تنقید کی تعریف اور اہمیت


تنقید اچھے برے میں تمیز کرنے کا نام ہے۔ ہر انسان میں تنقیدی شعور کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے، یہی شعور جب دائرۂ ادب میں داخل ہوتا ہے یعنی کسی فن پارے کے حسن و قبح کو ادب کے معیار پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے تو اسے ادبی تنقید کہتے ہیں۔ تنقید نگار کسی بھی تخلیق کی خوبی یا خامی کی نشاندہی کرنے کے لیے اس فن پارے کے باطن میں اتر کر اس کا عمیق مطالعہ کرتا ہے، اور فن پارے کو سمجھنے کی سعی کرتا ہے، ان تمام عوامل کا جائزہ لیتا ہے جو کسی فن پارے کی تخلیق کے محرک بنتے ہیں۔ یعنی تنقید کا مطلب کسی ادب پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ نقاد کسی مصنف کے کام کا تجزیہ نہایت باریک بینی سے کرتا ہے، اس کی مدلل وضاحت اور اس کی جمالیاتی قدروں کی نشاندہی کرتا ہے۔ فن پارے کی جانچ اور پرکھ کے اس عمل کے ذریعے نقاد ادب پارے کے مطلب اور اس کے مقصد کو قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تنقید کا بنیادی مقصد محض خوبیوں اور خامیوں کا اظہار کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اہم مقصد کسی فن پارے کے تمام تر عناصر سے قاری کو روبرو کرانا ہوتا ہے۔

تنقید کا ارتقاء:

اردو میں تنقید نگاری کی ابتداء تذکروں سے ہوتی ہے ان تذکروں سے نہ صرف یہ کہ شعراء کرام کے خانگی حالات کا تعارف حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ تذکرے ان کی شاعرانہ خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اردو تنقید کا باقاعدہ آغاز حالیؔ کی تصنیف ’مقدمہ شعر و شاعری‘ سے ہوتا ہے۔ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ اردو کی پہلی مکمل تنقیدی کتاب ہے جس میں حالی نے شعر گوئی کے اصول وضوابط کا تعین کیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ شعر گوئی کے لیے سادگی، اصلیت اور جوش ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تخیل، مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ حالی کے ساتھ ساتھ شبلی نعمانی عملی تنقید کی جانب متوجہ ہوئے۔ انہوں نے مختلف شعراء کے کلام کے تجزیے کے ساتھ ساتھ عملی تنقید کے ذریعے متعدد شعری اصناف کے حدود اور امکانات سے بحث کی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تنقید کا آغاز انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اردو کے علاوہ ہندوستان کی دیگر زبانوں میں بھی تنقید کا آغاز ہوتا ہے۔’ مقدمہ شعر و شاعری‘ میں حالیؔ نے جس طرح کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا ہے وہ انھیں اس عہد کے دیگر نقادوں سے منفرد کرتی ہے۔ حالی کو تنقید نگاری میں نئی شاہراہ نکالنے کا شرف حاصل ہے۔ یہ وہ دور ہے جب شعر و ادب کے سماجی اور جمالیاتی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بعد کے نقادوں میں امداد امام اثرؔ، سلیم پانی پتی، مہدی افادی، مولوی عبدالحق، عظمت اللہ خاں، رشید احمد صدیقی وغیرہ کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان نقادوں میں عبدالحق اور عبدالسلام ندوی کے یہاں تاریخی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ جبکہ مہدی افادی، عبدالرحمن بجنوری اور سجاد انصاری کے یہاں جمالیاتی اور تاثراتی رجحان کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ عبدالماجد دریاآبادی، عظمت اللہ اور ڈاکٹر زور کی بعض تنقیدوں میں نفسیاتی پہلو کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے زمانۂ عروج میں اردو تنقید میں ایک نئی راہ تلاش کی گئی جس کے تحت مارکسی تنقید نے جنم لیا، جسے ترقی پسند تنقید سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اختر حسین رائے پوری کے مضمون ’ادب اور زندگی‘ کو مارکسی تنقید کا نقش اول کہا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں سجاد ظہیر، احمد علی، ڈاکٹر عبدالعلیم، احتشام حسین وغیرہ نے مارکسی تنقید کے کارواں کو آگے بڑھایا۔ ان ناقدین نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تنقید محض تاثراتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہونی چاہیے۔ مذکورہ ناقدین کے علاوہ ممتاز حسین، سید اعجاز حسین، ڈاکٹر عبادت بریلوی، علی سردار جعفری، خلیل الرحمن اعظمی، ظہیرکاشمیری، محمد حسن اور قمر رئیس وغیرہ نے اپنے اپنے طور پر مارکسی تنقید کو تقویت بخشی۔ اس زمانے میں متعدد ناقدین ایسے بھی تھے جن کا تعلق ترقی پسند تنقید سے نہیں تھا۔ انھوں نے ترقی پسند تنقید سے الگ راہ اختیار کرتے ہوئے نفسیاتی تنقید اور جمالیاتی تنقید پر توجہ دی۔ اس ضمن میں وقارعظیم، اختر اورینوی، خواجہ احمد فاروقی، کلیم الدین احمد، حسن عسکری وغیرہ کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
ترقی پسند تحریک کے زوال کے بعد ادب میں ایک نیا رجحان رونما ہوتا ہے جسے جدیدیت کا نام دیا گیا۔ جدیدیت کے علمبردار ناقدین میں سب سے نمایاں نام شمس الرحمن فاروقی کا ہے، جنھوں نے اپنے رسالے ’شب خون‘  کے ذریعے جدیدیت کے رجحان کی خوب ترویج کی۔ ان کے علاوہ باقرمہدی اور وہاب اشرفی کے نام بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ جدید یت کے بعد کا عہد مابعد جدیدیت کہلاتا ہے۔ جس کی بنیاد گوپی چند نارنگ نے رکھی۔ ان کی قائم کردہ روش پر چلتے ہوئے موجودہ عہد کے نامور ناقدین پروفیسر شمیم حنفی، عتیق اللہ، ابو الکلام قاسمی، شافع قدوائی وغیرہ نے تنقید نگاری کے گراں قدر نمونے پیش کیے۔

تنقید کی اہمیت اور ضرورت:

تنقید عربی زبان کا لفظ ’نقد ‘سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا ہے۔ اصطلاحاً کسی ادیب یا شاعر کے فن پارے کے حسن وقبح کا تجزیہ کرتے ہوئے ادب میں اس کے مقام اور مرتبہ کے تعین کو تنقید کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کسی شاعر یا ادیب نے اپنی تخلیق کے ذریعے ادب کے ساتھ کتنا انصاف کیا ہے۔ تنقید بھلے اور برے کو پرکھنے کا ہنر سکھاتی ہے، تنقید ایک فن ہے، اس کے لیے اخلاص اور ریاضت ضروری ہے، تنقید کا فن سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے، یہ قاری کے ذہن کو روشن کرتی ہے، فکر و فلسفے میں اعتدال قائم کرتی ہے، تنقید پستی نہیں عروج کی تلاش کرتی ہے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس بلندی کی نوعیت کیا ہے، تنقید کسی فن پارے یا علم کی روح ہے، تنقید ایک فن ہے لیکن اس کو محض فن کے حصار میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے یہ ایک مؤرخ، فلسفی، ایک مفکر، ایک مصلح اور ایک پیغمبر کے فرائض انجام دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نقاد کو سماجی عوامل، انسانی تاریخ، نفسیات انسانی، تہذیب و ثقافت سے پوری واقفیت ہونی چاہیے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ تنقید ہماری زندگی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانسیں۔ اگر انسان اپنی خامیوں اور خوبیوں کو پرکھنے کی تمیز نہیں رکھتا تو اپنی خامیوں کو اچھائیوں میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کو اس بات کا احساس تنقیدی شعور کے بغیر نہ ہوگا کہ زندگی کے لیے کون سی چیزیں سودمند ہیں اور کون سی فضول اور مضر، اور زندگی کس طرح مکمل اور خوشگوار بن سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ تنقید زندگی کو صحیح سمت و رفتار عطا کرتی ہے۔ تنقید وضاحت ہے، تشریح ہے، ترجمانی ہے، تجزیہ ہے، یہ صرف قدروں کا ہی تعین نہیں کرتی بلکہ ادب اور زندگی کے معیار کو ایک پیمانہ عطا کرتی ہے، ایجادات کی موجد ہے اور اسے محفوظ رکھنے کا بھی فرض انجام دیتی ہے۔
میتھیو آرنلڈ کے مطابق: ’’دنیا میں جو بہترین باتیں معلوم کی گئی ہیں جو کچھ دنیا میں بہتر سے بہتر سوچا گیا ہے، تنقید کا کام اس کو جاننا، معلوم کرنا اور پتہ لگانا ہے، اور ان کو دوسروں تک پہنچانا ہے، تاکہ وہ نئے اور جدید نظریات اور خیالات کی تخلیق میں زیادہ سے زیادہ مددگار ثابت ہو سکے۔‘‘

اردو شعرا ءکے تذکرے:

تذکرے اردو تنقید کے ابتدائی نقوش ہیں جن میں قدیم شعراء اردو کے دستیاب شدہ حالات زندگی اور ان کے کلام پیش کیے جاتے تھے۔ تذکروں میں کبھی کبھی تذکرہ نگار کسی شاعر کے کلام پر رائے زنی بھی کر دیتا تھا۔  بقول پروفیسر اشرف رفیع:
’’ ہمیں اپنے ادب میں تنقید کے ابتدائی نقوش دکنی ادب کے دور ہی سے ملتے ہیں۔ اس دور میں تنقید کا کوئی تصور ہی نہیں تھا صرف حسن و قبح کی نشاندہی چند بندھے ٹکے لفظوں اور جملوں سے کی جاتی ہے۔ یہاں سے آگے بڑھے تو کچھ تنقیدی اشارے اردو تذکروں میں ملتے ہیں ان سب میں بھی حسن کلام اور طرزِ بیان پر زور دیا جاتا ہے۔‘‘
پروفیسر حسین الحق اردو کے ابتدائی تذکروں کو مشاعروں کی واہ وا سے تعبیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’اردو کے ابتدائی تذکروں کی مثال مشاعروں کی واہ واہ کی ہے۔ ان تذکروں میں تنقید نگار پر ذاتی پسند وناپسند غالب ہے۔ اور ذاتی پسند ناپسند کے لئے بھی تذکرہ نگار ہمیشہ دلیل مہیا کرنے کا جھنجھٹ مول نہیں لیتا۔ زیادہ تر اس کی گفتگو شاعر و فنکار مذکورہ کے اخلاق، بزرگی اور علم کے بارے میں ہوتی ہے اور جتنے اشعار تذکرہ نگار کو یاد رہتے ہیں یا اس کو دستیاب ہوتے ہیں انہیں وہ بلا جھجھک درج دفتر کر دیتا ہے۔ نتیجتاً بعض شعراء کےپچاسوں اور سیکڑوں اشعار ملیں گے اور کچھ کے پانچ دس۔ اور کچھ غریبوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ صرف نام یا تخلص بیان کرکے تذکرہ نگار آگے بڑھ جاتا ہے۔‘‘
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کے اردو کے یہ تذکرے جس عہد کی یادگار ہیں اس وقت ایک تو وسائل محدود تھے اور پھر کتابوں کی اشاعت و ترتیب سے وابستہ دیگر عوامل آج جیسے نہیں تھے، اس نقطہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے قدیم دور کے تذکروں کی اہمیت کو کم کرنا غیر منصفانہ رویہ ہے۔ اردو کے نامور ناقدین خصوصا ًکلیم الدین احمد نے ان تذکروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان تذکروں کے سلسلے میں وہ یوں رقمطراز ہیں:
’’یہ تنقید محض سطحی ہے۔ اس کا تعلق زبان، محاورہ اور عروض سے ہے، لیکن یہ شاید کہنے کی ضرورت نہیں کہ تنقید کی ماہیت اور اس کے مقصد اور اس کے صحیح اسلوب سے بھی تذکرہ نویس واقفیت نہ رکھتے تھے۔ ان تذکروں کی اہمیت تاریخی ہے، اور دنیاءِ تنقید میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔۔۔۔ اب ادبی دنیا اس قدر آگے بڑھ گئی ہے کہ ہمیں تذکروں سے کچھ سیکھنا نہیں ہے۔ جہاں تک تنقید کا واسطہ ہے ان تذکروں کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔‘‘
تذکروں کے متعلق کلیم الدین احمد کے اس شدت پسند تنقیدی رویے کے برعکس مولوی عبدالحق نے تذکروں کی اہمیت کے تعلق سے نہایت حقیقی اور جامع رائے پیش کی ہے۔ ان کے مطابق:
’’ہمارے شعراء کے تذکرے گویا جدید اصول کے مطابق نہ لکھے گئے ہوں تاہم ان میں بہت سی کام کی باتیں مل جاتی ہیں جو ایک محقق اور ادیب کی نظروں میں جواہر ریزوں سے کم نہیں۔‘‘
تذکروں کے تنقیدی معیار کے ضمن میں نورالحسن نقوی کی منصفانہ رائے بھی قابل ذکر ہے:
’’یہ حقیقت ہے کہ تذکروں سے جو تنقیدی معیار مرتب ہوتے ہیں ان پر آج کے ادب کو پر رکھنا ممکن نہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کے کہ جدید پیمانے قدیم ادب کو جانچنے کے کام نہیں آ سکتے۔ جو ادب جس زمانے میں تخلیق ہوا اسے اسی زمانے کے اصولوں اور اسی عہد کی پسند ناپسند کی کسوٹی پر کسا جانا چاہیے۔‘‘
اردو تذکروں کی اہمیت اور افادیت اس اعتبار سے بھی مسلم ہے کہ ان تذکروں نے اردو ناقدین کے ناقدانہ شعور کو جلا بخشی۔ یہ تذکرے درحقیقت اردو تنقید کے ابتدائی نقوش ہیں لہٰذا یہ خامیوں سے مبرا نہیں ہو سکتے۔ اردو تذکروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے حنیف نقوی رقمطراز ہیں:
’’تذکرہ ہمارے سرمایۂ ادب کا ایک گراں قدر حصہ ہے جسے نظر انداز کرکے نہ تو ہم اردو شاعری کے مطالعے میں ہی کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ اپنے ادبی تنقیدی شعور کے آغاز و ارتقا کی تاریخ مرتب کرسکتے ہیں۔ ہم نے اپنے قدیم شاعروں کو انہیں تذکروں کے ذریعے جانا اور پہچانا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہماری ناقدانہ بصیرت بھی انہیں تذکروں کی فضا میں پروان چڑھی ہے‘‘
گرچہ تذکرے تنقید کے اصول پر پورے نہیں اترتے اور ان میں تنقیدی عناصر کا فقدان ہے تاہم اردو تنقید کے آغاز کے ضمن میں ہم تذکروں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ میر، مصحفی، شیفتہ، محمد حسین آزاد، مرزا علی لطف وغیرہ اردو کے ایسے مایۂ ناز تذکرہ نویس ہیں جن کی گراں قدر خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو اے ڈی سی (الہ آباد یونیورسٹی) 

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا