اگر اب بھی نہ جاگے تو
سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین… ایک طویل فہرست ہے ایسے نام نہاد مسلمانوں کی جنھوں نے شہرت، دولت یا حکومت کی لالچ میں اسلام، مسلمانوں حتی کہ رسول ﷺ اور قرآن تک پر چھینٹا کشی کرنے میں کوئی تردد نہیں کیا۔ ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں میں ایسے ضمیر فروشوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ کچھ مرد و خواتین موجودہ حکومت کے منظور نظر بننے کے لیے برابر ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچے۔ ان تمام ضمیر فروشوں میں ایک نمایاں نام وسیم رضوی کا ہے جو کہ اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کا چیئر مین رہا ہے۔
وسیم رضوی سیاسی افق پر سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے قریبی کے طور پر نمودار ہوا اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کا چیئر مین مقرر کیا گیا۔ ۲۰۱۷ء میں سماج وادی پارٹی کی حکومت ختم ہونے اور بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد اس نے ابن الوقتی کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے بی جوائن کر لی اور اچانک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر فشانی شروع کر دی۔ دوسرے ضمیر فروشوں کے مقابلے اس نے ایک خاص طریقۂ کار اختیار کیا جو کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا اجینڈا ہے اور وہ ہے مسلمانوں میں آپسی انتشار برپا کرنا۔ چوں کہ یہ شخص شیعہ وقف بورڈ کا چیئر مین تھا لہٰذا اس نے اپنے بیانات میں شیعہ۔سنی تفریق کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس کی اس کوشش کو نہ صرف شیعہ علماء بلکہ عوام نے بھی مسترد کر دیا اور اس کے ہر بیان سے خود کو الگ کر لیا، پھر بھی اس نے اپنی مذموم حرکت جاری رکھی۔
گزشتہ۱۱؍مارچ کو وسیم ملعون نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ داخل کی ہے جس میں قرآن کی ۲۶ آیات کو ملک کی سا لمیت کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے انھیں قرآن سے خارج کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب قرآن کے خلاف زہر افشانی کی گئی ہے، اس سے پہلے بھی چاند مَل چوپڑا نامی ایک شخص نے ۲۹؍ مارچ ۱۹۸۵ء کو کلکتہ ہائی کورٹ میں رٹ داخل کر کے قرآن پر پابندی لگانے کی مانگ کی تھی، جسے کورٹ نے حقارت کے ساتھ خارج کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مختلف نام نہاد دیش بھکت، صحافی و ادیب قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے جن میں ارون شوری سر فہرست ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ یہ صرف الزام لگاتے ہیں اور اس سلسلے میں گفتگو کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک و دیگر اکابرین نے بارہا ارون شوری اور اس قبیل کے ’دانشوروں‘ کو مذاکرہ کی دعوت دی لیکن یہ کبھی سامنے نہیں آئے۔
آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ وسیم رضوی کی اس رٹ کا اصل مقصد کیا ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔جیسا کہ ذکر آیا کہ وسیم رضوی شیعہ وقف بورڈ کا چیئر مین رہا ہے، اپنے ایام اقتدار میں اس نے نہ صرف شیعہ وقف بورڈ بلکہ سنی وقف بورڈ میں بھی جائیداد میں بڑے پیمانے پر خرد برد کی اور موٹی رقم جمع کی۔ شیعہ وقف بورڈ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد جب راز افشاء ہوئے تو اتر پردیش پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی، بعد میں حکومت اتر پردیش نے اس کی تفتیش سی بی آئی سے کروانے کی سفارش کر دی۔ اب جب کہ سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے تو وسیم رضوی کو جیل جانے کا خوف ستا رہا ہے۔ معاملہ چوں کہ اب حکومت اتر پردیش کے ہاتھوں سے نکل کر مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے لہٰذا بی جے پی کے بڑے لیڈروں تک اپنی رسائی کے لیے اس نے رذیل حرکت کی ہے تاکہ وہ آر ایس ایس اور مرکزی لیڈروں کا منظور نظر بن جائے اور سی بی آئی کی تفتیش میں اسے کلین چٹ مل سکے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے ایسے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے عام مسلمانوں کو کیا لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ لوگ ایسا کرتے کیوں ہیں؟ جواب میں شروع میں ہی دے چکی ہوں کہ دولت اور شہرت کے حصول کی خاطر! لہٰذا ایسے خبیث الخصلت افراد کے تئیں عوام الناس کا طرز عمل اولاً یہ ہونا چاہیے کہ عوامی سطح پر اگر کوئی شخص ایسی اسلام دشمن طاقتوں سے کسی طرح کا رشتہ رکھتا ہے تو اس کا مکمل سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے خواہ وہ شخص ہمارا دوست، قریبی رشتے دار حتیٰ کہ سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفاد میں ایسے لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں اور بالآخر وہ پوری امت کے لیے ایک ناسور بن جاتے ہیں۔دوم یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو شروعاتی دور میں ہی پوری طرح نظر انداز کیا جائے کیوں کہ تائید نہ سہی تنقید بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہیں۔ چاند مل چوپڑا کی عرضی تو عدالت سے خارج ہو گئی لیکن اس نے اسی موضوع پر ایک کتاب سیتا رام گوئل کے ساتھ مل کر لکھی The Calcutta Quran Petition جس کے اب تک کم از کم تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، اگر ایسی کوئی کتاب وغیرہ شائع ہوتی ہیں تو خرید کر ان کی اقتصادی مدد نہ کریں۔ وسیم رضوی نے چوں کہ عدالت میں رٹ دائر کی ہے اور اس پر فیصلہ سپریم کورٹ کو لینا ہے کہ آیا وہ اس کو سماعت کے لیے منظور کرتی ہے یا نہیں اس لیے اب ضروری ہے کہ سڑک پر اتر کر اس کی بھر پور مخالفت کی جائے۔ چاند مل چوپڑا کی رٹ پیٹیشن کے وقت عدالتیں مستحکم اور غیر جانب دار تھیں اسی لیے اس کی رٹ خارج کر دی گئی۔ اب حالات مختلف ہیں عدالتیں بالخصوص سپریم کورٹ آر ایس ایس اور حکومت کے آگے سر بہ سجود ہیں لہٰذا ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ اور حکومت کو یہ باور کرا دیا جائے کہ مسلمان اپنے دین، ایمان، اللہ، رسول اور قرآن پر حملہ برداشت نہیں کرے گا۔ ہندی مسلمانو! اگر اب بھی نہ جاگے تو بہت دیر ہو جائے گی۔
ڈاکٹر جوہی بیگم
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں