پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفا دار نہیں…
آج اگر ہم وطن عزیز کے سماجی و سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو ملک میں فرقہ وارانہ صورت حال انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے۔ ہر طرف مسلم مخالف نعرے اور فرقہ واریت میں غرق برادران وطن مسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کے عزم کے ساتھ مسلم دشمنی میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ کبھی گائے کے نام پر کبھی غیر ملکی دراندازی، کبھی لو جہاد تو کبھی بچہ چوری کے نام پر جمع بھیڑ کا مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دینا عام بات ہو گئی ہے۔ ۲۰۱۵ء میں دادری میں اخلاق کی ماب لنچنگ سے شروع ہوا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جھارکھنڈ کے امتیاز خان، الور(راجستھان) کے پہلو خان، امفال کے احمد خان ، جھارکھنڈ کے تبریز انصاری، دہلی کی لوکل ٹرین میں حافظ جنید اور دہلی ریلوے اسٹیشن کے باہر قاری اویس جیسے سیکڑوں مسلمان ہجومی تشدد کا نشانہ بن کر اپنی زندگی گنوا بیٹھے۔ حکومت کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کے بعد ہجومی تشدد کا یہ جنون اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب اخلاق کے قاتلوں کو این ٹی پی سی میں ملازمت سے نوازا جائے، ایک قاتل کی طبعی موت پر مرکزی وزیر اس کے جنازے میں شرکت کرے اور اس کی لاش کو قومی پرچم میں لپیٹا جائے، تبریز انصاری کے قاتلوں کی حوصلہ افزائی ایک مرکزی وزیر کے ذریعے گل پوشی سے کی جائے اور پہلو خان کے قاتلوں کو تمام ثبوت کے باوجود باعزت بری کر دیا جائے تو کیوں نہ یہ جنون دوآتشہ ہو جائے۔ مسلم دشمنی میں فرقہ پرست اس حد تک بڑھ گئے کہ اگر ہندو پولیس افسر بھی انھیں مسلمانوں کے قتل عام سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو وہ اسے بھی نہیں چھوڑتے۔ بلند شہر میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل اس کی مثال ہے۔ حتیٰ کہ انسپکٹر کے قاتلوں کی فرد جرم بھی ٹھیک سے تیار نہیں کی جاتی اور ملزمان ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، ان کی رہائی پر ان کی گل پوشی کی جاتی ہے اور جشن منایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ گزرنے پر ان ملزمان میں سے ایک شکھر اگروال کو ’’پردھان منتری جن کلیان کاری یوجنا جاگروکتا ابھی یان‘‘ نامی ایک این جی او کے ’’ضلع مہا منتری‘‘ کے عہدے سے نوازا جاتا ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہونے پر اسے اس عہدے سے بر طرف کر دیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی یہ فصل راتوں رات نہیں تیا ر ہو گئی بلکہ اس کے بیج کی تلاش میں ہمیں سیکڑوں سال پیچھے جانا ہو گا، جب ۱۸۵۷ ء کے انقلاب کے بعد انگریز حکام پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ہندوستان کی دو بڑی طاقتیں ہندو اور مسلمان اگر متحد رہے تو ان کا اس ملک پر حکومت کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو پائے گا۔ چنانچہ انھوں نے برٹش حکومت کی بقا کے لئے ان دو بڑے طبقوں کے مابین نفرت و عداوت کے جذبے کو فروغ دینے کی غرض سے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نفرت آمیز تاریخ نویسی کی بنیاد ڈالی۔ برطانوی مؤرخ جیمس مِل کے وضع کردہ ماڈل کے مطابق ایلیٹ، ڈاؤسن اور برِگ جیسے مؤرخین نے تاریخ نویسی کی اس نئی ڈگر پر چلتے ہوئے ہندو عوام پر مسلم حکمرانوں کے ظلم و ستم کی داستان کو مبالغہ آمیز ڈھنگ سے پیش کیا اور راجپوتوں اور مرہٹوں کی مدافعت کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے زیر اثر ہندوستان میں سامراج وادی نظریے پرمبنی تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ اس طرز کی تاریخ نویسی کے علم برداروں میں الفنسٹائن، چارلس اسٹیورٹ،ٹاڈ، ونسٹن اسمتھ اور رابرٹس جیسے برطانوی مؤرخین کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ مؤرخین یدوناتھ سرکار، ہرپرساد شاستری اور آر سی مجومدار جیسے نام بھی شامل ہیں۔ یدوناتھ سرکار نے ہندوستان کی تاریخ کے انتہائی حساس دور یعنی سلطنت مغلیہ کے زوال کی تاریخ کو چار جلدوں میں لکھ کر برٹش حکومت سے نائٹ ہڈ کا خطاب حاصل کیا ، جس نے متعصبانہ تاریخ نویسی کے رجحان کو جلا بخشی۔
اس طرح کی تاریخ نویسی نے تیسری اور چوتھی دہائی کے دانشور طبقے پر گہرے اور دیر پا اثرات مرتب کئے۔ بالخصوص آر سی مجومدار نے جن کی مقناطیسی شخصیت اور تعصب کی چاشنی سے لبریزتحریر نے ہندوستان کی نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کی ذہن سازی کی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ منافرت نے ناتھورام گوڈسے جیسی ذہنیت والے افراد کو جنم دیا۔ اس نظریے کے حامی مؤرخین اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برپا ہونے والی تحریکات اور بغاوتوں ( جن میں فقیر، وہابی اور فرازیہ تحریکات کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں) جن کا مقصد اس ملک کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانا تھا، کو جنگ آزادی کی فہرست سے سرے سے خارج کر دیا۔ حتیٰ کہ یہ نام نہاد مؤرخین ۱۸۵۷ ء کے عظیم انقلاب کو ’’انقلاب آزادی‘‘ نہ کہہ کر اسے ’’بلوہ یا غدر‘‘ سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی میں اہم کردار نبھانے والی اس تحریک میں مسلمانوں کی اکثریت شامل رہی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں رونما ہونے والی ان تحریکات سے اس قسم کے روایتی مؤرخین صرف اس لئے چشم پوشی کرتے ہیں کہ وطن عزیز کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں یکسر فراموش کر دی جائیں۔
تقسیم ہند کے سانحہ کے بعدہمارے ملک میں فرقہ واریت کے زہر سے آلودہ جس طرح کی فضا تیار ہوئی اس میں مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کی ایک عام روش قائم ہو گئی تھی۔ انتہائی شاطرانہ طریقے سے اور بڑے احتیاط کے ساتھ مسلمانوں کو ملک کے غدار کے طور پر پیش کرنے کا شعور پیدا کیا گیا۔ اس کام میں آر ایس ایس کا کلیدی کردار رہا ہے۔ حالانکہ گاندھی جی کے قتل کے بعد ملک گیر سطح پر برپا ہونے والے غم و غصے کے طوفان نے آر ایس ایس کوفوری طور پر نقصان ضرور پہنچایا لیکن کانگریس و دیگر سیاسی جماعتوں، تعلیم، میڈیا اور معاشرے کے دیگر شعبوں میں اس کے نظریات کے اثرات واضح طور پردیکھے جا سکتے تھے۔ اسکولی تعلیم میں تاریخ کا ایسا نصاب تیار کیا گیا جس سے نئی نسلوں میںہندو فرقہ وارانہ ذہنیت مسلسل فروغ پاتی رہی۔پروفیسر بی این پانڈے رقمطراز ہیں:
’’بد قسمتی سے عہد وسطیٰ اور عہد حاضر کی ہندوستانی تاریخ کے واقعات اور کرداروں کو اس طرح توڑ مروڑ کر خیالی انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے کہ جھوٹ ہی احکام الٰہی کی صداقت کی طرح قبول کیا جانے لگا اور ان کو قصوروار ٹھہرایا جانے لگا جو حق اور خیالی باتوں میں فرق کرتے ہیں۔ آج بھی فرقہ پرست اور خودغرض عناصر تاریخ کو توڑنے مروڑنے اور اسے غلط رنگ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘۱؎ (۱؎ پروفیسر بی این پانڈے : اتہاس کے ساتھ یہ انیائے)
آج فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کے وجود کو ہندوستان سے مٹانے اور ملک کو ’’مسلمان وہین راشٹر‘‘ بنانے کے درپے ہیں ۔ اسی منصوبے کے تحت وہ ہمارے ملک کی تاریخ سے ان صفحات کو نابود کر دینا چاہتے ہیں جن میں مسلمانوں کی وفاداری، جاں نثاری ، وطن پرستی کی داستان درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ان نشانیوں کو بھی مٹا دینا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کی حب الوطنی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔موجودہ حکومت میں اس عمل نے اور شدت اختیار کر لی ہے۔ تاریخی مقامات کے نام کا تبدیل کیا جانا اس بات کا بیّن ثبوت ہے۔ اپنی تاریخ کو مٹنے سے بچانے کے لئے اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا تو وہ دن دور نہیں کہ یہ فرقہ پرست قوتیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گی۔کسی بھی قوم کا مستقبل اور اس کا سب سے قیمتی سرمایہ نوجوان نسل ہوتی ہے، اس لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں خواب غفلت سے بیدار کیا جائے اور اپنی حالت کو تبدیل کرنے کے لئے سر گرم عمل ہونے کی ترغیب دی جائے۔ ہمارے اسلاف کے کارنامے ان کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گے اور انھیں متحرک اور متحد کرنے میں معاون بھی، اس لئے ضروری ہے کہ ہماری نئی نسل اپنے تابناک ماضی اور بزرگوں کی قربانیوں سے واقف ہو۔ یہ مضمون اس سمت میں اٹھایا جانے والا ایک چھوٹا سا قدم ہے اور راقم الحروف کی ایک ادنیٰ سی کوشش۔ اس مختصر سے مضمون میں ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا احاطہ کرنا ناممکن ہے ، لیکن جدوجہد آزادی کی تاریخ کے کچھ خاص خاص پہلوؤں پر میں روشنی ڈال رہی ہوں۔
حکومت برطانیہ کے خلاف سب سے پہلے جس مسلمان مرد مجاہد نے علم بغاوت بلند کیا وہ فقیروں کی بغاوت کے سربراہ مجنوںشاہ تھے جنھوں نے ۱۷۶۳ء میںبرطانوی جبر کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ جدوجہد آزادی کے وہ بہادر سپہ سالار تھے جنھوں نے مشکل ترین حالات میں بھی انگریزوں کے دانت کھٹے کئے۔ ۱۴؍نومبر۱۷۷۶ء میں مجنوں شاہ نے برطانوی افواج کو شکست فاش دی۔ ۲۹؍دسمبر۱۷۸۶ء کو جدوجہد آزادی کا یہ جانباز سپاہی باگرہ ضلع کے منگرا گاؤں میںبری طرح زخمی ہوا اور شہید ہو گیا۔ ان کی شہادت کے بعد آزادی کی اس جدوجہد کو ان کے بھائی اور شاگرد موسیٰ شاہ نے جاری رکھا۔ ان کے علاوہ مجنوں شاہ کے شاگردوں میں فِراغُل شاہ اور چراغ علی نے متعدد جنگوں میں برطانوی افواج کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ رمضانی شاہ اور ظہوری شاہ کی قیادت میں ایک دستہ برٹش فوج سے آسام میں نبرد آزما ہوا یہ اور بات ہے کہ داخلی انتشار کے سبب انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فقیروں کی بغاوت کے آخری دور میں شوبھن علی، عمودی شاہ اور مطیع اللہ نے اپنی فوج کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں کامیابی نہ حاصل ہو سکی۔ ۱۷۹۹ء میں شوبھن علی نے نیگو شاہ، بدھو شاہ اور امام شاہ کی مدد سے بھوکے اور مظلوم کسانوں کو متحد کرنے اور اپنی فوج کو وسعت دینے کی کوشش کی۔ ۱۷۹۹ء سے ۱۸۰۰ء تک انھوں نے بوگرا کے گھنے جنگلوں کے بیچ اپنا بیس کیمپ(Base Camp) قائم کیا لیکن جدید اسلحوں سے لیس انگریزی فوج نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ وہ حملے کی تاب نہ لا سکے اور اس طرح انگریزوں کے خلاف برپا ہونے والی پہلی عوامی بغاوت کا خاتمہ ہو گیا۔ اپنی ناکامی کے باوجود اس بغاوت نے مستقبل میں ہونے والی جدوجہد آزادی کے لئے راہ استوار کی۔
انیسویں صدی کا ابتدائی دور برطانوی نو آبادیاتی قوت میں روز افزوں اضافے کا زمانہ تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہی وہ وقت تھا جب ہندوستانیوں کے دلوں میں جنم لینے والے بغاوت کے جذبات نے شدت اختیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور اس بغاوت کا سب سے پہلا متحد اور منظم اظہار وہابی تحریک کی صورت میں رونما ہوا، جس نے جدوجہد آزادی کی تاریخ میں ایک زریں عبارت تحریر کی۔ اس تحریک کے بانی ایک عالم دین سید احمد بریلوی تھے جنھوں نے برطانوی اقتدار کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند کیا۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف مسلمانوں اور ہندوؤں کو متحد کرنے کے لئے پورے ملک کا دورہ کیا، اور ان سے غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کی اپیل کی، جس کے زیر اثر بڑی تعداد میں یونیورسٹی اور کالج کے گریجویٹس نے انگریزوں کی ملازمت سے انکار کر دیا۔ ان کی کاوشوں سے یہ ایک ہمہ گیر تحریک بن گئی۔ مئی ۱۸۳۱ء میں بلّا کوٹہ کے میدان کارزار میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ سید احمد کی شہادت کے بعد وہابی تحریک کامرکز پٹنہ بن گیا تو وہاں کے علی برادران عنایت علی، ولایت علی اور کرامت علی نے اس تحریک کی قیادت کی۔اس تحریک میں آگے چل کر بمبئی، مدھیہ پردیش اور حیدرآباد کے علاقے بھی شامل ہو گئے ۔ان میں سب سے زیادہ سرگرم عمل انقلابی حیدرآباد کے نواب مبرّج الدّولہ تھے جنھیں ۱۸۳۹ء میں گرفتار کر کے گول کنڈہ کے قلعے میں قید کر دیا گیا جہاں ان کی شہادت ہوئی۔ ۱۸۴۷ء کے بعد جب پورا پنجاب برٹش حکومت کے زیر اقتدار آگیا تو وہابی تحریک نے مزید شدت اختیار کر لی، اور وہابیوں نے سِتانا میں اپنے بیس کیمپ سے انگریزوں کے خلاف جنگ کی مکمل تیاری شروع کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہابی تحریک کی قیادت علی برادران نے کی۔ بعد میں اس تحریک سے کچھ اور اہم شخصیات وابستہ ہوئیں جنھوں نے کارہائے نمایاں انجام دئے جن میں پیر علی، مسیح الزماں، احمد اللہ، محمد حسین، وجیہ الحق، فرحت حسین، یحیٰ علی، محمد ظفر، محمد شفیع، فیاض علی، رفیق منڈل، امیرالدین، ابراہیم منڈل، عامر خان، حشمت خان،مبارک علی، محمد عبداللہ، محمد شیر علی، محمد حسن، عبداللہ، ناظر حسین، جمال الدین، صادق حسین، عبدالجعفر، عبدالرحمٰن، علی کریم، بدرالزماں، عبدالحکیم وغیرہ کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ آزادی کی تحریکات میں یہ سب سے طویل عرصے تک چلنے والی تحریک تھی جس نے ہندوستانی تاریخ پر انتہائی گہرے نقوش مرتسم کئے۔ یہ تحریک ۱۸۷۰ء تک جاری رہی۔
’’یہ افسوس ناک ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک چلی اس عظیم تحریک کو تاریخ کی کسی بھی کتاب میںنہ تو خاطر خواہ مقام ملا اور نہ ہی اسے مناسب سیاق میں پیش کیا گیا۔‘‘۲؎ (۲؎ ڈاکٹر کیو احمد : دی وہابی موومنٹ ان انڈیا)
وہابی تحریک کے شانہ بہ شانہ فریدپور کے پیر شریعت اللہ، اور میر نثار علی کی سرپرستی میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے معاونین جاگیرداروں، زمینداروں اور مہاجنوں کے استحصال کے خلاف ایک اور تحریک برپا تھی جسے تاریخ میںفرازیہ تحریک کے نام جانا جاتا ہے۔ شکست خوردہ پژمردہ مسلمانوں کو حیات نو عطا کرنے اور انھیں سامراجی جبرواستبداد سے نجات دلانے کے لئے سیاسی آزادی حاصل کرنا اس تحریک کا مقصد تھا۔ یہ آزادی کی شمع پر نثار ہونے والے ایسے جیالے ہندوستانیوں کا گروہ تھا جو مادرِوطن کو کسی بھی قیمت پر فرنگیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کا متمنی تھا۔ میر نثار علی سے تحریک پاکر محمد معصوم جنھیں لوگ ’ٹیٹو میر‘ کہتے تھے میر نصرالی کی قیادت والی متحدہ فوج میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے پورنا کے زمیندار اور بدریا کی نیل فیکٹری کے مقامی گورنر کے ظلم کے شکار ہندوؤں اور مسلمانوں کے استحصال کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس بغاوت میں سبھی طبقے سے تعلق رکھنے والے کاشتکار شامل تھے۔ ۱۷؍نومبر ۱۸۳۹ء کو ہونے والی اس بغاوت کو تاریخ میں ’باراسات بغاوت‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دو اور جنگوں میں جس میں کلکتہ کی فوج کی ایک حصے کو شکست فاش ہوئی کئی انگریز افسر زخمی ہوئے اور کمانڈر الیگزینڈر کو جان بچا کر بھاگنا پڑا۔اس کے بعد نارکیل بیریا میں ہونے والی جنگ میں بالآخر انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے ۳؍دسمبر۱۸۳۲ء کو جدوجہد آزادی کا جانباز مردِ مجاہد ٹیٹو میر شہید ہو گیا، اور اسی کے ساتھ باراسات بغاوت اختتام پزیر ہوئی۔
’’ بنگالی قصوں اور لوک گیتوںمیں وہ اب بھی سامراج واد مخالف مجاہد آزادی اور ہندوستان کی آزادی کے امر شہید کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔‘‘۳؎ (۳؎بحوالہ شانتی مے رے : آزادی کا آندولن اور بھارتی مسلمان ص۹)
میر نصرالی کی قیادت والی بغاوت کے اختتام کے بعد’ دادو میاں‘ کے نام سے مشہور ان کے بیٹے محمد محاسن نے غریب دیہی عوام میں معاشرتی و مذہبی بیداری پیدا کرنے کے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا اور عوام الناس میں جدوجہد آزادی کے انقلابی و سیاسی شعور کو فروغ بخشا۔ ۱۸۴۰ء میں دادو میاں نے مظلوم کسانوں کو برٹش حکومت کے خلاف متحد کیا ، تاریخ میں ان کے جاں نثاروں کی تعداد اسی ہزار ملتی ہے۔ انقلاب ۱۸۵۷ء کے دوران انھیں گرفتار کیا گیا، بغاوت فرو ہونے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا لیکن آبائی گاؤں پہنچتے ہی پھر گرفتار کر لیا گیا۔قید میں ہی ان کی صحت بگڑ گئی اور ۱۸۶۰ء میں انتقال ہوا۔ انھیں غریبوں کے ایسے مسیحا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کے لئے مستقبل کے مجاہدین آزادی کے لئے انقلابی وراثت چھوڑی۔
انقلابِ ۱۸۵۷ء ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی وہ عظیم بغاوت ہے جو۱۰؍ مئی کو فوجی بغاوت کے طور پر شروع ہوئی، جس میں موجودہ اترپردیش، بہار، ہریانہ، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش جیسے علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب،گجرات، مہاراشٹر اور مشرقی ہند کے حصے بھی شامل تھے۔ اس بغاوت کے تحت برٹش فوج سے براہ راست جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں محبانِ وطن نے اپنی جانیں قربان کیں۔ تقریباً دس ہزار لوگوں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا یا توپوں کے دہانوں پر باندھ کر اڑا دیا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
روایتی مؤرخین نانا صاحب، تاتیہ ٹوپے، جھانسی کی رانی لکشمی بائی، کنور سنگھ کا نام بہادر مجاہدوں کے طور پر لیتے ہیں، ظاہری طور پر انھیں بھلایا نہیں جا سکتا، منگل پانڈے کو جنھوں نے بنگال میں علم بغاوت بلند کیا تھاانھیں بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ فیض آباد کے شہر قاضی مولوی احمداللہ کو، جنھوں نے ۱۸۵۷ء میں برٹش حکومت کے خلاف بغاوت منظم کرنے میں اہم کردار نبھایا…ایک اور اہم شخصیت عظیم سیاست داں عظیم اللہ خان تھے جنھوں نے ۱۸۵۷ء کی بغاوت عظیم میں اہم کردار نبھایا…رانی لکشمی بائی کی بہادری ہندوستان بھر کے گھر گھر میں جانی جانے لگی ویسے ہی اودھ کے معزول حاکم واجد علی شاہ کی اہلیہ بیگم حضرت محل کی بھی ہونی چاہیے تھی۔ رانی لکشمی بائی جیسے حالالت میں وہ ۱۸۵۷ء میں حکومت برطانیہ کے خلاف بغاوت میں اٹھ کھڑی ہوئیں…سخت تکلیفوں اور پریشانیوں سے جوجھتے ہوئے انھوں نے شاید نیپال کے پہاڑی علاقے میں اپنی آخری سانسیں لیں ۴؎ (۴؎ شانتی مے رے : آزادی کا آندولن اور بھارتی مسلمان ص۲۱۔۲۰)
علاوہ ازیں بے شمار مجاہدین آزادی ایسے ہیں جن کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور جن کا کوئی نام تک نہیں جانتا،ایسے غیر معروف مجاہدین آزادی کی ایک کثیر تعداد ہے، مثال کے طور پر عباس بیگ مرزا، عبدالقیوم خان، عبدالرحیم خان، عبدالرحمن خان، عبدالرحمن پٹھان، عبداللہ شیخ، افسریار خان نواب، ابو عباس مرزا، عابدالدین عباس مرزا، اکبر خان، اکبر شکوہ مغل، علاؤالدولہ، علاؤالدین شیخ، علی بہادر، علی بخش شیخ، علی گوہر، علی محمد، اللہ بخش، امن علی سید، امانت علی، امیر علی، اسد علی خان، اصغر خان، اصغری بیگم، عطاء اللہ خان، اعظم علی، اعظم بیگ، عظیم بیگ، بہادر خان، بندہ علی، بندے علی، بابا صاحب، چندا بخش، داؤد شاہ، دیام خان، دلدار خان، دل شیر خان، دولہا، فیاض صاحب، فیض علی، فیض اللہ قاضی، فقیر صاحب، فقیر الدین، فتح شاہ خان، فیاض علی، مولوی فضلِ حق، غضنفر علی، غلام غوث خان، غلام قطب الدین شیخ، غلام یحیٰ، جلال الدین، سعادت خان، مولوی سیف اللہ، سلامت علی، سردار علی خان، سردار خان،سرفراز خان، شفاعت علی، سید داد خان، وزیر خان، واحد علی، ولی شکوہ مرزا، وارث علی، شیر یار خان، زبردست خان، ظفر خان، ظہیرالدین مغل، ظالم علی وغیرہ صرف چند نام ہیں، ان کے علاوہ ایسے فراموش کردہ ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے ،اس چھوٹے سے مضمون میں ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتاان کے ذکر کے لئے ایک پوری کتاب درکار ہے۔
’شیخ الہند‘ کے نام سے معروف دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد کہے جانے والے مولانا محمودالحسن نے ۱۸۷۷ء میں ایک تنظیم ’ثمرۃالتربیت‘ کے نام سے قائم کی جس کا مقصد حکومت برطانیہ کے خلاف ایک مسلح بغاوت کی تیاری کرنا تھا۔ ۱۸۸۰ء میں شیخ الہند کے استاد مولانا محمد قاسم نانوتوی کے انتقال کے باعث یہ تنظیم کچھ کمزور پڑ گئی، اس لئے شیخ الہند نے ۱۹۰۹ء میں اپنے فدائین کو ’ جمعیت الانصار‘ نامی نئی تنظیم کے تحت ایک بار پھر جمع کیا۔ اس نئی تنظیم کے انتظامی امور سنبھالنے کے لئے مولانا عبیداللہ سندھی کو بھی دیوبند بلا لیا۔ ۱۹۱۱ء میں پہلی بار’ جمعیت الانصار‘ کا اعلان دارالعلوم کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔ ہندوستان و بیرونِ ہند کے تیس ہزار علماء کی موجودگی میں اس تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے اور جنگ آزادی کی ضرورت کو پیش کیا گیا۔ اس تنظیم کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہوئی اور اس کی پہلی حکومت مخالف ریلی ۱۹۱۱ء میں منعقد ہوئی۔ ۱۹۱۲ء اور ۱۹۱۳ء میں حکومت برطانیہ کے خلاف عوامی غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے اجلاس عام منعقد کئے گئے جس میں عوام نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔جمعیت الانصار کی عوامی مقبولیت نے برٹش حکومت کی جڑیں ہلا دیں۔ چنانچہ ۱۹۱۳ء میں جمعیت الانصار پر پابندی عائد کر دی گئی۔
۱۹۱۳ء میں ’جمعیت الانصار‘ پر پابندی کے فوراً بعد آزادی کے یہ پروانے ’نظارۃ المعارف‘ نامی تنظیم کے ساتھ دہلی میں یکجا ہوئے۔ اس نئی تنظیم کا مقصد صرف وطن عزیز کی آزادی تھا۔مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبیداللہ سندھی اور شیخ الہنداسی تنظیم میں خفیہ ملاقات کیا کرتے تھے۔پہلی جنگ عظیم شروع ہونے کا فائدہ اٹھانے کے لئے علماء نے مسلح بغاوت کی تیاری شروع کر دی۔ اس کے لئے شیخ الہند نے مولانا عبیداللہ سندھی کو کابل روانہ کیا اور خود مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ء کو مکہ پہنچ کر وہاں کے ترک گورنر غالب پاشا سے ملاقات کی، گورنر نے انگریز حکومت کے خلاف ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا۔ بدقسمتی سے جنگ عظیم میں ترکی کی شکست سے شیخ الہند کا آزادیٔ ہند کا خواب اس وقت پورا نہ ہو سکا۔ اس بیچ کابل پہنچ کر مولانا سندھی نے جلا وطن حکومت قائم کی، جس کے وہ خود اور مولانا برکت اللہ بھوپالی وزیر مقرر ہوئے اور جموں کشمیر کے مہاراجا پرتاپ سنگھ صدر بنائے گئے۔ نومبر ۱۹۱۵ء میں’ لشکر نجات دہندہ‘ کے نام سے ایک فوجی جماعت کی تشکیل عمل میں آئی، جس کا مرکز مدینہ منورہ تھا، اور شیخ الہند اس کے کمانڈر ان چیف مقرر ہوئے۔ دریں اثنا’ جنودِ ربّانیہ‘ کے نام سے ایک بین الاقوامی جماعت کی تشکیل ہوئی جس کا مقصد انگریزی استعماریت کے خلاف آزادی کی تحریک کے سلسلے میں عالمی برادری سے تعاون طلب کرنا تھا۔ شیخ الہند اس کے قائد مقرر ہوئے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے کابل سے ایک خط عرب میں مقیم شیخ الہند کے نام لکھا جس میں کابل کی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ جدو جہد آزادی کا تفصیلی خاکہ اور ان مقامات اور افراد کے نام بھی درج تھے جو مسلح بغاوت کی قیادت کرنے والے تھے۔ یہ خط ایک ریشمی رومال پر تحریر کیا گیا تھا اسی لئے اس تحریک کا نام ہی’ تحریک ریشمی رومال‘ پڑ گیا۔ تقدیر کی ستم ظریفی کہ یہ خط حکومتِ برطانیہ کے ہاتھ لگ گیا، جس کے نتیجے میں ۲۲۲ قائدین گرفتار کر لئے گئے۔ شیخ الہند اور ان کے رفقاء مولانا وحید احمد فیض آبادی، مولانا عزیز گل،حکیم سید نصرت حسین اور مولانا حسین احمد مدنی کو گرفتار کرکے مالٹا بھیج دیا گیا، جہاں انھیں تین سال چار ماہ کی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ مالٹا کے یہ قیدی رہائی کے بعد ۸؍جون ۱۹۲۰ء کو بمبئی پہنچے۔ لیکن مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا محمد میاں منصور انصاری کو کئی سال جلا وطنی کی زندگی بسر کرنی پڑی۔
’ریشمی رومال‘ کا پردہ فاش ہو جانے اور اہم قائدین کے گرفتار ہو جانے کے بعد علماء نے مارچ ۱۹۱۹ء میں ایک تنظیم ’جمعیت العلمائِ ہند‘ کے نام سے قائم کی، جس کے پہلے صدر مولاناکفایت اللہ منتخب ہوئے۔اس تنظیم نے جدوجہد آزادی کے لئے عدم تشدد کو اپنا طریقۂ کار بنایا۔اس کی پہلی کانفرنس ۲۸؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی صدارت میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں شیخ الہند اور مولانا ابوالکلام آزاد کی رہائی کے لئے آواز بلند کی گئی۔ ۹؍جون ۱۹۲۰ء کو الہ آباد میں منعقدہ خلافت کانفرنس میں ترک موالات کا فیصلہ لیا گیا۔ ۱۹؍جولائی ۱۹۲۰ء کو ایک بیان جاری کرکے تحریک ترک موالات کا اعلان کیا گیا۔ بعد میں ۲۹؍اکتوبر کو ایک اور مفصل فرمان جاری ہوا جسے ’الجمعیۃ‘ نے پانچ سو علماء کے دستخط کے ساتھ شائع کیا۔ ۴؍ستمبر ۱۹۲۰ء کو جمعیت العلمائِ ہند کی ایک کانفرنس میں ایک تجویز پاس کی گئی۔ اس تجویز میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت برطانیہ سے کسی بھی طرح کا تعلق اور تعاون حرام ہے۔ برٹش حکومت نے اس فتوے کو غیر قانونی قرار دیا اور ۱۸؍ستمبر کو اس فتوے کی اشاعت اور تقسیم کے جرم میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا محمد علی جوہر، مولاناشوکت علی، مولانا نثار احمد کانپوری، پیر غلام مجددی اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کو گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۸ تا ۲۰؍نومبر ۱۹۲۱ء جمعیت کی تیسری کانفرنس میں غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کی تجویز پاس ہوئی۔ بائیکاٹ کی حمایت کے جرم میں تیس ہزار افراد کو گرفتا کر لیا گیا، ان میں بیشتر علماء مسلم مجاہدین آزادی تھے۔
اس کے بعد منعقد ہونے والی جمعیت کی کئی کانفرنس میںمکمل آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس درمیان بڑی تعداد میں علماء جمعیت کے پرچم تلے جمع ہوتے گئے، ان میں مولانا حبیب الرحمن عثمانی، سید سلیمان ندوی اور انور شاہ کشمیری جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ۱۹۲۹ء میں گاندھی جی کے ڈانڈی مارچ کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا فخرالدین، مولانا سید محمد میاں اور مولانا بشیر احمد بھاٹیہ کے علاوہ دیگر اہم قائدین گرفتار ہوئے۔ ۱۹۳۰ء کے جمعیت کے نویں اجلاس میں کانگریس کے ساتھ اتحاد اور مکمل تعاون کی تجویز پاس ہوئی۔ سول نافرمانی تحریک میں بھی جمعیت نے کھل کر حصہ لیا۔ مفتی کفایت اللہ نے۱۱؍مارچ ۱۹۳۲ء کو ایک لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل جلوس نکالااور دہلی کے آزاد پارک میں گرفتاری دی۔ اس دوران حصولِ آزادی تک جمعیت کے متعدد علماء ملک کے مختلف حصوں میںگرفتار کئے گئے۔ حتیٰ کہ انگریزوں کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ جمعیت العلمائِ ہند آج تک کسی نہ کسی طور پر متحرک ہے اور ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہتی ہے۔
جس وقت جدوجہد آزادی اپنے عروج پر تھی پنجاب میں ایک مفکر، ریاضی داں، فلسفی، سیاستداں اور انقلابی نمودار ہوا۔ محض ۱۸ ؍برس کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی کے ایم اے ریاضی میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرکے دنیا کو انگشت بہ دنداں کر دیا۔ اس نابغۂ روزگار شخصیت کا نام عنایت اللہ خان مشرقی تھا جو تاریخ میں’ علامہ مشرقی‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ علامہ مشرقی نے ۱۹۳۰ء میں ایک تحریک کی بنیاد ڈالی جسے خاکسار تحریک کہتے ہیں۔ اس تحریک میں ہر مذہب، طبقے اور فرقے کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس تحریک نے اپنی فوج تیار کی۔ تاریخ میں دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ۱۹۴۰ء تک اس تحریک میں ۴۰؍لاکھ خاکسار شامل ہوچکے تھے جو ۱۹۴۶ء کے آخر تک ۵۰؍لاکھ ہو گئے۔ ہندوستان کی جنگِ آزادی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی آرمی تھی۔ علامہ مشرقی کی اپیل پر خاکساروں کا ایک گروہ ملک کے طول و ارض میں سفر کرکے عوام کو تحریک سے منسلک ہونے کی ترغیب دیتااور تحریک کے لئے فنڈ جمع کرتا تو دوسری طرف اس تحریک سے وابستہ خاکساروں نے ہر قسم کی قربانی کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہ ’خاکسار‘ خاکی وردی میں ملبوس پریڈ کرتے اور ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کرتے۔
اپنی تیاری کے مد نظر علامہ مشرقی انگریزوں کے نشانے پر تھے۔ کئی بار ان کے خلاف قانون کے دائرے سے باہر جاکر ایکشن لئے جا چکے تھے لیکن یہ تحریک روز افزوں ترقی کرتی جا رہی تھی۔ ۱۹۳۹ء میں خاکسار تحریک کے حریت پسندوں نے اتر پردیش میں برٹش حکومت کو اکھاڑ پھینکا اور اپنی متوازی حکومت قائم کر لی یہاں تک کہ اپنی کرنسی بھی جاری کر دی۔ اس قدم نے انگریز حکام کو چراغ پا کر دیا اور انھوں نے خاکسار تحریک کو مٹانے کے لئے کاروئیاں تیز کر دیں۔ ۱۹؍مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور میں خاکساروں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں خاکساروں کو گرفتار کیا گیا۔ انگریزوں کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے با وجود علامہ مشرقی کی قیادت میں یہ تحریک آگے ہی بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ انگریزوں کو ہندوستان کو آزاد کرنے کی کاروائی شروع کرنی پڑی۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں بیک وقت دو ایسی شخصیات موجود تھیں جن کے افکار یکساں تھے۔ اور حصولِ آزادی کے لئے ان کا لائحۂ عمل بھی ایک تھا۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس اور علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے، بلکہ علامہ مشرقی اور خاکسار تحریک کی قربانیاں نیتاجی اورآزاد ہند فوج سے کہیں عظیم ہیں۔ اس کے باوجود نیتاجی سبھاش چندر سے تو سب واقف ہیں لیکن عنات اللہ خاں مشرقی کا نام تک یاد نہیں۔
جدوجہد آزادی کے درمیان جو تنظیمیں خاموش تماش بین بنی رہیں جنھوں نے اپنے کارکنان اور ہمنواؤں کو اس میں شامل ہونے سے روکا، ملک کے آزاد ہونے کے بعد وہی وطن پرستی کی سب سے بڑی دعوے دار بن گئیں۔حد تو یہ ہے کہ انگریزوں سے اپنی رہائی کے لئے بارہا معافی مانگنے والے ساورکر کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور ’ویر‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ ستم بالائے ستم کہ انڈمان کے ائیر پورٹ کے علاوہ دیگر کئی مقامات کے نام تبدیل کرکے ساورکر کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس کے علاوہ پارلیامنٹ کے اندرساورکر کی تصویر آویزاں کی گئی۔ سالاہاسال سے عوام الناس کے دلوں میں فرقہ پرستی کے جو شعلے بھڑکائے جارہے تھے وہ بالآخر ایک آتش فشاں کی شکل میں پھٹ پڑے۔ اس کے نتیجے میں بابری مسجد کی شہادت، گجرات قتل عام اور موجودہ دور میں رونما ہونے والے دیگر واقعات، جن میں ہجومی تشدد سر فہرست ہے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پہلے درسی کتب اور اب میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کی جس طرح کردار کشی کی جا رہی ہے اس سے نہ صرف غیر مسلموں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کا جذبہ پنپ رہا ہے بلکہ ہماری نئی نسل بذات خود احساس جرم کا شکار ہو کر سراسیمگی کے عالم میں مبتلا ہے۔ وقت اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نئی نسل کو اسلاف کی قربانیوں سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا دنداں شکن جواب دے سکیںاور فرقہ پرستوں کو یہ باور کرا سکیں کہ اس ملک میں آزادی کی شمع ہمارے اجداد کے لہو سے روشن ہے، اس لحاظ سے اس ملک پر ان سے زیادہ ہمارا حق ہے۔
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں