معاشی نا برابری میں انکم ٹیکس کا کردار


گزشتہ مارچ کے آخر میں اکثر بینکوں نے اپنے کسٹمرز کو کچھ اس مفہوم کا میسیج ارسال کیا: ’’ڈیر کسٹمر انکم ٹیکس کی دفعہ 139AA(1961) کے تحت آپ کا پرماننٹ اکاؤنٹ (PAN) آپ کے آدھار سے لنک کرنا ضروری ہے۔ 31مارچ تک لنک نہ ہونے کی صورت میں آپ کا PAN معطل ہو جائے گا۔ نتیجتاً بینک سے ملنے والے سود و دیگر فوائد پر بھاری TDSکٹ جائے گا۔ یہی نہیں بینک میں پیش آنے والی دیگر مراعات بھی متاثر ہوں گی جہاں PAN کاہونا ضروری ہے۔ مزید توجہ دیں کہ ایک بار TDS کٹ جانے پر کسی بھی صورت میں واپس نہیں ہوگا۔‘‘
 ممکن ہے آپ کو بھی اس سے ملتے جلتے مضمون کا میسیج ملا ہو۔ کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ اقتصادی سال ۲۲۔۲۰۲۱ سے حکومت ہند نے انکم ٹیکس وصولی کے ضمن میں ایک تبدیلی کی ہے جس سے حکومت کو انکم ٹیکس کلیکشن میں اضافے کی امید ہے، یہ تبدیلی اسی سال یکم اپریل سے نافذ ہو گئی ہے۔ دراصل اب تک انکم ٹیکس کا گوشوارہ (ITR)بھرتے وقت آپ جو اطلاعات بہم پہنچاتے تھے یا نوکری پیشہ ہونے کی صورت میں آپ کا ادارہ فراہم کرتا تھا اسی پر حکومت آپ سے انکم ٹیکس وصول کر لیتی تھی۔ ایسے میں کئی قسم کی چھوٹی چھوٹی آمدنی ایسی بھی ہیں جنہیں اکثر لوگ ITR فائل کرتے وقت یا تو دانستہ چھپا جاتے تھے یا بھرنا بھول جاتے تھے، جیسے شیئر سے ہونے والی آمدنی، ان شیئرز پر ملنے والے ڈیبیڈنٹ، میوچول فنڈ(Mutual Fund)، پوسٹ آفس بینک وغیرہ میں جمع رقم پر ہونے والی آمدنی وغیرہ۔ عوام کی انہی چھوٹی چھوٹی بچت پر شب خون مارنے کی غرض سے حکومت ہر حال میں آپ کا آدھار PAN سے لنک کرانا چاہتی ہے تاکہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی آمدنی یا بچت کی تفصیل مل جائے اور وہ ٹیکس وصول کر سکے۔ ملک کے قانون کے مطابق ٹیکس وصول کرنا حکومت کا حق ہے لیکن یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ جن لوگوں پر شکنجہ کسا جا رہا وہ کون لوگ ہیں؟ اور کن کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے؟ ظاہر ہے اس کا اثر نچلے متوسط طبقے پر ہوگا۔ امیر ترین لوگ غریبوں کے دیے گئے ٹیکس پر عیش کرتے رہیں گے۔ اگر حکومت کو اپنی آمدنی بڑھانا ہی مقصود تھا تو کارپوریٹ گھرانوں پر شکنجہ کسنا چاہیے تھا۔ کارپوریٹ گھرانوں کے لوگ یا تو ہزاروں کروڑ روپیہ لے کر ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، یا پھر ان کا ہزاروں کروڑ کا قرض معاف کر دیا جاتا ہے اور ان کے تعیش میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ایک شخص اپنی ایک کمپنی کو دیوالیہ قرار دے کر ہزاروں کروڑ کا قرض معاف کروا لیتا ہے اور پھر نئی کمپنی قائم کرنے کے لیے ہزاروں کروڑ کا نیا قرض حاصل کر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ کارپوریٹ قانون کے تحت کسی بھی شخص کی جواب دہی محدود ہے۔ کمپنی دیوالیہ ہونے پر اس کی ذاتی ملکیت سے وصول یابی نہیں کی جا سکتی۔ اگر حکومت کی آمدنی بڑھانے کے لیے تبدیلی ناگزیر تھی تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ محدود جواب دہی کے بجائے ذاتی جواب دہی؍ ذمہ داری طے کی جاتی اور قرض کی وصولی ان کی ذاتی ملکیت سے کی جاتی لیکن یہاں ان کو تختۂ دار پر چڑھایا جا رہا ہے جو پہلے ہی بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں اور اپنی عزت کا بھرم بنائے ہوئے ہیں۔ 
 بات انکم ٹیکس کی ہو رہی تھی تو میری نظر میں انکم ٹیکس کا پورا نظام ہی عدل کے منافی ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک شخص ہے جس کے گھر میں بیوی اور دو بچوں کے علاوہ بوڑھے ماں باپ، دو بے روزگار بھائی اور دو غیر شادی شدہ بہنیں، یعنی کل دس افراد کا کنبہ ہے۔ آمدنی کا واحد ذریعہ اس شخص کی نوکری ہے جس سے اسے سالانہ تین لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی ہے، لہٰذا ڈھائی لاکھ سے زیادہ آمدنی ہونے کے سبب اسے ہر سال انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہیں ایک دوسرا شخص ہے جو اسی کے دفتر میں کام کرتا ہے اور اسے بھی سالانہ تین لاکھ روپے ملتے ہیں، اس دوسرے شخص کی بیوی بھی اسی دفتر میں کام کرتی ہے اور اسے بھی تین لاکھ روپے ملتے ہیں۔ ان کے گھر میں تیسرا اور کوئی نہیں اس لیے آمدنی زیادہ اور خرچ کم ہونے کے سبب ان کے پاس خاصی رقم بچ جاتی ہے۔ سال کے آخر میں انکم ٹیکس بچانے کے لیے دونوں پچاس۔پچاس ہزار روپے کا بانڈ خرید لیتے ہیںاور انھیں انکم ٹیکس بالکل نہیں دینا پڑتا۔ ایسی صورت حال میں دس افراد پر مشتمل پہلا کنبہ جس کی فی کس سالانہ آمدنی تیس ہزار ہے انکم ٹیکس دینے پر مجبور ہے جب کہ تین لاکھ فی کس آمدنی والا دوسرا کنبہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پاتا ہے۔ ایسے میں دوسرا کنبہ سال در سال اپنی بچت کی بنیاد پر امیر در امیر ہوتا جاتا ہے جب کہ پہلا کنبہ قرض سے گراں بار ہوتا چلا جاتا ہے۔ یعنی انکم ٹیکس کا نظام امیر کو اور امیر غریب کو اور غریب بناتا ہے۔
 میری یہ باتیں محض قیاس پر مبنی نہیں ہیں بلکہ یہ حقیقت کا وہ آئینہ ہے جس میں ہمارا معاشی نظام برہنہ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے؟ جواب ہے ہاں! ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۹ کے درمیان ہمارے ملک کی فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (Per Capita GDP) میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ہوا۔ سوال ہے اس سے کون کتنا مستفیض ہوا؟ جواب ہے اکثر دولت مند بہت کم غرباء۔  انگریزی جرنل ’ڈاؤن ٹو ارتھ‘ مارچ ۲۰۲۱ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں امیر ترین ایک فیصد لوگوں کو کل آمدنی کا اکیس فیصد (21%) حصہ ملا جو کہ 1990 میں گیارہ فیصد (11%) تھا۔ امیر ترین دس فیصد لوگوں نے ملک کی کل آمدنی کا 56% حصہ حاصل کیاجب کہ غریب ترین دس فیصد لوگوں کو فقط ساڑھے تین فیصدی (3.5%) پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ 
 یہ تو آمدنی کی تقسیم کا کی بات تھی دولت کی تقسیم کی تصویر اور بھی خوفناک ہے۔ 2019 میں ملک کی کل دولت ؍املاک کا 80.7% حصہ ملک کے امیر ترین دس فیصد لوگوں کے قبضے میں تھا۔ امیری اور غریبی کے درمیان یہ کھائی مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے یہاں تک کہ ہمارا ملک دولت کی نا برابری کے معاملے میں روس کے بعد دوسرے نمبر پر پہنچ گیا۔ کووڈ۔۱۹ وباء کے بعد یہ کھائی اور بھی بڑھ گئی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کووڈ۔۱۹ وباء کے درمیان جب ملک کی ترقی منفی دس فیصد تھی ارب پتیوں کی دولت میں 35 فیصدی کا اضافہ ہوا۔
 نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں ٹیکس کا کچھ ایسا نظام قائم ہے کہ کمزور ترین شخص سے بھی ٹیکس ضرور وصول کیا جاتا ہے۔ کھانا تو ہر شخص کھاتا ہے؟ غلے پر ٹیکس، تیل، صابن، منجن و دیگر ضرویات زندگی حاصل کرنے کے لیے بھی ہر شخص کو ٹیکس ادا ہی کرنا پڑتا ہے۔ حکومتیں غرباء کی مدد کے لیے کئی اسکیم چلاتی ہیں تاکہ ان کو کچھ راحت پہنچ سکے لیکن ان اسکیمس کا کیا حال ہے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کا اکثر حصہ سیاست دانوں اور سرکاری عملے کے بندر بانٹ میں ختم ہو جاتا ہے۔ تھوڑا بہت اگر ان تک پہنچتا بھی ہے تو اس پر اونٹ کے منھ میں زیرہ کی مثال صادق آتی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ مصائب کا شکار نچلا متوسط طبقہ ہے جس کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس طبقے پر سب سے زیادہ معاشی پریشر ہوتا ہے۔ اس کی آمدنی کم لیکن سماجی دباؤ بہت زیادہ ہے، نتیجتاً سماج میں بھرم بنائے رکھنے کے لیے یہ طبقہ آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے یہاں تک کہ اس طبقے کے بہت سارے لوگ مقروض ہو کر ذہنی و نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ اس طبقے کو انکم ٹیکس کا بار بھی اٹھانا پڑتا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔ یہ ظلم بند کیا جانا چاہیے۔ اگر انگریزوں کے نافذ کردہ غیر عادلانہ اور ظالمانہ انکم ٹیکس کا نظام ختم کر دیا جائے تو حکومت کے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ کیا ہوگا؟ آئیے اس کو سمجھتے ہیں: موجودہ نظام میں آمدنی پر انکم ٹیکس لگا کر حکومتی اخراجات پورے کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے جب کہ اسلام کے پیش کردہ معاشی نظام میں زکوٰۃ آمدنی پر نہیں بلکہ بچت پر لگتی ہے۔ ایک شخص کی آمدنی خواہ کتنی بھی زیادہ ہو اگر وہ اپنی ساری آمدنی خرچ کر دیتا ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب الادا نہیں ہو گی۔ وہیں ایک دوسرا شخص ہے اس کی آمدنی خواہ پہلے شخص سے کم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ بچت بھی کرتا ہے اور اس کی بچت ایک خاص مقدار تک پہنچ جاتی ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب الادا ہوگی۔ اس نظام کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان پیسہ خرچ کرتا ہے روک کر نہیں رکھتا۔ اس سے سرمایہ سرکولیشن میں رہتا ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نظام کے قیام سے معاشرے میں عدل قائم ہوتا ہے، کسی پر ناحق بوجھ نہیں پڑتا۔ اوپر دی گئی مثال میں پہلا کنبہ زکوٰۃ؍ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پائے گا جب کہ دوسرا کنبہ ٹیکس ادا کرے گا۔
 آئیے انتہائی اختصار سے جائزہ لیتے ہیں کہ اگر انکم ٹیکس کی جگہ متبادل نظام قائم کیا جائے تو اس سے حکومت اور عوام پر کیا اثر واقع ہوگا۔ حکومت ہند نے مالی سال 2019-20 میں انکم ٹیکس و دیگر بلاواسطہ (ڈائریکٹ) ٹیکس کی مد میں کل 12.33لاکھ کروڑ روپے وصول کیے۔ واپسی(Refund) کے بعد خالص وصولی (Nett Collection) 10.49 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ اب اگر انکم ٹیکس ختم کرکے متبادل نظام قائم کیا جائے(میں اسے اسلامی یا زکوٰۃ کا نظام نہیں کہوں گی کیوں کہ ہمارے ملک میں ان اصطلاحات سے خدا واسطے کا بیر ہے) یعنی انکم ٹیکس کی جگہ ویلتھ ٹیکس یا ایسیٹ (Asset) ٹیکس لگایا جائے تو آپ یہ جان کر حیران ہوں گے صرف 2.5%ٹیکس ملک کے امیر ترین دس فیصد لوگوں پر لگا کر اس سے کہیں زیادہ ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے۔ اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۹ کے شمارے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانیوں کا کل اثاثہ یا املاک 12.6ٹریلین ڈالر ہے جب کہ امیر ترین دس فیصدی لوگوں کا کل اثاثہ 9.36 ٹریلین ڈالر ہے جو کہ 655.2 لاکھ کروڑ روپے بنتا ہے۔ اگر 90 فیصد لوگوں کو ٹیکس سے بری کرتے ہوئے صرف دس فیصد لوگوں سے 2.5% ویلتھ ٹیکس وصول کیا جائے تو 16.38 لاکھ کروڑ روپے وصول ہوں گے جو کہ وصول شدہ انکم ٹیکس سے ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انکم ٹیکس دینے والوں کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہے اس طرح تو مزید لوگ ٹیکس کے دائرے میں آ جائیں گے تو جواب یہ ہے کہ ویلتھ ٹیکس میں وہی لوگ ٹیکس ادا کریں گے جنھوں نے سرمایہ جمع کر رکھا ہے، اس سے سماج کے کمزور طبقے پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔
 حکومت کے ایوانوں تک اگر میری آواز پہنچ سکے تو درخواست کرتی ہوں کہ انکم ٹیکس کے غیر عادلانہ نظام کو ختم کیا جائے کیوں کہ اس سے امیر اور امیر جب کہ غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۹کے شمارے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 78فیصد سے بھی زیادہ ہندوستانیوں کی ذاتی ملکیت دس ہزار امریکی ڈالر (تقریباً سات لاکھ روپے) سے بھی کم تھی، جب کہ ہندوستان ایسے رئیس زادوں کے معاملے میں دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر تھا جن کی ذاتی ملکیت 50 ملین ڈالر (تقریباً ساڑھے تین ارب روپے) سے بھی زیادہ تھی۔ دی اکونامکس ٹائمس کے ۲۰؍جنوری ۲۰۲۰ کے شمارے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے ایک فیصد امیر ترین لوگوں کی کل ملکیت اسی ملک کے غریب ترین ستر فیصد لوگوں کی کل ملکیت سے چار گنا زیادہ ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان یہ خلیج دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے لیے ملک کا معاشی نظام ذمہ دار ہے۔ اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ملک کی معاشی پالیسی پر درد مندانہ طور پر نظر ثانی کی جائے۔ جہاں جہاں ضرورت ہو اصلاحی اقدامات کیے جائیں اور انکم ٹیکس کے نظام کو ختم کیا جائے۔


ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو، الہ آباد ڈگری کالج
 الہ آباد

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا