داستان : تعریف اور اجزائے ترکیبی
داستان : تعریف اور اجزائے ترکیبی
داستان اردو نثر کی قدیم ترین صنف ہے جو قصہ یا کہانی کی ارتقائی شکل ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد کے مطابق:
’’ داستان کہانی کی طویل پیچیدہ بھاری بھرکم صورت ہے لیکن اپنی طوالت پیچیدگی بوجھل پن کے باوجود کہانی سے بنیادی طور پر مختلف نہیں...... یہ بھی دل بہلانے کی ایک صورت ہے۔ ...... داستان گوئی ایک دلچسپ مشغلہ ہونے کے ساتھ ساتھ فنی حیثیت بھی رکھتی ہے اور ہر کس و ناکس داستان گو نہیں ہو سکتا۔‘‘
(کلیم الدین احمد : اردو زبان ور فن داستان گوئی صفحہ ۱۴، ۱۵،۱۹)
داستان کا آغاز قصے سے ہوتا ہے۔ عام طور پر داستانیں طویل قصوں پر مبنی ہوتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر قصہ طوالت کا حامل ہو۔زمانۂ قدیم میں تفنن طبع اور وقت گزاری کی ضرورت نے داستان کو جنم دیا۔ داستان کی دلچسپی اور اس کی دلکشی اس کے اسلوب میں مضمر ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص داستان گوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ داستان گوئی باقاعدہ ایک فن ہے۔ سماجی، تمدنی، تہذیبی، علمی و ادبی نقطۂ نظر سے اس کی حیثیت اور اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ تکنیکی اعتبار سے داستان کی کوئی باقاعدہ حیثیت نہیں ہوتی، اس کا پلاٹ غیرمربوط ہوتا ہے، جس میں تسلسل کا فقدان ہوتا ہے، اور نہ کوئی مخصوص کردار نگاری ہوتی ہے۔ داستان گو کا میدان یہ وسیع کائنات ہے جس کے ہر گوشے کا احاطہ کرنے کے لیے اسے اپنے تخیل کی بلند پروازی سے کام لینا ہوتا ہے۔ داستانوں کی کوئی سیاسی، جغرافیائی حدود و قیود نہیں ہوتی ہیں، اس کے کرداروں کی تعداد مقرر نہیں ہوتی۔ داستان اپنے اندر بے شمار کرداروں کو سمیٹے ہوتی ہے۔ اس کے کردار اپنی بولیوں اپنے اعمال و افعال کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔ اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی، قصہ در قصہ واقعات اور حوادث کی کڑیاں ہوتی ہیں جو اپنی طوالت کے باوجود داستان کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں اور داستان کی دلچسپی اور دلکشی کو قائم رکھتی ہیں۔ زبان کے لحاظ سے بھی داستان گو کو پوری آزادی حاصل ہوتی ہے وہ الفاظ کو جیسے چاہے استعمال کرے، وہ مبالغہ آرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا سکتا ہے، داستان کو دلچسپ بنانے کے لیے مافوق الفطری عناصر اور طلسمی اور سحر انگیز واقعات کے ساتھ ساتھ اس میں عشق کے عناصر کا بھی استعمال کرتا ہے۔غیر مربوط پلاٹ اور طوالت کے باوجود داستان ایک بامقصد اور کارآمد صنف ہے، اس کی اپنی صنفی اور فنی خصوصیات ہیں جو اسے دیگر اصناف ادب مثلاً ناول افسانہ وغیرہ سے ممتاز کرتی ہیں۔
داستان کے اجزائے ترکیبی:
داستان کا پلاٹ :
داستان کا پلاٹ غیرمربوط ہوتا ہے جس میں قصے کو طول دے کر ایک دوسرے سے جوڑا جاتا ہے۔ ان میں آپس میں کوئی ربط نہیں ہوتا اورد استانوں میں پلاٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہی داستان گو اس کے ربط و تسلسل کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے، اس لئے داستا ن میں باقاعدہ پلاٹ کی کی تلاش بے سود ہے۔
کردار نگاری:
کرداروں کو حقیقی زندگی سے مطابقت رکھنے والا ہونا چاہیے ان میں وہی خوبیاں اور خامیاں ہونی چاہیے جو گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسانوں کے لیے مخصوص ہیں، مگر داستانوں کے لیے اس طرح کی کردارنگاری مناسب نہیں تھی کیونکہ اس وقت ضرورت ایسے کرداروں کی تھی جن کی انسان پرستش کر سکے یا پھر بے انتہانفرت کر سکے، یا جن سے خائف ہو، یا پھر ایسے کردار جن کے کارنامے سن کر حیرت زدہ ہو جائیں۔ اردو داستانوں میں اکثریت ایسے کرداروں کی ہوتی ہے جن کا تعلق اعلیٰ طبقے سے ہے، یعنی شہزادے اور امیر زادوں کا کردار۔ باغ و بہار کے کرداروں سے قطع نظر اردو کی تمام داستانوں میں بادشاہوں اور شہزادوں کے قصے مذکور ہیں اور پیشہ ور اور عوام الناس کے کردار داستانوں میں برائے نام پائے جاتے ہیں۔ حاتم طائی میں ایک بہلیے اور کچھ دہقانوں کے کردار ہیں۔ باغ و بہار اور گل بکاؤلی میں چند لکڑہاروں کے کردار ہیں جن کی حیثیت ضمنی ہے۔ اصل کرداروں کا تعلق اونچے طبقات سے ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی پیش کش بھی فنی اعتبار سے ناقص اور یک رخی ہوتی ہے۔ کوئی کردار نیک ہے تو وہ ابتداء تا آخر نیکی کا مجسمہ ہے، کوئی کردار بد ہے تو وہ آخر تک شیطان خصلت ہی رہتا ہے۔ درحقیقت مافوق الفطری عناصر کی کارفرمائی مثلاً غیبی امداد وغیرہ داستانوں کے کرداروں کو ارتقا ءپذیر نہیں ہونے دیتی۔ ان کرداروں کے پاس اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع نہیں ہوتے۔ اگر خطرہ درپیش ہو تو داستان کا ہیرو سلیمانی ٹوپی پہن کر دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اژدہے گھیر لیں تو وہ اپنے عصاء سے کام لیتا ہے جسے وہ زمین میں نصب کرتا ہے تو وہ تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ہیرو اس درخت پر چڑھ کر محفوظ ہو جاتا ہے۔ داستانوں کے کرداروں میں انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوان اور کچھ عجیب الخلقت مخلوق شامل ہوتے ہیں، جن میں بھالو، بندر، طوطے، خوفناک اژدہے وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ ایسے کردار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو نصف انسان ہیں اور نصف حیوان۔ یہ تمام کردار حسب موقع اپنا اپنا رول نبھاتے ہیں۔
مافوق الفطری عناصر:
مافوق الفطری عناصر بھی داستان کا اہم جزو ہیں۔ اگر ہم عالمی ادب کا مطالعہ کریں تو وہاں کی داستانوں میں بھی ہمیں مافوق الفطری عناصر کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ دانتے کی ڈیوائن کامیڈی، شیکسپیٔر کے ڈرامے، ملٹن کی فردوس گمشدہ، فردوسی کا شاہنامہ، کالی داس کے ڈرامے، والمیکی کی رامائن، ویاس کی مہابھارت وغیرہ اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔
تفنن طبع اور حظ نفس کا حصول انسانی سرشت میں شامل رہا ہے۔ وہ دنیا کے درد و غم کا مداوا کرنے کے لیے، اپنے احساس محرومی کے اثر کو زائل کرنے کے لیے، تخیل کی ایک دنیا آباد کرتا ہے، جہاں وہ ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اصل زندگی میں میسر نہیں۔ اس طرح وہ اپنے حظ نفس کی تسکین کرتا ہے۔ داستان گو اپنے تخیل سے جنات، پریوں، کاہن و جادوگر جیسی مخلوقات کا ایسا جہاں آباد کرتا ہے جس میں قدم قدم پر معرکۂ خیر و شر برپا ہوتا ہے۔ وہ اسم اعظم، ہم نقشِ سلیمانی، سلیمانی ٹوپی، جا دو کا عصاء، جادو کا سرمہ جیسی ماورائی اشیاء کی مدد سے شر پر خیر کی فتح دکھاتا ہے۔
طوالت:
طوالت داستان کا ایک اہم عنصر ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ شرائط داستان میں سے ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ داستان گزر اوقات کے لیے بہترین ذریعہ تھی۔ کیونکہ اس دور کے انسان کے پاس وقت کی فراوانی تھی، راتوں کو عوام الناس سے لے کر شاہانِ وقت داستان سنا کرتے تھے، اور یہ داستانیں اتنی لمبی ہوتی تھیں کہ ایک داستان کئی رات تک سنائی جاتی تھی۔ اس کے لیے سب سے ضروری بات داستانوں کی طوالت تھی۔
معاشرتی عکاسی:
داستانوں کی اہم خصوصیت معاشرے کے ریت و رواج، رہن سہن، ماحول، بولی وغیرہ کی عکاسی رہا ہے، جس سے ہمیں اس عہد کی مذکورہ باتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فسانۂ عجائب میں لکھنوی معاشرت کے جیتے جاگتے مرقعے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس عہد کے رسم و رواج، کھانا پینا، تیج تیوہار وغیرہ سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں