اردو داستان کا ارتقاء
اردو داستان کا ارتقاء (Evolution of Urdu Dastan)
اردو داستان کی ابتداء فارسی کے ترجموں سے ہوتی ہے، لیکن’ قصہ مہر افروز دلبر‘سے’ الف لیلیٰ ‘اور ’بوستان خیال ‘کے تراجم کے زمانے تک داستانوں کا وافر ذخیرہ دکھائی دیتا ہے۔ ان داستانوں نے اردو نثر کے دامن کو نہ صرف تعداد کے اعتبار سے وسعت بخشی بلکہ اسالیب کی نیرنگی، تخیل کی بلند پروازی، رومانیت اور نادر تشبیہات سے اردو ادب کو زرخیز بنایا۔ ان داستانوں نے اردو نثر کے ارتقاء میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان سے انکار ممکن نہیں۔ ان داستانوں نے اردو ادب کو تقویت بخشی۔ یہ ایک عام خیال ہے کہ داستانی ادب کا آغاز فورٹ ولیم کالج کے قیام کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔ تحقیق کے ذریعے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر گیان چند جین اور سید وقار عظیم جیسے اردو کے مایۂ ناز محققین نے گراں قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ انھوں نے کم و بیش اردو کی تمام داستانوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے تقریباً نصف صدی قبل اردو داستان نویسی کی ابتدا ءہو چکی تھی، حالانکہ اٹھارویں صدی کا زمانہ ہندو ستان کی تاریخ بالخصوص شمالی ہند میں سیاسی و سماجی کرب و اضطراب، خلفشار و بے چینی کا عہد رہا ہے، مگر ادبی نقطۂ نظر سے اس دور میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نہایت سود مند اثرات مرتب ہوئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب عربی و فارسی کے حصار سے ہمارا ادب باہر آنے کی کوشش کرتا ہے، اور اردو نثر رزمیہ مجلسوں مثلاً کربل کتھا، وسیلۃ النجاۃ، زادِ آخرت سے نکل کر بزم تک پہنچتی ہے۔ یعنی نثر جس میں ابھی تک مذہبی عناصر کی کار فرمائی تھی اب مجلسی زندگی کی ترجمان ہو گئی، اور اس نے انسانی خیالات و جذبات کی عکاسی کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے قبل تحریر کردہ داستانیں اس بات کے ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ موجودہ تحقیق کی روشنی میں عیسوی خاں بہادر کی قصہ مہر افروزدلبر، شمالی ہند کی پہلی داستان قرار پاتی ہے۔ فورٹ ولیم کالج سے قبل لکھی جانے والی داستانوں میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین اسے ’’شمالی ہند کی سب سے قدیم داستان‘‘ سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ ایک عشقیہ داستان ہے اس کے سن تصنیف کے متعلق محققین میں اختلاف رائے ہے۔ ڈاکٹر مسعود حسین خان کے مطابق یہ قصہ 1732 سے 1759 کے درمیان لکھا گیا۔ ڈاکٹر گیان چند جین بھی ان کی اس رائے سے متفق ہیں، لیکن خواجہ احمد فاروقی اور ڈاکٹر پرکاش مونس کے خیال کے مطابق یہ تقریباً~1752 کی تصنیف ہے۔ ان محققین کی آراء کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہےکہ قصہ مہر افروزدلبر 1732 سے 1759 کے درمیان لکھی گئی۔ زبان و بیان کے لحاظ سے اس داستان کی اہمیت مسلّم ہے، کیونکہ اس عہد میں ایسی باقاعدہ اور مربوط تخلیق شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ مربوط اور مسلسل داستان اپنے آسان و عام فہم اسلوب بیان کے سبب اردو ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کا پلاٹ عام داستانوں کی مروجہ روش کا حامل ہے، یعنی اس میں بھی اس دور کی دیگر داستانوں کی طرح وہی بادشاہ، فقیر، طلسم، جنگلوں، پہاڑوں اور دیو پریوں کا ذکر ہے۔ داستان کا اصل قصہ تو محض 241 صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس میں 135صفحات نصیحت نامہ ہے جو بادشاہ اور وزیر دونوں اپنے بیٹوں کو سناتے ہیں۔ اس میں چھ ضمنی کہانیاں ہیں مگر اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ نہ تو قصہ کا باہمی ربط ٹوٹتا ہے نہ دلچسپی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اردو نثر کے ارتقاء کے واضح نقوش فراہم کرنے والی اس داستان میں اگرچہ زبان کے لحاظ سے ناہمواری ہے مگر بحیثیت مجموعی اس میں سادگی فصاحت اور شادابی پائی جاتی ہے۔ شمالی ہند کے نثری سرمائے میں ایسی سادہ اور لطیف نثر نہیں ملتی۔ اس طرح یہ داستان اردو کے نئے ادبی اسلوب کے ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔
نو طرز مرصع:
نو طرز مرصع میر محمد حسین عطا خان تحسین کی تالیف کردہ ہے۔ تحسین اٹاوہ کے رہنے والے تھے، وہ فارسی کے بلند پایہ انشاءپرداز تھے، انہوں نے 1768 سے 1780 کے درمیان فارسی کے قصۂ چہار درویش کا اردو میں ترجمہ کیا، اور اسے ’نو طرز مرصع‘ سے موسوم کیا۔ نو طرز مرصع کی مقبولیت کا سب سے اہم سبب اس کا اسلوب ہے، حالانکہ اس میں ادبی نثر کا وہ شستہ اور شائستہ انداز نہیں ہے مگر اس لحاظ سے کہ جس وقت یہ تالیف منظر عام پر آئی اس وقت اردو میں لکھنا لوگ اپنی تحقیر سمجھتے تھے اور عربی و فارسی کے پرشکوہ اسلوب پر جان دیتے تھے۔ ایسے میں جب نوطرز مرصع اردو کے ادبی افق پر داستان کی شکل میں نمودار ہوئی تو اسے غیر متوقع پذیرائی حاصل ہوئی۔ بادشاہوں، نوابین نے اسے خوب داد و تحسین سے نوازا۔ تحسین کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو نثر میں اپنی مقفیٰ و مسجع عبارت سے اردو ادب میں وہ شاندار اسلوب تخلیق کیا جو فارسی اسلوب سے ٹکر لے سکتا تھا۔ اگرچہ اس کا اسلوب پرتصنع، پرتکلف اور گنجلک ہے مگر یہ اسلوب اس دور سے وابستہ ہے جب ’شبنم و شاداب‘، ’مینا بازار‘، ’پنج رقعہ‘ اور ’سہ نثر ظہوری‘ جیسی تصانیف ہی ادب کا حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ لہٰذا تحسین کی یہ ادبی کاوش قابل تحسین ہے، کہ انھوں نے اردو نثر کو وہ طرز عطا کیا جو فارسی کا مرہون منت تو ہے مگر اس میں شگفتگی اور شادابی ہے اور شوخی و صناعی بھی۔ اس ضمن میں سید ابوالخیر کشفی اپنے مضمون ’’باغ و بہار کا مآخذ نو طرز مرصع‘‘ میں رقم طر از ہیں:
’’نو طرز مرصع شمالی ہند کی پہلی اور اہم و مکمل اردو تصنیف ہے۔ نو طرز مرصع میں وہ اسلوب کلبلاتا نظر آتا ہے جس نے میر امن کی باغ و بہار کے صفحات پر آنکھیں کھولی اور صفحہ با صفحہ ان کے ذہنوں زبان کی فضا میں پرورش پاتا ہوا بالغ ہوا۔‘‘
(ماہنامہ نگار رام پور: مارچ 1963)
مذکورہ قول سے واضح ہوجاتا ہے کہ باغ و بہار کی سلیس اور ادبی نثر کے لیے درحقیقت نوطرزمرصع نے راہ ہموار کی۔ نو طرز مرصع کی مشکل پسندی، عبارت آرائی اور رنگین بیانی، رعایت لفظی اور صنائع بدائع اس عہد کے طرز تحریر کا ثمرہیں۔ ایسے میں بالکل سہل سادہ اور سلیس اسلوب روا رکھنا ایک دشوار گزار امر تھا، اور پھر یہ کہ کوئی بھی تخلیق اپنے عہد کا آئینہ ہوتی ہے، لہٰذا نوطرزمرصع بھی اپنے عہد کی عکاس ہے۔ نو طرز مرصع کی ادبی اور داستانی اہمیت یہ ہے کہ یہ شمالی ہند کی اہم ترین اور مربوط تصنیف ہے، جو اردو کے اسلوب بیان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اردو نثر کے بتدریج ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس لحاظ سے نو طرز مرصع کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
نو آئین ہندی:
شمالی ہند کی نثری داستانوں میں مہر چند کی تالیف کردہ نوآئین ہندی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ فارسی کا مشہور قصہ ’’آذر شاہ اور سمن رخ‘‘ اس کا مآخذ ہے۔ موجودہ تحقیق کی روشنی میں اس کا سن تالیف 1794-1795 قرار پایا ہے۔ اس کا قصہ اس دور کا مروجہ قصہ ہے اور پلاٹ بھی اسی طرز کا ہے۔ یعنی بادشاہ نیک دل ونیک خصلت ہے مگر اولاد سے محرومی کے باعث دلگیرو مضطرب ہے۔ اپنی آرزوؤں کی تکمیل میں اسے متعدد آزمائشوں اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے علاوہ کچھ ضمنی قصے بھی اس داستان کے اجزاء ہیں۔نو آئین ہندی کی انفرادیت کا سبب اس کے اسلوب کی سادگی و لطافت ہے۔ اس کی نثر کی شائستگی اور شادابی قابل ستائش ہے۔ اس کا اسلوب اس دور کے مروجہ اصولوں کے برعکس سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ اس کے علاوہ اختصار اور جزئیات نگاری بھی اس کے اہم جزو ہیں۔ لطیف تشبیہات، نازک استعارات اور الفاظ کے مناسب دروبست نے نو آئین ہندی کی نثر کو دلچسپ اور پر کشش بنا دیا ہے۔ مہر چند نے جس طرح کی زبان استعمال کی ہے اس پر آج کی زبان ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ اپنی انہیں خصوصیات کی بنا پر شمالی ہند کی نثری داستانوں میں اس کا خاص مقام ہے۔
عجائب القصص:
عجائب القصص بھی شمالی ہند کی ایک نثری داستان ہے جسے شاہ عالم ثانی کی تصنیف قرار دیا جاتا ہے۔ قصہ چہار درویش کی طرز پر لکھی گئی یہ داستان 615 صفحات اور چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کےسن تصنیف کے متعلق ابھی تک کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔ اس کا قصہ داستانوں کا عام روایتی قصہ ہے۔ مافوق الفطرت عناصر، تخیل کی کارفرمائی، حسن و عشق کی رنگینیاں اس کے عناصر ہیں۔ یہ ایک بے حد طویل داستان ہے۔ گرچہ قصے کے لحاظ سے اس میں کوئی ندرت نہیں ہے مگر اسلوب بیان کے اعتبار سے اس میں اردو نثر کے ارتقائی نقوش ملتے ہیں۔ یہ پہلی تصنیف ہے ہے جس میں عام زبان کے بجائے قلعہ معلیٰ کی شائستہ، نکھری، سلیس اور پر تکلف زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس داستان کے مطالعے سےمصنف کی قادرالکلامی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ الفاظ کا انتخاب، جملوں کی ساخت، نادر تشبیہات و تراکیب اس داستان کی نثر کے خاص اوصاف ہیں جن کی بنا پر یہ داستان اہمیت و مقبولیت کی حامل ہے۔
جذبۂ عشق:
جذبۂ عشق کے مصنف سید شاہ حسین حقیقت ہیں، اور اس کا سن تصنیف 1798 قرار پاتا ہے۔ اس کا قصہ ایک مرہٹہ سپاہی کی داستان عشق پر مشتمل ہے جو حسن میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس داستان میں معمولی سی بات کو ادا کرنے کے لئے کثیر تعداد میں الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ لہٰذا اسلوب کے لحاظ سے اس کی اہمیت تو نہیں ہے لیکن اردو نثر کے ارتقاء کے مدارج کی نشاندہی کے اعتبار سے یہ داستان اہمیت کی حامل ہے۔
مذکورہ داستانوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انیسویں صدی سے قبل ہی اردو نثر کی ابتداء ہو چکی تھی اور داستانی ادب کے قابل قدر نمونے منظر عام پر آ چکے تھے لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو نثر کے ارتقائی سفر میں فورٹ ولیم کالج سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے، جس کا قیام کلکتہ میں 1800 عیسوی میں لارڈ ویلیزلی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اگرچہ اس کالج کا مقصد اردو کی ترویج و اشاعت نہ تھا بلکہ کمپنی کے انگریز ملازمین کو اردو سکھانے کی غرض سے اسے قائم کیا گیا تھا، اردو ایک ایسی زبان تھی جو اس وقت تقریباً پورے ہندوستان میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی تھی بلکہ اس میں ادب بھی تخلیق ہو رہا تھا۔ لہٰذا انگریز اسے سیکھنے پر مجبور تھے۔ کالج کے قیام نے اردو نثر کے ارتقاء پر خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ فورٹ ولیم کالج کی تالیف و ترجمہ کردہ کتابوں میں داستانوں کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپنی اپنے انگریز ملازمین کو زبان کے ساتھ ساتھ یہاں کے معاشرتی پہلوؤں، رہن سہن اور رسم و رواج سے واقف کرانا چاہتی تھی، اور داستان چونکہ تہذیبی و سماجی، مذہبی و اخلاقی قدروں کی عکاس ہوتی ہیں لہٰذا ان کے تراجم پر زیادہ توجہ صرف کی گئی اور داستانوں کا ایک وافر ذخیرہ جمع ہوگیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں