مکر و دغا فریب کا اک مایا جال ہے (غزل)
مکر و دغا فریب کا اک مایا جال ہے
وہ شخص جس کی سادگی اپنی مثال ہے
اک وائرس نے یوں ہمیں محصور کر دیا
کوئی نہیں یہ پوچھتا کیا حال چال ہے
نشتر لگائیں آپ تو مرہم کا ہو گماں
یہ ساحری بھی آپ کی واللہ کمال ہے
فیضانِ سیاست ہے یہ در در کا بھکاری
مل جائے اقتدار تو پھر مالامال ہے
قاتل بھی آپ اور مسیحا بھی آپ ہیں
یہ عشق کا معمہ سمجھنا محال ہے
انسانیت کے قتل پہ خاموش تماشا
اور جانور کی موت پہ شاماؔؔ وبال ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں