پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

 آج جبکہ ساری دنیا ایک مہلک وبا کورونا سے نبرد آزما ہے اور اس سے نجات کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگی ہے ، لوگ بلا تفریق مذہب و ملت ایک دوسرے کا درد بانٹنے اور ہر ممکن مدد بہم پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے حتیٰ کہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کی خدمت میں لگے ہیں، ایسے میں ہمارا ملک ہندوستان دنیا کے سامنے ایک الگ ہی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں عوام الناس کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ اس بھی زیادہ ہلاکت خیز ’’وائرس‘‘ فرقہ وارانہ منافرت کا شکار ہیں، جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ کورونا کا علاج تو ان شاء اللہ جلد دریافت کر لیا جائے گا لیکن فرقہ واریت کے وائرس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ 

فرقہ وارانہ منافرت کا یہ زہر سوشل میڈیا پر جس زور و شور سے پھیلایا جا رہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن مین اسٹریم میڈیا(پرنٹ و الیکٹرانک دونوں) ان دنوں جس انسانیت سوز پستی کا شکار ہوئے ہیں وہ کسی بھی با شعور انسان کے لئے جھکجھور کر رکھ دینے والا ہے۔ نفرت آمیز صحافت بھی کوئی نئی بات نہیں ہے،لیکن اس وبا کے دور میں حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے گودی میڈیا نے جس بے شرمی سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے وہ یقیناً حیران کرنے والا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ گودی میڈیا کو حکومت سے بھوک سے جاں بحق ہو رہے غرباء، ہزاروں کلو میٹر پیدل نقل مکانی کو مجبور بے سہارا مزدور، اسپتالوں میں علاج سے محروم مریضوںاور اپنی جان جوکھم میں ڈال کر علاج کر رہے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ملنے والی حفاظتی کٹ کی عدم دستیابی کے متعلق سوال کرنا چاہئے، اس وقت یہ میڈیا مسلم مخالف مہم چلا کر لوگوں کا ذہن منتشر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے پرزور مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی چند کرنیں بھی نظر آتی ہیں،آج جب کہ اکثر صحافی صحافت کو ترک کرکے حکومت کے ایجنڈے کی تبلیغ میں مصروف ہیں، ہمارے ملک کے چند صحافیوں نے صحافت کی لاج بچا رکھی ہے۔ حق کے ان علم برداروں کی میں دل سے ممنون ہوں اور انھیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ نفرت کے اس طوفان کی چند جھلکیاں آپ کے سامنے پیش کر رہی ہوں جن کو انھیں حق پسند صحافیوں نے بے نقاب کیا ہے۔

(۱) ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا جس میں ایک شخص پھلوںپر تھوک لگاکر صاف کرتا نظر آ رہا ہے، اس ویڈیو کو یہ کہہ کر پھیلایا گیایہ مسلم شخص دانستہ پھلوں میں تھوک لگا کر کورونا کو پھیلانے کی کوشش کر رہا جسے کورونا جہاد کا نام دیا گیا۔ کونٹ ڈاٹ کام نامی آن لائن پورٹل نے جب اس کی تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین کا ہے ۔ رائے سین کی ایس پی مونیکا شکلا نے بتایا کہ یہ ویڈیو ۱۶؍ فروری کا ہے جبکہ کورونا جیسی کوئی بات نہیں تھی، پھر پولیس نے شیرو نامی شخص کے خلاف دفعہ ۲۶۹ اور ۲۷۰ کے تحت مقدم ہ درج کرکے شیرو کو گرفتار کر لیا اور تحقیقات میں شیرو نے بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ یہ کب اور کیسے ہوا وہ تو صرف داغی پھلوں کو الگ کر رہا تھا۔ شیرو کی بیٹی نے پولیس کو بتایا کہ وہ ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ یہ کونٹ کی رپورٹ ہے، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ معلوم ہونے کے بعد بھی کہ وہ شخص ذہنی طور پر بیمار ہے اور اس ویڈیو کا کورونا سے کوئی تعلق نہیں ایم پی کی پولیس نے غیر جانب داری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے شیرو پر متعدی بیماری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر اسے گرفتار کیا۔

(۲) ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا  جس میں چند ٹوپی پہنے ہوئے مسلم اشخاص برتنوں کو انگلیوں سے چاٹتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کی بھی ’’کورونا جہاد‘‘ کہہ کر خوب تشہیر کی گئی۔ اسے مختلف میسیج میں مختلف جگہ کا ویڈیو بتایا گیا۔ کہیں اسے مرکز نظام الدین کا تو کہیں بہار کا بیان کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ غیر ملکی تبلیغی جماعت کے افراد ہیں جو کورونا سے متاثر ہیں اور دانستہ برتنوں میں تھوک لگا کر کورونا کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آلٹ نیوز نامی ویب پورٹل نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ویڈیو جولائی ۲۰۱۸؁ء میں یو ٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا تھا ۔ اس ویڈیو میں نظر آ رہے لوگ واؤدی بوہرہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کھانا کھا کر برتن کو انگلیوں سے اس لئے چاٹ رہے ہیں تاکہ کھانے کا ایک بھی دانہ ضائع نہ ہو، لیکن نفرت کے سوداگروں نے اسے موجودہ کورونا مرض سے منسوب کرکے اسے فرقہ وارانہ منافرت کے فروغ کے لئے استعمال کیا۔

(۳) نفرت کی آگ کو ہوا دینے کے لئے ایک اور ویڈیو کا استعمال کیا گیا جس میں کچھ مسلم ایک حلقے میں بیٹھے سر ہلاتے ہوئے وجد کی کیفیت میں نظر آ رہے ہیں ۔ اس ویڈیو کو یہ کہہ کر شیئر کیا گیا کہ یہ مرکز نظام الدین کا ویڈیو ہے اور یہ لوگ تبلیغی جماعت کے ممبر ہیں جو کہ چھینک کر کورونا کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دی لاجیکل انڈین ڈاٹ کام (thelogicalindian.com) نامی ویب پورٹل نے ویڈیو کے متعلق تحقیق کرکے بتایا کہ اس ویڈیو کا مرکز نظام الدین یا تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ یہ لوگ کورونا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ، بلکہ یہ لوگ صوفی مسلک کے لوگ ہیں جو اپنے خصوصی انداز میں عبادت کر رہے ہیں جسے ذکر کہا جاتا ہے۔ ذکر کے اس انداز میں اللہ کے مختلف ناموں کو بار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ اللہ کا قرب اور سکون قلب حاصل ہو، لیکن نفرت کے نمائندوں نے اسے بھی کورونا پھیلانے کی سازش بنا کر پیش کیا۔

(۴)مرکز نظام الدین کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ایک اور ویڈیو گفتگو کا موضوع بنا جس میں ایک نو جوان ایک وین میں کچھ پولیس والوں سے گھرا بیٹھا ہے اور پولیس والوں پر تھوکتا ہے۔ یہ ویڈیو نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوا بلکہ ’’معتبر‘‘ ٹی وی چینلس پر بھی دکھایا گیا۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس شخص کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے اور اسے جب پولیس مرکز نظام الدین سے ہیلتھ چیک اپ کے لئے لے جا رہی تھی تو اس نے پولیس والوں پر ہی تھوک دیا تاکہ وہ کورونا کا شکار ہو جائیں۔ اتنا ہی نہیں اس کے ساتھ جس مسلم مخالف زبان کا استعمال کیا گیا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ بی بی سی ہندی نے اس کی تحقیق کرکے بتایا کہ اس ویڈیو کا تعلق نہ صرف یہ کہ دہلی بلکہ تبلیغی جماعت سے بھی نہیں ہے۔ اس ویڈیو کو ٹائمس آف انڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر ۲؍مارچ کو شائع کیا تھا اور یہی ویڈیو ممبئی مرر نے بھی ۲۹؍فروری ۲۰۲۰؁ کو شیئر کیا تھا۔ خبر کے مطابق ایک انڈر ٹرائل قیدی محمد سہیل شوکت علی کو ممبئی پولیس جیل سے عدالت لے کر گئی تھی جہاں اس کے گھر والے اس کے لئے کھانا لے کر آئے تھے جسے پولیس نے نہیں کھانے دیا۔ اسی بات کو لے کر سہیل اور پولیس والوں کے درمیان کہا سنی ہوئی اور غصے میں اس نے پولیس والوں پر تھوک دیا۔ یہ ویڈیو بھی نفرت کے سوداگروں کے لئے جھوٹ کا ایک اور ہتھیارثابت ہوا۔

(۵) سوشل میڈیا پر چند تصویر یںخوب وائرل ہوئیں جن میں ایک پولیس افسر ایک پجاری کو زمین پر گرا کر مار رہا ہے۔ ان تصویروں کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ پولیس افسر ضلع ریوا(مدھیہ پردیش) کا ایس پی عابد خان ہے جو ایک پجاری کو مار رہا ہے جو کہ نوراتر کے موقع پر مندر میں اکیلا پوجا کر رہا تھا اور اس نے کسی طور پر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ یہی نہیں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ عابد خان جوتا پہن کر مندر میں داخل ہوئے اور پوجا کے سامان اور جگہ کی بھی بے حرمتی کی۔ یہ افواہ سدرشن نیوز چینل کے ٹویٹر ہینڈل سے بھی شیئر کی گئی۔  دی للّن ٹاپ (thelallantop.com) نامی ویب پورٹل (جو کہ انڈیا ٹوڈے گروپ کا حصہ ہے) نے تحقیق کرکے بتایا کہ یہ ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے جو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لئے کھڑا کیا گیا۔ ویب پورٹل نے ریوا رینج کے آئی جی چنچل شیکھر اور ریوا کے ’’آج تک‘‘ نیوز چینل کے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا کہ: تصویر میں نظر آرہے شخص ریوا کے ایس پی عابد خان نہیں ہیں، وہ موقع پر گئے تک نہیں تھے۔ جو شخص تصویر میں نظر آ رہا ہے وہ سول لائنس تھانہ انچارج راج کمار مشرا ہیں ۔ پجاری مندر میں اکیلا نہیں تھا بلکہ اس نے خواتین کی بھیڑ جمع کر رکھی تھی۔ اسے کئی بار وارننگ دی جا چکی تھی مجبوراً پولیس کو سختی کرنی پڑی۔ ایکشن صرف مندر پر ہی نہیں لیا گیا بلکہ مسجد اور مزاروں پر بھیڑ جمع کرنے والوں کے خلاف بھی ایسا ہی ایکشن لیا گیا۔ لیکن فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لئے ایک بے گناہ پولیس افسر کو خوامخواہ بدنام کیا گیا۔

(۶)سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو نفرت آمیز میسیج کے ساتھ گردش کرتا نظر آیا جس میں ایک شخص ننگے ہاتھوں سے پلاسٹک کی تھیلی میں کھانے کی کچھ چیزیں بھرتا ہوا نظر آ رہا ہے وہ تھیلی کو کھولنے کے لئے منھ سے پھونکتا ہے۔ یہ ویڈیو یہ کہہ کر شیئر کیا گیا کہ یہ شخص مسلم ہے اور کورونا سے متاثر ہے یہ جان بوجھ کو کورونا کے انفیکشن کو  دوسروں میں پھیلانے کے لئے ایسا کر رہا ہے۔ آلٹ نیوز نے اس افواہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا یہ ویڈیو کافی پرانا ہے اور ۲۰۱۹؁ میں ملیشیا میں وائرل ہو چکا ہے۔ یہی نہیں یہ ویڈیو سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں بھی وائرل ہو چکا ہے۔جسے وہاں کی تحقیقاتی ایجنسیاں مسترد کر چکی ہیں۔ ایک ایسا پرانا ویڈیو جس کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم کہ کب کا ہے؟ کہاں کا ہے؟ اس کو کورونا سے منسوب کرکے ملک میں مسلم اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا گیا۔  

(۷)  سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کا سلسلہ پرانا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا پر لکھنے یا شیئر کرنے والوں کی ساکھ کوئی معنی نہیں رکھتی لہٰذا جس کا جو دل چاہے کہہ سن لیتا ہے، لیکن مین اسٹریم میڈیا اور نیوز ایجنسیاں بغیر تحقیق کے افواہیں پھیلانا شروع کر دیں تو خبروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں ایسا ہی ہو چلا ہے۔ ہمارے ملک کا کارپوریٹ میڈیاتمام اخلاقی و پیشہ وارانہ اقدار سے آزاد ہو کر افواہیں پھیلانے اور مسلم اقلیت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا اوزار بن کر رہ گیا ہے۔ ۲۲؍مارچ کو ’’نیوز ۲۴ ؍انڈیا‘‘ نامی ٹی وی چینل کے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ ہواجس میں چند مسلم نوجوان جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہیں ایک بلڈنگ سے نکلتے نظر آ رہے ہیں ۔ چینل نے لکھا ’’پٹنہ کے کرجی علاقے میں اٹلی، ایران سے کئی ۵۰ کے قریب ودیشی ناگرک اچانک اس کالونی میں آگئے جس وجہ سے پورے کالونی میں افراتفری مچ گیا ہے۔ علاقے کے ایک مسجد میں آکر رکے تھے۔ پٹنہ پولیس جانچ میں جٹی‘‘۔  اسی خبر کو نیوز ایجنسی ’’اے این آئی(ANI)‘‘کے بیورو چیف (بہار) مکیش سنگھ اس طرح پوسٹ کرتے ہیں ’’پٹنہ کے کرجی علاقے کے ۷۴ نمبر گلی میں اچانک سے دو تین گاڑی میں ۲۵ سے ۳۰ کی سنکھیا میں ودیشی ناگرک جو کہ اٹلی اور ایران سے کہا جا رہا ہے اچانک پہنچ گیا ہے۔ استھانیہ لوگوں نے پولیس کو سوچنا دی ہے اور پولیس کچھ لوگوں کو جانچ کے لئے لے گئی ہے‘‘۔ ’’پنجاب کیسری‘‘ ،  ’’امر اجالا‘‘،  ’’ٹائمس ناؤ ہندی‘‘  اور’’ نیوز۱۸‘‘ نے اسی خبر کے متعلق بتایا کہ ۱۲ غیر ملکی شہری ایک مسجد میں ’’چھپے ہوئے تھے‘‘ جنھیں پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ جب ’’ذمہ دار‘‘ خبر رساں ایجنسی، اخبار اور نیوز چینل غلط بیانی اور تحقیر آمیز زبان کا استعمال کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ’’غیر ذمہ دار‘‘ شہری سوشل میڈیا پر کیا کچھ کہیں گے۔ 

’’آلٹ نیوز‘‘ نے اس خبر کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان بارہ لوگوں میں دس کرغزستان کے شہری اور دو مقامی افراد شامل تھے۔ سبھی کا کورونا ٹیسٹ نیگیٹیو پایا گیا۔ ’’آلٹ نیوز کی تحقیقات میں ’دیگھا‘ پولیس تھانہ کے ایس ایچ او  نے بتایا کہ ’’یہ شہری اٹلی یا ایران کے نہیں بلکہ کرغزستان کے ہیں‘‘ انھوں نے اٹلی یا ایران کے شہری ملنے کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیا۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ کی مزید تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ سبھی کرغزستانی شہری گزشتہ سال دسمبر کے آخر یا اس سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ہندوستان آئے جبکہ ہندوستان میں کورونا کا پہلا معاملہ ۳۰؍جنوری کو سامنے آیا۔ چونکہ ان کرغزستانی شہریوں کی خبر پھیلنے تک اٹلی اور ایران میں کورونا پھیل چکا تھا اس لئے ضمیر فروش میڈیا نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ان جماعتیوں کو اٹلی اور ایران سے منسوب کر دیا۔

(۸) بڑے اخبارات اور نیوز چینلوں پر ایک خبر بڑی سرخیوں اور تلخ لہجوں کے ساتھ شائع ہوئی کہ سہارنپور میں کورنٹائن کئے گئے جماعتیوں نے کھانے میں نان ویج(گوشت) کی فرمائش کی، نہ ملنے پر انھوں نے کھانا پھینک دیا۔ یہی نہیں ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے ڈیمانڈ نہ پوری ہونے پر کھلے میں رفاہِ حاجت کی اور جھوٹا کھانا دیواروں پر لگایا۔ ان خبروں کے منظر عام پر آتے ہی ’’معتدل‘‘ سمجھے جانے والے نیوز اینکر بھی تبلیغی جماعت کے خلاف غصے سے بھر گئے اور تبلیغی جماعت کے بہانے ملک کے تمام مسلمانوں پر فردِجرم عائد کی جانے لگی۔ سارے معاملے کی تفتیش اتر پردیش پولیس نے خود کی اور پھر سہارنپور پولیس نے ٹویٹر کے ذریعے واضح کیا کہ یہ تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جیسا ان خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ جب تک سہارنپور پولیس حقائق سے پردہ اٹھاتی نفرت کا زہر اپنا کام کر چکا تھا۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کامیاب ہو چکی تھی۔ اب تک یہ ہوتا آیا ہے کہ پولیس جھوٹے الزامات لگاتی ہے میڈیا اس کی حقیقت عوام کے سامنے لاتی ہے لیکن شاید یہ پہلا موقع ہے جب میڈیا جھوٹ بول رہی ہے اور پولیس اس کی تردید کر رہی ہے۔ گرچہ پولیس نے حقیقت طشت از بام کر دی لیکن اسے میڈیا نے خاص توجہ نہیں دی ۔ کسی چینل نے دبی زبان تو کسی نے سلائڈ چلا کر اس کی خانہ پُری کر دی۔ اتنا ضرور ہوا کہ کچھ ’’بھروسے مند‘‘ اخباروں نے آن لائن ایڈیشن سے یہ خبر ڈیلیٹ کر دی۔

(۹) ایک برہنہ شخص کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا جسے تبلیغی جماعت کا ممبر بتایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ شخص کورونا سے متاثر ہے اور آئیسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں یہ برہنہ ہو کر گھوم رہا ہے اور انتظامیہ کے لئے مصیبت کا سبب بنا ہوا ہے۔ یہ ویڈیو فیس بک، ٹویٹر اور وہاٹس ایپ پر خوب شیئر کیا گیا اور اسے تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ کو بھڑکانے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کیاگیا۔ ’’آلٹ نیوز نے اس ویڈیو کی حقیقت بے نقاب کی۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو کراچی پاکستان کا ہے جو یو ٹیوب پر اگست ۲۰۱۹؁ میں اپلوڈ کیا گیا تھا ۔ ویڈیو ڈسکرپشن کے مطابق یہ شخص ذہنی مریض ہے اور دیوانگی کے عالم میں برہنہ ہو کر ’’مسجد الحدید‘‘ میں داخل ہو گیا تھا جسے بعد میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ نفرت کے سوداگروں کے لئے یہ ویڈیو بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔

(۱۰) سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو خوب وائرل کیا گیا جس میں ایک باربر ایک نو جوان کا فیس مساج کرتا نظر آ رہا ہے ۔ مساج کے درمیان وہ ہاتھ پر تھوک کر اس کے چہرے پر لگاتا ہے۔ سوشل میڈیا شیئر میں یہ ویڈیو ’’سلیم ہیئر سیلون‘‘ کا بتایا گیا اور کہا گیا کہ مسلم باربر کورونا پھیلانے کے لئے تھوک سے مساج کر رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے میں یہ ویڈیو بھی معاون ثابت ہوا۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ نے اس کی تحقیق کرکے بتایا کہ یہ ویڈیو مختلف یو ٹیوب چینلوں پر مئی۔جون ۲۰۱۵؁ء کے درمیان اپلوڈ کیا گیا۔ گرچہ محققین اس ویڈیو کو بنانے کا مقصد نہیں معلوم کر پائے تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس کا کورونا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ کسی یو ٹیوب چینل پر اسے مزاحیہ پرانک بتایا گیا ہے، لیکن نفرت کے سوداگروں نے اس کا تعلق مسلمانوں کے ذریعے کورونا کی توسیع کی سازش بتا کر سماج میں زہر گھولنے کا کام کیا۔

(۱۱) سوشل میڈیا ایک نا پختہ اور غیر ذمہ دار پلیٹ فارم ہے لیکن نیشنل سیٹیلائٹ نیوز چینلس کی اپنی سماجی و پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ لیکن اس مہلک وبا کے دور میں جبکہ ان چینلس کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں، ایسے نازک وقت میں بھی انھوں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بلکہ مجرمانہ کردار ادا کیا ۔ مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کو مہمیز کرنے میں یوں تو سبھی چینلس شامل ہیں لیکن ’’ریپبلک ٹی وی‘‘ اور’’ زی نیوز‘‘ اس میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے اسی مشن کے تحت میں ’’زی نیوز‘‘ نے ۸ یا ۹؍اپریل کو ایک خبر چلائی کہ اروناچل پردیش میں ’’۱۱؍جماعتی‘‘ کورونا سے متاثر ہیں۔ اس کے جواب میں حکومتِ اروناچل پردیش کے محکمۂ اطلاعات و رابطۂ عامہ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل @ArunachalDIPR سے ٹویٹ کرکے اس خبر کی تردید کی۔ محکمہ کی جانب سے کہا گیا ’’وضاحت کی جاتی ہے کہ اروناچل پردیش میں آج کی تاریخ تک کووڈ۔۱۹ پازیٹیو کا صرف ایک کیس دریافت ہوا ہے۔ زی نیوز کے ذریعے فراہم کی گئی خبر جھوٹی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ اروناچل حکومت کا یہ وضاحتی بیان آنے کے بعد اگرچہ زی نیوز نے جھوٹی خبر کے لئے باقاعدہ اظہار افسوس کیا لیکن اس جھوٹ سے سماج میں جو زہر پھیلا تھا وہ تو اپنا کام کر ہی چکا تھا۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ اروناچل حکومت نے صرف ایک مریض ملنے کی تصدیق کی ہے اس کا مذہب یا جماعت نہیں بتایا لیکن زی نیوز نے نہ صرف اس کی تعداد بڑھا چڑھا کر بتائی بلکہ نفرت کو انگیختہ کرنے کے اپنے ایجنڈے کے تحت لفظ ’’جماعتی‘‘ بھی شامل کر لیا۔

(۱۲)نفرت کا یہ زہر صرف شمالی ہند تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اثر ملک گیر سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جنوبی ہند جہاں نفرت نسبتاً کم پائی جاتی ہے اب یہ زہر وہاں بھی اپنا کام کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کئی ایسے میسج وائرل ہوئے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفرت کی یہ آگ اب جنوبی ہند میں بھی پھیل چکی ہے۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیلگو میسج کے ساتھ وائرل ہوا جس کا انگریزی ترجمہ بھی گردش کرتا پایا گیا۔ ویڈیو میں کچھ مسلم مرد و خواتین ایک عمارت سے باہر نکلتے نظر آرہے ہیں ۔ ویڈیو کے ساتھ منسلک میسیج میں کہا گیا کہ آندھرا پردیش کے چتور ضلع کے ونایک مندر کو کورنٹائن سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس میں مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔ اس میسج کے ذریعے نہ صرف حکومت آندھرا پردیش کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف بھی زہر فشانی کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صارفین میں اس بات کو لے کر بھی غصہ پایا گیا کہ مسجدوں اور گرجوں کو کوارنٹائن سینٹر نہیں بنایا گیا صرف مندروں کو ہی اس کام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی مندر نہیں بلکہ ’’گڑیش سدن‘‘ نامی ایک لاج ہے جسے کوارنٹائن سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ آلٹ نیوز نے ’’گوگل میپ‘‘ کی مدد سے ویڈیو میں دکھ رہی عمارت اور ’’گوگل میپ‘‘ پر  عمارت کی تصیوریں شائع کر کے واضح کر دیا کہ یہ کوئی مندر نہیں بلکہ ایک لاج ہے جسے کوارنٹائن سینٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن نفرت پھیلانے والوں نے اس میں بھی جھوٹ کے ذریعے اکثریتی طبقے کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ 

(۱۳) کورونا کی اس وبا کے درمیان مسلمانوں کو صرف کورونا کے پھیلاؤ کے لئے ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ دیگر معاملات میں بھی ان کی کردار کشی کی گئی۔ سنگھی آئی ٹی سیل کے مختلف ممبرس مختلف طریقے سے جھوٹ پھیلا کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ ایسا ہی ایک ویڈیو اپریل کے پہلے ہفتے میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں ایک نوجوان لڑکی سے کوئی شخص کیمرے کے پیچھے سے سوال کرتا ہے۔ کیمرے کے فریم میں صرف لڑکی بیٹھی دکھائی دیتی ہے اور ایک شخص کا ہاتھ نظر آتا ہے جس میں کئی چھوٹی چھوٹی پُڑیاں نظر آتی ہیں جو کہ ڈرگس کی معلوم ہوتی ہیں اور وہ شخص لڑکی سے سوال کرتا ہے کہ یہ کتنے کی بیچتی ہو۔ لڑکی اس کی قیمت بتاتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کی ماں اسے یہ بیچنے کے لئے دیتی ہے۔ وہ شخص یہ کہتا ہوا سنا جاتا ہے کہ بیٹا یہ آپ لوگ کیا کر رہی ہیں؟ آپ لوگ لوگوں کو زہر بیچ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اسے شاہین باغ کی ماں بیٹی کہہ کر شیئر کیا گیا اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہی گئی کہ شاہین باغ کی یہ ماں بیٹی اب ڈرگس کے کاروبار میں ملوث ہو گئی ہیں۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ نے اپنی تحقیق میں پایا کہ یہ ویڈیو ’’انڈیا نیوز‘‘ نامی فیس بک پیج نے ۴؍مارچ۲۰۲۰؁ کو نفرت آمیز میسیج کے ساتھ شائع کیا تھا جسے بعد میں کورونا سے وابستہ کرکے وائرل کیا گیا۔ مزید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ویڈیو ۲۰؍جولائی ۲۰۱۹؁ کو پاکستان سے یو ٹیوب پر ’’کراچی:منشیات فروش نوجوان لڑکی گرفتار‘‘ کے عنوان سے اپلوڈ کیا گیا تھا ۔ ویڈیو میں سوال کرنے والے شخص کی زبان سے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ ویڈیو پاکستان کا ہو سکتا ہے۔ بہرحال اس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اس ویڈیو کا تعلق ہندوستان بالخصوص شاہین باغ سے قطعی نہیں ہے یہ تو محض مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے پھیلایا گیا ایک جھوٹ ہے۔

(۱۴) مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے اپنے ایجنڈے کے تحت سنگھی آئی ٹی سیل نے اپریل کے پہلے ہفتے میں ایک ویڈیو ٹویٹر، فیس بک اور وہاٹس ایپ پر خوب وائرل کیا جس میں ایک لڑکا ڈیلیوری ٹرک پر رکھے بریڈ کے پیکٹ کھول کر تھوک لگا کر پیک کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس ویڈیو کو ’’مسلم جہادی‘‘ کی کورونا وائرس پھیلانے کی کوشش کہہ کر مسلمانوں کے خلاف خوب زہر فشانی کی گئی۔ اسے بھی ’’کورونا جہاد‘‘ نام دے کر کورونا کے بڑھتے انفیکشن کو مسلمانوں سے منسوب کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو منیلا(فلیپینس) کا ہے اور اس سلسلے میں وہاں کے مقامی خبر رساں اداروں نے تفصیل سے بتایا ہے۔ ۲۰؍ستمبر ۲۰۱۹؁ کو ABS-CBN News نے اس ویڈیو کے متعلق خبر شائع کی ہے اور بتایا ہے کہ گارڈینیا بریڈکمپنی نے وضاحت کی ہے کہ دراصل یہ ضائع کی جانے والی باسی بریڈ ہے جو کہ ان کا ڈیلیوری بوائے ادھر سے ادھر کر رہا تھا۔ یہ تازہ بریڈ نہیں تھی۔ خود گارڈینیا کمپنی نے بھی اس موضوع پر ایک فیس بک پوسٹ کی ذریعے ۲۰؍ستمبر کو ہی اس واقعے کے سلسلے میں وضاحتی بیان جاری کیا تھا کہ کمپنی کی پالیسی کے تحت روزانہ باسی برید کو ہٹا کر تازہ اسٹاک مارکیٹ میں لگایا جاتا ہے یہ ڈیلیوری بوائے باسی بریڈ کو ہٹا رہا ہے۔ کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس کی یہ حرکت کمپنی کی پالیسی کے خلاف ہے اس لئے اس کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ایک خاص نظریے کے حامل آئی ٹی سیل کے ’یودھا‘ اس پرانے اور غیر ملکی ویڈیو کو بھی خوب تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔ 

(۱۵) اپریل کے پہلے ہفتے میں ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے وائرل ہوا۔ اس ویڈیو میں ایک چیک پوسٹ پر پولیس ایک کار کو روکتی ہے تو گاڑی میں سے ہتھیار بند تین نو جوان نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بڑی تعداد میں موجود پولیس فورس انھیں گرفتار کرکے ایک گاڑی میں بیٹھا کر لے جاتی ہے ۔ ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایودھیا میں پولیس نے ’’کورونا جہادیوں‘‘ کی سازش ناکام کر دی ۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی مسلمانوں کے خلاف اور اتر پردیش پولیس اور یوگی حکومت حق میں لوگوں میں ایک جنون سا پیدا ہو گیا۔ ’’آلٹ نیوز‘‘ نے ہی اس سازش سے بھی پردہ اٹھایا۔ آلٹ نیوز نے اپنے پورٹل پر زہر آلودہ فیس بک پوسٹ کے کئی اسکرین شاٹس کے ساتھ اس ویڈیو کی حقیقت کی بھی نقاب کشائی کی۔ آلٹ نیوز نے بتایا کہ یہ ویڈیو ’’وی کے نیوز‘‘ نامی یوٹیوب چینل نے ۴؍اپریل کو شائع کیا ہے جس میں اسے ایودھیا سلطان پور بارڈر پر پولیس کے ذریعے کیا گیا ’ماک ڈرل‘ بتایا گیا ہے۔ فیس بک پر بھی کچھ صارفین نے اس ویڈیو کو’ ماک ڈرل‘ بتایا ہے۔ آلٹ نیوز نے اس کی مزید تحقیق کے لئے ایودھیا کے ایس پی سٹی سے رابطہ کیا تو ایس پی صاحب نے کسی بھی طرح کی گرفتاری سے انکار کیا اور اس ویڈیو کو ’ماک ڈرل‘ کا ویڈیو بتایا، لیکن مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھنے والے نام نہاد یوگی مودی بھکتوں نے اسے مسلمانوں سے جوڑ کر نفرت کا بازار گرم کیا۔ 

(۱۶)  شروع اپریل میں وہاٹس ایپ پر ۶ منٹ ۲۴ سیکنڈ کا ایک آڈیو میسج گردش کرتا نظر آیا ۔ اس آڈیو میں ایک شخص یہ دعویٰ کرتا سنائی دیتا ہے کہ آج صبح جب وہ مارننگ واک کے لئے نکلا تو اسے راستے میں ۱۵۔۱۶ تھری وہیلر ٹیمپو میں مسلم لڑکے سبزی بیچتے دکھائی دئے جو اس سے پہلے اس علاقے میں کبھی نہیں نظر آئے تھے۔ آڈیو میں وہ شخص مزید بتاتا ہے کہ جب اس نے ایک سبزی والے سے پیاز کی قیمت پوچھی تو اس نے مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت بتائی۔ اس سے اس کا شک اور پختہ ہوتا ہے کہ لوگ دانستہ کورونا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ شخص اپنے آڈیو میں ہندوؤں سے اپیل کرتا ہے کہ مسلمانوں سے کم از کم کھانے کا کوئی سامان نہ خریدیں۔ وہ کورونا پھیلانے کے لئے تبلیغی جماعت کی نام نہاد کوشش کا بھی ذکر کرتا ہے، اورہندوؤ ں سے مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ اس آڈیو کی تحقیق میں آلٹ نیوز نے پایا کہ یہ بھی موجودہ دور میں نفرت کے سوداگروں کے ذریعے پھیلائے جا رہے اسلاموفوبیا سے متاثر جھوٹ پر مبنی ہے۔ آلٹ نیوز نے اس کی تفصیل سے تحقیق کی تو نہ صرف اس آڈیو کی بلکہ گجرات میں پھیلی ایسی اور بھی کئی افواہوں کی تردید ہوئی۔ ۴؍اپریل ۲۰۲۰؁ کو سورت کی کرائم برانچ نے نا معلوم شخص کے خلاف مختلف دفعات میں ایک کیس درج کیا اور اس کی تفتیش اور تحقیق کے بعد ۶؍اپریل کو سورت پولیس نے مکیش اوسوال نامی ایک شخص کو گرفتار کیا جو کہ بنیادی طورپر راجستھان کے بھیلواڑا کا رہنے والا ہے۔ سورت پولیس کے مطابق گرچہ مکیش اوسوال کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے تاہم ایک سینئر پولیس افسر نے آلٹ نیوز کو بتایا کہ تحقیقات میں آڈیو کلپ میں کہی گئی باتیں جھوٹی پائی گئی ہیں۔ آلٹ ینوز نے مزید معلومات حاصل کرنے کی غرض سے احمدآباد کے ایک جرنلسٹ فیصل بکیلی سے بھی بات کی جنھوں نے بتایا کہ نہ صرف یہ آڈیو بلکہ گجراتی زبان میں ایسے متعدد میسج سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہ آڈیو چونکہ ہندی میں تھا اس لئے پورے ملک میں پھیل گیا جبکہ گجراتی میں ایسے زہر آلود میسجز کی کوئی گنتی نہیں ہے۔ گجراتی زبان میں دہلی کے تبلیغی مرکز کے ضمن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سبزی اور پھل بیچنے والے غریب مسلمان اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہندوؤں کے درمیان یہ خوف پیدا کیا جا رہا ہے کہ یہ مسلمان دانستہ ’’کورونا جہاد‘‘ کر رہے ہیں لہٰذا ان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔ اس کے متعلق سوال کرنے پر احمدآباد کے پولیس کمشنر نے ان میسجز کو غلط بتایا۔ ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دس اپریل سے قبل مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ اور جھوٹی افواہ پھیلانے کے الزام میں گجرات کے الگ الگ حصوں سے سات لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

(۱۷) تبلیغی جماعت، مرکز نظام الدین اور مولانا سعد کے تعلق سے گزشتہ چالیس دنوں سے سوشل میڈیا کے ساتھ مین اسٹریم میڈیا میں جو زہر بویا گیا تھا اب اس کی حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ اپنی تفتیش کے درمیان دہلی پولیس اب یہ کہہ رہی ہے کہ مولانا سعد کی تقریر کی جو آڈیو کلپ ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہے وہ جعلی ہے، جو کہ کئی آڈیو کلپ کو کاٹ چھانٹ کر بنائی گئی ہے۔ اس آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر مولانا سعد کو یہ کہتے ہوئے سنایا گیا ہے کہ ان کے ساتھی سوشل ڈسٹنسنگ کی پابندی نہ کریں اور کورونا سے نبرد آزما ہونے کے متعلق حکومت کی ہدایات پر عمل پیرا نہ ہوں۔غور طلب ہے کہ یہ آڈیو کلپ حضرت نظام الدین تھانے کے ایس ۔ایچ۔ او۔ مکیش والیا نے ہی فراہم کی تھی جن کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ۹؍مئی کے انڈین ایکسپریس(انگریزی روزنامہ) اور جن ستّا(ہندی روزنامہ) میں ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکز نظام الدین سے پولیس کو ایک لیپ ٹاپ ملا جس میں مولانا سعد کی کئی تقاریر موجود ہیں لیکن اس میں وہ کلپ موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ انسپیکٹر ستیش کمار کی سربراہی میں تفتیش کر رہی ٹیم نے حقائق تک رسائی کی اب تک جو کوشش کی ہے اس میں یہ بات ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ مولانا سعد کی جو آڈیو کلپ وائرل ہوئی اس کو مختلف مواقع کی مولانا کی الگ الگ آڈیو کو جوڑ کر تیار کیا گیا ہے۔ مذکورہ اخبارات کے مطابق ’’جانچ میں پتہ چلا ہے کہ وائرل آڈیو کلپ میں مذہب اور پولیس کو لے کر جو بیان دیا گیا ہے وہ الگ الگ تقریبات میں اور کسی اور تناظر میں تھا جسے آڈیو میں جوڑ دیا گیا‘‘۔ واضح رہے کہ اسی آڈیو کی بنیاد پرمولانا پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مزید تفتیش کے لئے پولیس اس آڈیو کو فورنسک ٹیسٹ کے لیے بھیج رہی ہے۔ 

پولیس اپنی تحقیقات میں اور عدلیہ اپنے فیصلے میں کیا کہتی ہے یہ کہنا ابھی مشکل ہے تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس جھوٹے پروپیگنڈے سے ہندوستانی مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ نفرت کے علم برداروں نے فرقہ وارانہ منافرت کا جو زہر بویا ہے اس سے ملک کے مسلمانوں کی زندگی پر دیر پا اثرات مرتب ہوں گے، اور سماج میں جو نا قابل تسخیر خلیج پیدا ہوئی ہے وہ ملک کی سا  لمیت کے حق میں سم قاتل ہے۔ تبلیغی مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ملک کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کیا امیر کیا غریب، کیا شہری کیا دیہی ہر طرف ہر جگہ مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہونے لگے۔ مسلمانوں کا اقتصادی و سماجی بائیکاٹ کیا جانا لگا، پھل اور سبزی خریدنے سے لے کر علاج معالجے تک مسلمانوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا گیا۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف مہم چلا کر مین اسٹریم و سوشل میڈیا نے زہر پھیلایا ہے کیا اسی شدت سے اس کا تدارک بھی کیا جائے گا؟ جواب نفی میں ہے! کیا ایس۔ ایچ۔ او۔ مکیش والیا کے خلاف کو ئی ایکشن لیا جائے گا؟ یقیناً نہیں! کیا نفرت کی تبلیغ کرنے والے نیوز اینکر اور ٹی وی چینلس و اخبارات پر کوئی قدغن لگایا جائے گا؟ جواب ایک بار پھر منفی ہے!ممکن ہے مولانا سعد کو اس معاملے میں کلین چٹ مل جائے، یہ بھی ممکن ہے کہ اجتماع منعقد کرنے کے لئے مولانا کو قصوروار ٹھہرایا جائے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی غلطی کا ارتکاب کرنے والے مولانا سعد اکیلے نہیں ہیں بلکہ بیرون ملک سے لائے جانے والے دو لاکھ لوگ بھی اسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ سیکڑوں مندروں، دھرم شالاؤں میں ’’چھپے یا پھنسے‘‘ لوگ بھی اسی غلطی میں شامل ہیں، تو پھر اکیلے مولانا سعد، ان کے ساتھی اور عام مسلمان ہی مقہور و معتوب کیوں؟

اگر مولانا سعد کو قصوروار تسلیم کر بھی لیا جائے تو ان کی اس معمولی سی غلطی کا خمیازہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہر فرد کو کیوں بھگتنا پڑ رہا ہے؟ مرکز نظام الدین اور تبلیغی جماعت کے نام پر نفرت کا جو بازار گرم کیا گیا اس کے سبب سارے ملک میں مسلمانوں کو طرح طرح کے القاب سے نوازا گیا۔ انھیں ’’کورونا جہادی‘‘ ، ’’دیش دروہی‘‘،  ’’ولین‘‘ ، ’’جاہل‘‘ جیسے خطاب دئے گئے، بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ انھیں ایسے ایسے مغلظات بکے گئے جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے باعث شرم ہے۔عوام کا جو رویہ مسلمانوں کے ساتھ رہا وہ تو یقیناً ظالمانہ ہے لیکن حکومتی سطح پر مسلمانوں کے بالخصوص تبلیغی جماعت کے ممبران کے ساتھ جو برتاؤ کیا گیا اس نے مسلمانوں کے حکومت اور قانون پر سے متزلزل ہوتے یقین کو  اور کمزور کر دیا۔کورانٹائن کے نام پر تبلیغی جماعت کے لوگوں کو قید کر کے رکھا گیا ہے۔ WHO کی ہدایات کے مطابق کورانٹائن کی مدت ۱۴ دن ہونی چاہئے لیکن کئی مقامات پر ۴۰ سے ۵۰ دن ہو گئے لیکن کورانٹائن کئے گئے جماعتیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ انھیں عادی مجرموں کی طرح قید کرکے رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ لگاتار ایسے ویڈیو منظر عام پر آ رہے ہیں جن سے معلوم ہو رہا ہے کہ جماعتیوں کو وقت سے کھانا اور دوا تک نہیں دی جارہی ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار پڑ جائے تو ڈاکٹر اسے دیکھنے تک نہیں آتے حتیٰ کہ بیماری اور ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے سبب کئی لوگ جاں بحق ہوگئے۔ ان کورانٹائین کئے گئے لوگوں میں سے اکثر کی رپورٹ دو سے تین بار نیگیٹیو آ چکی ہے اس کے باوجود انھیں گھر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انھیں کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ انھیں کیوں قید کرکے رکھا گیا اور کب گھر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں جب دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان نے سرکاری افسروں سے سوال کیا تو ان کی نوٹس کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ کورانٹائین سینٹرس میں سے اکثر ایسے گندے ہیں کہ ان میں بیماروں کی تو چھوڑئے کوئی صحت مند انسان جائے تو بیمار پڑ جائے۔ تبلیغی جماعت کے ممبران کے ساتھ حکومتی سطح پر غیر منصفانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین میں سے کئی لوگوں کو صرف تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے کے جرم میں جھوٹے الزامات لگا کر معطل کر دیا گیا ہے۔ راقم الحروف کے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ بعض جگہ جہاں گھر میں صرف ایک بیمار خاتون ہیں وہاں کے مردوں کو بھی لے جاکر قید کر رکھا ہے۔ ایسے میں تنہا خاتون کو اگر خدا نخواستہ کوئی طبی امداد کی ضرورت پیش آجائے تو کوئی انھیں یہ مدد پہنچانے والا نہیں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی منصف مزاج شخص ان کے حق میں آواز بلند کرتا ہے تو اسے بھی جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال ظفرالاسلام خان کی ہے جن پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن علاقے کے مسلمانوں اور ان کے حامی وکیلوں کی بروقت مداخلت سے پولیس کو ان کے گھر سے ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔اس واقعہ میں ملک کی امت مسلمہ کے لئے ایک سبق ہے کہ اگر ہم متحد اور منظم ہوں تو نفرت کے اس طوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری سلامتی اور بہبودی کا راز اتحاد میں مضمرہے۔

نوٹ : مذکورہ واقعات پر ہی فیک نیوز کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ سلسہ ہنوز جاری ہے۔ طوالت کے مد نظر اس مضمون کو یہیں ختم کررہی ہوں لیکن ان شاء اللہ آئندہ بھی جھوٹ کو بے نقاب کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔


ڈاکٹر جوہی بیگم

الہ آباد

پہلی اشاعت 

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا