خمیازہ

 عطیہ تم امی جان کے ساتھ ساتھ معصوم سحر پر بھی ظلم کر رہی ہو، آج پورے ایک ہفتے ہو گئے دادی پوتی نے ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھی۔ امی جان کو چیسٹ انفیکشن ہوا تھا اور اب تو وہ پوری طرح سے صحت مند ہیں پھر کیوں سحر کو ان کے پاس جانے سے روک رہی ہو؟

خاور آپ مجھے مجرم سمجھ رہے ہیں تو سمجھا کیجئے لیکن میں اپنی بچی کی جان جوکھم میں نہیں ڈال سکتی۔

تو کیا سحر صرف تمھاری بیٹی ہے مجھے اس کی فکر نہیں؟

فکر ہوتی تو آپ ایسی باتیں نہ کرتے۔ ماں کی محبت سے مغلوب ہوکر آپ اپنی بچی کی صحت کو نظر انداز کر رہے ہیں مگر میں ایک ماں ہوں ایسی کوئی غلطی نہیں کر سکتی جس کا خمیازہ میری بچی کو بھگتنا پڑے۔

٭٭٭

سحر میڈم! سحر میڈم! سیما کی آواز اسے ماضی کے دریچوں سے واپس کھینچ لائی۔ 

کیا ہوا سیما؟

آپ کی مما کو اس وقت بہت تیز فیور ہے، انھیں بخار کی دوا دے دوں؟

سیما کی ماں ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں نرس ہیں اس لئے اسے عام بخار، انفلوئینزاجیسی بیماریوں اور ان کے علاج کے متعلق اچھی خاصی معلومات ہے، مگر مسز خاور کو معمولی بخار نہیں بلکہ ٹی بی کا انفیکشن ہے لہٰذا وہ سحر سے دریافت کرنے چلی آئی۔

صبح بخار کی دوا دی تھی؟

جی

کتنے بجے؟

تقریباً آٹھ بجے

اس وقت دو بج رہے ہیں چھ گھنٹے ہو گئے۔ فیور کی دوا دے دو لیکن کچھ کھلا ضرور دینا۔

٭٭٭

آنٹی اٹھئے پہلے کچھ کھا لیجئے پھر میں آپ کو دوا دیتی ہوں۔

مجھے بھوک نہیں ہے۔

بھوک نہ بھی ہو پھر بھی کچھ کھانا تو پڑے گا خالی پیٹ دوا نہیں لی جا سکتی۔

ٹھیک ہے چائے کے ساتھ ٹوسٹ دے دو 

جی ابھی آئی

سنو! انھوں نے جاتی ہوئی سیما کو پکارا۔ سحر کہاں ہے؟

اپنے کمرے میں

سحر گھر میں موجود ہے؟

جی آج سنڈے ہے، آفس کی چھٹی ہے۔

تو تم نے اسے میرے بخار کے بارے میں بتایا کیوں نہیں؟

بتایا ہے ، انھوں نے ہی آپ کو کھانا کھلا کر دوا دینے کی ہدایت دی ہے۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے سحر کو میرے بخار کی خبر ہے اور گھر میں ہوتے ہوئے وہ مجھے دیکھنے نہ آئے؟ ضرور وہ کسی الجھن میں مبتلاء ہے، مجھے اس کے پاس لے چلو۔

آنٹی آپ کو بہت تیز بخار ہے آپ آرام کیجئے میں انھیں بلا لاؤں گی۔ یہ کہہ کر سیما باہر نکل گئی۔

ابھی وہ سحر سے مسز خاور کی باتیں بتا ہی رہی تھی کہ اچانک کمرے کے باہر کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔ یہ مسز خاور تھیں جو بخار کی نقاہت سے دروازے کے باہر رکھے فلاور پاٹ سے ٹکرا کر گر پڑیں۔ سیما اور سحر دونوں ان کی جانب تیزی سے لپکیں سحر کچھ سوچ کر دروازے پر ہی رک گئی، اتنے میں سیما نے مسز خاور کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔ 

مسز خاور کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں دواں تھا۔ گرنے کے سبب جو درد انھیں ہو رہا تھا شاید اس سے شدید درد بیٹی کے غیر متوقع سلوک کا تھا۔ اشکوں سے لبریز آنکھوں سے انھوں نے سحر کی جانب دیکھا۔ پھر سیما کے کندھوں کا سہارا لے کر وہ آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھانے لگیں۔ 

سحر کا دل تڑپ اٹھا۔ مما میری پیاری مما! ٹرائے ٹو انڈراسٹینڈ می۔ بیماری کے اس عالم میں آپ کے قریب نہیں آرہی ہوں تو صرف آپ کی خوشی کے لئے۔ آپ ہی نے تو بچپن سے مجھے بیماروں سے دور رہنا سکھایا ہے، پھر میں آپ کی اس نصیحت کو فراموش کیسے کر سکتی ہوں۔ 

مسز خاور کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔


ڈاکٹر جوہی بیگم

الہ آباد

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا