کفارہ
کہتے ہیں ہر شر میں خیر کا کوئی پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اللہ نے اسے امی۔ابو کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کا بھی موقع عطا کر دیا ورنہ گزشتہ چھ سات برسوں میں وہ اپنے گھر پر محض ایک یا دو دن کے لئے ہی آ پاتا تھا، اس سے زیادہ کبھی اس کی چھٹی منظور ہی نہیں ہوئی۔ انہی خیالوں میںغرق ارشد گھر میں داخل ہوا تو باورچی خانے سے امی کی آواز آئی:
کون؟
میں ہوں امی! السلام علیکم
وعلیکم السلام
امدادی کام سے آج بڑی جلدی فراغت ہو گئی؟ زبیدہ بیگم نے سوال کیا۔
امی کام ابھی ختم نہیں ہوا میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں چلا آیا۔
کیوں بیٹا؟ انھوں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
امی آپ پریشان نہ ہوں میں ٹھیک ہوں۔ سر میں درد کی وجہ شاید دھوپ کی شدت ہو، یہ کہہ کر ارشد صوفے پر نیم دراز ہو گیااور آنکھیں بند کر لیں۔
ادرک والی چائے بنا دوں شاید کچھ راحت ملے۔
آپ کیوں بنائیں گی سنبل کہاں ہے؟ اس نے چھوٹی بہن کے بارے میں امی سے دریافت کیا۔
وہ ابھی کچن کے کاموں سے فارغ ہو کر نہانے گئی ہے۔
میں چائے لے کر آتی ہوں تب تک تم منھ ہاتھ دھو کر فریش ہو لو۔اتنا کہہ کر امی باہر نکل گئیں
سنبل! بیٹا ذرا پانی پلا دو، اسلم صاحب نے ڈرائنگ روم سے بیٹی کو آواز دی۔
ابھی لایا ابو، ارشد نے جواب دیا۔
ارے ارشد بیٹا تم آ گئے؟
جی۔ پانی کاگلاس ابو کو پکڑا کر وہ انہی کے پاس بیٹھ گیا۔
ارشد تم یہاں آ گئے؟ چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے امی نے کہا۔ اچھا اب بتاؤ کس بات نے تمھیں اتنا اپسیٹ کر رکھا ہے؟
امی میں ٹھیک ہوں۔
واقعی؟
ٓامی ایک بات بتائیے اپنی گلی کے آخری سرے پر وہ جو مجیب انکل والا مکان ہے اس میں اب کون رہتا ہے ؟
اس مکان میں پچھلے چھ برس سے ایک بیوہ رہتی ہے، اس کے دو بچے ہیں۔ ۱۲ سال کی بیٹی جس کا نام ارم ہے اور بیٹے کا نام شاداب ہے جو محض ۱۰ برس کا ہے۔
امی ان کے متعلق آپ جو کچھ بھی جانتی ہیں مجھے بتائیں پلیز۔
کیا بات ہے آخر تم جاننا کیا چاہتے ہو؟
امی میں سب بتاتا ہوں پہلے مجھے آپ ان کے بارے میں بتائیں۔
میں ان لوگوں کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتی لیکن سنبل کے توسط سے جو کچھ معلوم ہے بتاتی ہوں۔
کیا سنبل کا ان کے گھر آناجانا ہے؟
ارم سنبل سے ٹیوشن پڑھنے آتی ہے۔
اوہ!
ارم کی امی نہایت نیک، شریف اور خوددار خاتون ہیں۔ یہ لوگ کہاں سے آکر یہاں آباد ہوئے یہ کوئی نہیں جانتا ، یہاں آنے کے چند مہینوں کے اندر ہی ان کے شوہر کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر بھی ان کا کوئی رشتے دار نظر نہ آیا محلے والوں نے ہی ان کی تجہیزو تدفین کی۔ ایسا لگتا ہے ارم کے والد نے اپنا سارا اثاثہ مکان خریدنے میں لگا دیا تھا، ان کے انتقال کے بعد ارم کی امی نے محلے کی عورتوں کے کپڑے سلنے کا کام شروع کر دیا لیکن کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ انھوں نے اپنے بچوں کو بھی بہت اچھی تربیت دی ہے۔ بچے بھی انتہائی خودداراور مہذب ہیں۔لیکن تم یہ سب کیوں جاننا چاہتے ہو؟ زبیدہ بیگم نے سوال کیا۔
امی میں تین چار دن سے دیکھ رہا ہوں ایک معصوم سا بچہ لوگوں کی قطار سے تھوڑا الگ ہٹ کر راشن کی تقسیم دیکھتا رہتا ہے، پہلے تو میں نے سمجھا بچہ ہے تماشا دیکھنے کی غرض سے کھڑا رہتا ہے لیکن آج میں خود چل کر اس کے پاس گیاتو وہ تھوڑا سہم گیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے شاداب بتایا، کہاں رہتے ہو پوچھنے پر اس نے اسی مکان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے دریافت کیا کہ اتنی سخت دھوپ میں تم کیوں کھڑے رہتے ہو۔ اس نے بتایا کہ اس کے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے اس لئے وہ یہاں راشن لینے کے لئے آتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگا کہ چلو میں دلا دیتا ہوں لیکن وہ وہیں ٹھٹھک کر رک گیا۔
میں وہاں نہیں جاؤں گا
کیوں نہیں جاؤ گے؟
کیوں کہ وہاں ویڈیو بن رہا ہے۔
تو؟
امی نے منع کیا ہے کہ اگرویڈیو بن رہا ہو تو وہاں مت جانا۔
تم یہیں رکو میں لے کر آتا ہوں۔
راشن کا ایک پیکٹ اٹھا کر جیسے ہی میں چلنے لگا تو چھوٹے نیتا نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا، کہاں لے جا رہے ہو؟ میں نے سارا ماجرا بیان کیا تو بولے کوئی ضرورت نہیں ایسوں کو دینے کی۔ بھیک مانگتے شرم نہیں آتی اور بھکاری کہلانے سے گریز ہے۔ مجھے سخت غصہ آیا میں نے پیکٹ وہیں رکھا اور وہاں سے چلا آیا۔میں تو انھیں بڑ ارحم دل اور سخی سمجھتا تھا لیکن آج معلوم ہوا کہ یہ سب محض ریا کاری ہے۔
اسلم صاحب بیٹے کی بات سن رہے تھے، بولے، بیٹا تمھیں ان کے اس عمل پر حیرت کیوں ہے یہ ریا کاری تو ہمارے معاشرے کا چلن بن گئی ہے۔
امی آپ ان کے گھر جاکر کچھ پیسے دے آئیں۔
ٹھیک ہے بیٹا میں شام کو جاکر خود دے آؤ گی،تم کھانا کھا کر آرام کر لو۔
بیٹا سنبل! مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر زبیدہ بیگم نے پکارا۔
جی امی کیا ہوا؟ سنبل نے مصلیٰ تہہ کرتے ہوئے پوچھا
ارم کے گھر چلنا ہے۔
ارم کے گھر اس وقت؟ سب خیریت تو ہے؟
چلو تو سہی بتاتی ہوں الماری سے پیسے نکالتے ہوئے انھوں نے جواب دیا۔
ماں بیٹی ارم کے گھر کے نزدیک پہنچیں تو وہاں کچھ لوگ جمع تھے اور گھر سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو سامنے ارم کی امی کا جنازہ رکھا تھا اور ماں کی نعش کے سرہانے بیٹھے دونوں بھائی بہن امی اٹھئے پلیز اٹھئے! کچھ تو بولئے بار بار بس یہی دہرائے جا رہے تھے، آواز میں ایسا درد کہ پتھر دل بھی پارہ پارہ ہو جائے۔ آس پڑوس کی کچھ مخلص خواتین بڑے پیار سے انھیں تسلیاں دے رہی تھیں لیکن ان کے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ ارم بیٹا تمھاری امی کو کیا ہوا تھا کب سے بیمار تھیں؟زبیدہ بیگم نے غم سے نڈھال بچی کو گلے لگاتے ہوئے سوال کیا۔
امی کو شوگر تھی، پچھلے تین چار دن سے ان کی طبیعت خراب تھی۔ وہ ہمیں تو کھانا کھلاتیں لیکن خود چاول کی پیچ میں تھورا سا زیرہ اور نمک ملاکر پی لیتیں، یہ کہہ کر وہ پھر زارو قطار رونے لگی۔
زبیدہ بیگم کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ بڑی مشکل سے ضبط کرتے ہوئے پوچھا، امی پیچ کیوں پی رہی تھیں تم نے پوچھا نہیں؟
ارم نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو اس کی آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی۔
زبیدہ بیگم نے سنبل سے پانی منگوا کر اسے پلایااور آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پھر وہی سوال دہرایا۔
آنٹی میں نے کئی بار امی سے پوچھا، ہر بار وہ ایک ہی جواب دیتیں مجھے بہت کمزوری لگ رہی ہے اور چاول کی پیچ پینے سے طاقت ملتی ہے۔ ارم نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔
زبیدہ بیگم کا دل اس بے بسی پر تڑپ اٹھا۔ سارا ماجرا ان کی سمجھ میں آگیاتھا۔
اگلے دن صبح تدفین کے بعد جب ارشد گھر لوٹا تو اس کے ہمراہ شاداب بھی تھا۔ زبیدہ بیگم اسے اپنی گود میں بٹھا تے ہوئے بولیں، اس کی امی کی موت کے ذمہ دار صرف وہ ریاکار نیتا ہی نہیں بلکہ ہم سب ہیں۔ اسلام نے پڑوسی کے جو حقوق متعین کئے ہیں ہم سے اس کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہے۔
امی ہمیں اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
وہ کیسے؟
ان دونوں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا کر۔
فرط جذبات سے ان کی آنکھیں لبریز ہو گئیں۔ آج انھیں اپنی تربیت پر فخر ہو رہا تھا۔
ڈاکٹر جوہی بیگم
الہ آباد
مجهه پتا نهی تها که اپ اتنی خوبصورت افسانه بهی لکهتی هین پکستان
جواب دیںحذف کریں