اصلاح میں بھی کچھ تو خرافات چاہیے

 گزشتہ ۲۷؍مارچ کو اخبارات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے فل پیج اشتہار شائع ہوا ’’آسان اور مسنون نکاح مہم‘‘۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ پرسنل لا بورڈ کی جانب سے عائشہ کی خود کشی کے نتیجے میں معاشرے میں پیدا شدہ غم و غصہ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ عائشہ کی خود کشی پر ملت کے صاحب فکر حضرات جہیز، طعام اور نکاح کی دیگر خرافات پر برگشتہ تھے اور جہاں تک ان کی رسائی تھی وہ اپنے غصے کا برملا اظہار بھی کر رہے تھے۔ ایسے میں عوام الناس میں علماء و مشائخ کے خلاف بے چینی اور بے اعتمادی کی فضا بن رہی تھی، میری نظر میں یہ مہم اسی فضا کو معدوم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس اشتہار میں جو اقرار نامہ شائع ہوا ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے سماج کو کیا حاصل ہوگا۔ 

اس اشتہار میں گیارہ نکاتی اقرار نامہ شامل ہے جس کے گزارش کنندگان میں تقریباً سبھی بڑے مکتبۂ فکر کے نمائندگان شامل ہیں۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی، شیعہ گویا تمام اہم عقائد و نظریات کے مندوبین کے دستخط سے جاری یہ اقرار نامہ کیا معاشرے میں کسی خوش آئند تبدیلی کا باعث بن سکے گا؟ میری ناقص رائے میں قطعی نہیں! کیوں کہ اقرار نامہ میں جو اسلوب اور لائحۂ عمل اخیتار کیا گیا ہے وہ معاشرے میں رائج خرافات کو مٹانے والا نہیں بلکہ ان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا ہے۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہے کہ جوان بیٹا باپ کے سامنے چچا کو گالی دے اور باپ کہے ’’بیٹا بری بات بڑوں سے بد تمیزی نہیں کرتے‘‘  پھر بھی بیٹا بد تمیزی جاری رکھے اور باپ محو تماشہ ہو۔ در اصل ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ باپ بیٹے کو ایک زوردار طمانچہ رسید کرتا اور سختی سے کہتا کہ آئندہ کسی بڑے سے بد تمیزی کی تو تجھے گھر سے بے دخل کر دوں گا، لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔ بالکل ویسا ہی اس اقرار نامہ میں کیا گیا ہے۔

اقرار نامہ کے پہلے پوائنٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’نکاح کو آسان بنائیں گے، بے جا رسوم و رواج خاص طریقے پر جہیز کے مطالبہ ، منگنی، ہلدی، رت جگا سے پرہیز کریں گے۔‘‘ کیا اللہ کے رسولؐ نے نکاح کو مشکل بنایا تھا جسے آسان بنانے کا اقرار کیا جا رہا ہے؟ پھر جہیز کے مطالبہ، منگنی، ہلدی، رت جگا جیسی خرافات سے ’’پرہیز کریں گے‘‘ سے کیا مراد ہے۔ یہ ان قباحتوں کو مٹانے کی کوشش ہے یا انھیں جاری رکھنے کی اجازت؟ صاف طور پر کیوں نہ کہا گیا کہ نکاح کا وہی طریقہ قابل قبول ہے جو اللہ کے رسولؐ نے کر کے دکھایا۔ بے جا رسوم و رواج بلکہ خرافات جن کا اوپر ذکر ہوا سے ’’پرہیز کریں گے‘‘ کی بجائے مکمل بائیکاٹ کریں گے کہنا چاہیے۔ مزید بر آں جن اکابرین کے دستخط ہیں انھیں اقرار نہیں حلف لینا چاہیے کہ ان کے مریدین، معتقدین و متفقین میں جو لوگ ان خرافات کے مرتکب ہوں گے وہ ان سے قطع تعلق کریں گے۔ صرف یہی نہیں کہ وہ ان محفلوں میں شریک نہ ہوں گے بلکہ ان کو بھی اپنی مجلسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسرے پوائنٹ میں بارات کی رسم ختم کرنے اور مسجدوں میں نکاح کرنے کی بات بھی انتہائی ڈھیلے ڈھالے اور مبہم انداز میں کہی گئی ہے۔ یہ کیوں نہ کہا گیا کہ بارات ایک غیر اسلامی، غیر شرعی اور غیر اخلاقی رسم ہے اسے فی الفور ترک کیا جانا چاہیے اور نکاح طریق نبویؐ پر مسجدوں میں ہی منعقد کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ اگر بارات لڑکی والوں کے گھر کھانا کھانے جاتی ہے تو کوئی بھی نکاح خواں نکاح پڑھانے نہیں جائے گا۔ تیسرے پوائنٹ میں بیرونِ شہر اور گھر والوں کے لیے دعوت نکاح کی اجازت دے کر اس خرافات کو سند جواز عطا کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر میرے گھر میں بیٹی کی شادی ہوتی ہے میرے گھر والوں میں میرے چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کے بچے شریک ہوں گے اسی طرح میرے شوہر کے گھر والوں میں ان کے چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کے بچے شرکت کرتے ہیں تو تقریباً تین سو افراد کی دعوت کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اگر ہمارے والدین کے کزنس کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد پانچ سو سے تجاوز کر جائے گی۔ اقرار نامہ کے مطابق ہمیں تین سو سے پانچ سو افراد کی دعوت کا اہتمام کرنا ہوگا جب کہ مقامی احباب و ملاقاتیوں کو یہ کہہ کر رخصت کرنا ہوگا کہ آپ کے کھانے کا انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تو انتہائی بھونڈا مذاق ہے۔ چوتھے پوائنٹ میں نکاح میں شرکت کی حامی جب کہ ’’نکاح کی تقریب والی دعوتِ طعام سے احتراز‘‘ کی بات کہی گئی ہے۔ یہاں ایک بار پھر وہی ڈُھل مُل رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ واضح الفاظ میں کیوں نہیں کہا گیا کہ صرف مسجدوں میں منعقدہ نکاح میں شرکت کریں گے، ’’نکاح کی تقریب والی دعوت طعام سے احتراز‘‘ نہیں بلکہ مکمل بائیکاٹ کریں گے۔

پانچویں اور چھٹے پوائنٹ میں دعوت ولیمہ کو سادگی سے کرنے، دولت کی نمائش کے بغیر غرباء اور مساکین کا خیال رکھنے، جہاں سنت و شریعت کی پابندی کی جا رہی ہو ان کی ستائش کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں سے ’’بھرپور اور واضح اظہار نا پسندیدگی‘‘ کا اقرار کیا گیا ہے۔ یہ دونوں پوائنٹ قابل ستائش تو ہیں ساتھ ہی متقاضیٔ عمل بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام الناس کو چھوڑیے دستخط کنندگان میں سے کتنے لوگ اس پر عمل کر پائیں گے؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ علماء، پیر و مرشد، مشائخ اور امراء جماعت غریب و کمزور مریدوں، معتقدوں اور پیروکاروں کو وعظ و نصیحت اور سادگی کی تلقین ہی نہیں کرتے بلکہ موقع پڑنے پر ان کی سر زنش بھی کرتے ہیں، لیکن دولت مندوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ان کی محفلوں کو برکت و زینت بخشتے ہیں، اور خاموشی سے مرغن سے لطف اندوز ہو کر واپس ہو جاتے ہیں۔ اگر ضمیر نے بہت کچوکے لگایا تو ان کے کان میں صرف اتنا کہہ کر کہ ’’اتنا اہتمام کرنے کی کیا ضرورت تھی‘‘ نہی عن المنکر کے فریضے سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ حال ہی معروف مبلغ طارق جمیل صاحب کا ایسی ہی ایک تقریب میں شرکت کا ویڈیو وائرل ہوا جس پر مولانا سجاد نعمانی صاحب نے بھی گرفت کی لیکن انتہائی کمزور وضاحت پر اپنے موقف سے رجوع بھی کر لیا۔

ساتویں پوائنٹ میں محفل نکاح اور دعوت ولیمہ میں آتش بازی، گانا باجہ، اور ویڈیو گرافی، کھیل تماشہ کے ساتھ قیمتی دعوت نامے اور قیمتی اسٹیج سے بچنے کا عہد لیا گیا ہے۔ کیا صرف ’’بچتے ہوئے‘‘ کہہ دینے سے ان خرافات پر قدغن لگانے کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ یا پھر ان امور کو شریعت کے منافی، اسراف بے جا، شیطانی عمل اور صریح طور پر حرام قرار دے کر ان سے توبہ کرنے کا عہد کرنا چاہیے؟ آٹھویں پوائنٹ میں نوجوانوں سے سادگی سے کم خرچ میں نکاح کرنے کی اپیل کی گئی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ ساتھ ہی ’’اس کے بر خلاف کسی بیرونی دباؤ کو قطعاً برداشت نہیں‘‘ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ ’’بیرونی دباؤ‘‘ کیا حکومت کی طرف سے ہے؟ یا پھر اسلام مخالف تنظیمیں ہم کو شریعت کے خلاف نکاح کرنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ ظاہر ہے یہ ’’بیرونی دباؤ‘‘ گھر کے اندر سے ہوتا ہے۔ بالخصوص ماؤں اور بہنوں کے ’’ارمان‘‘ ہوتے ہیں جن کے آگے نوجوان سپر ڈال دیتے ہیں۔ افسوس ناک ہے کہ خرافات کو فروغ دینے والی ان ماؤں اور بہنوں کو راہ راست پر لانے کے لیے اس اقرار نامہ میں ایک لفظ بھی نہیں۔ نویں پوائنٹ میں نکاح کے طے شدہ وقت کی پابندی کی بالکل غیر ضروری بات کہی گئی ہے۔ اگر نکاح کو مسجد میں کرنے پر لوگوں کو پابند کر دیا جائے تو یہ بات کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ کیوں کہ اگر نکاح کا وقت بعد نماز عصر یا بعد نماز مغرب مقرر کیا جائے تو خود بخود وقت کی پابندی ہو جائے گی۔ دسویں اور گیارہویں پوائنٹ میں سنت کے مطابق خوش گوار ازدواجی زندگی گزارنے، بیوی سے بہتر سلوک کرنے، اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کی ترغیب دی گئی ہے جو کہ اچھی باتیں ہیں۔

آئیے اب سمجھتے ہیں کہ کرنے کا اصل کام کیا ہے؟ ایک بات عرض کر دوں کہ میں علماء کی مخالف نہیں، بلکہ ان کی قدردان ہوں اور دل کی گہرائیوں سے علماء کا احترام کرتی ہوں۔ میرا معروضہ صرف اتنا ہے کہ علماء، مشائخ، سجادگان، جماعتوں کے امراء اور دیگر با اثر افراد مصلحت پر صداقت کو  قربان نہ کریں اور بے خوف ہوکر حق بات بہ بانگ دہل کہیں خواہ کسی امیر کبیر شخص کو کتنی ہی بری کیوں نہ لگے۔ جو اقرار نامہ پیش کیا گیا ہے اسے اس کی اصل روح میں پرزور طریقے سے سماج پر نافذ کرنے کی سعیٔ مسلسل کریں۔ ایسا نہ ہو کہ اس دس روزہ مہم کے بعد سب کچھ بھول جائیں اور مسلم معاشرہ اسی بے راہ روی کا شکار رہے جس میں وہ اب ہے۔ اکابرین خرافات والے نکاح میں شرکت نہ کرنے کا واضح اعلان کریں۔ جو افراد یا تنظیمیں اس ضمن میں کام کر رہی ہیں ان کو بھرپور تعاون دیں۔ میرے محدود علم کے مطابق اس سمت میں سب سے پرزور کوشش حیدرآباد کی ایک تنظیم ’سوشیو ریفارمس سوسائٹی‘ کر رہی ہے جس کے روح رواں ڈاکٹر علیم خان فلکی ہیں۔ یہ تنظیم جلسے و سیمینار منعقد کرتی ہے، بغیر جہیز اور بغیر کھانے کے نکاح کو فروغ دینے کے لیے ایسے نوجوانوں کی خوب تشہیر کرتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو سادگی سے سنت کے عین مطابق نکاح کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی فلمیں بنا کر یو ٹیوب و دیگر سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے جہیز اور کھانے کی قباحتوں اور سنت کے مطابق نکاح کرنے کے فیوض و برکات سے لوگوں کو واقف کراتی ہے۔ قرآن و سنت کے مطابق نکاح کرنے کی ترغیب دینے میں اس تنظیم کے صدر ڈاکٹر علیم خان فلکی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ میرے اپنے شہر الہ آباد میں تقویٰ اسلامک اسکول کی پرنسپل اسماء شمس اور ان کی تنظیم کے افراد بارات، جہیز اور لڑکی والوں کی طرف سے دی جانے والی دعوت طعام کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ یہ بہت چھوٹی سی کوشش ہے لیکن مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی کوششیں بہت سارے شہروں میں مقامی سطح پر ہو رہی ہوں گی۔ پرسنل لا بورڈ جیسی بڑی تنظیم اگر ان چھوٹی چھوٹی کوششوں کو منظم کرکے ایک تحریک کی شکل دے سکے تو امید واثق ہے کہ امت مسلمہ کے حالات بدل سکتے ہیں۔ شادیوں میں فضول خرچی کے مضر اثرات صرف سماجی نہیں معاشی بھی ہیں۔ میں ایک ایسے گھر سے واقف ہوں جہاں حال ہی میں لڑکی کی شادی پر لاکھوں خرچ کیے گئے۔ جہیز میں کار تک دی گئی۔ اب باپ مقروض ہیں، اور دو جوان بیٹے بے روزگار۔ اگر ان خرافات کو ترک کرکے یہی پیسہ لڑکوں کو کاروبار کرنے کے لیے دے دیا جاتا تو یقیناً اس سے معاشی حالات مستحکم ہوتے۔ باتیں تو بہت ہیں جن پر گفتگو کرنے کا دل چاہتا ہے، اشتہار میں شامل منظور شدہ قرار دادوں کا تجزیہ کرنے کا بھی دل کرتا ہے لیکن مضمون کی طوالت اس کی اجازت نہیں دیتی اس لیے اپنی بات کا اختتام ایک اپیل پر کرتی ہوں۔ علماء، مشائخ، سجادگان جماعتوں کے امراء سے میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ للّٰلہ اس سمت میں کاغذی خانہ پری سے اوپر اٹھ کر عملی اقدام کریں۔ 

وما علینا الا البلاغ

٭٭٭

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا