اردو کے مشہور ترقی پسند ریڈیائی ڈرامانگار
ترقی پسند تحریک ایک ایسی ہمہ گیر ادبی تحریک رہی ہے جس نے ادب کے ہر شعبے کو سیراب کیا ہے۔ شاعری ہو کہ ناول نگاری، افسانے ہوں کہ ڈرامے، مزاح ہو کہ تنقید، اس تحریک نے تمام اصناف ادب پر اپنے دیر پا اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تحریک نے ادب برائے زندگی کے نظریے کے تحت ادب کا رشتہ زندگی کے حقائق سے استوار کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے اور زندگی کے بنیادی مسائل بھوک، افلاس، سماجی پستی، ذہنی اور جسمانی غلامی، طبقاتی تصادم، جنسی اور نفسیاتی مسائل کو ادب کے دامن میں جگہ دے کر اسے وسعت بخشی۔ بالخصوص فکشن کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو فکشن یعنی افسانہ، ناول اور ڈرامے اسی کے زیر اثر وجود میں آئے، پروان چڑھے اور رفعت و بلندی سے ہمکنار ہوئے۔ اگر ہم اردو ڈراموں کی بات کریں تو اس تحریک نے ایک سے بڑھ کر ایک جواہر پارے عطا کیے۔ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ ء تک کے زمانے کو ار دو ریڈیائی ڈراموں کا عہد زریں کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ترقی پسند تحریک کے آغاز اور ملک کی آزادی و تقسیم ہند کے واقعات کے نتیجے میں ملک و معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کے زیراثر ریڈیائی ڈراموں کے زبان، زمان و مکان اور کردار وغیرہ میں بھی واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ ریڈیائی ڈرامے اب معاشرتی اور طبقاتی زندگی کے ترجمان نظر آنے لگتے ہیں۔ یعنی اس دوران لکھے جانے والے بیشتر ریڈیائی ڈرامے سماج کی گوناگوں مسائل سے اپنا رشتہ استوار کرتے نظر آتے ہیں۔ جاگیردارانہ اور آمرانہ طرز معاشرت، صنف نازک کی زبوں حالی، زمیندارانہ جبر و استبداد، عدم مساوات، طبقاتی کشمکش، اخلاقی و سماجی اقدار کا زوال اس عہد کے ڈراموں کے اہم موضوعات بنتے ہیں۔اس دوران کئی اہم ترقی پسند ادباء ریڈیائی ڈراما نویسی کی طرف مائل ہوئے، جن میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، مرزا ادیب، عصمت چغتائی، اوپیندر ناتھ اشک، ڈاکٹر محمد حسن، کرتار سنگھ دگل کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
ریڈیائی ڈراما ایک سماعتی فن ہے، جو فنی، تکنیکی اور پیشکش کے نقطۂ نظر سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ریڈیائی ڈراما کانوں سے دیکھنے کی چیز ہے جس میں ڈراما کا تمام تر وسیلۂ اظہار آواز کے اتار چڑھاؤ و مکالمے اور موسیقی پر ہوتا ہے۔ بقول رفعت سروش:
’’ریڈیائی ڈراما اپنی ایک الگ حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹیج کے ڈرامے سے بالکل مختلف۔ فنی اعتبار سے دونوں کے میدان الگ الگ ہیں۔ ریڈیو آواز کی دنیا ہے… آواز… صرف آواز… انسانوں کی آواز… سازوں کی آواز… موسم کی آواز…کھلتے پھولوں کی بہار کی آواز… دل میں امنڈتے گھمنڈتے طوفان کی آواز… خوفناک درندوں کی آواز… دلکش پرندوں کی آواز… پانی کی آواز… ہوا کی آواز… بجلی کی آواز… بھیڑ بھڑکے کی آواز… خاموشی اور سناٹے کی آواز… آواز… صرف آواز… آوازوں کے اتار چڑھاؤ، بہاؤاور پیچ و خم سے، ریڈیائی ڈراما مرتب کیا جاتا ہے۔‘‘
(رفعت سروش : ریڈیائی ڈراما : ایک جائزہ ماہ نامہ آج کل نئی دہلی مئی ۱۹۹۴ء ص ۳۲)
یوں تو ہندوستان میں ریڈیائی ڈرامے کی ابتدا انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی کے قیام کے (۱۹۲۷ء) کے ساتھ ہی ہوئی تھی اور ۱۹۲۸ ء سے باقاعدہ ریڈیو ڈرامے کی نشریات کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ لیکن اردو ادب میں ریڈیائی ڈرامے کا آغاز ۱۹۳۶ء میں آل انڈیا ریڈیو کے قیام کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابتداء ً جو ڈرامے نشر ہوئے وہ دوسری زبانوں کے تراجم تھے۔ اس ضمن میں سید عابد علی عابدؔ، فضل الرحمٰن، انصار ناصری، شاہد احمد دہلوی وغیرہ کے نام خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ترجمہ شدہ ڈراموں اور ان کے مترجمین کی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ کرنا اس مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں۔بعد ازاںاردو میں براہ راست ریڈیائی ڈرامے لکھنے کا آغاز ہوتا ہے اور اردو کے متعدد ڈراما نگاروں کے ڈرامے نشر کیے جانے لگتے ہیں، جن میں امتیاز علی تاج، آغا حشر، میاں لطف الرحمٰن، عشرت رحمانی، انصار ناصری، انتظار حسین، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، اوپیندر ناتھ اشک، عصمت چغتائی، شوکت تھانوی، چودھری سلطان، کرتار سنگھ دگّل، ابوبکر، رفعت سروش، محمد حسن، محمد خالد عابدی، جاوید اقبال، یوسف ظفر، انور جلال، کمال احمد رضوی، شیر محمد اختر، ناصرالدین شمس، صالحہ عابد حسین، عاشق بٹالوی، فیاض محمود، باسط سلیم، غلام عباس، ہاجرہ مسرور، ممتاز مفتی، ضمیر جعفری، بلونت گارگی اور زماں حبیب وغیرہ کے نام اردو ریڈیائی ڈراما نگاری میں اہمیت کے حامل ہیںلیکن اس مضمون کا تعلق ترقی پسند ریڈیائی ڈراما نگاروں سے ہے لہٰذا یہاں صرف چند مشہور و معروف ترقی پسند ڈراما نویسوں کے ذکر پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔
٭ کرشن چندر: کرشن چندر ان ریڈیائی ڈراما نگاروں میںسے ہیں جن کا ریڈیو سے براہ راست تعلق رہا ہے۔ ۱۹۳۹ء میں ان کا تقرر آل انڈیا ریڈیو لاہور میں بطور اسسٹنٹ ہوا۔۱۹۴۰ء میں انھیں دہلی منتقل کر دیا گیا جہاں تقریباً ایک برس وہ ڈراما سیکشن کے انچارج کے عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں ان کا تبادلہ لکھنؤ ہو گیا۔ ۱۹۴۲ء میں ریڈیو کی ملازمت سے مستعفی ہوکر وہ پونا چلے گئے۔ جہاں شالیمار پکچرز میں اسکرپٹ رائٹر کی ملازمت اختیار کی اور فلم ’من کی جیت‘ کی اسکرپٹ اور مکالمے تحریر کیے۔ نیشنل تھئیٹر کے اشتراک سے ۱۹۴۵ ء میں اپنے شاہکار ڈراما ’سرائے کے باہر‘ کی کہانی پر فلم بنائی۔ یہ فلم عوام سے پسندیدگی کی سند نہ حاصل کر سکی لہٰذا کاروباری نقطۂ نظر سے ناکام رہی۔ اس حوصلہ شکن خسارے کو بھی کرشن چندر نے نہایت خندہ روئی سے برداشت کیا، اور ماڈرن تھئیٹر کے نام سے ایک فلم کمپنی قائم کی اور ’دل کی آواز‘ عنوان سے ایک فلم بنائی جس کے ہدایت کار کے فرائض بھی انہوں نے خود انجام دیے یہ فلم بھی معاشی اعتبار سے سود مند ثابت نہ ہو سکی۔
’دروازہ‘ کرشن چندر کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ہے جو چھ ڈراموں پر مشتمل ہے۔ اس میں’قاہرہ کی ایک شام‘، ’دروازہ‘، ’حجامت‘، ’بیکاری‘، ’نیل کنٹھ‘ اور ’سرائے کے باہر‘ شامل ہیں۔ یہ مجموعہ آزادی سے قبل میاں محمد حنیف نے اردو اکادمی لاہور سے شائع کیا۔ اور دوسری بار آزادی کے بعد آزاد بک ڈپو، ہال بازار امرتسر سے شائع ہوا۔ مذکورہ ڈراموں کے علاوہ بھی کرشن چندر نے متعدد کامیاب ریڈیائی ڈرامے تحریر کیے ہیں جو ہندوستان کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر کیے جاتے رہے ہیں رہے ہیں۔ ’ہائیڈروجن بم کے بعد‘، ’کتے کی موت‘، ’مس بیلا باٹلی والا‘، ’کتاب کا کفن‘، ’ایک نا فسطائی کی ڈائری‘، ’ہمارا مدرسہ‘، ’شکست کے بعد‘، ’مچھلی والی‘، ’عشق کے بعد‘ اور ’دروازے کھول دو‘ کرشن چندر کے مقبول و معروف ڈرامے ہیں۔ ان ڈراموں کے علاوہ کرشن چندر کہ کچھ ڈرامے ایسے بھی ہیں جو ان کے افسانوی مجموعوں میں شامل ہیں۔ مثلاً ’بدصورت راجکماری‘ (مجموعہ گھونگھٹ میں گوری جلے)، ’ہم سب غلیظ ہیں‘(مجموعہ نغمے کی موت)، ’نقش فریادی‘ (مجموعہ مسکرانے والیاں)، ’ایک روپیہ ایک پھول‘ (مجموعہ ایک روپیہ ایک پھول) ’منگلک‘ (مجموعہ نظّارے)، ’جھاڑو‘ (مجموعہ مزاحیہ افسانے) وغیرہ۔
کرشن چندر اپنے اسلوب اور عشقیہ موضوعات کی پیش کش میں ایک رومان پسند ادیب نظر آتے ہیں، اور جب ان کی یہی رومانیت پختگی کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو حقیقت نگاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان کے ڈرامے روایتی ڈراموں سے ہوتے ہوئے میلو ڈراما، ایبسٹرڈ تھئیٹر کی تکنیک تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ ان کے بعض ڈراموں میں پلاٹ، کردار، مکالمہ، ڈکشن، قصہ پن اور موسیقی وغیرہ کا التزام ہوتا ہے، تو بعض سمبل ازم اور بعض ایکسپریشن ازم کے عمدہ نمونے ہیں۔
٭سعادت حسن منٹو : منٹو کا نام اردو ریڈیائی ڈراما نویسوں میں صف اول میں شامل ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز اور فکر معاش نے منٹو کو پنجاب کی سر زمیں چھوڑنے پر مجبور کیا، اور اس دوران وہ تلاش معاش میں سرگرداں رہے۔ بالآخر ۱۹۳۵ء میں بمبئی چلے گئے جہاں وہ فلمی دنیا سے منسلک ہو گئے اور امپیریل فلم کمپنی میں بطور اسکرپٹ رائٹر ملازمت اختیار کی۔ امپیریل کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد وہ سروج فلم کمپنی میںملازم ہو گئے جہاں تنخواہ کو لے کر کچھ تنازعہ ہوا تو ہفتہ وار اخبار کارواں سے وابستہ ہو گئے۔ اسی دوران انھوں نے ریڈیو کے لئے ڈراما لکھنا شروع کر دیا تھا۔ دریںاثناء :
’’سعادت حسن منٹو ۱۹۳۷ء میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ڈراما نگار کی حیثیت سے ملازم ہو کر آئے اور نثری تکنیک کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے لگے۔ متعدد کامیاب ڈرامے لکھے اور اچھوتی آواز میں اپنے کمالات سے ریڈیو ڈرامے کو نیا اسلوب بخشا۔ ان کے نثری ڈرامے یہ ہیں: کروٹ، ماچس کی ڈبیا، اتوار، خود کشی، نیلی رگیں، رندھیر پہلوان، تین موٹی عورتیں، آؤ، مسلسل خاکے، محبت کی پیدائش، نیپولین کی موت، قلوپطرہ کی موت‘‘۔
(عشرت رحمانی : اردو ڈرامے کی تاریخ و تنقید ص ۲۴۴)
منٹو نے تقریباً ایک سو ڈرامے لکھے جو ریڈیو سے نشر ہوئے اور مجموعے کی صورت میں شائع بھی ہوئے۔ ان کے قابل ذکر ڈرامائی مجموعے حسب ذیل ہیں۔
(۱) آؤ : (دس ریڈیائی ڈرامے: سنہ اشاعت ۱۹۴۰ ) ۱…آؤ کہانی لکھیں، ۲…آؤ تاش کھیلیں، ۳… آؤ خط سنو، ۴…آؤ کھوج لگائیں، ۵…آؤ ریڈیو سنیں، ۶…آؤ بات تو سنو، ۷… آؤ بحث کریں، ۸… آؤ اخبار پڑھیں، ۹… آؤ چوری کریں، ۱۰… آؤ جھوٹ بولیں۔
(۲)جنازے: (آٹھ ریڈیائی ڈرامے : سنہ اشاعت ۱۹۴۰) ۱… چنگیز خان کی موت، ۲… تیمور کی موت، ۳… قلو پطرہ کی موت، ۴… نیپولین کی موت، ۵… بابر کی موت، ۶… شاہ جہاں کی موت، ۷… ٹیپو شہید کی موت، ۸…راسپوٹین کی موت
(۳)تین عورتیں: (پانچ ریڈیو ڈرامے : سنہ اشاعت ۱۹۴۲) ۱… تین خوبصورت عورتیں، ۲… تین موٹی عورتیں، ۳…تین صلح پسند عورتیں، ۴… تین خاموش عورتیں، ۵… تین بیمار پرس عورتیں۔
(۴)کروٹ: (گیارہ ریڈیائی ڈرامے : سنہ اشاعت ۱۹۶۸) ۱…کروٹ، ۲… خود کشی، ۳… ہتک، ۴… رندھیر پہلوان، ۵…ماچس کی ڈبیہ، ۶… محبت کی پیدائش، ۷… چوڑیاں، ۸…روح کا ناٹک، ۹… اس کا رامو، ۱۰…مامتا کی چوری، ۱۱… سلیمہ۔
منٹو نے اپنی طرز ادا کی ندرت اور موضوعات کی جدت کو ڈراموں میں بھی قائم رکھا ہے۔ ان کے ڈراموں میں ان کے خاص انداز کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ فرد کے ظاہری اور باطنی تصادم اور کشمکش، انسانی نفسیات اور تحلیل نفسی جیسے موضوعات ان کے ڈراموں کا محور ہیں۔ انھوں نے اپنے اکثر ڈراموں میں زندگی کے بہت سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنے ڈراموں میں عورت اور مرد کی نفسیات کا بڑی باریکی سے جائزہ لیتے ہیں، اور ان کے باہمی تضادات کے ذریعے سماجی، معاشی، سیاسی اور ذاتی حالات کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔
٭راجیندر سنگھ بیدی : ۱۹۴۲ ء میں سید ذوالفقار علی بخاری کے توسط سے راجیندر سنگھ بیدی کا ریڈیو سے براہ راست تعلق قائم ہوا۔ بعد ازاں ۱۹۴۳ء میں لاہور ریڈیو اسٹیشن پر بحیثیت اسکرپٹ رائٹر بیدی کی تقرری ہوئی۔ اس ملازمت کے دوران انھوں نے ریڈیو کے لئے کئی ڈرامے لکھے۔ تقسیم ہند کے بعد بیدی کو دہلی آنا پڑا۔ اس کے بعد وہ روپڑ اور شملہ کی خاک چھانتے رہے۔ اسی اثناء میں ان کی ملاقات شیخ عبداللہ سے ہوئی۔ شیخ صاحب کی تحریک پر انھوں نے جموں ریڈیو اسٹیشن کے ڈائرکٹر کی ذمہ داری سنبھالی جہاں انھوں نے ایک سال کام کیا اس کے بعد مستعفی ہو کر بمبئی چلے گئے۔ بمبئی پہنچ کر وہ فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھنے لگے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بحیثیت ڈائرکٹر، پروڈیوسر اور مکالمہ نگار فلمیں بھی بنائیں۔
’’بے جان چیزیں‘‘ بیدی کے ڈراموں کا پہلا مجموعہ ہے جو ۱۹۴۳ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس میں کل چھ ڈرامے شامل ہیں جو حسب ذیل ہیں: ۱…کار کی شادی، ۲…ایک عورت کی نا، ۳…روح انسانی، ۴…اب تو گھبرا کے، ۵…بے جان چیزیں، ۶…خواجہ سرا۔
بیدی کے ڈراموں کا دوسرا مجموعہ ’’سات کھیل ‘‘ کے عنوان سے ۱۹۴۶ء میں منظرعام پر آیا۔ اس مجموعے میں سات ڈرامے شامل ہیں۔ ۱…خواجہ سرا، ۲…چانکیہ، ۳…تلچھٹ، ۴…نقل مکانی، ۵…آج، ۶…رخشندہ، ۷…پاؤں کی موچ۔
مذکورہ بالا ڈرامے ریڈیو کے لئے لکھے گئے اور سب کے سب نشر ہوئے۔ بیدی نے اپنے بیشتر ڈراموں میں زندگی اور معاشرے کے ان مسائل کو پیش کیا ہے جنھیں عام طور پر قابل اعتناء نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے ڈراموں میں نچلا متوسط طبقہ اپنی تمام تر الجھنوں کے ساتھ سانس لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ بیدی کی ڈراما نگاری کا اصل جوہر یہ ہے کہ ان کے کردار معاشرتی نظام، تاریخی بصیرت، تہذیبی سروکار اور زندگی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔
٭عصمت چغتائی : عصمت چغتائی اردو کی مایۂ ناز افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ڈراما نویس بھی ہیں۔ انھوں نے بہترین ڈرامے لکھے۔ ’’شیطان‘‘ ان کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ہے جس میں درج ذیل ڈرامے شامل ہیں۔ ۱…شیطان، ۲…خوامخواہ، ۳…تصویریں، ۴…دلہن کیسی ہے، ۵…شامت اعمال، ۶…دھانی بانکپن۔ اس کے علاوہ ان کا مجموعہ ’’کلیاں‘‘ جس میں افسانوں کے علاوہ درج ذیل ڈرامے شامل ہیں : ۱…انتخاب، ۲…سانپ، ۳…فسادی، ۴…ڈھیٹ، ۵…بنّے۔ عصمت کا ایک اور ڈراما ’’دوزخ‘‘ہے جو رسالہ ’’سویرا‘‘ کے شمارہ ۲۴ میں شائع ہوااور ریڈیو کے مختلف مراکز سے کئی بار نشر ہو چکا ہے۔
متوسط طبقے کی زندگی بالخصوص خواتین کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی عصمت کا مرغوب موضوع ہے۔ چنانچہ افسانوں کی طرح انھوں نے اپنے ریڈیائی ڈراموںمیں بھی معاشرتی و تہذیبی معاملات کی پیش کش کے ذریعے ان کے مسائل کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے۔ زندگی کی خواہشات اور ماحول کی نا اطمینانی کے دھاگوں سے وہ ڈراموں کا تانا بانا بنتی ہیں، اور اس میں بے حد کامیاب بھی ہیں۔ عصمت کے ڈرامے اپنے برجستہ اور پر اثر مکالموں اور سنجیدہ موضوعات کی بنا پر اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔
٭اوپیندر ناتھ اشک : ریڈیائی ڈراما نگاروں میں اوپیندر ناتھ اشک ایک اہم نام ہے۔ اشک نے ۱۹۳۶ء میں یک بابی ڈرامے لکھنے کی ابتدا کی۔ لاہور ریڈیو اسٹیشن سے ان کا مشہور ڈراما ’’پاپی‘‘ دو بار نشر ہوا (۱۹۳۸ء)۔ پہلی مرتبہ اس ڈرامے کے پروڈیوسر معروف فلم اداکار ہیرالال تھے اور دوسری بار سید امتیاز علی تاج نے بطور ہدایت کار اسے لاہور سے نشر کیا۔ اس کے علاوہ یہ ڈراما دیگر ریڈیو اسٹیشنوں سے بھی نشر ہوا۔ ۱۹۴۱ء میں جب دہلی ریڈیو اسٹیشن پر بطور ہندی صلاح کار ان کی تقرری ہوئی تو انھوں نے عورتوں کے لئے مقبول پروگرام ’’باجی‘‘ کے لئے ہر مہینے ایک ریڈیائی ڈراما لکھا۔ وہ ۱۹۴۱ء سے ۱۹۴۴ء تک ریڈیو سے وابستہ رہے۔ ۱۹۴۴ء میں اشک بمبئی چلے گئے اور فلمی دنیا سے منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے فلموں کے لئے مکالمے اور کہانیاں لکھیں، اور ایک فلم بطور ادا کار کام بھی کیا۔ بمبئی میں ان کا قیام ۱۹۴۶ء تک رہا۔ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۳ء تک وہ ریڈیو اور دور درشن کے اعزازی پروڈیوسر رہے۔
یک بابی اور ریڈیائی ڈراموں کی تاریخ اشک کے بغیر نا مکمل تصور کی جائے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یک بابی اور ریڈیائی ڈراموں کی دنیا میں مدت دراز تک اپنی خدمات انجام دیں اور اپنے اسلوب اور انوکھے موضوعات کے ذریعے قارئین اور سامعین کو متاثر کیا۔ اشک کے ڈراموں کی تعداد کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ انھوں نے کثیر تعداد میں ڈرامے لکھے اور انھیں وقتاً فوقتاً مختلف مجموعوں میں شامل کرتے رہے۔ مزید یہ کہ ان کے ڈرامے بیک وقت اردو اور دیوناگری میں شائع ہوتے رہے۔ اشک خود رقم طراز ہیں :
’’جہاں تک مجھے معلوم ہے اردو میں سب سے پہلے میں نے ہی یک بابی ڈرامے لکھے اور سب سے زیادہ تقریباً پچاس ایک ایکٹ کے ڈرامے لکھے۔ جن میں دو ایک کو چھوڑ کر سب کے سب نہ صرف ملک بھر کے اسکولوں، کالجوں کے شوقیہ منچوں پر کھیلے گئے، ریڈیو پر نشر ہوئے، نصاب میں پڑھائے گئے، کچھ دور درشن پر دکھائے گئے بلکہ جاپان، روس، امریکہ اور انگلستان میں بھی کھیلے گئے۔‘‘
(اوپیندر ناتھ اشک : اردو میں یک بابی ڈرامے ماہ نامہ آج کل نئی دہلی مئی ۱۹۹۴ ء ص ۱۸)
ان کے دستیاب شدہ ڈرامائی مجموعے ’’پاپی‘‘ (۱۹۴۰)، ’’چرواہے‘‘(۱۹۴۱)، ’’ازلی راستے‘‘(۱۹۴۶)، ’’قید حیات‘‘(۱۹۴۷)، ’’تولیے‘‘(۱۹۷۹)، پینترے(۱۹۷۹)، ’’گرداب‘‘(۱۹۸۱)، ’’چھٹا بیٹا‘‘(۱۹۸۱)، ’’انجو باجی‘‘(۱۹۸۴)، ’’جنت کی جھلک‘‘(۱۹۸۴)، ’’پڑوسن کا کوٹ‘‘(۱۹۸۴)۔ ان کے علاوہ دیوناگری میں ان کے شائع شدہ ڈرامائی مجموعے درج ذیل ہیں۔ ’’پردہ اٹھاؤ پردہ گراؤ‘‘ ، ’’صاحب کو زکام ہے‘‘(۱۹۵۶)، ’’چرواہے‘‘(۱۹۶۱)، ’’دیوتاؤں کی چھایا میں‘‘(۱۹۵۳)، ’’اندھی گلی‘‘(۱۹۵۶)، ’’پکا گانا‘‘ ، ’’الگ الگ راستے‘‘ ، ’’پچیس شریشٹھ ایکانکی‘‘ (۱۹۷۱) ، ’’میرے پریہ ایکانکی‘‘(۱۹۷۵)، ’’پرتی ندھی ایکانکی‘‘(۱۹۵۸)، ’’نئے رنگ‘‘(ایکانکی۱۹۵۵)۔
اشک کے مدھم لہجے کے پس پردہ بلا کی نشتریت پائی جاتی ہے جو ان کے ڈراموں کا امتیازی وصف ہے۔ انسانی نفسیات کے ساتھ ساتھ وہ فرد اور سماج کے باہمی رشتوں کے بھی رمز شناس ہیں انھوں نے زندگی کے تمام تر مسائل کو نہایت کامیابی سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
٭میرزا ادیب : سیکڑوں یک بابی ڈراموں کے تخلیق کار میرزا ادیب کا تعلق براہ راست ریڈیو سے تھا۔ ان کے تقریباً سبھی ڈرامے ریڈیو سے نشر ہوئے اور اپنی گو نا گوں خوبیوں کے باعث مقبولیت کی سند بھی حاصل کی۔ بقول پروفیسر رشید احمد گوریجہ:
’’میرزا ادیب یک بابی ڈراموں میں مجتہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے یک بابی ڈراموں کو نئے آب و رنگ سے سنوارااور اس میں معنی خیز اضافے کئے۔‘‘
(رشید احمد گوریجہ : اردو میں یک بابی ڈرامے ص۲۱۲)
’’لہواور قالین‘‘ ، ’’سحر ہونے تک‘‘، ’’شیشے کی دیوار‘‘، ’’دو اجنبی‘‘، ’’فن کار‘‘، ’’حویلی‘‘، ’’خواب گریز پا‘‘، ’’رقص شرر‘‘، ’’بچہ گاڑی‘‘، ’’انصاف کہاں ہے‘‘، ’’دستک‘‘، ’’پرچھائیاں‘‘، ’’ستون‘‘، ’’سوتیلی ماں‘‘، ’’سمندر کا دل‘‘، ’’مادر قوم‘‘ وغیرہ ان کے نمائندہ ڈرامے ہیں۔
زندگی کے نشیب و فراز، رشتوں کی پاسداری ، انسان کی ذہنی کشاکش، نفسیاتی تصادم اور قدم قدم پر جبر و استحصال سے جوجھتے عام انسان کی زندگی میرزا ادیب کے ڈرامواں کا محور ہیں۔ ان کے ڈرامے فنی اعتبار سے ریڈیو ڈراموں کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔
٭ریوتی سرن شرما : ریڈیائی ڈرامے کو بلندی عطا کرنے والے ڈراما نویسوں میں ایک اہم نام ریوتی سرن شرما کا ہے۔ ان کے ڈرامے فضا بندی، صوتی اثرات، اور جاندار مکالمے ریڈیائی ڈراموں کے فنی لوازم سے ان کی مکمل وابستگی کے غماز ہیں۔ ریوتی سرن شرما چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذریعے زندگی کے حقائق کو اس طرح پیش کرتے ہیںکہ سامع کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسائل اس کی اپنی ذات سے وابستہ ہیں۔ بقول کرشن چندر :
’’ریوتی کے ڈراموں کی تکنیک، موضوع، پیرایۂ بیان، کردار سازی، ماحول کا رنگ روپ اور بنیادی تصورات کی نہج بالکل جدید ہے اور آج کے زمانے اور آج کے مسائل سے متعلق ہے ……ریوتی کے ڈراموں میں یہی بات مجھے سب سے زیادہ جاندار اور توانا معلوم ہوتی ہے کہ وہ اپنے ڈراموں میںانتہائی دلچسپی اور کسی کو بور کئے بغیر کمال شدت سے آج کے مسائل سے بحث کرتے ہیں۔‘‘
(کرشن چندر : اردو ڈرامے کی ایک نئی آواز مجلہ قند ڈراما نمبر ۱۹۶۱ء (مروان پاکستان) ص ۲۵۵)
ریوتی سرن شرما کے مقبول و معروف ریڈیائی ڈراموں میں ’’دشمن‘‘، ’’آنسو‘‘، ’’انسان‘‘، ’’کرسمس کی ایک رات‘‘، ’’نغمے کی موت‘‘، ’’ایک لمحہ پہلے‘‘، ’’سو جانے دو‘‘، ’’ابھاگن‘‘، ’’مجھے جینے دو‘‘، ’’اتار چڑھاؤ‘‘، ’’پتھر اور آنسو‘‘، ’’روشنی‘‘، ’’ایک تارا‘‘، ’’اندھیرا اجالا‘‘، ’’اماوس کا اندھکار‘‘، ’’پھول اور چنگاری‘‘، ’’ڈاکٹر بیوی‘‘، ’’کل‘‘، ’’آگ اور راکھ‘‘، ’’زہر کا کوئی رنگ نہیں‘‘، ’’چراغ کی لو‘‘، ’’آرزو ہی آرزو‘‘، ’’زبردستی کی شادی‘‘، ’’تمھارے غم میرے ہیں‘‘، ’’زندگی ختم نہیں ہوتی‘‘، ’’زندگی جو موت ہے‘‘ وغیرہ اپنے متنوع موضوعات اور فنی چابکدستی باعث خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اپنے موضوعاتی دائرہ کار کے اعتبار سے ان کے ڈرامے محض فرد کے مسائل کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ سماج کی غیر منصفانہ روش، میاں بیوی کے آپسی جھگڑے، بے میل شادی اور اپنی آرزو کے بھنور میں غلطاں انسانوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ریوتی سرن شرما نے ذات و کائنات کے ہر پہلو کا احاطہ کرنے کی سعی کی ہے۔
٭کرتار سنگھ دگّل: کرتار سنگھ دگل بھی ریڈیو سے براہ راست تعلق رکھنے والے ڈراما نویسوں میں شامل ہیں۔ وہ آل انڈیا ریڈیو میں اسٹیشن ڈائرکٹر کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ’’اوپر کی منزل‘‘ پانچ ڈراموں پر مشتمل ان کا مجموعہ ہے، جن کے عنوانات ہیں : ۱…اوپر کی منزل، ۲…اپنی اپنی کھڑکی، ۳…انار کے دو پتے، ۴…قبر اور چاندنی کی کرن، ۵…دو مرد اور ایک ماں۔ ان کے علاوہ ’’بے نور‘‘، ’’لائکہ‘‘، ’’اللہ میگھ دے‘‘، ’’جھوٹھے ٹکڑے‘‘، ’’پائل میں سوئے نغمے‘‘، ’’میٹھا پانی‘‘ اور ’’دیا بجھ گیا‘‘ وغیرہ ان کے مشہور و مقبول ڈرامے ہیں۔ ان کے علاوہ دیوناگری میں بھی ’’کہانی کیسے بنی‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔
انھوں نے مشرقی ومغربی اقدار کا تصادم، مادہ پرستی اور روحانیت کی کشمکش، مشترکہ تہذیب، تقسیم ہند کے اثرات، خواتین کی نفسیاتی اور ذہنی بے اطمینانی، قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے موضوعات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
٭پروفیسر محمد حسن : پروفیسر محمد حسن کا شمار اردو کے ان ڈراما نویسوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اسٹیج، ریڈیو اور ٹیلیویژن تینوں میڈیا کے لئے ڈرامے تخلیق کئے۔ انھوں نے ۱۹۵۰ء میں ڈراما نگاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ انھوں نے جس وقت آل انڈیا ریڈیو کے لئے فیچر اور ڈرامے لکھنا شروع کئے اس وقت لکھنؤ سے شائع ہونے والے اخبار پوائنیر سے وابستہ تھے اور لکھنوی معاشرے سے پوری طرح واقف تھے۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے اپنا پہلا فیچر ’’یہ لکھنؤ ہے‘‘ کے عنوان سے لکھاجسے بہت پسند کیا گیااور اس کی دس بارہ قسطیں نشر ہوئیں۔ اس کے بعد انھوں نے کئی ڈرامے تخلیق کئے جو آل انڈیا ریڈیو اور دوسرے ریڈیو مراکز سے نشر ہوتے رہے۔ اس ضمن میں ان کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ’’پیسہ اور پرچھائیں‘‘(۱۹۵۵) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس میں نو ڈرامے شامل ہیں: ۱…پیسہ اور پرچھائیں، ۲…سرخ پردے، ۳…سونے کی زنجیریں، ۴…نظیر اکبر آبادی، ۵…نقش فریاددی، ۶…اکبر اعظم، ۷…انسپیکٹر جنرل، ۸…حکم کی بیگم، ۹…معمار اعظم۔ ان میں آخرالذکر تین ڈرامے بالترتیب گوگل، پشکن اور ابسن کے ڈراموں کے تراجم ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ڈراموں کا ایک مجموعہ ’’میرے اسٹیج ڈرامے‘‘ کے عنوان سے ادارہ فروغ اردو امین آباد لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس میں چھ ڈرامے شامل ہیں جو حسب ذیل ہیں :
۱…رہرسل، ۲…محل سرا، ۳…میر تقی میر، ۴…موم کے بت، ۵…فٹ پاتھ کے شہزادے، ۶…گوشۂ عافیت۔ علاوہ ازیں ’’ضحاک‘‘ اور ’’کہرے کا چاند‘‘ کا شمار محمد حسن کے مشہور ترین ڈراموں میں ہوتا ہے۔ یہ ڈرامے تاریخی اور نیم تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی اقدار کے بھی ترجمان ہیں۔ وہ اپنے ڈراموں میں واقعات کے نشیب و فراز کے ذریعے سامعین و ناظرین کو اپنے کرداروں کی شخصیات سے روبرو کراتے ہیں۔ وہ آواز کے زیر و بم، سوز و ساز، مکالمے، صوتی اثرات اور موسیقی کے امتزاج سے ایک ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جو ان کے ڈراموں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ان ترقی پسند ریڈیائی ڈراما نگاروں اپنی تخلیقی کاوشوں سے ریڈیائی ڈرامے کو بام عروج پر پہنچایا اور اردو ادب کے دامن کو وسعت بخشی۔ ان ڈراما نگاروں نے سماجی، تاریخی، تہذیبی اور عصری موضوعات کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا اور زندگی کے مختلف النوع مسائل جیسے سماجی نابرابری، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، حقوق نسواں کی خلاف ورزی، جہالت اور فرسودگی، ضعیف الاعتقادی، تہذیبی اور اخلاقی قدروں کے زوال کی حقیقی عکاسی کرکے ملک و معاشرے کی اصلاح کا جو قابل قدر فریضہ انجام دیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبہ اردو الہ آباد ڈگری کالج
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں