محبت کا حسیں ساحل بہت ہی دور ہے جاناں (غزل)

 محبت کا حسیں ساحل بہت ہی دور ہے جاناں

نشاط وصل کی ساعت غموں سے چور ہے جاناں 


وہ پہلے سے مراسم تو نہیں لیکن نہ جانے کیوں

پریشاں دیکھ کر تم کو یہ دل رنجور ہے جاناں


لیے پھرتے تھے جانے کب سے یہ حسرت نگاہوں میں

دل مضطر تمھاری دید سے مسرور ہے جاناں


محبت اچھے اچھوں کا جہاں برباد کرتی ہے

ستم اس کا زمانے میں بہت مشہور ہے جاناں


یوں لگتا ہے زمانے میں غموں کی حکمرانی ہے

کہ بار غم اٹھانے کو بشر مجبور ہے جاناں


اداسی ہی اداسی تھی اندھیرا ہی اندھیرا تھا

تمھارے آنے سے چاروں طرف اک نور ہے جاناں


بسے ہو تم رگ جاں میں مگر یہ بھی حقیقت ہے

تمھارا ہاتھ ہاتھوں سے بہت ہی دور ہے جاناں


اِدھر بے بس ہے شاماؔ اور اُدھر لاچار ہو تم بھی

ہماری زندگی کیوں اس قدر محصور ہے جاناں


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا