اصغر وجاہت کا شہرۂ آفاق ڈراما ’’جس لاہور نئیں دیکھیا…‘‘ : ایک مطالعہ

 (ہندی ادب سے)

 ASGHAR WAJAHAT

JIS LAHOR NAI DEKHYAN O JAMYA EE NAI

اصغر وجاہت ہندی کے ایک نابغۂ روزگار تخلیق کارہیں۔ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کے سابق صدر پروفیسر اصغر وجاہت کی ہمہ جہت شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بیک وقت افسانہ نگار بھی ہیں اور ناول نگار بھی، ڈراما نویس بھی ہیں اور ناقد بھی، انشاپرداز بھی ہیں اور مصور بھی، انھوں نے سفر نامے لکھے ہیں اور فلموں کے لیے اسکرپٹ بھی تحریر کی ہیں۔ اب تک ان کے پانچ ناول، چھ ڈرامے، کہانیوں کے پانچ مجموعے، نکڑ ناٹکوں کا ایک مجموعہ اور ایک تنقیدی کتاب شائع ہو چکے ہیں۔ 

اصغر وجاہت کی تخلیقات کا محور عوام اور ان کی زندگی سے وابستہ مسائل ہیں، با الفاظ دیگر ان کا قلم عوام الناس کے لیے وقف ہے، خواہ ناول ہوں، افسانے ہوں یا ڈرامے۔ ’’جس لاہور نئیں دیکھیا او جمیا ئی نئیں‘‘  ان کا شہرۂ آفاق ڈراما ہے، اس ڈرامے میں انھوں نے تقسیم ہند کے المیہ کی نہایت مؤثر اور کامیاب عکاسی کی ہے۔ حبیب تنویر نے اسے ۲۷؍ستمبر ۱۹۹۰ کو دہلی کے سری رام سینڑ میں پہلی بار اسٹیج کیا۔ متعدد انتہا پسند تنظیموں کے تمام تر طوفان مخالفت کے باوجود اپنی تخلیق کی تین دہائیوں کے بعد آج بھی یہ تواتر کے ساتھ اسٹیج ہو رہا ہے۔اس کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ڈراما ہندوستان کی مختلف زبانوں میں بارہ سو سے زیادہ بار اسٹیج ہو چکا ہے۔ علاوہ بریں دنیا کے مختلف شہروں ابوظہبی، ممبئی، واشنگٹن، لندن اور سڈنی جیسے شہروں میں شہرت کے پرچم لہرا چکا ہے۔ یہ ڈراما اس دور میں تخلیق کیا گیا جب لال کرشن اڈوانی آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے بی جے پی کے بینر تلے رام مندر کی تعمیر کے ایجنڈے کو لے کر رتھ یاترا نکالنے اور فرقہ واریت کا زہر تقسیم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ بابری مسجد کی شہادت کی منصوبہ بندی شباب پر تھی، متعدد شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات انسانیت کو شرمسار کر چکے تھے۔ یہ ڈراما نفرت کی آگ کو  انسان دوستی اور پیار کی شبنم سے سرد کرنے کی ایک سعی ہے۔ بقول اصغر وجاہت:

 ’’ڈرامے کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری کا فروغ ہے۔ انسانی رشتے مضبوط و مستحکم ہوں ڈرامے کے ذریعے یہی دکھایا گیا ہے۔‘‘۱؎

اصغر وجاہت نے یہ ڈراما اردو کے صحافی سنتوش بھارتی کی کتاب ’’لاہور نامہ‘‘ سے متاثر ہو کر لکھا۔ سنتوش بھارتی کے چھوٹے بھائی کرشن کمار گورٹو کا تقسیم ہند کے دوران ہونے والے فسادات میں قتل ہو گیا تھا۔ تقسیم کے کئی برس بعد وہ لاہور گئے وہاں سے لوٹنے کے بعد انھوں نے ’’لاہور نامہ‘‘ کے عنوان سے اردو میں ایک طویل سفر نامہ لکھا، جس میں انھوں نے ایک ہندو ضعیفہ کا ذکر کیا ہے جو تقسیم کے بعد تنہا لاہور میں رہ رہی تھی۔ اس پنجابی ضعیفہ کا بیٹا اور اس کا پورا کنبہ لاپتہ تھا لیکن ضعیفہ کو ان کی واپسی کا یقین تھا۔ یہی واقعہ اس ڈرامے کی تخلیق کا محرک بنا۔ ۱۰؍ستمبر ۲۰۰۹کو بی بی سی نامہ نگار ممتاگپتا کو  اصغر وجاہت نے خود اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:

’’دہلی میں میرے ایک صحافی دوست ہیں سنتوش کمار، وہ تقسیم کے بعد لاہور سے دہلی آئے تھے، انھوں نے ایک کتاب لکھی ’’لاہور نامہ‘‘ جس میں ایک ضعیف عورت کا ذکر تھا جو لاہور میں ہی رہ گئی تھی اور بھارت نہیں آ پائی تھی، اس خیال کو لے کر میں آگے کا تانا بانا بنا اور رفتہ رفتہ بہت سے دلچسپ کردار نکل کر سامنے آئے۔‘‘۲؎

 اگرچہ اصغر وجاہت کا تعلق اس پنجاب سے نہیں ہے جس نے تقسیم کے کرب کو جھیلا ہے، اور نہ اس جاں سوز سانحہ کا انھوں نے ذاتی مشاہدہ کیا ہے لیکن جس درد مندی اور فنکارانہ چابک دستی سے انھوں نے اسے اپنے ڈرامے میں پیش کیا وہ ان کی خلاقانہ صلاحیت کا بین ثبوت ہے۔

یہ ڈراما محض تقسیم کے المیہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس پردو ڈراما نگار نے ہندو مسلم ان دو فرقوں کی نفسیات کو سمجھنے کی سعی کی ہے۔ شاید اس کا مقصد ان وجوہات کی نشان دہی کرنا ہے جنھوں نے ہندوستان کے خمیر میں شامل ثقافتی اتحاد، امن و آشتی، مذہبی رواداری، باہمی ایثاروقربانی اور بھائی چارے کو پامال کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈراما نگار نے اس حقیقت کو بھی بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح معاشرے کے شر پسند عناصر ذاتی مفاد کے لیے مذہب کا بے جا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ہندی ادب میں تقسیم ہند کے المیہ پر کثرت سے لکھا گیا ہے۔ ان تخلیقات نے جس ہمدردی اور انسانیت کے جذبے کو بیدار کیا اس کے پس پردہ ملک میں بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے جذبات کارفرما تھے تاکہ مستقبل میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایسا واقعہ پھر رونما نہ ہو۔

اصغر وجاہت کے اس ڈرامے کی وہ خوبی جو اسے دیگر ڈراما نگاروں کی تخلیقات سے ممتاز کرتی ہے وہ اس ڈرامے کے کردار ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے میں دانشوروں اور عوام کے مابین کیسے تعلقات ہونے چاہیے، اصغر وجاہت نے اس ڈرامے میں مولانا، شاعر اورعوام کی نمائندگی کرنے والے کرداروں کے ذریعے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خصوصیت جو اس ڈرامے کو انفرادی شان عطا کرتی ہے وہ ہے اس ڈرامے کے مولانا کا کردار، جو دقیانوسیت سے پاک اور روشن خیال ہے۔ بالعموم اردو۔ہندی ادب میں مذہبی رہنماؤں کو سماج میں تفرقہ پھیلانے والے ویلن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، برخلاف اس کے اصغر وجاہت نے مولانا کے کردار کو تمام تر اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاقی اوصاف کا حامل، با الفاظ دیگر اسلام کا اصل نمائندہ بنا کر پیش کیا ہے۔

اصغر وجاہت کی یہ تخلیق تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا شدہ مسائل اور آلام و مصائب کی آئینہ دار ہے۔ ۱۸ مناظر پر مشتمل یہ ایک یک بابی ڈراما ہے جس میں منتخب کرداروں کے ذریعے ہی ڈراما کے تمام واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامے کا مرکزی کردار ایک ضعیفہ رتن جوہری کی ماں ہے جس کا پورا خاندان تقسیم کے وقت یا تو فسادات کی نذر ہو گیا یا پھر کسی نا معلوم جگہ سکونت اختیار کر لی۔ وہ اپنی مٹی اپنے گھر سے بے پناہ محبت کرتی ہے اسی لیے وہ گھر چھوڑ کر نہیں جاتی اسی میں چھپ کر رہتی ہے۔ کسٹوڈین والے ۲۲ کمروں کی ایک وسیع و عریض حویلی کو خالی سمجھ کر لکھنؤ سے ہجرت کرکے لاہور پہنچنے والے سکندر مرزا اور ان کے خاندان کو الاٹ کر دیتے ہیں۔ جب سکندر مرزا اور ان کے اہل خانہ کو اس ضعیفہ کی موجودگی کا علم ہوتا ہے تو اسے اس حویلی سے نکالنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ جب یہ بات محلے کے پہلوان نامی غنڈے کو جو کہ مسلم لیگ کا کارکن بھی ہے پتہ چلتی ہے تو وہ ضعیفہ کو جان سے مارنے کی بات کہتا ہے، لیکن سکندر مرزا اور ان کے اہل خانہ اس سنگین جرم کے لیے قطعی تیار نہیں ہوتے اور پہلوان کے غنڈوں سے اس ضعیفہ کی حفاظت کی تدابیر کرتے ہیں۔ رتن کی ماں انسانیت و خلوص کا پیکر ہے۔ محلے میں شاید ہی ایسا کوئی گھر ہو جس کی اس نے مدد نہ کی ہو۔ لہٰذا محلے والے بھی اس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ سکندر مرزا اور ان کے گھر والوں کو رتن کی ماں سے انس ہو جاتا ہے، لیکن کچھ موقع پرست افراد اپنے ذاتی نفع کے لیے اس مخلص ضعیفہ کی جان کے درپے ہیں۔ مرزا صاحب اور محلے والے ان کی مخالفت کرتے ہیں، پہلوان مرزا صاحب کو دھمکیاں دیتا ہے، پہلوان اور اس کے ساتھی مرزا صاحب کو ضرر نہ پہنچائیں اس خوف سے رتن کی ماں خود ہی لاہور چھوڑ کر جانے کے لیے رخت سفر باندھ لیتی ہے۔ لیکن شاعر ناصر کاظمی کے سمجھانے اور سکندر مرزا اور ان کے گھر والوں کے قسم دینے پر وہ اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصے بعد ایک دن اچانک رتن کی ماں کی طبیعت بگڑتی ہے اور انتقال ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو اس کی آخری رسوم کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ اطراف و جوانب میں کوئی ہندو نہیں تھا جس سے وہ آخری رسومات کے متعلق دریافت کرتے۔ پڑوس میں ہندوؤں کا جو شمشان تھا اس پر مکانات تعمیر ہو چکے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں مولانا صاحب مشورہ دیتے ہیں کہ رتن کی ماں کو راوی کے کنارے جس قدر ممکن ہو ہندو رسم و رواج کے مطابق نذر آتش کر دیاجائے۔ یہ منظر انسانیت کی ایک نئی عبارت رقم کرتا ہے جہاں ایک ہندو ضعیفہ کی آخری رسومات مسلمانوں کے ہاتھوں ادا کی جاتی ہیں۔( اصغر وجاہت کے اس تصور کو ڈرامے کی تخلیق کے تقریباً تیس سال بعد آج ہم ملک گیر سطح پرمجسم ہوتا دیکھ رہے ہیں، جب غیر مسلم خاندانوں نے کورونا کے خوف سے اپنے رشتے داروں کی میت کو چھونے سے انکار کر دیا تو مسلمانوں نے نہایت احترام کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کیں۔) مذہب کے نام پر بغض و عناد اور منافرت پھیلانے والے پہلوان اور اس کے ساتھیوں کو مولانا صاحب کی یہ مذہبی رواداری اور انسان دوستی راس نہیں آتی اور وہ مسجد میں ہی مولانا صاحب کا قتل کر دیتے ہیں۔ عصر حاضر میں جب عالمی سطح پر اسلاموفوبیا پھیلانے کے لیے مسلمانوں کو دہشت گرد، تشدد پسند، غدار اور نہ جانے کیا کیا قرار دے کر ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے، جہاں انسانیت پژمردہ اور اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں وہاں اصغر وجاہت کا یہ ڈراما تقسیم ہند کے تناظر میں انسانی جذبات و احساسات کو سمجھنے، انسانیت و ہمدردی کو فروغ دینے کی کامیاب سعی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ 

اصغر وجاہت اپنی تخلیقات میں خواہ ان کے افسانے ہوں، ناول ہوں یا پھر ڈرامے فرقہ وارانہ فسادات میں ہونے والی درندگی اور بربریت کے وحشت ناک اندھیروں میں انسانیت کو گم نہیں ہونے دیتے اور انسانی ہمدردی کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال کر اسے ایک نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ انسانیت پر کامل یقین کا یہی جذبہ ان کے ڈرامے جس لاہور… میں پوری شدت سے کارفرما ہے۔ اس ڈرامے کا مقصد محض تقسیم ہند کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات کی عکاسی کرنا یا تقسیم کی آگ میں جلتے جھلستے لوگوں کی عکاسی کرنا نہیں ہے بلکہ نفرت کے شعلوں میں خاکستر ہو چکی انسانیت کے ان دبے ہوئے شراروں کو تلاش کرنا ہے جن میں ابھی جذبہ و احساس کی رمق باقی ہے اور یہی اس ڈرامے کا بنیادی وصف ہے۔ تقسیم کے المیہ کی انسانیت سوز تباہ کاریوں کی عکاس تخلیقات تو کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن زخم خوردہ انسانیت کے زخموں پر مرہم لگانے والی تخلیقات کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ زیر بحث ڈراما انہی میں سے ایک ہے۔ اصغر وجاہت نے کریہہ اور خوفناک حقیقت کی عکاسی کرنے کے بجائے اس حقیقت کو پیش کیا ہے جو حوصلہ بخش ہے اور امید افزا بھی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تقسیم کے پر فتن دور میں جہاں دلوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھے لوگ باہمی رنجش میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے وہاں چند افراد ایسے بھی تھے جو دکھ کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار بن کر کھڑے تھے۔ یہ ڈراما ایسے ہی کرداروں سے مزین ہے۔ اس ڈرامے میں ان کرداروں کو اہمیت نہیں دی گئی ہے جو شر و فساد پھیلا رہے ہیں، قتل و غارت کر رہے ہیں، بلکہ اس ڈرامے کا محور وہ کردار ہیں جن میں انسانیت ہے، ہمدردی ہے، مذہبی رواداری ہے، انصاف پروری ہے، خدمت خلق کا جذبہ ہے، متعدد مقامات پر ان کے ذریعے خوف وہراس کے اس دور میں انسانیت کی سچی تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس ڈرامے کے کئی مناظر ایسے ہیں جو قاری، ناظر یا سامع کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔

جیسا کہ ذکر آ چکا ہے کہ اس ڈرامے میں مولانا کا کردار روایتی نہ ہو کر انفرادیت کا حامل ہے۔ عام طور پر پنڈتوں اور مولویوں کے کردار کو مذہب کا سہارا لے کر عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے والے اور فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس ڈرامے میں مولانا کا کردار اس کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر ڈرامے کے ساتویں منظر میں مولانا صاحب پہلوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ارشاد ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا … اور جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا خدا اس پر رحم نہیں کرتا۔‘‘ ۳؎ 

کوئی اور ڈراما نگار ہوتا تو شاید مولانا کو پہلوان کا ہمنوا بنا کر پیش کرتا اور مولانا سے پہلوان کو رتن کی ماں کے قتل کی اجازت دلوا دیتا۔ بر خلاف اس کے اصغر وجاہت ایسا نہ کرکے مولانا کو انسانیت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے ہوئے ان کے ذریعے انسان دوستی، مساوات، رحم اور ہمدردی کا پیغام دیتے ہیں جو اسلام کی اصل روح ہے۔

تقسیم ہند و پاک کا سانحہ ایک سیاسی حربہ تھا جس نے صرف اور صرف سیاستدانوں کو نفع پہنچایا۔ عوام کے حصے میں تو محض درد و غم، بے سروسامانی، اپنوں کی جدائی اور ہجرت ہی آئے۔ اس تقسیم میں عوام کا کوئی رول نہیں تھا، عوام الناس تو تقسیم کی وجوہات سے بھی بخوبی واقف نہیں تھے۔ سکندر مرزا کی بیٹی تنویر بیگم عرف تنو جب اپنی ماں سے سوال کرتی ہے:’’اماں یہ سب ہوا کیوں؟‘‘ حمیدہ بیگم نے پوچھا’’ کیا بیٹی؟‘‘ تنو نے کہا ’’یہی ہندوستان پاکستان‘‘۔ حمیدہ بیگم نے بیٹی کو جواب دیا ’’بیٹی مجھے کیا معلوم‘‘۔ عوام میں زیادہ تر لوگ اسی لا علمی کا شکار تھے۔ وہ تقسیم کی اصل وجہ سے بے خبر تھے۔ اس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں تھا لیکن وہ ناکردہ جرم کی سزا بھگتنے پر مجبور تھے۔ انھیں اپنی مٹی اپنی جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا، جلا وطنی کا زہر پینا پڑا اور رفیوجی یا مہاجر کہہ کر طرح طرح سے پریشان کیا گیا۔ شاعر ناصر کاظمی کے ان مکالموں میں ہمیں ایک مہاجر کا درد کروٹیں لیتا نظر آتا ہے۔ 

’’مائی لاہور چھوڑ کر مت جاؤ… تمھیں لاہور کہیں اور نہ ملے گا… اسی طرح جیسے مجھے انبالا کہیں اور نہیں ملا… ہدایت بھائی کو لکھنؤ نہیں ملا… زندہ کو مردہ نہ بناؤ۴؎

سکندر مرزا اور ان کے اہل خانہ کو پریشانی سے بچانے کے لیے جب رتن کی ماں لاہور چھوڑ کر دہلی جانے لگتی ہے تو  ناصر صاحب جیسے دردمند اور حساس لوگ اس خیال سے بے چین ہو اٹھتے ہیں کہ کتنی عجیب بات ہے کہ مذہب کے نام پر منافرت پھیلانے والے پہلوان جیسے کچھ شر پسند لوگ رتن کی ماں جیسے کسی انسان کو جو نیکی کا مجسمہ ہے سب کے دکھ سکھ میں کام آنے والا، صرف ہندو ہونے کے سبب اسے اپنا گھر، اپنا شہر، اپنا وطن چھوڑ کر جانے کے لیے مجبور کر دیں۔ اور اتنے سارے مسلمان اس کی حفاظت بھی نہ کر سکیں۔ بالکل اسی طرح اگر کسی ہندو محلے میں کسی ایسے مسلمان کی حفاظت نہ کی جا سکے تو یہ تمام عالم انسانیت کے لیے باعث ننگ ہے۔ اس ضمن میں ناصر صاحب کا یہ مکالمہ ملاحظہ ہو:

’’تم اگر یہاں نہ رہی تو ہم سب ننگے ہو جائیں گے مائی… ننگا آدمی ننگا ہوتا ہے نہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان‘‘ ۵؎

ناصر صاحب اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایک نیک دل بے ضرر عورت کسی معاشرے میں عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے تویقینا اس معاشرے کو مہذب کہلانے کا کوئی حق نہیں، وہ تہذیب و تمدن کا کتنا ہی ملمع چڑھا لے بالآخر اس کا اصل روپ سامنے آہی جائے گا۔ اس ڈرامے میں اصغر وجاہت نے اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ جب تک انسان اپنے مذہبی جنون میں اندھا ہوکر خوں ریزی کرتا رہے گا تب تک وہ خوشحال اور صحت مند زندگی نہیں گزار سکتا۔ ایک مہذب اور تعلیم یافتہ سماج کا مذہبی جنون سے پاک ہونا ضروری ہے، اسے دوسروں کے مذہب و عقیدت میں دخل انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اس ڈرامے میں سکندر مرزا سے جب رتن کی ماں دیوالی منانے کی اجازت طلب کرتی ہے تو مرزا صاحب اسے بخوشی اجازت دے دیتے ہیں۔ یہ بات پہلوان کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ وہ مولانا صاحب سے مرزا کی شکایت کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’حضور …ان کے گھر میں بت پرستی ہوتی ہے، کل کھلے عام پوجا ہوئی ہے… وہ سب کیا گیا … اسے کیا کہتے ہیں… ہَوَن وغیرہ اور پھر چراغاں کیا گیا… کیوں کہ کل دیوالی تھی۔ اور مٹھائی بنا کر تقسیم کی گئی۔‘‘ ۶؎

اس پر مولانا صاحب کا جواب ملاحظہ ہو:

’’تو کیا ہوا… سب کو اپنی عبادت کرنے اور اپنے خداؤں کو یاد کرنے کا حق ہے۔‘‘ ۷؎

 وہ پہلوان کو اسلام کی تعلیمات کے متعلق بتاتے ہوئے کہتے ہیں :

’’…پڑوسی چاہے مسلم ہو چاہے غیر مسلم اسلام نے اسے اتنے زیادہ حق دیے ہیں کہ تم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘۸؎

نیز یہ کہ :

’’بیوہ کا درجہ تو ہمارے مذہب میں بہت بلند ہے… حدیث ہے کہ بیوہ اور غریب کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا دن بھر روزہ اور رات بھر نماز پڑھنے والے کے برابر ہے۔‘‘ ۹؎

محولہ بالا مکالمے سے صرف مذہب اسلام پر لگائے گئے تنگ نظری کے الزام کی تردید نہیں ہوتی بلکہ اسلام کو عدم روادار اور دہشت گرد مذہب قرار دینے والوں کے منھ پر زور دار طمانچہ بھی لگتا ہے۔ اس طرح کے انسانیت سے لبریز خیالات تعصب سے پاک سماج کی تعمیر و تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ 

اس ڈرامے کے چھوٹے اور زوداثر مکالمات، پلاٹ کے فطری ارتقاء میں بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس کا اسلوب نہایت دلکش ہے اور قاری، ناظر یا سامع کی توجہ حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب ہے۔ زبان کے انتخاب میں بھی ڈراما نگار نے احتیاط سے کام لیا ہے اور اپنی فنکارانہ صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ اس ڈرامے میں کھڑی بولی ہندی کا استعمال تو ہے ہی مسلم کرداروں کی زبان میں عربی فارسی الفاظ کی آمیزش سے فطری رنگ بھرے ہیں۔ رتن کی ماں جس کی پوری زندگی لاہور میں ہی بسر ہوئی ہے وہ اپنے خاندان اور ماحول کے سبب پنجابی میں ہی بات کرتی ہے ڈراما نگار نے اس سے جبراً ہندی بلوانے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ اسے اپنی زبان بولنے کی آزادی دی ہے،لیکن اس میں بھی انھوں نے خلاقانہ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی پنجابی استعمال کی ہے جو غیر پنجابیوں کی فہم سے بالاتر نہیں ہے۔ مولانا، سکندر مرزا اور شاعر ناصر کاظمی وغیرہ تعلیم یافتہ کردار خالص اردو میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔ زبان و اسلوب کی یہ خصوصیات اس ڈرامے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔

آج جب انسان دوستی اور رواداری ہمارے ہی ملک کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے پیچیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جب مذہب، علاقہ، نسل، زبان کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، بالخصوص مذہبی معاملات کو سیاست کا رنگ دیا جا رہا ہے، ایسے وقت میں ڈراما نگار نے حیات انسانی کے مثبت پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہر قسم کے نفاق اور تفرقہ کو یکسر خارج کیا ہے۔ اصغر وجاہت نے ان حقائق کی عکاسی کے بجائے جو ان دنوں رونما ہو رہے تھے ان حقائق کی عکاسی کو زیادہ سود مند اور مناسب خیال کیا جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہیں۔ فرقہ واریت اور عدم رواداری کے خلاف آواز بلند کرنے والے اس ڈرامے میں ملک کے تقسیم کے المیہ اور انسانی رشتوں کے مابین باہمی اتفاق اور بھائی چارے کی دیرینہ خواہش کی باز گشت کو واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی وراثت کا ترجمان یہ ڈراما نہ صرف ہندی کے ڈرامائی ادب کو حیات نو عطا کرتا ہے بلکہ اپنے خالق کو حیات جاوداں عطا کرنے والا شاہکار بھی ہے۔ نفرت و عداوت کے ایسے ماحول میں جب انسان انسان کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے اس طرح کی تخلیقات اس بارش کی مانند ہیں جو بھڑکتے ہوئے شعلوں کو سرد کر سکتی ہے، مجروح ہو چکی انسانیت کے زخموں پر مرہم لگا سکتی ہیں۔ انسانی دردمندی سے لبریز یہ ڈراما اخلاقی قدروں کا اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے۔


حواشی

۱؎ بحوالہ سعید بزمی ۲۴؍مئی ۲۰۱۳ کو میرٹھ یونیورسٹی میں منعقدہ پروگرام میں اصغر وجاہت کا خطاب

۲؎ بحوالہ بی بی سی ہندی پورٹل

۳؎ جس لاہور… منظر ۷

۴؎ جس لاہور…منظر ۱۳

۵؎ جس لاہور…منظر ۱۳

۶؎ جس لاہور…منظر ۱۲

۷؎ جس لاہور…منظر ۱۲

۸؎ جس لاہور…منظر۱۲

۹؎ جس لاہور…منظر۱۲


ڈاکٹر جوہی بیگم

شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج،

الہ آباد


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا