طنزومزاح

 طنزومزاح (Tanz-o-Mezah)


ظرافت کی بنیاد پر وجود میں آنے والی تخلیقات کو عام طور پر مزاحیہ ادب کہا جاتا ہے۔ طنز و مزاح میں اگرچہ ظرافت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، لیکن طنز و مزاح دونوں علیحدہ علیحدہ نوعیت رکھتے ہیں۔ دونوں کے محرکات بھی مختلف اور متضاد ہوتے ہیں۔ طنز ذکاوتِ حس کی بنا پر پیدا ہونے والے ایک ایسے ردعمل کا اظہار ہوتا ہے جس میں غم و غصہ اور برہمی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کمزوریوں، خامیوں، خرابیوں، نقائص، بدنظمی، بدنمائی، بد سلیقگی، بے ڈھنگے پن اور تلخیوں وغیرہ کو استہزائیہ انداز میں پیش کر کے ان کے مضر اور نقصان دہ پہلوؤں کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے ہنگم اور قبیح معاملات کو بےنقاب کیا جاتا ہے۔ سماجی اور تہذیبی زندگی میں سرایت کیے ہوئے امراض کی تشخیص کی جاتی ہے، اور ناسوروں کو کریدا جاتا ہے۔ طنز اصل میں برہمی کا اظہار ہے جو برائیوں، خامیوں، خرابیوں اور ناانصافیوں وغیرہ سے شدید بیزاری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اپنی تصنیف اردو ادب میں طنز و مزاح میں طنز کے متعلق یوں رقمطراز ہیں:

’’طنز بنیادی طور پر ایک ایسے باشعور، حساس اور درد مند انسان کے ردعمل کا نتیجہ ہے جس کو ماحول کی ناہمواریوں اور بے اعتدالیوں نے تختہ مشق بنالیاہو۔‘‘

(ڈاکٹر وزیر آغا :  اردو ادب میں طنز و مزاح صفحہ 49 50-)

اسی طرح طنز کے سلسلے میں مزید لکھتے ہیں:

’’طنز زندگی و ماحول سے برہمی کا نتیجہ ہے اور اس میں غالب عنصر نشتریت کا ہوتا ہے۔ طنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے تبدیل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔‘‘

( ڈاکٹر وزیر آغا :اردو ادب میں طنز و مزا ح صفحہ 43)

جہاں تک مزاح کا تعلق ہے مزاح میں زود حسی اور ظریفانہ مزاج کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن یہ طنز کے برخلاف ایک طرح کے خوشگوار ذہنی رویے، شگفتہ یا شائستہ ذہنی و فکری رجحان کا مرہون منت ہوتا ہے۔ مزاح کی تحریک بھی تجزیہ نگاروں کی طرح ناہمواریوں یعنی بے اعتدالی، بے ڈھنگے پن، زندگی کے بدترین حالات اور مضحکہ خیز معاملات کے شعور و احساس سے ہوتی ہے۔ یعنی مزاح کے محرک وہی تمام اجزاء ہیں جو طنز کے ہیں، لیکن ردعمل کے طور پر مزاح میں طنز کی طرح برہمی، ہجو یا حقارت کے بجائے ہمدردی اور انبساط کی کیفیت غالب ہوتی ہے، اور اس کا اصل مقصد حصول مسرت ہوتا ہے۔ مزاح کے متعلق پروفیسر اسلوب احمد انصاری رقمطراز ہیں:

’’مزاح زندگی کے غیر متناسب اور بے جوڑ مظاہرے کو نمایاں کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘

( رشید احمد صدیقی بحیثیت مزاح نگار، رشید احمد صدیقی ،کردار و افکار، گفتار، مرتبہ مالک رام  113)

اسی کے ساتھ وہ مزاح کی مزید وضاحت کرنے کے لیے مزاح نگار کے متعلق لکھتے ہیں:

’’مزاح نگار کا مقصدضرر رسانی کبھی نہیں ہوتا۔ اس کا مطمح نظر اصلاحی اور افادی بھی نہیں ہوتا۔ یہ بات اور ہے کہ اس کے تفنن اور طنز کے تیروں کا نشانہ بننے کے بعد ہمارے اندر احساس نفس جاگ جائے جو پایان کار ہماری اصلاح کا موجب بنے۔ لیکن یہ مزاح نگار کا مقصد اولین نہیں ہوتا۔ اس کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ ہمارے غیر آہنگ افعال اور خود بینی و خود نمائی کے مظاہرے کا تماشا خود دیکھے اور دوسروں کو دکھائے۔ اور ان سے انبساط حاصل کرنے کا سامان فراہم کرے۔( رشید احمد صدیقی، علی گڑھ میگزین، طنزومزاح نمبر ص 150)

دراصل مزاح کا اصل سرچشمہ ہنسی کا جذبہ ہوتا ہے۔ ہنسی کا عمل قطعی طور پر انفرادی اور اضطراری نوعیت کاعمل ہوتا ہے اور اس کا اظہار ہر ایک انسان کے مزاج، فطرت، افتاد طبع، انداز فکر اور زاویۂ نگاہ کے مطابق الگ الگ انداز میں ہوتا ہے، اور دشمن کے جسم سے ابلتے ہوئے خون یا شکار کی طرف دیکھ کر فیض حاصل کرنے والی وحشیانہ یا اذیت پسندانہ ہنسی سے الگ ہوتا ہے۔

مذکورہ تجزیہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ طنز و مزاح کے محرکات کے اسباب میں بڑی حد تک مماثلت ہے، لیکن ردعمل کے لحاظ سے دونوں میں واضح فرق ہے۔ طنز نا ہمواریوں کے بے باکانہ، سفاکانہ اور محتاط انداز میں کہا جائے تو حقیقت پسندانہ شعور و احساس کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور مزاح آزادانہ فکر، ہمدردانہ شعور اور احساس کا۔ ایک بر ہمی کے رد عمل کے نتیجے میں ہوتا ہے دوسرا مسرت اور خوش مذاقی کا نتیجہ۔

بذلہ سنجی :

مزاح نگاری کا دوسرا کارآمد حربہ زبان و بیان کی لفظی بازی گری ہے۔جس کے ذریعے مزاح پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ جن میں شاید سب سے پرانا طریقہ تکرار ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جس طریق کو زمانۂ قدیم سے اہمیت حاصل ہے اسے رعایت لفظی کہتے ہیں۔ رعایت لفظی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی لفظ کو اس طرح سے استعمال کیا جائے کہ ناظر کو اس لفظ کے دو مختلف مطالب کا احساس ہو۔ چنانچہ اس کی مدد سے بالعموم ایسی بات کہی جاتی ہے جو عام انداز سے کہی جائے تو ایک شدید ردعمل کے سوا اور کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ لیکن رعایت لفظی کے لیے جدت شرط ہے، ورنہ تکرار سے بالعموم اس کی مزاحیہ کیفیت انحطاط پذیر ہوجاتی ہے۔ لفظی بازی گری کا ایک اور نمونہ مضحکہ خیز املا سے مزاح کی تخلیق ہے۔ لیکن اس کا افق اس وجہ سے محدود ہے کہ یہاں مضحک پہلو تک صرف انسانی آنکھ ہی رسائی حاصل کر پاتی ہے، اس کے علاوہ لطائف سے پیدا ہونے والا مزاح بھی بڑی حد تک الفاظ کا رہین منت ہوتا ہے کہ یہاں لفظ کی بچت سے مضحک نکات کو بڑی تیزی اور شدت سے پیدا کیا جاتا ہے۔ بحیثیت مجموعی لفظی بازی گری کے یہ تمام نکتے، مضحک نکات بذلہ سنجی کے زمرے میں شامل ہیں۔ بذلہ سنجی کو باآسانی مزاح سے ممیز کیا جاسکتا ہے اور وہ اس طرح کہ مزاح ایک کیفیت ہونے کے باعث سارے کے سارے ادب پارے میں ایک برقی رو کی طرح سرایت کر جاتا ہے، اور ہم جس مقام سے اسے چھو لیں برقی رو ہمیں صاف طور پر محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ مزاح کو علیحدہ کرکے دکھانا بہت مشکل ہے۔ دوسری طرف اگر چہ بذلہ سنجی کا نمایاں ترین عنصر مزاح ہے اور اسی لیے مزاح نگار اسے حربے کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔ تاہم بذلہ سنجی کا رشتہ الفاظ سے اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ مزاح کے برعکس یا علیحدہ کرکے بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گورنر کو پاگل خانے کا ملاحظہ کرنا تھا چنانچہ پاگل خانے میں بڑے انتظامات کیے جا رہے تھے، ایک پاگل نے جو دیر سےکھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ایک آفیسر سے پوچھا، 

پاگل: کیوں جی کون آ رہا ہے؟

آفیسر: گورنر

پا گل: کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جائے گا۔ میں جب آیا تھا تو وائسرائے تھا۔

 یہاں تصورات کے دو میدان موجود ہیں گورنر کی پاگل خانے میں آمد برائے ملاحظہ

گو رنر کی پاگل خانے میں آمد بطور پاگل

چنانچہ جب ان دو تصورات کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور ہم پاگل کے الفاظ پڑھتے ہیں کہ وہ بھی شروع شروع میں خود کو وائسرائے سمجھتا تھا تو ہنسی کا ایک شرارہ پیدا ہوتا ہے۔

چنانچہ مزاح کی امتیازی کیفیت یہ ہے کہ اس کے باعث جو تبسم معرض وجود میں آتا ہے وہ ایک نمایاں مسکراہٹ میں تبدیل ہو کر دیکھتے دیکھتے قہقہہ بن جاتا ہے اور پھر بجھتے بجھتے سنجیدگی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے، لیکن یہ سنجیدگی ابدی نہیں ہوتی اگلے ہی موڑ پر اسے دھیمے تبسم کی رفاقت میسر آ جاتی ہے اور یوں یہ چکر برقرار رہتا ہے۔ مغربی ادب میں ڈان(Don Quixole) مسٹر پک وک(Mr. Pickwick) اور ہمارے اپنے ادب میں خوجی اور چچا چھکن کے مطالعے میں مزاح کی یہ کیفیت بڑی واضح ہے۔

مزاح نگاری کا ایک اور اہم حربہ مزاحیہ صورت واقعہ ہے۔یہ صورت واقعہ تین اہم عناصر کی رہین منت ہوتی ہے۔ ناہمواریوں کی اچانک پیدائش، الجھن میں اسیر کے مقابلے میں ناظر کا احساس برتری، اور یہ تسکین واحساس کہ اس واقعے میں صدمے یا دکھ کا پہلو موجود نہیں۔ یہی بات ایک مثال سے اس طرح واضح ہو سکتی ہے۔

’’ اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہو گئیں، ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں تو سامنے رہا تھا لیکن میرا تمام جسم بائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتاً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی چنانچہ جب پیڈل چلانے کے لیے میں ٹانگیں اوپر نیچے کرنے لگا تو میرے گھٹنے ٹھوڑ ی تک پہنچ گئے۔‘‘ 

( مرحوم کی یاد میں: پطرس)

یہاں زندگی کی روانی میں دفعتاً ناہمواری پیدا ہوگئی ہے۔ ایک بھلا چنگا آدمی دیکھتے دیکھتے عجیب سی الجھن میں گرفتار ہوگیا۔ ایک ایسی الجھن جس نے چند لحظوں کے لیے اس کے عام انسانی وقار کو ختم کرکے ہمارے احساس برتری کو تحریک دے دی ہے۔ لیکن چونکہ ظاہر ہے کہ یہ شخص کسی سخت چوٹ یا شدید ذہنی صدمے سے محفوظ ہے اس لیے اگر اس کی ہیئت کذائی ہماری ہنسی کو بیدار کر دیتی ہے، تو یہ حالات کے عین مطابق ہے۔ اس کے برعکس اگر یہی شخص سائیکل سے گر پڑتا ہے اور اس کی ایک ٹانگ سخت مجروح ہو جاتی ہے تو ایک وحشی انسان تو شاید بے اختیار ہنس دے لیکن ایک مہذب انسان کے ہونٹوں پر خفیف سا تبسم نمودار ہوجانا بھی بعید از قیاس ہے۔

صورت واقعہ سے پیدا ہونے والا بہترین مزاح وہ ہے جو کسی شعوری کاوش کر رہین منت نہ ہو بلکہ از خودحالات و واقعات کی ایک مخصوص نہج یا کردار کی مخصوص ناہمواریوں سے پیدا ہو جائے۔ چنانچہ صورت واقعہ کی تعمیر میں ایک اچھا مزاح نگار غلطی، غلط فہمی اور اتفاق وقت سے بھی کام لیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ عملی مذاق سے بہت کم مدد طلب کرے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عملی مذاق مزاح کی ایک کھردری صورت ہے اور چونکہ اس کی تعمیر میں بڑی حد تک شعوری کاوش کو دخل حاصل ہے لہٰذا اس سے پیدا ہونے والے مزاح میں گہرائی اور لطافت پیدا نہیں ہوتی جو صورت واقعہ کے مزاح کا خاص وصف ہے۔

مزاح نگاری کا آخری حربہ پیروڈی یا تحریف ہے لیکن پیروڈی صرف مزاح سے ہی متعلق نہیں بلکہ طنز نگار بھی اس حربے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تحریف ایک علیحدہ صنف ادب کا درجہ حاصل کر چکی ہے لہٰذا یہ الگ سے مطالعہ کی متقاضی ہے۔ پیروڈی یا تحریف کسی تصنیف یا کلام کی ایک ایسی لفظی نقالی کا نام ہے جس سے اس کلام کی تضحیک ہو سکے۔ اپنے عروج پر اس کا منشا ادبی نظریات کی خامیوں کو منظرعام پر لانا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ حالات زمانہ کا مضحکہ اڑاتی، کسی بلندپایہ مضمون کو خفیف مضمون میں تبدیل کرتی یا محض لفظی تبدیلیوں سے تفریح طبع کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔ چنانچہ تحریف کے مقصد کا تعین کرنے والوں میں خاصہ بُعد باہمی ہے۔ بعض کے نزدیک تحریف کا مقصد نہ صرف معاصر ادیبوں کی بے اعتدالیوں کو روکنا اور ان کی اصلاح کرنا ہے بلکہ زندگی کی ناہمواریوں کو ہدفِ طنز بنانا بھی ہے۔ دوسروں کے نزدیک تحریف تفریح پر مبنی ہے اور اس کا مقصد بجز تفریح اور کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر داؤد رہبر کی یہ رائے بڑی وزنی ہے کہ:

’’ ان دونوں گروہوں کو ایک طرح کا سمجھوتا کر لینا چاہیے وہ یوں کہ گروہ اول اصلاحی تنقید کی شرط چھوڑ دے اورگروہ ثانی تفریح محض کی۔‘‘

( ڈاکٹر داؤد رہبر:  فارسی اور اردو میں پیروڈی کا تصور، ادبی دنیا ستمبر 1946)

پیروڈی کے ساتھ چند الفاظ تقلیبِ خندہ آور (Burlesque) کے بارے میں بھی لکھنا انتہائی ضروری ہے۔ تحریف کی طرح تقلیب خندہ آور بھی لفظی نقالی ہے لیکن جہاں تحریف کے پیش نظر بالعموم اصل کی تضحیک ہوتی ہے وہاں تقلیب خندہ آور کا مقصد سو ائے اس کے کچھ نہیں ہوتا کہ کسی ادب پارے کو کو دوبارہ اس انداز سے لکھا جائے کہ مزاح کی تخلیق ہو سکے۔ 

نیو آکسفورڈ ڈکشنری میں درج ہے کہ پیروڈی کو مصنف کی کسی خاص تخلیق تک محدود ہونا چاہیے، اس طرح کہ اس کے پیش نظر اصل کی مزاحیہ انداز میں تنقید ہو لیکن تقلیب خندہ آور وسیع تر چیز ہے جو کسی مصنف کے عام انداز یا کسی جماعت کی خاص نہج کی نقل اتارتی ہے محض اس لیے کہ ہنسی مذاق کی تحریک ہو۔


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا