یہ داغ داغ اجالا
ایم۔ایس۔ڈگری کالج میں تانیثیت کے موضوع پر منعقدہ سہ روزہ سیمینار کا آج آخری دن تھا۔ پروفیسر شہنواز خان صدارتی خطبے کے لئے جیسے ہی مائک پر تشریف لائے سارا آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا۔ ادبی حلقوں میں تانیثیت کے ایکسپرٹ کے طور پر پروفیسر صاحب کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اس موضوع پر ملک کی کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں سیمینار منعقد ہو موصوف کے بغیر نا مکمل سمجھا جاتا ہے۔ اپنے تقریباً آدھا گھنٹے کے خطاب میں صنف نازک کے مذہبی و انسانی حقوق اور اس کی معاشرتی حیثیت کا جس باریک بینی اور دیانت داری سے تجزیہ پیش کیا ہر کوئی ان کی حق گوئی، انصاف پسندی اور انسانیت کا قائل ہو گیا۔ ہال میں موجود طلباء و دانشور سامعین نے بار بار تالیاں بجا کر ان کے خیالات کی تائید کی۔ اپنے صدارتی خطاب کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ معزز سامعین آپ نے میرے خیالوں سے اتفاق کیا، بے حد شکر گزار ہوں، لیکن آج کا یہ سیمینار اور اس موضوع پر منعقد ہونے والے تمام سیمینار اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوں گے جب ہمارے معاشرے میں عورت کو اس مقام پر فائز کیا جائے گا جس کی وہ مستحق ہے۔ اسے تابعداری اور حکم بجا لانے والا گوشت پوست کا روبوٹ نہیں بلکہ انسان سمجھیں ۔ اس کی بے لوث خدمات اور اس کی قربانیوں کی قدر کریں۔ جہاں تک ممکن ہو اس کی ہر جائز خواہش کا احترام کریں۔ اس کے جذبات کو مجروح نہ کریں۔ آخر میں ان الفاظ کے ساتھ اپنی بات کا اختتام کرتا ہوں کہ جب تک ملک و معاشرے میں ایک بھی عورت ظلم و زیادتی، ناانصافی اور بے اعتنائی کا شکار ہے تب تک میں ایسے تمام سیمینار کو ناکام و نامراد مانتا ہوں۔ صنف نازک کو معاشرے میں وہ مقام عطا ہو جس کی وہ مستحق ہے، اپنی تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔
آڈیٹوریم میں ایک بار پھر تالیوں کا شور گونج اٹھا۔ وہاں موجود ہر شخص کی زبان پر پروفیسر شہنواز کے لئے تعریفی کلمات تھے۔ چائے ناشتے کے دوران وہ سیمینار کے دیگر مقررین سے تبادلۂ خیال میں محو تھے کہ اچانک انھیں کچھ یاد آیا اور عذر خواہی کے ساتھ انھوں رخصت طلب کی اور انتہائی سرعت سے اپنی گاڑی کا رخ کیا اور گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ گھر کے باہر ایک عجیب سی خاموشی تھی، گیٹ پر پہنچ کر انھوں نے بیل بجائی، ملازم نے گیٹ کھولا، گھر میں داخل ہوتے ہوئے انھوں نے قدرے تیز آواز میں بیوی کو پکارا
صائمہ کہاں ہیں آپ؟ تیار ہیں ناں؟
بیگم صاحبہ تو چلی گئیں، راجو نے بتایا۔
اتنا سننا تھا کہ شہنواز تیزی سے بڑی آپا کے کمرے کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا، تھوڑے توقف کے بعد انھوں نے آہستہ سے دروازہ کھولا بڑی آپا نماز میں مشغول تھیں۔
بہت جلدی آ گئے، سلام پھیرنے کے بعد وہ بھائی سے مخاطب ہوئیں۔ آج ان کے لہجے میں وہ شیرینی نہ تھی۔
صائمہ چلی گئی؟ اس نے میرا انتظار بھی نہ کیا؟
زندگی بھر اس نے انتظار کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ بڑی آپا کے لہجے میں تلخی آمیز خفگی تھی۔
بڑی آپا یہ آپ کہہ رہی ہیں؟ آپ سے بہتر میری مصروفیات اور ذمہ داریوں کو کون جان سکتا ہے؟ آپ خود صدر شعبہ کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔
ٹھیک کہا تم نے، اسی لئے تو آج تک تمھاری ہر بے اعتنائی پر خاموش رہی اور صائمہ کے حق میں کبھی احتجاج نہ کیا ۔ لیکن آج کے تمھارے اس ناروا سلوک نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا۔
بڑی آپا یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ آخر میں نے صائمہ کے ساتھ ایسا کون سا ظالمانہ برتاؤ کیا ہے جس کے لئے آپ اس طرح لعن طعن کر رہی ہیں؟
تمھیں معلوم ہے اس کے ابو کا انتقال ہو گیا؟ تمھارے جانے کے آدھا گھنٹے کے بعد اس کے گھر سے فون آیا اور اس نے تم سے رابطہ قائم کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تم نے فون رسیو نہیں کیا۔ بالآخر وہ دونوں بچوں کو لے کر چلی گئی۔ میں نے ساتھ جانے کی بہت ضد کی لیکن اس نے منع کر دیا۔ غم کے اس عالم میں بھی اسے تمھارا خیال رہا۔ اس نے دو سو کلومیٹر کی مسافت تنہا طے کرنا قبول کیا تمھیں کوئی دشواری نہ ہو اس لئے مجھے بھی ساتھ نہ لیا۔ تم پوچھتے ہو تم نے اس کے ساتھ کون سا ظلم کیا ہے؟ یہ سوال تم اپنے آپ سے پوچھ کر دیکھو۔ شاید تمھارا ضمیر تمھیں آئینہ دکھا دے۔ تم نے صنف نازک کے حالات اور اس کے مسائل کا عمیق مطالہ کیا ہے اور اس کی نفسیات اور اس کے جذبات کو سمجھنے میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا ہے، سیمینارز میں اس پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، معاشرے میں تم ایک پروفیسر سے زیادہ خواتین کے حامی اور ہمنوا کی حیثیت سے مقبول و معروف ہو جبکہ خود تمھاری اپنی رفیقۂ حیات ساری عمر تمھاری رفاقت کو ترستی رہی، تمھاری بے اعتنائیوں کا زہر گھونٹ گھونٹ پیتی رہی، بے صدا بے آواز۔ کئی روز سے اس کے والد کی سیریس حالت کی خبر آ رہی تھی اور وہ تم سے ہمراہ چلنے کے لئے بار بار التجا کر رہی تھی لیکن تمھارے نزدیک اس کے باپ کے آخری دیدار سے زیادہ اہم تمھارا سیمینار تھا…
خدارا بس کیجئے بڑی آپا۔ شہنواز اپنا سر پکڑ کر وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ان کا سارا وجود جیسے تاریکی کے سمندر میں غرق ہو کر رہ گیا۔
یه افسانا یه داغ داغ اجالا مين مطالعه كيا هه بهت پهله لیکن پته نهی تها که یه اپکی تحریر هه بهت خوب
جواب دیںحذف کریں