عالم میں تباہی کے یہ تفریق من و تو

 فائزہ نے موبائل سائلنٹ موڈ پر لگانے کے لئے جیسے ہی پرس کھولا تو وقت دیکھ کر چونک پڑی، ساڑھے چھ بج رہے تھے اور کشن ابھی تک نہیں آیا، اسے معلوم تو ہے کہ آج میری مارننگ شفٹ میں ڈیوٹی ہے، کہیں بھول تو نہیں گیا، وہ زیر لب بڑبڑا رہی تھی۔ اس کی نگاہیں بار بار گیٹ کی جانب اٹھ جاتیں، بیل کی آواز سن کر اس نے تیز تیز قدموں سے چل کر گیٹ کھولا، سامنے کشن خجل سا کھڑا تھا۔ آج بہت دیر کردی کشن؟ آج میں ضرور لیٹ ہو جاؤں گی، فائزہ نے رکشہ میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ 

کیا بتاؤں میڈم جی، رات میں چھوٹکے بٹوا کے بہت تیج بکھار ہوئے گیا۔ ساری رات نہ کھد سُووَانہ سووَے دہس۔  بس یہی میں سبیرے آنکھ لگ گئی۔

 واپس لوٹ کر اسے ڈاکٹر کو ضرور دکھا دینا۔ 

کالج پہنچ کر اس نے رکشے سے اترتے ہوئے پرس سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اسے تھماتے ہوئے کہا، اسے رکھ لو بچے کو ڈاکٹر کو ضرور دکھا دینا۔

میڈم جی میرے پاس ابھی پیسے ہیں، نہیں ہوں گے تو مانگ لوں گا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

کشن فائزہ کے گھر سے تھوڑی دور پر ریلوے ٹریک کے کنارے بنی ایک کچی جھونپڑی میں اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ پچھلے دس سالوں سے رہ رہا ہے۔ خوددار اتنا کہ آج تک اس نے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا، نہ ہی کسی سے بے جا کرایہ وصول کیا۔ اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے فائزہ موقع بہ موقع بغیر کہے اس کی مدد کر دیا کرتی ہے۔

بچہ کیسا ہے کشن ؟ ڈاکٹر کو دکھایا؟کالج سے واپسی پر راستے میں اس نے کشن سے پوچھا۔

جی میڈم جی دکھایا، اب بکھار نہیں ہے۔

کل بھی صبح میری ڈیوٹی ہے یاد ہے ناں؟ رکشے سے اترتے ہوئے اس نے کشن کو یاد دلایا۔

جی میڈم جی! اتنا کہتے ہوئے وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا۔

فائزہ چاہتی تو ثروت بھی اپنی گاڑی سے اسے کالج لانے لے جانے کی ذمہ داری اٹھا سکتے تھے لیکن روز شوہر کی نیند خراب کرنا اسے اچھا نہیں لگتا تھا، اسی لئے بار بار اصرار پر بھی وہ انھیں منع کر دیتی۔

رات کے دس بجے تھے جیسے ہی وہ خواب گاہ میں داخل ہوئی موبائل بج اٹھا، ثروت کی نیند خراب نہ ہو اس لئے وہ فون لے کر باہر نکل گئی۔

کیا ہوا فائزہ کس کا فون تھا؟

ارے آپ جاگ گئے کیا؟ کالج سے فون تھا۔ یونیورسٹی نے کل سے سارے امتحانات ملتوی کر دئے ہیں۔

کیوں؟

کووڈ۔۱۹ کے بڑھتے اثرات کے مد نظر۔

اوہ!

صبح نماز اور تسبیحات سے فارغ ہو کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ ڈور بیل بجی۔

لگتا ہے کشن آ گیا۔ بیڈ پر سے ڈوپٹہ اٹھا کر اوڑھتے ہوئے اس نے زیر لب کہا۔

ارے میڈم جی ابھی تک آپ تیار نہیں ہوئیں؟ اس کو گھریلو کپڑوں میں ملبوس دیکھ کر کشن نے حیرت سے پوچھا۔

کشن آج امتحان نہیں ہے۔

کیوں میڈم جی؟

کورونا مہاماری کی وجہ سے۔

اب کب ہوگا؟

یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم۔

فائزہ کیا کسی کو بھی بھی نہیں معلوم تھا کہ دو روز بعد وہ ہونے والا ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ پہلے ایک دن کا جنتا کرفیو اس کے بعد غیر متوقع لاک ڈاؤن نے زندگی کو جیسے مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اپنے گھروں میں محصور ہر شخص ایک تو کووڈ کے خوف سے ہراساں تھا اوپر سے روزی روٹی کی فکر۔ ایسے میں جو طبقہ سب سے زیادہ بدحالی اور تباہی کا شکار ہوا وہ تھا روز کے کمانے کھانے والوں کا۔ دانے دانے کو محتاج یہ فلاکت زدہ افراد اپنے رزق کے لئے دوسروں کے سامنے  جھولی پھیلانے پر مجبور ہو گئے، کشن جیسے لوگ بھی جنھوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے تھے۔ زبانی جمع خرچ پر منحصر حکومت کی امداد سے قطع نظر خدا ترس اور مخلص عوام نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔ 

صبح کے وقت فائزہ برامدے کی صاف صفائی میں مشغول تھی کہ ایک نسوانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی، میڈم جی میڈم  جی ۔ فائزہ نے چونک کر گیٹ کی جانب دیکھا۔ میڈم جی… میڈم جی… اسی آواز نے دوبارہ پکارا، کون ہے؟ پوچھتے ہوئے فائزہ نے گیٹ کھولا۔ سانولی رنگت تیکھے نین نقش والی ایک عورت ملگجی ساڑی میںسامنے کھڑی تھی۔ کون ہو تم فائزہ نے  پھرپوچھا۔

ہم کسن کی عورت ہیں میڈم جی، مالتی۔

اچھا تم کشن کی بیوی ہو، کشن کہاں ہے؟

وہ کیوں نہیں آیا؟

میڈم جی اسے یہاں آنے میں لاج آتی ہے۔ لاج تو ہم کا بھی آوے پر کا کریں، چھوٹے چھوٹے بچے بھوکھ سے کلپ رہے ہیں، گھر میں انّ کا ایک دانہ نہیں ہے۔ اس بے بسی پر فائزہ کی آنکھیں پر نم ہو گئیں۔

تم ٹھہرو، میں ابھی آئی۔

فائزہ کس سے بات کر رہی ہو ثروت نے ڈرائنگ روم سے آواز لگائی۔

کشن کی بیوی ہے، بیچاروں کا بہت برا حال ہے، دانے دانے کو ترس رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے وہ بیڈروم میں گئی، الماری سے روپے نکالے، اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی گیٹ پر پہنچ گئی۔

یہ لو یہ کچھ روپے ہیں ان سے راشن خرید لینا۔

آپ کی بڑی دَیامیڈم جی بھگوان آپ کا بھلاکرے۔ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیتے ہوئے وہ واپس جانے کے لئے مُڑی۔

سنو کیا نام بتایا تم نے؟ ہاں مالتی!

مالتی تمھیں جب بھی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک چلی آنا۔

مالتی نے دونوں ہاتھ جوڑ دئے، اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

اس کے بعد مالتی وقتاً فوقتاً فائزہ کے پاس مدد کے لئے آنے لگی، اور فائزہ حسب مقدور اس کی مدد کردیتی۔ اسی اثناء میں دو ماہ گزر گئے۔ ایک دن مالتی فائزہ کے گھر پہنچی تو فائزہ واش روم میں تھی اور ثروت گھر کی ضرورت کا سامان لینے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس نے کئی بار پکارا اور جواب نہ پاکر تھوڑے توقف کے بعد واپس چلی گئی۔ وہ کوئی پروفیشنل بھکارن نہ تھی کہ ایک جگہ سے نہیں ملا تو دوسرا در کھٹکھٹاتی۔

کشن جھونپڑی کے دروازے پر بیٹھا مالتی کا انتظار کر رہا تھا، اسے دیکھتے ہی بو ل پڑا ، کہاں رہ گئی تھی آج بڑی دیر لگا دی تونے؟ میڈم جی کا کوئی کام کرنے لگی تھی کا؟

میڈم جی کے گھر پر کئی بار آواج لگائی مگر پتہ نہیں کاہے میڈم جی نے گیٹ نہیں کھولا۔ بس کھالی ہاتھ گھر لوٹنے کی ہمت جٹا رہی تھی۔

اب کا ہوگا؟

بھگوان جانے!

ایک اپائے ہے، کشن بولا۔

اُو کا؟

ساستری نگر میں ایک سیٹھ جی راسن بانٹ رہے ہیں، پڑوس کے کئی لوگ ہُواںسے راسن لینے جاتے ہیں۔ تو بھی بیلا کی مہتاری سنگ چلی جا، بچن کے پیٹ کی آگ تو بجھے۔

تم کہتے ہو تو چلے جات ہیں پر ہم کا لَین لگے میں بہت لاج آوے ہے۔

میں کون سا تجھے کھُسی کھُسی بھیج رہا ہوں۔

بیلا او بیلا! مالتی نے وہیں کھیل رہی بچی کو پکارا۔

کا ہے کاکی؟ بیلا نے سوال کیا۔

 تیری اماں کہاں ہیں جرا بلا تو لا۔

اچھا !کہہ کر بیلا چلی گئی۔

دس منٹ بعد بیلا کی ماں آگئی ، اس کے ہاتھ میں کپڑے کا ایک تھیلا تھا۔ جھونپڑی میں داخل ہوتے ہوئے اس نے پوچھا، کاہے بلا رہی تھی مالتی؟ کوئی کام ہے کا؟

جسودا دیدی کسن جَون میڈم جی کے کالج پہنچات ہیں ابھی تک ہم انہی سے مانگ کے بچن کا کھائے پئے کا انتجام کرت رہیں، مگر پتہ نہیں کاہے آج میڈم جی درواجا نہیں کھولن۔ بچے بھوکے ہیں گھر میں راسن کا ایک دانہ نہیں ہے، کچھ سمجھ نہیں آوت کا کیا جائے۔

تم لوگن کے تو لَین میں لگے میں بے اجتّی ہوت ہے، ساستری نگر کے سیٹھ گھنسام داس کے گھر پر راسن بنٹ رہا ہے ۔ ہم وُہاں جائے رہے ہیں چلے کا ہو تو چلو۔

لیَن لگے میں ہم کا بہت لاج آوے ہے پر کا کریں، بچن کی بھوک بھی تو نے برداس ہوت، ہمؤ تمھار ساتھ چلت ہیں۔

دونوں باتیں کرتے کرتے سیٹھ گھنشیام داس کے مکان تک پہنچ گئیں۔ مکان کیا یہ ایک بڑی سی کوٹھی نما پر شکوہ عمارت تھی، آگے ایک بڑا سا ہرا بھرا لان تھا جسے چاروں طرف سے خوبصورت گرل نے گھیر رکھا تھا۔لمبا چوڑا گیٹ اور اندرونی عمارت اس گھر کے مکین کی شان و شوکت کی چغلی کھا رہے تھے۔

گیٹ کے باہر کچھ مسکین فاصلے کو ملحوظ رکھتے ہوئے قطار کی صورت میں کھڑے تھے۔ گیٹ کے اندر کی جانب ایک بڑی سی میز پر راشن کے پیکٹ رکھے ہوئے تھے۔ کھادی کے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس سیٹھ گھنشیام داس قریب ہی ایک آرام کرسی پر جلوہ افروز تھے۔ دو ہٹے کٹے دیو قامت شخص میز کے سامنے کھڑے راشن تقسیم کر رہے تھے۔ جسودا مالتی کو لے کر لائن میں لگ گئی۔ مالتی کے چہرے پر گھبراہٹ نمایاں تھی۔ وہ خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی، تبھی اس کی نظر اس کے پیچھے آکر کھڑی ہوئی ایک عورت پر پڑی۔ اس عورت کابوسیدہ برقع اس کے افلاس کی گواہی دے رہا تھا۔ وہ پھٹے ہوئے ڈوپٹے سے بار بار اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی بے چینی سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بھی مالتی کی طرح انتہائی بے بسی کے عالم میں یہاں آئی ہے۔ 

مالتی جیسے ہی راشن لے کر پلٹی ایک گرج دار آواز نے اس کے بڑھتے قدموں کو روک دیا۔ 

تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی، چل نکل!

مالتی نے پلٹ کر دیکھا، سیٹھ صاحب کا کارندہ اس نقاب پوش کو بری طرح پھٹکار رہا تھا۔

تم لوگوں نے ہی دیش میں کورونا پھیلایا ہے۔ تم لوگ جماعتی آتنک وادی ہو۔ چپ چاپ یہاں سے نکل جا، دوبارہ نجر آئی تو ہڈی توڑ دوں گا۔

عورت مایوس واپس جانے لگی تو مالتی نے اسے پکارا بہن سنو!

نقاب پوش نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

 ای تم رکھ لو! مالتی نے اپنے حصے کا راشن اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

نقاب پوش کو اس سے راشن لینے میں تردد ہوا لیکن مالتی نے اصرار کرکے اسے زبردستی دے دیا۔

نقاب پوش جیسے ہی پیکٹ تھیلے میں رکھنے لگی سیٹھ کا کارندہ اس کے ہاتھوں سے پیکٹ چھینتے ہوئے مالتی سے غضبناک لہجے میں بولا:

یہ تو کیا کر رہی ہے تونے سنا نہیں، یہ راسن ان گدّار ملّوں کے لئے نہیں ہے۔ انہی کے کارن یہ مہا ماری پھیلی ہے۔

راشن کی تقسیم کا عمل کچھ دیر کے لئے رک گیا اور لوگ محو تماشہ ہو گئے۔

صاحب آپ جنھیں آتنک وادی، گدّار کہہ رہے ہیں انہی کے کارن دو مہینے سے ہم جیسے ان گنت لوگوں کا پیٹ بھر رہا ہے۔ پر انھوں نے کبھی کسی کی جاتی یا دھرم نہیں پوچھا۔مالتی نے کہا۔

تو پھر وہیں جا کے مر یہاں کیوں آئی ہے؟

دو مہینے سے انہی کا دیا کھائے رہے ہیں۔مہا ماری کا تو پتہ نہیں پر ان کے کارن پریم اور مانوتا جرور پھیل رہی ہے۔

یہ کہہ کر مالتی خالی ہاتھ لوٹ پڑی۔ 

 گیٹ کے باہر آکر جسودا نے کہا ، کا جرورت تھی تجھے دانی بننے کی؟ اب بچوں کو کا کھلائے گی؟ بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا ای سوچا ہے تونے؟

بچوں کا پیٹ وہی بھرے گا دیدی جو آج تک بھرتا آیا ہے۔یہ کہہ کر اس نے اپنے گھر کا رخ کیا۔گھر پہنچی تو گھر کے دروازے پر ثروت کھڑے تھے۔


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا