیے وہ اسے سمجھاتا ہے: ’’ ہاتھ پیر تڑوا آئے گی اور کچھ نہ ہوگا، بیٹھ چپکے سے‘‘ لیکن گنگی سے شوہر کی تکلیف دیکھی نہیں گئی اور وہ رات کے اندھیرے میں گھڑا لے کر پانی بھرنے ٹھاکر کے کنویں پر جاتی ہے، لیکن ٹھاکر کا دروازہ کھلتے ہی گھڑا اورر سی وہیں چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرتی ہے۔ گنگی کا خوف کوئی خیالی چیز نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس نے گنگی جیسے کروڑوں لوگوں کو پل پل مرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔ انھیں ان سامنتی طاقتوں سے کوڑے تو مل سکتے تھے لیکن ان سے رحم کی امید کرنا بے معنی تھا۔
ان کے مندر میں داخلے پر سخت ممانعت تھی۔ اگر کوئی بدنصیب ان پابندیوں کو توڑنے کی جسارت کر بیٹھتا تو اسے بے دردی سے معتوب کیا جاتا۔ پریم چند ان حقائق سے بخوبی واقف تھے اور ان کا دل مذہبی اجارہ داری سے برگشتہ خاطر تھا، اسی لیے انھوں نے اپنے قلم سے ایسی مذہبی غنڈا گردی کے خلاف علم احتجاج بلند کیا۔ ان کی کہانی مندر اس کی زندہ مثال ہے۔ اس کہانی کی سکھیا جو ذات کی چمارن ہے اپنے بچے کی صحت یابی کے لیے بھگوان کی پوجا کرنا چاہتی ہے لیکن مندر کا پجاری اور گاؤں کے دیگر افراد اسے مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان کے نزدیک ایک چمارن کے مندر میں داخل ہونے سے ٹھا کر جی ناپاک ہوجائیں گے۔مندر کا پجاری اس سے جنتر(تعویز) کے نام پر روپیہ تو اینٹھ لیتا ہے لیکن ممتا کی ماری ماں کو مندر میں نہیں داخل ہونے دیتا۔ جب سکھیا رات کے اندھیرے میں مندر میں داخل ہوجاتی ہے تو اسے اس جرم کی قیمت اپنے بچے کی زندگی سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ اچھوتوں کو تعلیم سے دور رکھنے کے مسئلے کو بھی پریم چند اپنی متعدد کہانیوں میں پیش کرتے ہیں۔ ’لال فیتہ‘ کہانی میں رائے ہری بلاس جو کہ ڈپٹی مجسٹریٹ ہیں بچوں کو مدرسہ میں داخلے سے روکنے والوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں تو اس ہمدردی کی سزا انھیں تنزلی اور تبادلہ کی صورت میں ملتی ہے۔خود ہری بلاس کو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود صرف کرمی ہونے کے سبب قدم قدم پر مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’حسن و شباب‘ کے بھگت رام کو حصول علم کے دوران چمار ہونے کے سبب اپنے ہم سبق لڑکوں کی تحقیر کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
اپنے ہی ہم وطن اور ہم مذہب افراد کا ٹھکرایا ہوا شودر طبقہ تعلیم و تربیت سے دور ہونے کے سبب متعدد اخلاقی قباحتوں کا شکار ہوگیا۔ ان میں مردار خوری، شراب نوشی، جوا اور چوری جیسے برے خصائل پیدا ہوگئے۔ غور کیا جائے تو ان کی اخلاقی پستی کے لیے بھی اعلیٰ طبقے کے لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے انھیں تعلیم سے محروم رکھا، جس کا لازمی نتیجہ اخلاقی اقدار میں پستی کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔ اعلیٰ طبقے کے افراد ان سے بیگار لیتے اور انھیں ان کی دوسری ضروریات تو دور پیٹ بھر کھانا بھی نہ دیتے، تو ایسی صورت میں اپنی بھوک مٹانے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کے پاس چوری اور جوئے کے سوا کو ن سا راستہ رہ جاتا ہے۔ پریم چند نے سماجی و معاشی ناہمواری کے سبب پل پل مصائب سے جوجھتے افراد کو اپنے اردگرد دیکھا تھا، انھوں نے اپنی کہانیوں میں عام طور پر ان پسماندہ افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل بنا کر پیش کیا ہے۔ چونکہ پریم چند ایک حقیقت پسند مصنف ہیں اس لیے انھوں نے ان کی اخلاقی کمزوریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انھوں نے ’جو ہے جیسا ہے‘ کے مصداق اپنی بعض کہانیوں میں ایسے کردار بھی پیش کیے جو مختلف بدعنوانیوں کا شکار ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ وہ ان کی ان خامیوں کے لیے جواز بھی پیش کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انھیں راہ راست پر بھی لے آتے ہیں۔’ اصلاح‘ کہانی کا ’درگا‘ جو کہ عرفان علی کے باغیچے میں مالی کا کام کرتا ہے کم تنخواہ کے سبب اس کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے اور چوری کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وہی در گا بعد میں پریم شنکر کے پاس پوری ایمانداری سے کام کرتا ہے کیونکہ وہاں سے اسے معقول آمدنی ہو جاتی ہے۔ ’تہذیب کا راز‘ کہانی کا دمڑی بھی تنگ دستی کے سبب بیلوں کے لیے چارہ کاٹتے پکڑا جاتا ہے۔ ’طلوع محبت‘ کا بھوندو اپنی بیوی کے زیورات کی خواہش پوری کرنے کے لیے چوری کرتا ہے۔ مجبوری کے سبب ایسے چھوٹے چھوٹے جرائم پریم چند کے اکثر کردار کرتے ہیں لیکن ’کفن‘ کے گھیسو اور مادھو اپنی بہو اور بیوی کے کفن کے پیسوں سے شراب پی کر ایسا کریہہ جرم کرتے ہیں جس نے پریم چند کو ہی تنقید کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ پسماندہ طبقے سے متعلق کہانیوں میں ان کی یہ کہانی سب سے زیادہ زیر بحث رہی ہے اور لوگوں کی مخالفت کا شکار بھی۔ اکثرمصنفین و ناقدین کا خیال ہے کہ یہ کہانی پسماندہ افراد کے تئیں ہمدردی کا نہیں بلکہ حقارت کا اظہار ہے اور اپنی اس بات کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس میں پسماندہ کرداروں کو غیر فطری اور غیر انسانی طور پر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، دراصل پریم چندگھیسو اور مادھو کی اس بے حسی اور ان کے وحشیانہ رویے کا ذمہ دار انھیں نہیں بلکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال کو ٹھہراتے ہیں۔ اس کہانی کی تخلیق میں بھی شاید پریم چند کا یہی جذبہ کارفرما رہا ہو کہ وہ اس طرز معاشرت کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے جو کہ انسان کو انسانیت کے منصب سے گراتی ہے اور سماج میں گھیسو اور مادھو جیسی ذہنیت والے انسان کو جنم دیتی ہے۔
پریم چند نے سماجی ناانصافی کے شکار اس طبقہ کی بے بسی اور تباہ حالی کا رقت انگیز نقشہ اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنی کہانیوں میں اس طبقے کے دل میں اپنی تباہ کن حالت کو لے کر پیدا ہونے والے انتشار کی بھی عکاسی کی ہے۔’ٹھاکر کا کنواں‘ کی گنگی، ’مندر‘ کی سکھیا، ’تالیف‘ کا بوڑھا اچھوت اور ’گھاس والی‘ کی مُلیا اس طبقے کے وہ نمائندہ افراد ہیں جن کے دلوں میں اپنے اوپر لگائی جانے والی بے جا پابندیوں اور بندشوں کے خلاف انتشار برپا ہے۔ گنگی اپنے بیمار شوہر کے پینے کے لئے صاف پانی کا انتظام نہیں کر پاتی کیونکہ وہ اچھوت ہے۔ چھواچھوت کی اس روش پر اس کے دل میں بغاوت کا سیلاب اُمڈ پڑتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ یہ لوگ کس معاملے میں اس سے بہتر ہیں، کیوں کہ وہ ان اعلی نسب افراد کے کردار و افعال سے اچھی طرح واقف ہے۔ سُکھیا اپنے بیمار بچے کی شفاء کے لیے مندر میں پوجا کرنا چاہتی ہے لیکن مندر کا پجاری اسے منع کر دیتا ہے کیونکہ اس کے مندر میں داخل ہونے سے مندر ناپاک ہو جائے گا۔ سکھیا اس بات کو قطعی قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ٹھا کر جی صرف اونچی ذات والوں کے ہیں نیچی ذات والوں کو ان کے درشن کا حق نہیں۔ مُلیاٹھا کر چین سنگھ کے ہاتھ پکڑنے پر نہ صرف یہ کہ خود سپردگی نہیں کرتی بلکہ یہاں تک کہہ دیتی ہے کہ اگر مہابیر (سکھیا کا شوہر) اس کی بیوی کو چھیڑتا تو اسے کیسا لگتا۔ ’تالیف‘ کا بوڑھا اچھوت اچھوتوں میں پیدا ہونے والی بیداری کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مدر اس کے قریب ایک گاؤں کے اچھوت ہندوؤں کی زیادتیوں سے تنگ آکر مذہب چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں انھیں اس بات سے باز رکھنے کے لیے ہندو مہاسبھا ایک وفد بھیجتی ہے۔ وفد کے سربراہ چوبے جی جب گاؤں والوں کو مخاطب کرتے ہیں تو گاؤں کا چودھری ان سے کچھ ایسے سوال کرتا ہے جن کا جواب چوبے جی کے پاس نہیں۔ ان کے درمیان ہونے والے مکالمات میں ہمیں ان اچھوتوں میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری صاف نظر آتی ہے۔
پریم چند کی یہ کہانیاں طبقاتی تقسیم کے نام پر صدیوں سے چلے آرہے جور و ستم کی داستان کہتی ہیں۔ نجات کے دکھی کی جان کس نے لی؟ مندر کی سکھیا کی گود کس نے اجاڑی؟ ’ٹھاکر کا کنواں‘ کے جوکھو کو بیماری میں بھی گندا اور بدبودار پانی کیوں پینا پڑا؟ ’دودھ کی قیمت‘ کے شیرخوار منگل کی خوراک کس نے چھینی؟ اور بڑے ہونے پر اسی منگل کو لوگوں کے بچے کھچے ٹکڑے کیوں کھانے پڑے؟ اور ٹامی جیسے آوارہ کتے کی طرح زندگی کیوں بسر کرنی پڑی؟ کفن کے گھیسو مادھو کو حیوان کس نے بنایا؟ ’اصلاح‘ کے درگا کو اپنی ایمانداری کا خون کیوں کرنا پڑا؟ ’حسن ظن‘ کے بیچو کو اپنا آبائی وطن کیوں چھوڑنا پڑا؟ ’نیک بختی کے تازیانے‘ کے ناتھو رام کو اپنی پہچان کیوں چھپانی پڑی؟ ’لال فیتہ‘ کے ہری بلاس کو اپنے عہدے سے استعفی دینے پر کس نے مجبور کیا؟ ’گھاس والی‘ کی با عصمت مُلیا کا ہاتھ پکڑنے کی ہمت چین سنگھ جیسے شہدے کو کس نے عطا کی؟ ’منتر‘ کے بھگت کے بڑھاپے کو بے سہارا کس نے کیا؟ ’گلی ڈنڈا‘ کا گیا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اپنے بچپن کے دوست کے روبرو احساس کمتری کا شکار کیوں ہے؟ ’سوا سیر گیہوں‘ کے شنکر کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ ’تالیف‘ کے اچھوت اپنا مذہب تبدیل کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ ان سوالوں کی روشنی میں اگر ہم پریم چند کی کہانیوں کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ ظلم و ناانصافی کی یہ جڑیں ہندوستانی تاریخ کی کئی صدیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
پریم چند اپنی کہانیوں میں درماندہ افراد کے مسائل کو صرف پیش ہی نہیں کرتے بلکہ ان مسائل سے جڑے جلتے سلگتے سوالوں کی طرف معاشرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے ان کا حل بھی تجویز کرتے ہیں۔ وہ صدیوں سے چلے آرہے فرسودہ رسم و رواج پر کڑی ضرب لگاتے ہیں۔ پریم چند ظلم و بربریت کے سائے میں سسک سسک کر جینے والی زندگیوں کو بیدار کرتے ہیں، انھیں اپنے حالات کو بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا سکھاتے ہیں۔ مذہب کے نام پر بنائے گئے ظلم و زیادتی کے جال کو کاٹ کر نجات کا راستہ دکھاتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں