ملا وجہی کی شاعری کی خصوصیات

 ملا وجہی کی شاعری کی خصوصیات

 وجہی کے آباءو اجداد کا تعلق خراسان سے تھا لیکن وجہی کی پیدائش دکن میں ہوئی۔ اس نے دکنی اور فارسی میں ایسے فن پارے پیش کیے کہ سب کو اس کی صلاحیتوں کا قائل ہونا پڑا۔ دکنی شعر و ادب میں وجہی کا وہی مرتبہ ہے جو شمالی ہند میں غالبؔ کو حاصل ہے۔ مثنوی کے علاوہ وجہی نے غزل، نظم اور مرثیہ جیسی اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی۔ وہ دکنی زبان کے متقدمین شعراءفیروزؔ اور محمودؔکا بہت احترام کرتا تھا، اور گمان ہے کہ اس نے ان شعرا ءکے کلام سے استفادہ بھی کیا ہوگا۔ وجہی کی زود نویسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے اپنی مثنوی قطب مشتری محض بارہ روز کی قلیل مدت میں مکمل کی، جسے ایک شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ وجہی نے قطب مشتری میں ادب کے معیار اور تصنیف و تالیف کے قواعد سے جس طرح بحث کی ہے یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک نابغۂ روزگار تخلیق کار ہے، جس نے ادبی نثر و شاعری کو ایسے رموز سے آشنا کیا جو ابھی تک پردۂ اخفا میں تھے۔ اپنی تخلیقات کی صورت میں اس نےاردو شعر و ادب کے ایسے لازوال نقش چھوڑے جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بن گئے۔

یہ وجہی ہی تھا جس نے سب سے پہلے ادب پارے کے حسن و قبح کو پرکھنے پر توجہ دی۔ وجہی کی تخلیقات کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ان تخلیقات کے لیے اپنا خون جگر صرف کیا ہے۔ اس کی نثری اور شعری تصانیف میں فکر و فلسفہ کے اعلیٰ معیار جلوہ گر ہیں۔ اس کے اسلوب کی ساحری سے قاری اپنا دامن نہیں بچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر اکابرین ادب نے اس کی صلاحیتوں کا لوہا مانا اور اس کے فکر انگیز بصیرت افروز اسلوب بیان کو سراہا۔ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر جانے والی تاثیر ملا وجہی کے اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو پتھر دلوں کو بھی موم کرنے کا اثر رکھتی ہے۔

وجہی وہ شاعر ہے جس نے شاعری کی جمالیات پر سب سے پہلے توجہ کی۔ اس نے شعر کے حسن، شاعری کی جمالیات میں معنی آفرینی اور اسلوب کی دلکشی کی اہمیت کو واضح کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے سادگی اور سلاست کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ اس نے شاعری میں اسلوب کے ساتھ ساتھ معنوی حسن کو بھی ملحوظ خاطررکھا۔ وہ معنوی حسن کوشاعری میں محبوب کا درجہ دیتا ہے۔ اس نے معنوی حسن کو طرز نگارش کے حسن پر قربان نہیں کیا۔

قطب مشتری میں ’’در شرح شعر گوید‘‘کے عنوان کے تحت اس نے شاعری کے محاسن کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ سادگی اور سلاست کو شاعری کا حسن تصور کرتا ہے اور بے ربط اور گنجلک باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ اس نے اختصار اور الفاظ کے انتخاب کو بھی بہت اہمیت دی۔ اس کے مطابق کسی شاعر کو اپنے کلام میں معنی اور مفہوم کی بلندی مطلوب ہو تو اسے لفظ کے حسن انتخاب کا سلیقہ آنا چاہیے۔ وہ کہتا ہے:

 اگر فام ہے شعر کا تجکوں چھند

 چنے لفظ لیا اور معنی بلند

 بقول آتشؔ:

 شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا؎

 اس معیار کو سامنے رکھیں تو وجہی کا کلام اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ وجہی نے معنی آفرینی، اسلوب بیان کے حسن، لفظوں کے حسن انتخاب، سادگی، بے ربط باتوں سے احتراز، اختصار وغیرہ کو اپنے تخلیقی عمل کا جس طرح حصہ بنایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وجہی کی شاعری علم معنی اور علم بدیع کا اعلیٰ معیار قائم کرتی ہے۔ اس کے شواہد قطب مشتری میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ قطب مشتری حسن معنی اور حسن لفظی سے لبریز ہے۔ اپنی اس مثنوی میں وجہی نے شاعری کے جمالیاتی معیار کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ جس کے تحت اس نے بے ربط باتوں سے گریز کیا ہے، سادگی پر توجہ دی ہے اور بھاری بھرکم اور گنجلک الفاظ کے استعمال سے گریز کیا ہے۔

قطب مشتری کی روانی، سادگی و سلاست اور دلکشی قاری کا دامنِ دل اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس دلکشی اور پرکاری کو سادہ اسلوب میں پیش کرنا ایک دشوار گزار امر ہے، جس کو وجہی نے انتہائی فنکارانہ چابکدستی سے پیش کیا ہے۔ اردو مثنویوں کی جمالیات کا جب بھی تذکرہ ہوگا تو وجہی کا جمالیاتی احساس و شعور اور قطب مشتری میں اس کے پیش کردہ جمالیاتی پہلوؤں سے صرف نظر کرنا ممکن نہ ہوگا۔ 

انکھیاں لال اس نار ناراں کیاں

کہ موتی اُپر جیوں جڑے مانکیاں

وجہی نے قطب مشتری میں داستان عشق کو جس سادہ اور دلکش پیرائے میں پیش کیا ہے اس نے اس مثنوی کو زندہ و جاوید کر دیا۔ قطب مشتری کی منظرنگاری، تشبیہات و استعارات، تلمیحات اور مکالمہ نگاری غور طلب ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو اردو کی طبع زاد کلاسیکی مثنویوں میں قطب مشتری کو ایک ممتاز اور منفرد مقام پر فائز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جوہی بیگم

شعبۂ اردو، اے ڈی سی (الہ آباد یونیورسٹی)

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا