سلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادوگری

شاعر مشرق علامہ اقبالؔ کا یہ مصرعہ موجودہ حکومت کی پالیسی پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔ پچھلے سات برس کی حکومت کی کارگزاریوں سے قطع نظر اگر ہم محض گزشتہ سال مارچ سے اب تک ملک کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو مرکزی حکومت کی سحر سازی اور ابلہ فریبی کے بیّن ثبوت مل جائیں گے۔ ۱۹؍مارچ  ۲۰۲۰ء کو رات آٹھ بجے وزیر اعظم نریندر مودی عوام سے خطاب کرتے ہیں اور ملک میں بڑھتے کورونا کے اثرات سے لوگوں کو واقف کراتے ہیں۔ ساتھ ہی ۲۲؍مارچ کو جنتا کرفیو کا اعلان کر تے ہیں اس کے علاوہ عوام سے میڈیکل اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے لئے شام پانچ بجے سے پانچ منٹ تک تالی، تھالی اور گھنٹی بجانے کی اپیل بھی کرتے ہیں۔ عوام ا لناس شام پانچ بجے تک توکرفیو پر پوری طرح عمل پیرا رہتے ہیں لیکن پانچ بجتے ہی جلوس کی شکل میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ مودی جی کے حکم کو نقارۂ خدا سمجھنے والے ’ اندھ بھکتوں‘ کی اس حرکت اور خود مودی جی کی شعبدہ بازی پرطرح طرح کے سوال اٹھنے لگتے ہیں تووہ ۲۴؍ مارچ کو رات آٹھ بجے ٹی وہ پر نمودار ہو کر رات بارہ بجے سے اچانک اکیس دن کے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیتے ہیں۔ ملک میں افراتفری اور خوف و ہراس کا ماحول بن جاتا ہے اور لوگ طرح طرح کے سوال کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً غریبوں کے کھانے کا کیا انتظام ہوگا؟ مریضوں کو طبی سہولیات کیسے فراہم کی جائیں گی؟ جو لوگ اپنے گھروں سے دور دوسرے شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں وہ اپنے گھر کیسے پہنچیں گے؟ جب کہ چین، یورپ اور امریکا میں کورونا نے تباہی مچا رکھی تھی تو ایسے میں تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو ملک میں داخل کیوں ہونے دیاگیا؟ جب کورونا کے مریض دوسرے ملکوں سے آرہے تھے تو ان کو کورنٹائن کرنے کا انتظام کیوں نہیں کیا؟ عالمی ادارۂ صحت WHO کے لگاتار خبردار کرنے کو باوجود کورونا سے نبرد آزما ہونے کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟ نمستے ٹرمپ پروگرام کا انعقادکیوں گیا؟ شیو راج سنگھ چوہان کی تخت نشینی کے لئے لاک ڈاؤن کیوں ٹالا گیا؟ راہل گاندھی کے بروقت متنبہ کیے جانے کے باوجود وزارت صحت نے خاطر خواہ توجہ کیوں نہ دی؟ بلکہ اس کے برعکس غیر سنجیدہ بیان کیوں دیا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب مرکزی حکومت کے پاس نہیں تھے۔ 

اس بیچ ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے آئینے میں مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کی جملے بازی اور بدنظمی واضح طور پر نظر آنے لگی۔ ملک کے مختلف حصوں سے اس وبا سے تحفظ کے لئے حفاظتی کٹ کی عدم دستیابی سے متعلق ڈاکٹروں اور نرسوں کی شکایات آنا شروع ہو گئیں۔ اکثر اسپتالوں میں بستر کی کمی، غلاظت، آکسیجن کی کمی، وینٹیلیٹر کا شدید بحران، میڈیکل اسٹاف کی قلت، ایمبولینس کی ناقص سہولیت حتیٰ کہ کورونا کی جانچ کے لئے سب سے اہم ٹیسٹنگ کٹ بھی فراہم نہ ہونا حکومت کے لئے ایک چیلنج بن گیا۔ دہلی کے آنند وہار میں دیگر شہروں اور صوبوںسے آئے مزدوروں کی بھیڑ جمع ہو گئی جو کہ خوراک کی کمی کے سبب بھوک سے بے حال تھے اور اپنے گھر جانا چاہتے تھے۔ فصلیں جو کہ کھیتوں میں تیار کھڑی تھیں اور انھیں کاٹ کر محفوظ مقام تک پہنچانا ضروری تھا جب کسان اپنی فصلوں اور مویشیوں کی نگہداشت کے لئے باہر آئے تو ان پر پولیس نے بربریت کی انتہا کر دی، شہروں میں غریب مزدور جو کھانے اور مکان کے کرائے کا انتظام نہ کر سکے وہ مجبوراً پیدل ہی اپنے گھروں کے لئے نکل پڑے ان پر بھی پویس نے تشدد کیا۔ ان حالات میں ملک بھر میں حکومت کے خلاف زبردست غم و غصہ بھر گیا۔

مذکورہ ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے حکومت کو کسی ایسے سہارے کی ضرورت تھی جس میں الجھ کر عوام حکومت سے سوال کرنا بھول جائیں۔ سخت ترین حالات میں اس حکومت کے لیے مسلمان ایک ایسی ڈھال ہیں جو اسے نہ صرف تنقید کے تیر ونشتر سے بچاتے ہیں بلکہ حکومت کے تئیں اندھ بھکتوں کی بھکتی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ حکومت کو وہ ڈھال دہلی کے تبلیغی مرکز کی شکل میں مل گئی۔ پھر کیا تھا مرکزی حکومت کے ساتھ دہلی کی کیجریوال حکومت بھی اس لاٹری کو بھنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں لگ گئیں۔ بی۔ جے۔پی۔ کے آئی ٹی سیل کے ساتھ میں گودی میڈیا نے یہ باور کرانے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی کہ کورونا ہندوستان میں تبلیغی جماعت کے سبب پھیلا ہے، اور ہمیشہ کی طرح سارے اہم مسائل پس پشت جا پڑے ا ور ملک میں کورونا سے بھی خطرناک وائرس تبلیغی جماعت اور مسلمان بن گئے۔ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک سیلاب امڈ پڑا۔ جگہ جگہ تبلیغی جماعت کے کارکنان کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ نفرت کی آگ کچھ اس طرح پھیلی کہ لوگوں نے حکومت سے سوال کرنا چھوڑ دیا اور مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے لگے۔ حتیٰ کہ غریب مسلم سبزی فروشوں سے سبزی تک خریدنے سے انکار کر دیا۔

اسی دوران بھکتوں سے اپنی بھکتی کا ٹیسٹ لینے کے لیے مودی جی ایک بار پھر ٹی۔ وی۔ پر جلوہ افروز ہوئے اور ۵؍اپریل کی رات نو بجے نو منٹ کے لیے گھروں کی لائٹ بند کرکے موم بتی، دیا اور ٹارچ جلانے کا ٹاسک دیا۔ مودی جی کے فراہم کردہ اس ٹاسک سے ملک کے پاور گرڈ پر ایک زبردست خطرہ لاحق ہو گیا جسے بڑی مشکل سے پاور کارپوریشن کے انجینئرس نے سنبھالا، لیکن مودی جی اپنے مشن میں کامیاب رہے۔ اندھ بھکتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی مودی جی کے سحر میں قید ہیں۔اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لئے بھکتوں نے نہ صرف دیا موم بتی جلائی بلکہ پٹاخے چھوڑ کر باقاعدہ دیوالی منا ڈالی۔ کسی کو یہ بھی احساس نہیں رہا کہ ملک اس وقت ایک بڑی مشکل سے گزر رہا ہے، ایسے میں اظہار افسردگی کے بجائے لوگوں نے خوشیاں منائیں اور مشعل جلوس تک نکال کر سوشل ڈسٹنسنگ کا خوب مذاق اڑایا۔

کورونا کے خلاف جنگ تین ہفتے میں جیتنے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم نے غیر دانشمندانہ اور آمرانہ طور پر پورے ملک کو سوا دو مہینے مکمل اور اس کے بعد جزوی لاک ڈاؤن میں رکھ کر ملک کی معیشت تباہ کر دی۔ مجموعی گھریلو پیداوار(GDP) کی شرح نمو تقریباً منفی ۲۴فیصد تک گر گئی۔ بے شمار لوگ بے روزگار ہو گئے، افلاس زدہ کسان و مزدور بھوک سے بے حال ہو گئے، کاروباری طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی، لیکن اس کے فوراً بعد بہار اسمبلی انتخابات میں ہندو مسلم کا راگ چھیڑ کر حکمراں جماعت ایک بار پھر مشکل سے ہی سہی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ حکومت نے عوام کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے عین کورونا لاک ڈاؤن کے درمیان رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا اور چند ماہ پہلے جو لوگ ہزاروں کلو میٹر کا پیدل سفر کرکے اپنے گھر واپس لوٹے تھے، جنھوں نے اپنا روزگار گنوایا تھا، کتنے ہی اپنوں کی جان کا زیاں برداشت کیا تھا ہندو مسلم ، مندر مسجدمیں سب کچھ بھول گئے یہاں تک کہ بہار اسمبلی میں ایک بار پھر وہی لوگ بر سر اقتدار آ گئے جو ان سارے حالات کے ذمہ دار تھے۔

’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘ کے مصداق ابھی زندگی معمول پر آئی ہی تھی، لوگوں نے کچھ راحت کی سانس لی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سارا کریڈٹ خود لیتے ہوئے کورونا سے جنگ جیتنے کا اعلان کر دیا۔ جب سارے ملک کو ویکسین فراہم کرنے کی اہم ذمہ داری مرکزی حکومت پر تھی تو دیگر ممالک کو ویکسین درآمد کرکے وزیر اعظم واہ واہی لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔ حکومت کی لاپرواہی اور ویکسین کی عدم دستیابی کے سبب ملک میں ایک بار پھر کورونا کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ ملک کے طول و ارض سے وبا کے زور پکڑنے کی خبریں آنے لگیں لیکن حکومت نے اس دوسری لہر کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اتنا ہی نہیںملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ جن کے کاندھوں پر اس وبا سے نمٹنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری تھی وہ آسام، بنگال و دیگر ریاستوں میں الیکشن میں اپنی حکومت بنانے کی فکر میں مصروف رہے۔ جب کووڈ۱۹ کے ضابطوں کو سختی سے نافذکیا جانا تھا سیاسی جماعت بی جے پی اور اس کی حکومت کے اعلی عہدے دار لاکھوں کی ریلی کرنے میں مصروف تھے۔ انتخابات جیتنے کے لیے ایک بار پھر وہی کارآمد حربہ یعنی فرقہ وارانہ منافرت بروئے کار لایا گیا۔ تمام تر انتظامی و حکومتی ناکامیوں کے با وجود نفرت کی سیاست کامیاب ہوئی اور آسام میں بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ مغربی بنگال میں اگرچہ اسے حکومت بنانے میں کامیابی نہیں ملی لیکن نفرت کے سوداگر یہاں بھی کسی حد تک زہر گھولنے میں کامیاب رہے۔بی جے پی جسے پچھلے الیکشن میں محض تین نشستیں ملی تھیں اس بار ۷۷ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اسے ملنے والے کل ووٹوں میں 27.97فیصد کا اضافہ ہوا۔ نفرت کے سوداگروں کو ملنے والی اس زبردست حمایت سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت کی جادوگری پوری طرح کامیاب ہے۔نفرت کی کھائی کو گہرا کرنے اور حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنے میں الکٹرانک و پرنٹ میڈیا پیش پیش رہے۔ انہی کی بدولت بی جے پی کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہے۔

میڈیا طرف داری اور اپنے فرض سے روگردانی کے سبب کورونا کی دوسری لہر کی خبریں بر وقت عوام کے سامنے نہ آ سکیں، لیکن جیسے ہی پانچ ریاستوں کا انتخاب ختم ہوا ملک کا منظر نامہ یکسر تبدیل ہوتا نظر آیا۔ کورونا کے مریضوں کی تعداد میںروز افزوں اضافہ ہونے لگا اور ہر طرف موت رقصاں  نظر آئی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دہلی اور اتر پردیش سے ایسے خوفناک مناظر سامنے آنے لگے کہ انسان کا دل دہل جائے۔ ملک میں آکسیجن کی زبر دست قلت  ہو گئی۔ آکسیجن نہ ملنے کے سبب بڑی تعداد میں اموات ہونے لگیں۔ شمشان گھاٹوں پر مردے جلانے کے لیے لمبی قطاروں کے پیش نظر ٹوکن سسٹم نافذ کرنا پڑا۔ تنگ دستی کے سبب مفلوک الحال افراد اپنے مردوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں خریدنے سے بھی قاصر تھے لہٰذالاشوں کو یا تو ندیوں میں بہا دیا گیا یا پھر ندیوں کے کنارے دفن کر دیا گیا۔ ندیوں میں بہتی اور کنارے دفن کی گئی لاشوں کی ہولناک تصویروں نے نہ صرف ملک کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ ان تصویروں نے علامی سطح پر ہندوستان کی عزت خاک میں ملا دی۔ چار و ناچار میڈیا نے بھی کچھ تصویریں دکھائیں اور بہت ہلکے انداز میں حکومت سے سوال بھی کیے۔ لیکن جیسے ہی وبا کا زور کچھ کم ہوا حکومت اس کا سارا کریڈٹ خود لینے پر آمادہ ہو گئی ۔ وزارت صحت کی جانب سے ایسے اشتہار شائع ہونے لگے جن میں کورونا معاملوں کے لگاتار گرتے گراف کو دکھایا گیا ہے۔ کتنے لوگوں کی آکسیجن کی قلت، اسپتال میں جگہ نہ ملنے، دواؤں کی عدم دستایابی کے سبب موت ہو گئی اس سے قطع نظر سارا زور اس بات پر دیا جا رہا ہے کہ آج کتنے لوگ ٹھیک ہو کر گھر کو لوٹ گئے، جب کہ اب بھی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ ویکسین کے لیے تمام ملک میں لوگ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، بد انتظامی سے بے حال ہو رہے ہیں لیکن حکومت اشتہار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب تک کروڑوں لوگوں کو ویکسین فراہم کر چکی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین کی ایک خوراک  دی جا چکی ہے وہ دوسری خوراک کے لیے بھٹک رہے ہیں۔ میڈیا ایک بار پھر حکومت سے سوال کرنے کے بجائے اس کی مدح سرائی میں مصروف ہے۔ 

مالی خسارہ تو لوگ جلد بھول جاتے ہیںلیکن جنھوں نے اپنوں کو کھویا ہے شاید ان کے لیے ان باتوں کو بھولنا آسان نہ ہو۔ مستقبل قریب میں اتر پردیش اور پنجاب جیسی اہم ریاستوں میں الیکشن ہونا ہے۔ عوام کی ناراضگی کے مد نظر بی جے پی کواپنا اقتدار متزلزل نظر آ رہا ہے۔ ایسے حالات میں جب کہ حکومت کا سارا فوکس کورونا سے نمٹنے کے انتظامات پر ہونا چاہیے بی جے پی کو حکومتی و پارٹی کی سطح پر آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی فکر دامن گیر ہے۔ پارٹی اور آر ایس ایس کے اعلیٰ لیڈروں کی میٹنگ ہو رہی ہیں، پارٹی اور حکومت کے عہدے داروں کے رد و بدل پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر لوگوں کا ذہن اپنی ناکامی سے ہٹانے کے لیے ایک بار پھر مسلمانوں کو تختۂ مشق بنایا جا رہا ہے تاکہ ناراض ہندوؤں کو پھر سے اپنے حق میں کیا جا سکے۔ 

اس ضمن میں ۱۷؍مئی کو ضلع بارہ بنکی کی رام سنیہی تحصیل میں ایک مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ کے انہدام پر پابندی کے باوجود، ناراض ہندوؤں کو ہندو مسلم مسئلے میں الجھانے کے ارادے سے کیے گئے اس غیرقانونی انہدام کی سوشل میڈیا پر مخالفت کرنے پر اشرف علی نامی ایک نوجوان کو ایس ڈی ایم کو دھمکانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ۲۳؍مئی کو مظفر نگر کے کھتولی قصبے میں ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہاں بھی لوگوں نے مخالفت کی کوشش کی تو بھاری پولیس فورس تعینات کر کے ان کی آواز کو دبا دیا گیا۔ اس سے قبل بھی مافیا کے نام پر عتیق احمد، مختار انصاری وغیرہ کے مکانوں کی قرقی کی گئی اور  ان کی املاک کو منہدم کیا گیا۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑا نقصان پہنچایا گیا اور اس کے بانی محمد اعظم خان اور ان کے بیٹے پر لا تعداد مقدمات درج کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ یہی نہیں میرے استاد محترم پروفیسر علی احمد فاطمی صاحب کا مکان بھی منہدم کر دیا گیا جب کہ وہ سیاست سے کوسوں دور ہیں۔ ان کا واحد کام تعلیم و تعلم ہے۔ یہ ساری کارگزاریاں در اصل لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے اور فرقہ وارانہ فضا کو مکدر کرنے کے ارادے سے کیا جا رہا۔ فرقہ پرست جماعت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عوام کو کتنی بھی تکلیف پہنچ جائے لیکن وہ نفرت کے ماحول میں سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اس کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ 

فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے کے لیے مرکزی حکومت نے سی اے اے کے متنازعہ قانون کو پانچ ریاستوں میں نافذ کرنے کا گزیٹ جاری کر دیا۔ اس سے بھی اسے امید ہے کہ مسلمان برہم ہوں گے اور اس کی مخالفت کریں گے تو ہمیں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا موقع ملے گا۔اگرچہ حکومت فرقہ وارانہ منافرت کا ماحول بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور ملک کی غلام میڈیا اس میں حکومت کا بھر پور تعاون بھی کر رہی رہی لیکن اب تک اچھی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی بڑا رد عمل سامنے نہیں آیا جس سے ان کے مذموم ارادوں کی تکمیل ہو سکے۔ لیکن نفرت کے یہ سوداگر اسی پر اکتفا کرنے والے نہیں ہیں ابھی اور نئی نئی ترکیبیں آزمائی جائیں گی اور مسلمانوں کے ضبط و تحمل کا امتحان لیا جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتی کہ مسلمانوں کو بزدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بالکل خاموش رہنا چاہیے۔ اتنا ضرور ہے کہ اس حملے کا سامنا انتہائی دانش مندی اور ہوش مندی سے کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تنظیموں کو ایسی حرکات کو عدالتوں میں چیلنج کرنا چاہیے اور سڑکوں پر اترنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔تمام احتیاط کے باوجود ایک بات تو یقینی ہے کہ ہندو عوام کا ایک بڑا طبقہ ایک بار پھر ان کے سحر میں گرفتار ہونے والا ہے۔ 

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

ڈاکٹر جوہی بیگم

شعبۂ اردو ، الہ آباد ڈگری کالج

الہ آباد

مطبوعہ روزنامہ آگ لکھنؤ

قسط اول ۷ جون ۲۰۲۱ 

قسط دوم ۸ جون ۲۰۲۱

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا