گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے
وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں ہمارے علماء نے جو قربانیاں دیں اسے نہ صرف برادران وطن بلکہ خود مسلمانوں نے بھی فراموش کر دیا۔ اور کیوں نہ ہو حصول آزادی کے بعد علماء نے سیاست کو جس طرح جنس ممنوع سمجھ لیا اور خود کو خانقاہوں اور مدارس میں محصور کر لیا اس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہونا تھا۔ تحریک آزادی کے درمیان علماء دین نے خود آگے بڑھ کر انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں نہ صرف مجاہدین آزادی کی قیادت کی بلکہ حسب ضرورت غیرمسلم لیڈران سے باہمی تعاون بھی جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور نظریاتی اختلاف کے باوجود کانگریس میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے رواداری کی روایت رہی۔ لیکن آزادی کے بعد جب علماء نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی تو رفتہ رفتہ کانگریس میںہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا رجحان بڑھنے لگا۔ چند دہائیوں کے بعد شدت پسند ہندو تنظیموں کے حامی نہ صرف کانگریس بلکہ دیگر’’سیکولر‘‘ جماعتوں میں بھی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایسا بازار گرم ہوگیا جس کے نتیجے میں جگہ جگہ ’’دھرم سنسد‘‘ کے ذریعے مسلمانوں کے قتل عام تک کی دھمکی دی جانے لگی۔
حصول آزادی کے بعد کے 75 سالوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم قائدین محض مذہبی شخصیت بن کر رہ گئے اور ملی قیادت سے دستبردار ہو گئے۔ غیر مسلموں سے ربط و ضبط بالکل منقطع کردیا گیا۔ آج برادران وطن اسلام کے تعلق سے بالکل بے خبر ہیں اور اسلام کی وہی تصویر ان کے سامنے ہے جو دانستہ مسخ کرکے انھیں دکھائی جاتی ہے۔ عوام الناس کا ذکر ہی کیا خواص بھی اسلام کی تعلیمات سے نا واقف ہیں یا دیدہ و دانستہ اسلام کو وحشی مذہب بنا کر اپنے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ عصر حاضر میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے ہندوتواکے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بالعموم اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کے کا ایسا بازار گرم کر رکھا ہے جس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری بن کر ہی گزارہ کرنا ہوگا۔ ان شدت پسند تنظیموں میں وشو ہندو پریشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ بابری مسجد بنام رام مندر کی تحریک اسی تنظیم کی برپا کی ہوئی ہے جس کے انجام کے طور پر بی جے پی برسراقتدار آئی۔ اگرچہ ان شدت پسند تنظیموں میں مسلم دشمنی اظہر من الشمس ہے لیکن وقتاً فوقتاً ان کے لیڈروں کی طرف سے اس کی تردید بھی ہوتی رہتی ہے۔ ایسا ہی ایک تازہ واقعہ وشو ہندو پریشد کے صدر آلوک کمار کا انٹرویو ہے جو اتوار 5 فروری کو روز نامہ انقلاب میں شائع ہوا۔ مکالمہ نگار روزنامہ انقلاب کیا یڈیٹر(شمال) جناب ودود ساجد ہیں۔ ایڈیٹر موصوف نے حق صحافت ادا کرتے ہوئے آلوک کمار سے انتہائی تلخ سوال کیے، جن کا انھوں نے کچھ ایمانداری سے اور کچھ کا بڑی ہوشیاری سے جواب دیا۔ بعض جگہ صاحب ملاقات کی کم علمی کا احساس ہوتا ہے تو کہیں جھوٹ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ کچھ اتفاق کچھ اختلاف کے ساتھ انٹرویو میں شائع آخری جملے سے میں پوری طرح متفق ہوں۔ ’’بیچ کی یہ دیوار تو ہٹنی چاہیے‘‘۔
کیا ہے یہ دیوار؟ یہ دیوار ہے عدم اعتماد کی! یہ دیوارہے تعطل کی! یہ دیوار ہے شک و شبہ کی! یہ دیوار ہے لاعلمی کی! یہ دیوار ہے نفرت کی!۔ دوران ملاقات مسٹر آلوک کمار نے کئی ایسی باتیں کہی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے قرآن اور سیرت رسول ﷺ کا کچھ مطالعہ ضرور کیا ہے یا کم از کم غیر مسلموں کے اعتراضات پر مسلمانوں کے ذریعے دیے گئے جواب سے کافی حد تک واقف ہیں۔ اس کے باوجود کئی ایسے مسائل ہیں جن سے یا تو وہ ناواقف ہیں یا پھر دانستہ اغماض برت رہے ہیں۔ لفظ ’’جہاد‘‘ اور ’’کافر‘‘ کے تعلق سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان الفاظ کے حقیقی معنی سے وہ واقف تو ضرور ہیں لیکن اس کے وہی معنی بیان کرنے پر مصر ہیں جن سے نفرت کو ہوا دینے میں مدد ملتی ہے۔ مکالمہ نگار نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ ’’مذہب یا مذہبی پیشواو?ں کے ترجمان نہیں ہیں‘‘ ان کی غلط فہمیوں یا غلط بیانیوں کا ازالہ کیا۔ لیکن کیا صرف اتنا ہی کافی ہے؟ یقیناً نہیں! تو پھر کیا کیا جائے؟
یہ صرف ایک صحافی کے کرنے کا کام نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ودود ساجد صاحب کا یہ کارنامہ زندہ اور بے خوف صحافت کی ایک مثال ہے لیکن اس پر ’اونٹ کے منھ میں زیرہ‘ کی مثال صادق آتی ہے۔ ملت اسلامیہ ہند کو ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ودود ساجد کی ضرورت ہے جو بے خوف ہو کر شدت پسند لیڈروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کر سکیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مسلم دانشور، علماء، دینی تنظیموں کے سربراہان و عمائدین ملت پر لازم ہے کہ نفرت کے اس ماحول میں متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ اپنے اپنے فرقے، تنظیم و ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک امت بنا کر کھڑا کریں۔ مخالفین سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کریں،دوستانہ مکالمات کا انعقاد کریں(مناظرے سے پرہیز کریں)،غیر مسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے واقف کرائیں، غلط فہمیوں کا ازالہ کریں۔ یہ کام ذیلی سطح پر نہ ہو کر اعلی سطح سے ہو۔ ہندتوا کی علمبردار تنظیموں کے اعلیٰ عہدے داران کو اپنے جلسوں میں مدعو کیا جائے، ان کے سامنے اسلام کی اصل تصویر پیش کی جائے۔ مسٹر آلو کمار نے اپنے انٹرویو میں دیوبند کے تعلق سے کچھ خدشات ظاہر کیے ہیں جس پر مکالمہ نگار نے اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کی ہے ساتھ ہی ان سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ دیوبند کی دعوت پر وہاں جانا چاہیں گے؟ تو مسٹر آلوک کمار نے ایسی دعوت بخوشی قبول کرنے کی بات کہی ہے۔ اب دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داروں کی باری ہے کہ وہ وشو ہندو پریشد کے صدر کو مدعو کریں اور اپنے تعلق سے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں۔ اور یہ صرف ایک دن کے کرنے کا کام نہیںبلکہ باہمی ربط کا ایک طویل سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں