کیا ہوا سر جو تن سے جدا ہو گیا (غزل)
کیا ہوا سر جو تن سے جدا ہو گیا
حق محبت کا کچھ تو ادا ہو گیا
یہ مقدر بھی کیسی عجب چیز ہے
شاہ تھا جو کبھی، وہ گدا ہو گیا
سب کی آنکھوں کا تارا رہا عمر بھر
اس نے سچ جب کہا تو برا ہو گیا
زخم جانے ہی کتنے ہرے ہو گئے
آج ان سے مرا سامنا ہو گیا
جو وفاؤں کا پیکر تھا سب کے لیے
لوگ کہتے ہیں وہ بے وفا ہو گیا
تجھ سے شکوہ نہیں اے مرے ہم نشیں
ہاں مقدر ہی مجھ سے خفا ہو گیا
ایسا روٹھا وہ مجھ سے اے شاماؔ کہ بس
روح کا جسم سے فاصلہ ہو گیا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں