فردیات
یہ فراق ہے کہ وصال ہے یہ گرہ کبھی نہ سلجھ سکی
وہ جو فاصلوں میں تھی تشنگی وہی قربتوں میں بھی پیاس ہے
شہ رگ سے منسلک ہیں تصور کے سلسلے
یوں تجھ کو بھول جانے میں جاں کا زیاں بھی ہے
سوکھے ہوئے پھولوں کا کیوں کرتے ہو ماتم
گلشن کے سنورنے کا پھر آئے گا موسم
یک رنگ نہیں ہوتے یادوں کے یہ موسم
تڑپائیں تو شعلہ ہیں بہلائیں تو شبنم
عاشقی میں تجارت کی خو آ گئی
کتنا ہے رحم دل مرا صیاد دیکھیے
مجھ کو رہا کیا ہے پروں کو تراش کر
ہم عشق کی باتیں بھی بصد شوق کریں گے
لیلٰیٔ کائنات کے گیسو تو سنور لیں
موجِ بلا سے لایا تھا مجھ کو نکال کر
ساحل پہ لاکے اس نے سفینہ ڈبو دیا
اس دور ترقی کی آداب نرالے ہیں
کرتے ہیں وہی بے گھر جو گود کے پالے ہیں
جو آپ نے عطا کیا مجھ نامراد کو
وہ خواب آج تک مری پیاسی نظر میں ہے
بھوک کی ماری مشقت در بدر پھرتی رہی
اور سرمائے کو محنت کا صلہ جاتا رہا
خوشنما تکلم سے دل کے کنول کھلتے ہیں
خارِ سخن سے لیکن قلب و جگر چھلتے ہیں
میرے مولا تری رحمت کا اشارہ ہو اگر
ریت کے ذرے بھی انجم سے نکھر جاتے ہیں
اپنوں کی بستی میں رہتے دیکھو سب بیگانے لوگ
اک دوجے کے درد و غم سے جان کے ہیں انجانے لوگ
تاجِ شاہی جس کو پہنایا تھا ہم نے شوق سے
بیٹیوں کے سر سے اس نے ہی ردائیں چھین لیں
صحرائے ہجر میں تری یادوں کی بارشیں
تپتے ہوئے وجود کو سیراب کر گئیں
الفاظ کی تنگی کا گلہ ہم کو روا ہے
قاصر ہیں یہ جذبات کی شدت کے بیاں سے
جدا ہو کر میں تجھ سے جی بھی لوں شاید یہ ممکن ہو
یہ تیری بے رخی مجھ کو مسلسل موت دیتی ہے
رموزِ دل کی امین آنکھیں وفا کا رشتہ نبھا رہی ہیں
ہنسی کی چلمن ادھار لے کر یہ آنسوؤں کو چھپا رہی ہیں
آ میں تیرے دل کے ہر اک زخم پر مرہم رکھوں
پاؤں کے ان آبلوں پر پیار کی شبنم رکھوں
سب کچھ ترا مجھ میں مرا کچھ بھی نہیں ہے
یہ جان بھی تو شوق سے اے جانِ جگر لے
شاعری یہ مرے دل کی آواز ہے
سوز ہے جس کی لے یہ وہی ساز ہے
ہم نے اپنے لہو سے ہے سینچا اسے
گلشن ہند کے باغباں ہم ہی ہیں
دنیا سے میرے زخم کا چرچا نہ کیجیے
زخموں کا نوک خار سے چارہ نہ کیجیے
مجھ سے تم منسوب ہو اور تم سے وابستہ ہوں میں
اور کیا درکار ہے اپنے تشخص کے لیے
چشم بینا، آگہی، احساس اور دردِ دروں
شاعری کے واسطے یہ سب لوازم چاہیے
شمشیر بکف قوم کے غازی جو اٹھیں گے
پیشانیٔ گیتی کے سبھی داغ مٹیں گے
بدن ہے چور زخموں سے قبا ہے چاک چاک اپنی
تری زنبیل میں اے زندگی کانٹے ہی کانٹے ہیں
ظاہر و باطن ہیں یک رنگ ہمارے
ہم سادہ مزاجوں کو آتی نہیں روباہی
بدن زخمی ہے اس کا نفرتوں کے تیر و نشتر سے
مگر وہ شخص پھر بھی پیار کے نغمے سناتا ہے
بکھری ہوئی لاشیں ہیں کہرام تو دیکھو
اس دور میں جمہور کا انجام تو دیکھو
یہ سفر درد کا مشکل سہی کٹ جائے گا
حوصلے تھام لیں گر ہاتھ تو مشکل کیسی
یہ جان رہے یا لٹ جائے ہم پیار کے نغمے گائیں گے
جب ذکر وفاؤں کا ہوگا ہم اہل وفا کہلائیں گے
جسے محفل کی خواہش ہے اسے محفل نہیں ملتی
جو ویرانے کا طالب ہے اسے صحرا نہیں ملتا
علم سے جن کے دنیا منور ہوئی
ان کے گھر آگہی کا دیا بھی نہیں
مجبور بھی ہم، مظلوم بھی ہم، مجرم بھی ہمیں کہلاتے ہیں
جو آپ سراپا دہشت ہیں ہمیں دہشت گرد بتاتے ہیں
ہوئی مدت کہ نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
الٰہی پھر عطا کر دیدہ ور اقبالؔ کے جیسا
ان کو بھی ہم نے دیکھا ہے کرتے گداگری
جو لوگ با رسوخ ہیں با اختیار ہیں
ہم کو تو وفاؤں نے برباد کیا جاناں
ہم تیری جفاؤں پہ الزام نہیں رکھتے
جو خاک نشیں ہو کر کرتے ہیں جہاں بانی
رکھتے ہیں فقیری میں اک جاہ سلیمانی
نظریں بدل گئی ہیں نظریہ بدل گیا
بدلا ہے عشق آگ کا دریا بدل گیا
ہر وادیٔ پر خار سے گزری ہوں بصد شوق
یہ آبلہ پائی ہے سند میرے جنوں کی
اک محوِ فنا ہستی انعام بقا پائے
قطرے کی تمنا ہے دریا میں سما جائے
اللہ مجھے کفر کی ظلمت سے بچانا
اس دہر میں ایماں کے خریدار بہت ہیں
سنا ہے ان کی محفل میں بپا ہے آج محشر پھر
ہماری بے گناہی کی شہادت دے گا خنجر پھر
گردن ہے وہی خم رہے مالک کی رضا پر
انسان کی عظمت کا یہی سرِّ نہاں ہے
سمندر اپنی وسعت پہ بھلا کیوں ناز کرتا ہے
تجھے تو پیاس لوگوں کی بجھانا بھی نہیں آتا
نہیں کچھ غم اگر گرداب میں میرا سفینہ ہے
عصائے عزم سے میں اک نیا رستہ بنا لوں گی
کتنا مشکل ہے یہ منظر دیکھنا
ہاتھ میں اپنوں کے خنجر دیکھنا
بن کر غبار راہ میں پھرتے ہیں در بدر
جب تک خودی کا پاس تھا ہم با وقار تھے
بس دوسروں کے عیب و ہنر دیکھتے ہیں ہم
خود اپنے معائب پہ نظر کیوں نہیں جاتی
یہ لفظ محبت تو جذبات کا دریا ہے
الفاظ کے کوزے میں کیسے یہ سما جائے
وضع داری روا داری یہ اب ازکار رفتہ ہیں
بھلا اس دور میں ایسی حماقت کون کرتا ہے
ہم جیسا سادہ لوح کوئی دوسرا نہ ہو
نقدِ حیات لٹ گئی رہبر کے ہاتھ سے
بن جائے درندہ تو شرمائیں درندے بھی
انسان کے جیسا کوئی حیوان نہیں ہے
مرے ماتھے کا یہ آنچل مری عظمت کا ہے ضامن
یہ رکھوالا مری عفت کا، عصمت کا محافظ ہے
مرے آنچل کو میرے پاؤں کی زنجیر مت سمجھو
میں اس آنچل کو اپنے واسطے پرچم بنا لوں گی
سکھ کی ساری کلیاں تیری دکھ کے کانٹے میرے نام
پت جھڑ پت جھٹ میرا مقدر جشنِ بہاراں تیرے نام
جذبات نہیں احساس نہیں نہ جوش جنوں ہے جینے میں
کیوں آج دھڑکتے دل کی جگہ بس ایک خلا ہے سینے میں
ترا جنون ترا شوق آزمائے گی
یہی شکست ترا حوصلہ بڑھائے گی
آدمیت کی قبا تن پہ سجائے رکھنا
اپنے کردار کو پستی سے بچائے رکھنا
سر جھکایا ہے تو پھر دل ھی جھکانا ہوگا
جس میں اخلاص نہ ہو ایسی عبادت کیا ہے
دغا بازی نہ مکاری نہ دل میں کینہ ہوتا ہے
ہمیشہ سچ جو کہتا ہے وہ اک آئینہ ہوتا ہے
وہ غم گساراں وہ راز داراں جو مونس و خیر خواہ تھے اپنے
ہمارے زخموں پہ آج دیکھو وہی تو نشتر لگا رہے ہیں
کوئی حرف ہے نہ کوئی صدا، یہی خامُشی ہے مری زباں
مرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
سر کشی میں بڑھے اس قدر حوصلے
نفس کو ہم نے اپنا خدا کر لیا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں