ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ
ڈاکٹر جوہی بیگم
الہ آباد
گزشتہ چند دنوں میں ملک میں دو بڑے واقعات رونما ہوئے جن پر حکومت سے کوئی جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔ ساتھ ہی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ ان موضوعات پر کچھ بھی کہہ پانے میں معذور تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگ بار بار حکومت اور میڈیا کی ان دونوں معاملات میں خاموشی پر سوال اٹھا رہے تھے لیکن جواب ندارد تھا۔ وہ دو موضوعات تھے، گجرات کے ایک بندر گاہ مندرا سے برآمد ہوئی تین ہزار کلو گرام ہیروئن اور الہ آباد میں اکھاڑا پریشد کے کل ہند صدر آچاریہ نریندر گری کی خودکشی۔ چونکہ مندرا پورٹ ان دنوں اڈانی کی تحویل میں ہے اور اڈانی ہماری حکومت کے منظور نظر تو ایسے میں حکومت کوئی جواب کیسے دے سکتی ہے، اور میڈیا حکومت کے چہیتے اڈانی کی بندرگاہ سے برآمد ڈرگس کے بارے میں سوال کیسے کر سکتی ہے۔ ٹھیک یہی حال آچاریہ نریندر گری کی موت کا ہے۔ نریندر گری کی شبیہ مسلم مخالف سنت کی رہی ہے اس لیے وہ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کے قریبی تھے۔ ان کی خود کشی کے متعلق بارہ صفحات کا خودکشی نوٹ بہت کچھ کہہ دیتا ہے کہ ان کی موت آپسی رنجش اور رسہ کشی کے سبب ہوئی۔ اس میں انہوں نے اپنے قریبی شاگردوں پر ہی الزام عائد کیا ہے۔ اس معاملے میں لاکھ تلاش کے باوجود بھی کوئی مسلم زاویہ ملنا ممکن نہ تھا لہٰذا حکومت اور میڈیا نے خاموشی اختیار کرلی۔ لیکن عوام کا کیا کیا جائے کہ سوشل میڈیا پر لوگ انہی موضوعات پر جائز اور ناجائز الزامات عائد کر رہے ہیں اور طرح طرح کے سوال کر رہے ہیں جن کا جواب نہ حکومت کے پاس ہے اور نہ میڈیا کے پاس۔
جیسا کہ میں پہلے بھی کہتی آئی ہوں موجودہ حکومت کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کا واحد ذریعہ مسلمان ہیں لہٰذا اس نے جاں گسل صورت حال سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کر لیا۔ گزشتہ شب یو پی اے ٹی ایس نے ممتاز عالم دین وداعیٔ اسلام مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کرلیا۔ ان پر بیرونی ممالک سے فنڈ لے کر مدارس کو دینے اور بالجبر تبدیلیٔ مذہب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی غلام میڈیا کو شور مچانے کا ایک موضوع مل گیا۔ اب منشیات کی اسمگلنگ میں کون کون با اثر لوگ شامل ہیں؟ نریندر گری کی موت کے اسباب و علل کیا ہیں؟ وہ کون سے راز ہیں جن کے افشا ہوجانے سے نریندرگری کو خوف رسوائی تھا؟ ان تمام سوالوں کو پس پشت ڈال دیا جائے گا۔ اب ہر چینل پر صرف’’ دھرم پریورتن اسکینڈل‘‘ کا ذکر ہوگا، مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا، اور پہلے سے ہی آلودہ ذہنوں کو نفرت کے زہر کی ایک اور خوراک فراہم کی جائے گی۔ اس طرح ’’آپدا میں اوسر‘‘ تلاش کرنے کی حکومت کی پالیسی ایک بار پھر پروان چڑھے گی۔آئندہ اسمبلی انتخابات میں حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانے کا ایک منظم پروگرام شروع ہو چکا ہے۔
یہ تو آر ایس ایس، بی جے پی کا ایجنڈا ہے لیکن ان حالات کے لیے ہم کتنے ذمہ دار ہیں؟ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مستحکم لائحہ عمل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا یہ حال ہے کہ اگر ہمارے سامنے ہمارے پڑوسی کو ذبح کیا جارہا ہو تو ہم محض تماش بین بنے ہوتے ہیں۔ جس امت کو اس کے رسولؐ نے ایک جسم سے تعبیر کیا کہ جسم کے کسی بھی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے، وہی امت آج عقائد، مسلک، ذات، برادری اور اب تو سیاسی جماعت میں منقسم ہے۔ کسی کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی ہوتی ہے تو ہم بجا ئے یہ دیکھنے کے کہ ہمارے مسلمان بھائی یا بہن پر ظلم ہو رہا ہے اور ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ شخص فلاں مسلک، عقیدے یا جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی مدد کرنے اور ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرنے کے بجائے ہم دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں یہی نہیں بعض بے ضمیر لوگ تو اس پر کھل کر مسرت کا اظہار تک کرنے سے باز نہیں آتے۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا یہ عمل محض ایک دو دن، مہینہ یا سال کی بات نہیں، بلکہ حصول آزادی کے بعد سے ہی یہ عمل جاری ہے۔ میں آپ کو زیادہ پیچھے نہیں لے جانا چاہتی صرف بیس سال پیچھے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جب حکومت کی طرف سے ہمارے کسی ادارے، تنظیم یا افراد کے خلاف ظالمانہ رویہ اپنایا گیا ہم نے کیا کیا؟ ہندوستان کی معروف طلباء تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا جس نے مسلمانوں بالخصوص طلبہ میں اسلامی روح پھونکنے کا قابل قدر کارنامہ انجام دیا اس پر 2001ء میں دہشت گرد تنظیم ہونے کا الزام لگاتے ہوئے پابندی عائد کردی گئی۔ تنظیم کے ارکان کو ڈھونڈ ڈھونڈکر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ ان نوجوانوں کو ٹارچرسیل میں رکھ کر ایسی ایسی اذیت دی گئی جن کو سن کر اور پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ تنظیم کے صدر ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی اس وقت نوجوان تھے، ان کو اس طرح ٹارچر کیا گیا کہ میرے ایک عزیز کے بیان کے مطابق اب وہ سیدھے کھڑے بھی نہیں ہو پاتے۔ ایک خصوصی ٹریبیونل میں سماعت کے دوران اس تنظیم پر عائد کردہ تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور ٹریبیونل نے اگست 2008ء میں پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کردیا۔ لیکن اس وقت کی ’’سیکولر‘‘ کانگریس حکومت نے فوراً سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور انتہائی سرعت کے ساتھ اس وقت کے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے ’’قومی حفاظتی بنیاد‘‘ پر دوبارہ پابندی عائد کر دی۔ تب سے اب تک یہ تنظیم انصاف کی منتظر ہے۔ یہ تو حکومت اور عدلیہ کا رویہ ہے لیکن ہم نے کیا کیا؟ کیا کسی تنظیم نے اس کے خلاف کوئی منظم تحریک چلائی؟ کیا حکومت پر کسی طرح کا دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی؟ کیا ان مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے کوئی متحدہ لائحہ عمل تیار کیا گیا؟ جی نہیں! بالکل نہیں! اس وقت بھی تنظیموں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی جو اب تک قائم ہے۔
اس کے بعد بھگوا دہشت گردوں کے ذریعے کیے گئے سیریل بم بلاسٹ کے الزامات ایک فرضی تنظیم ’’انڈین مجاہدین‘‘ کے سر مڑھ کر بے شمار مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ان پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ بیان سے باہر ہیں۔ یہ نوجوان جب گرفتار ہوئے ان کے سامنے ان کا سنہرا مستقبل تھا لیکن انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ 15 سے 25 سال تک جیل میں گزارنے کے بعد جب یہ نوجوان عدالتوں سے بے گناہ ثابت ہو کر جیل سے باہر آئے تو ان کی زندگی تباہ ہو چکی تھی۔ لیکن مجال ہے کسی تنظیم نے منظم طور پر کوئی احتجاج کیا ہو یا کوئی تحریک چلائی ہو۔ جمیعت العلماءِ ہند اور چند دیگر تنظیموں نے انفرادی طور پر کچھ نوجوانوں کے مقدموں میں مدد ضرور کی لیکن یہ اونٹ کے منھ میں زیرہ کے مصداق ہے۔
مسلم تنظیموں کو کچلنے کا یہ عمل جاری تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بڑے طبقے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ ان کے چاہنے والوں میں تقریباً سبھی مذاہب کے ماننے والے تھے۔ ان کے دلائل سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ فرقہ پرست تنظیموں اور فاشسٹ حکومت کو یہ بات بھلا کیوں قبول ہوسکتی تھی، لہٰذا بنگلہ دیش میں ہوئے ایک دھماکے کا بہانہ بنا کر ان کا خوب میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ حکومت نے بھی ان کی تنظیم پر بیرونی ممالک سے پیسہ لے کر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگاتے ہوئے پابندی عائد کر دی۔ ایک بار پھر بڑی بڑی مسلم تنظیمیں مہر بہ لب رہیں۔ کہیں کوئی احتجاج نہیں ہوا، اس طرح فرقہ پرست عناصر نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور ہم خواب غفلت میں سوئے رہے۔ کچھ چھوٹی تنظیموں کی طرف سے بے غیرتی کے ساتھ اظہار مسرت بھی کیا گیا۔
گزشتہ سال تبلیغی جماعت پرکورونا پھیلانے کو لے کر جس طرح میڈیا ٹرائل اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا گیا اس پر مضمون لکھ چکی ہوں جسے آپ گزشتہ سال جون میں ’’پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے‘‘ عنوان سے تین قسطوں میں روزنامہ آگ میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ تبلیغی جماعت پر جھوٹے الزام عائد کرکے اس کے بے شمار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ بات دیگر ہے کہ بعد میں یہ الزامات غلط ثابت ہوئے اور ان میں سے اکثر لوگ رہا ہو گئے۔ نفرت کی اس تشہیر نے بھی ملک کے مسلمانوں کے وقار کو خاصا نقصان پہنچایا لیکن اس پر بھی دیگر جماعتیں اور تنظیمیں خود کو گوشۂ عافیت میں سمجھ کر خاموش رہیں۔ اگرچہ فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے اعلیٰ عہدیدار’’ صوفی اسلام‘‘ کے بڑے دلدادہ ہیں، اور اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے اور تعریف کرتے ہیں۔ لیکن زمینی سطح پر ادنیٰ درجے کے کارکنان ہم سبھی کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے کبھی کبھی کہیں کہیں ’’صوفی اسلام‘‘ کے علمبرداروں کو بھی نفرت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ حالانکہ ابھی اس طبقے کے خلاف کوئی بڑی واردات نہیں انجام دی گئی لیکن اگر اسی طرح ظالموں کے حوصلے بڑھتے رہے تو کبھی بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے۔
مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری بھی مسلمانوں کی کردار کشی اور ان کی تصویر کو کریہہ بنا کر پیش کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ ان حرکتوں کے ذریعے فرقہ پرست عناصر برادران وطن کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر بھر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ اس میں ہمارا کیا جاتا ہے جس پر پڑی ہے خود بھگتے گا۔ عوام کی بے حسی کے سبب وہ جماعتیں اور تنظیمیں جو دراصل اپنے اپنے مسلک کی نمائندہ ہیں (حالانکہ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں) بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ملک کی مخدوش ہوتی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ساری جماعتیں اور تنظیمیں متحدہوکر مشترکہ طور پر ہر ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں ورنہ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے اور خدا نخواستہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ سڑکوں پر اپنی شناخت کے ساتھ چلنا بھی دشوار ہو جائے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ہندی مسلمانو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں