اے اندلس تو حرمت مسلم کا امیں ہے
Islamic Spain
کالج میں علامہ اقبالؔ کی نظم مسجد قرطبہ پڑھاتے ہوئے جب کبھی طالبات سے مسجد قرطبہ کے بارے میں جاننا چاہا تو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ یہی نہیں اکثر نے تو اندلس اور ہسپانیہ کا نام بھی نہیں سنا ہوتا۔ اسپین کو سبھی جانتی ہیں کہ یہ یورپ کا ایک معروف ملک ہے۔ انھیں جب یہ بتایا جاتا ہے کہ آج کے اسپین اور پرتگال کو ہی اندلس، ہسپانیہ یا آئیبیریا کہتے ہیں، یہاں تک تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہوتی لیکن جیسے انھیں یہ بتایا جائے کہ اندلس پر مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال حکومت کی ہے تو حیرت سے ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ یہ تو خیر انڈرگریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی طالبات کی بات ہے، جن سے ہم اپنی تاریخ کے بارے میں تھوڑا بہت علم رکھنے کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن مایوسی ہاتھ لگتی ہے، اس سے بھی بڑھ کر کوفت اس وقت ہوتی ہے جب پختہ عمر تعلیم یافتہ طبقے سے اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کرنا چاہتی ہوں اور انھیں نا واقف محض پاتی ہوں۔ جب کبھی تاریخ اسلام سے ملت کی بے التفاتی کا محاسبہ کرتی ہوں تو دوسروں کے ساتھ خود کو بھی گناہ گار پاتی ہوں۔ تعلیم و تعلم کے بعد جو بھی وقت ملتا ہے اسے میں خود ادبی تنقیدی مضامین لکھنے، افسانوی ادب تخلیق کرنے اور شعر و شاعری میں لگاتی ہوں۔ میں نے اب تک ملت اسلامیہ کی تاریخ سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی سوائے ایک مضمون کے جو جنگ آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کے کردار سے متعلق تھا۔ الحمدللہ اس مضمون کو اہل علم کی طرف سے خوب سراہا گیا۔ زیر نظر مضمون میرے اسی احساس جرم کا ازالہ کرنے کی سمت میں ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
تاریخ اور جغرافیہ کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جغرافیہ سے واقفیت ہو تو نہ صرف یہ کہ تاریخ دلچسپ بن جاتی ہے بلکہ اسے سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ اردو میں تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے میں اکثر ایک دشواری پیش آتی ہے وہ یہ کہ مقامات کے نام عربی میں بیان کیے جاتے ہیں اگر ان مقامات کو نقشے میں تلاش کیا جائے تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ جگہ کہاں پر واقع ہے۔ مثال کے طور پر شام کی تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت اگر یہ معلوم بھی ہے کہ شام کو آج Syria کہتے ہیں تو دمشق کسے کہتے ہیں؟ قیاس کر لیا جائے کہ Damascus ہی دمشق ہے تو حلب کس نام سے تلاش کیا جائے؟ کیونکہ Aleppo ہی حلب ہے یہ تو کوئی قیاس بھی نہیں کر سکتا، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ بیان کرتے ہوئے مقامات، بلکہ جہاں ضروری ہو اشخاص کے ناموں کی بھی جدید یا انگریزی ناموں سے وضاحت کر دی جائے، لہٰذا میری کوشش ہوگی کہ مضمون کو جدید ذہن کی زبان میں اور اس کی رسائی میں رکھوں۔
باقاعدہ اندلس کی اسلامی تاریخ شروع کرنے سے پہلے ہم اس کا جائے وقوع سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے لیے آپ گوگل میپ میں اسپین کا نقشہ کھول کر اسے اور بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یورپ کے نقشے میں دیکھیں تو اس کے جنوب مغرب میں ایک جزیرہ نما (Peninsula) نظر آتا ہے جس میں آج دو ممالک اسپین اور پرتگال موجود ہیں۔ اس کے شمال مشرق میں ملک فرانس واقع ہے۔ تقریباً پورا اسپین، پرتگال اور فرانس کا کچھ حصہ (جنوبی) اسلامی اندلس میں شامل رہا ہے۔ اس جزیرہ نما کے جنوب میں افریقہ کا ملک مراکش (Morocco) واقع ہے۔ ایک جگہ پر سمندر اتنا تنگ ہو جاتا ہے کہ اس کی چوڑائی تقریباً تیرہ کلو میٹر رہ جاتی ہے۔ اتنی کم دوری کے باوجود ان دو ملکوں میں کافی اختلاف پایا جاتا تھا اور آج بھی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسپین پر گاتھ خاندان کی حکمرانی تھی۔ پادریوں نے وٹیزا نامی بادشاہ کو معزول کرکے لذریق (بعض نے لرزیق بھی لکھا ہے، انگریزی میں راڈرک اور اسپینی یا پرتگالی میں Rodrigo کہتے ہیں)کو تخت پر بٹھایا۔ اس وقت شمالی افریقہ کے ساحل پر عیسائی حکومت میں واحد شہر سبتہ (Ceuta) تھا جس کا قلعہ دار کونٹ جولین معزول بادشاہ کا داماد تھا۔ جولین کی ایک بیٹی اس وقت کے رواج کے مطابق شاہی محل میں رہتی تھی جس کے ساتھ راڈرک نے زنا بالجبر کیا۔ جب جولین کو یہ معلوم ہوا تو لڑکی کی ماں کی شدید بیماری کا بہانہ کرکے لڑکی کو راڈرک کے چنگل سے نکال لایا لیکن اس نے راڈرک کی حکومت کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی۔ اس وقت اسپین میں عوام بھی حکومت کے جبر و تشدد سے نالاں تھے۔ راڈرک اسپین سے واپسی پر قیروان (Kairouan-Tunisia) میں افریقہ کے مسلم گورنر جنرل موسیٰ بن نصیر سے ملا اور ان کو اسپین پر حملہ کرنے کی دعوت ان الفاظ میں دی:
’’موجودہ حکومت اندلس کی رعایا کے لیے ایک قہر الٰہی ہے۔ بنی نوع انسان کے حقوق جو محض انسان ہونے کی وجہ سے آپ پر عائد ہوتے ہیں آپ ان کو ادا کریں اور اہل اندلس کو اس جہنم سے جس میں وہ آج کل مبتلاء ہیں نجات دلائیں۔ بجز آپ کے دنیا میں اور کوئی طاقت ایسی نہیں جس کے پاس ہم اپنی فریاد لے کر جائیں اور اس کے ذریعے اس مصیبت سے آزادی پائیں۔‘‘ ۱؎
موسیٰ بن نصیر نے اسے تسلی دی اور ایک قاصد خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خدمت میں اندلس پر فوج کشی کی اجازت طلب کرنے کے لیے روانہ کیا۔ دریں اثناء موسیٰ نے اپنے کچھ ماہرین کو جولین کے ہمراہ طریف (بعض نے طارف لکھا ہے) کی قیادت میں اندلس روانہ کیا کہ خود جائزہ لے کر بتائیں کہ اندلس پر فوج کشی مناسب ہوگی یا نہیں۔
ادھر خلیفہ کی اجازت ملی ادھر طریف نے اندلس سے واپس آکر حالات سازگار ہونے کی رپورٹ دی۔ موسیٰ بن نصیر نے شرح صدر حاصل ہونے کے بعد طنجہ (Tanjeer-Morroco) کے گورنر طارق بن زیاد کو حکم دیا کہ وہ ایک فوج لے کر اندلس پر چڑھائی کرے۔ طارق بن زیاد سات ہزار کی نفری لے کر ساحل اندلس پر اترے۔ روایت ہے کہ:
’’اثنائے راہ میںطارق نے ایک خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کی معیت میں تشریف فرما ہیں۔ صحابہ کرام تلوار لٹکائے اور مونڈھوں پر کمانیں چڑھائے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طارق سے فرما رہے ہیں’’طارق اسی شان سے قدم بڑھائے جاؤ‘‘ پھر آپؐ نے اسے اس کو مسلمانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے اور اپنے وعدوں کو کو پورا کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد اس نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرامؓ کے جلو میں اندلس میں داخل ہوئے اور طرق اس مقدس جماعت کے پیچھے ہیں‘‘۔ ۲؎
طارق جس مقام پر اترے اس کا نام اسی جرنیل کے نام پر جبل الطارق یا Gibralter مشہور ہو گیا اور آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ابتدائی دنوں میں طارق نے چند چھوٹے چھوٹے قصبے فتح کر لیے۔ اندلس کے شاہ راڈرک کو جب ایک اجنبی فوج کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ ایک لاکھ سے زائد فوج لے کر طارق کے مد مقابل آپہنچا۔ اس درمیان موسیٰ بن نصیر نے طارق کے لیے مزید پانچ ہزار فوج بطور کمک روانہ کر دی جو طارق کی افواج سے جا ملی۔ اب اسلامی لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی جب کہ اس کے سامنے راڈرک کا ایک لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل لشکر جرار تھا۔ اس موقع پر طارق نے اپنی فوج کے سامنے ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور ان میں جوش شہادت بھر دیا۔اس تقریر سے پہلے طارق بن زیاد نے ان جہازوں کو جلانے کا حکم دے دیا جن پر سوار ہو کر اسلامی فوج اندلس کے ساحل پر اتری تھی۔( مؤرخین میں اس بات پر اختلاف ہے کہ جہازوں کو جلانے کا حکم کب دیا۔ بعض کے نزدیک ساحل پر اترتے ہی جہاز جلا دیے گئے جب کہ بعض کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایسا کیا، لیکن سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ جہاز جلا دیے گئے۔) طارق کی اس تقریر کے کچھ حصے تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہو گئے:
’’اَیُّھاالنَاس! اَیْنَ الْمَفَر؟ اَلْبَحَر مِنْ وَرَائِکُمْ وَالْعَدُوْ اَمَامَکُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ وَاللہِ اِلَّا َلصَدقَ وَالْصَبْر‘‘
ترجمہ: اے لوگو! جائے فرار کہاں ہے؟ تمھارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دشمن، اللہ کی قسم تمھارے لیے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔۳؎
جذبۂ شہادت کو مہمیز کرنے والے اس خطاب کا اثر یہ ہوا کہ پوری فوج انتہائی بے جگری سے لڑی۔ ایک ایسی فوج جو کہ جدید اسلحوں اور گھوڑوں سے مزین تھی، جس کی قیادت کئی نامی جرنیل اور حوصلہ افزائی بڑے بڑے پادری کر رہے تھے اور جو تعداد میں اسلامی فوج سے آٹھ گنا زیادہ تھی اگر اسے فتح حاصل ہو جاتی تو تاریخ میں اسے کوئی اہمیت حاصل نہ ہوتی لیکن اس جنگ میں اسلامی فوج فتح سے ہمکنار ہوئی جو نہ صرف تعداد میں آٹھ گنا کم تھی بلکہ ساری فوج پا پیادہ اور دیار غیر میں تھی۔ اس عظیم الشان فتح سے تمام بلاد اسلامی خصوصاً افریقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ تاریخی فتح ۱۹؍جولائی ۷۱۱ء مطابق ۲۸؍رمضان المبارک ۹۲ھ کو حاصل ہوئی۔ اس فتح سے جہاں اسلامی دنیا نے خوشی منائی وہیں ہسپانیہ کے باشندوں نے یوم نجات منایا کہ انھیں ظالم حکمراں سے نجات حاصل ہوئی۔
اس جنگ کے بعد طارق بن زیاد نے اندلس کے مشہور شہر قرطبہ (Cordoba) کی طرف پیش قدمی کی اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ انتہائی مضبوط شہر تھا، طارق نے اس کے محاصرے میں زیادہ وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے ایک نائب مغیث الرومی کو شہر کے محاصرے کی کمان سونپ کر خود طلیطلہ (Toledo) کی جانب کوچ کیا اور اس شہر کو فتح کر لیا۔ ادھر قرطبہ بھی مغیث الرومی کے ہاتھوں فتح ہو گیا۔ اس کے بعد دیگر چھوٹے شہر بھی ایک ایک کرکے فتح ہوتے چلے گئے۔ جون ۷۱۲ء میں موسیٰ بن نصیر ۱۸۰۰۰ کی فوج لے کر اندلس میں داخل ہوئے اور دوسرے راستے سے شہر در شہر تسخیر کرتے ہوئے طلیطلہ میں طارق کی فوج سے جا ملے۔ اس درمیان اشبیلیہ (Seville) اور ماردہ (Merida) جیسے اہم شہر موسیٰ کے ہاتھوں مملکت اسلامی میں داخل ہو گئے۔ موسیٰ اور طارق نے جہاں ایک بڑے علاقے کو بزور شمشیر فتح کیا وہیں متعدد شہر انتہائی آسان معاہدوں پر عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرکے اسلامی حکومت کا مطیع بنا لیا۔ ان عیسائی فرماں رواؤں سے جو معاہدے کیے گئے ان کا خلاصہ یہ تھا:
’’عیسائیوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے گی۔ ان کے گرجاؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے تمام معاملات انھیں کی مذہبی کتابوں اور مذہبی عدالتوں کے ذریعے طے ہوں گے۔ جو شخص اسلام قبول کرنا چاہے اس کو کوئی عیسائی منع نہ کر سکے گا۔ عیسائیوں کے جان و مال اور املاک کی حفاظت کی جائے گی۔‘‘۴؎
اسلامی فوج جو علاقہ فتح کرتی وہاں کے عوام بالخصوص یہودی، مسلمانوں کی خوب مدد کرتے جس کے نتیجے میں طارق لگاتار شمال کی جانب بڑھتے گئے اور فرانس میں داخل ہو کر جنوبی فرانس کا بھی کچھ حصہ فتح کر لیا، لیکن سردی کی شدت کے سبب انھیں واپس لوٹنا پڑا۔ طارق کے ہاتھوں اندلس کا جو آخری شہر فتح ہوا وہ خیخون (Gijon) ہے جو کہ خلیج بسکونیہ (Bay of Biscay) پر واقع ہے۔ اس کے بعد موسیٰ اور طارق فتح کا سلسلہ روک کر نظم و نسق درست کرنے میں منہمک ہوئے۔ دو سال سے بھی کم عرصے میں تقریباً پورا اندلس مملکت اسلامی میں شامل ہو گیا۔ موسیٰ بن نصیر نے قرطبہ کو اندلس کا دارالحکومت قرار دیا۔ اس درمیان خلیفہ ولید بن عبدالملک کا حکم آ پہنچا کہ فتوحات کا سلسلہ وہیں روک کر موسیٰ اور طارق دارالخلافت میں حاضر ہوں۔ موسیٰ بن نصیر نے اپنے بیٹے عبدالعزیز کو اندلس کا حاکم مقرر کیا اور دمشق کے لیے رخت سفر باندھا۔
موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد سیاسی وجوہات کے سبب دوبارہ اندلس واپس نہ آ سکے۔ اندلس میں بڑی تیزی سے فتوحات حاصل ہوئی تھیں لیکن انتظام و انصرام کی درستگی نہیں ہو پائی تھی۔ موسیٰ و طارق کے جانے کے بعد اندلس میں حالات خراب ہو گئے اور آئندہ آٹھ سو سالوں تک اسلامی حکومت ضرور قائم رہی لیکن اس میں متعدد زیر و بم آئے۔ کبھی کوئی مضبوط حکومت قائم ہوئی تو کبھی طوائف الملوکی کے حالات پیدا ہو گئے۔ ایک چھوٹے سے مضمون میں آٹھ صدیوں کی تاریخ کا احاطہ کرپانا ممکن نہیں اس لیے یہاں اس کا صرف ایک مختصر خاکہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اوپر ذکر ہوا کہ کس طرح طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے انتہائی قلیل وقت میں تقریباً پورے اندلس پر اسلامی پرچم لہرا دیالیکن ان کی واپسی کے بعد ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ ۷۱۴ء سے ۷۵۶ء تک علمی، تہذیبی اور سیاسی طور پر کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوئی، اس دوران اندلس میں ۲۲ گورنر تبدیل ہوئے۔ جب دمشق میں اموی خلافت کا خاتمہ ہوا اور عباسیوں نے چن چن کر امویوں کو قتل کرنا شروع کیا تو ایک اموی شہزادہ ’عبدالرحمن‘ جس کی عمر بیس سال تھی کسی طرح بچتا بچاتا اندلس پہنچ گیا۔ یہاں ایک کثیر تعداد بنو امیہ کے بہی خواہوں کی موجود تھی، ان کی مدد سے عبدالرحمن نے اندلس میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ اندلس کی تاریخ میں اسے عبدالرحمن اول یا عبدالرحمن الداخل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ گرچہ عبدالرحمن اول کو خاصی مشقت کرنی پڑی تاہم اپنی سوجھ بوجھ اور لیاقت کے سبب وہ ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ہشام نے کاروبار سلطنت سنبھالا۔ ان دونوں کے عہد میں مسلمانوں نے جنوبی فرانس کے کئی شہر فتح کیے۔ عبدالرحمن الداخل نے شہر قرطبہ میں مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی اور مسجد کی تعمیر پر کثیر رقم خرچ کی لیکن اس کی حیات میں یہ تعمیر مکمل نہ ہو پائی، اس کی موت کے بعد ہشام نے یہ تعمیر مکمل کروائی۔ اس کی شان و شوکت میں بعد میں آنے والے سلاطین نے بھی بیش بہا اضافہ کیا۔ افسوس کہ ہمارا یہ قیمتی سرمایہ آج کیتھیڈرل (Cathedral) میں تبدیل کر دیا گیااور ملت کی نوجوان نسل اس زیاں سے واقف تک نہیں۔علامہ اقبالؔ نے اپنے سفر اندلس میں مسجد قرطبہ میں اذان دی اور نماز ادا کی (اس وقت مسجد بند تھی لیکن علامہ کے استاد پروفیسر آرنلڈ کی سفارش پر گورنر کے خصوصی حکم سے خاص طور پر علامہ کے لیے کھولی گئی تھی)۔ ان کی شہرۂ آفاق نظم مسجد قرطبہ ان کے اس وقت کے جذبات کی ترجمان ہے جو انھوں نے مسجد کے صحن میں بیٹھ کر لکھی۔ لیکن آج اسے ایک پبلک میوزیم اور کیتھڈرل بنا دیا گیا ہے، وہاں اذان دینا اور نماز ادا کرنا تو دور کی بات ہے احتراماً جوتا اتار کر بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔
تاریخ اندلس میں عبدالرحمن ثانی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس نے ۸۲۲ء میں حکومت سنبھالی۔ اس کے تیس سالہ دور حکومت میں انتظامی امور چست درست ہوئے، علوم و فنون نے خوب ترقی کی، سائنسی تحقیقات و ایجادات کا ایک نیا باب کھلا، صنعت و حرفت میں روز افزوں اضافہ ہوا اور تجارت بام عروج پر جا پہنچی، اندلس کی بحری طاقت مضبوط ہوئی اور ملک میں دولت کی فراوانی ہو گئی۔ عبدالرحمن ثانی کے بعد ایک بار پھر اندلس کی اسلامی حکومت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی حتیٰ کہ دسویں صدی عیسوی کے آغاز تک ضعف کی انتہا کو پہنچ گئی۔ ایک طرف مسلم رؤسا کی بغاوت اور خود مختاری کے اعلان سے جہاں اسلامی ریاست خانہ جنگی کا شکار تھی وہیں دوسری طرف عیسائی مشنریز پورے زور و شور سے اندلس سے اسلام کو مٹادینے کے درپے تھیں۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ اندلس میں مسلمانوں کی حکومت بس کوئی دن کی بات ہے لیکن قدرت کو ابھی یہ منظور نہ تھا۔
۹۱۲ء میں عبدالرحمن ثانی کے پوتے عبداللہ کا اکیس سالہ پوتا عبدالرحمن ثالث ایک قریب المرگ سلطنت کا فرماں روا بنا۔ اس نے زمام حکومت سنبھالتے ہی انتہائی دانشمندانہ طریقے سے داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ اس نے اپنے ۴۹ سالہ دور حکومت میں نہ صرف ملک میں امن و امان قائم کیا بلکہ عیسائی ریاستوں کو بھی اپنا مطیع فرمان بنالیا۔ یہ اندلس کا پہلا حکمران ہے جس نے خلافت کا اعلان کیا۔ اس وقت بغداد کی عباسی خلافت کمزور ہو چکی تھی اور مصر میں خلافت کے دعوے دار عبیدین چونکہ شیعہ تھے اس لیے اندلس کے مسلمانوں کو ان سے کوئی رغبت نہ تھی لہٰذا عبدالرحمن ثالث کے اعلان خلافت کی کوئی قابل ذکر مخالفت نہ ہوئی اور وہ ’الناصرالدین اللہ‘ کا لقب اختیار کر تاریخ میں عبدالرحمن الناصر کے نام سے موسوم ہوا۔ اس نے شمالی اندلس کی عیسائی ریاستوں کی سر کوبی کی یہاں تک کہ تمام عیسائی ریاستوں نے ’’صٰغِرُون‘‘ہونا قبول کر لیا (قرآن کا حکم ہے ’’جنگ کرو ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اس کو حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں‘‘)۵؎۔ اتنا ہی نہیں بیرون اندلس یورپ کے حکمراں بھی الناصر کو خوش اور راضی رکھنے کے لیے قیمتی تحائف بھیجتے اور باہمی اختلافات کے حل کے لیے خلیفہ کی خدمت میں عرضداشت پیش کرتے۔ الناصر اہل علم و فن کی بڑی قدر دانی کرتا۔ اس کے عہد میں تقریباً پوری دنیا سے با کمال لوگ کھنچ کر اندلس پہنچ گئے۔ دربار خلافت سے سب کی عزت افزائی کی جاتی۔ خلیفہ عبدالرحمن الناصر تعمیری ذوق میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے مساوی تھا۔ اس نے تعمیر پر بے شمار رقم خرچ کی۔ مسجد قرطبہ جس کی تعمیر عبدالرحمن اول اور ہشام کے عہد میں ہی مکمل ہو گئی تھی الناصر نے اس کی توسیع اور تزئین پر خطیر رقم خرچ کی۔ اس نے اپنی بیوی زہرہ کے لیے قرطبہ سے چار میل کے فاصلے پر ایک محل قصر الزہرۃ کی تعمیر کروائی۔ یہ عمارت اس قدر وسیع تھی کہ لوگ اسے مدینۃ الزہرۃ کہنے لگے اور یہ اسی نام سے تاریخ میں معروف ہے۔ اس کا طول چار میل اور عرض تین میل تھا۔ عیسائیوں نے جب قرطبہ فتح کیا تو اس عظیم الشان عمارت کا نام و نشان مٹا دیا۔ عبدالرحمن الناصر نے اتحاد بین المسلمین کے لیے قابل قدر کارنامہ انجام دیا یہاں تک کہ تنگ نظر مولویوں کو بھی باہمی اختلاف چھوڑ کر دین کی اصل روح کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا۔ اکبر شاہ نجیب آبادی رقم طراز ہیں:
’’اس خلیفہ نے جو سب سے بڑا کام کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور گروہوں میں جو خانہ جنگی برپا رہتی تھی اس کو بالکل مٹا دیا۔ ہر ایک جماعت اور ہر ایک گروہ کو اس کے مرتبہ کے مطابق سلطنت کی طرف سے حقوق حاصل تھے اور کوئی گروہ سلطنت کا دشمن نہ تھا۔‘‘ ۶؎
خلیفہ عبدالرحمن الناصر کا عہد اسلامی اندلس کا بہترین عہد ہے۔ اس دور میں ملک میں امن و امان قائم ہوا، تجارت کو فروغ حاصل ہوا، اور اس نے عیسائیوں کی کمر توڑ دی۔ جہاں خلیفہ نے ایسی شاندار کامیابی حاصل کی وہیں اس سے ایسی غلطی سرزد ہو گئی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ الناصر کے عروج کے دور میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ اندلس سے نہ صرف بنو امیہ کی خلافت کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اندلس میں خدائے واحد کا نام لیوا ایک بھی فرد نہیں رہ جائے گا۔ خلیفہ اگر چاہتا تو تمام عیسائی ریاستوں کو یکسر مٹا کر ہمیشہ کے لیے عیسائی فتنے کا سدباب کر سکتا تھا لیکن اس نے ان ریاستوں کو باقی رہنے دیا اور صرف اطاعت اور جزیہ پر ہی اکتفا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۹۶۱ء میں الناصر کی موت کے بعد بہت جلد سلطنت میں ضعف کے آثار نمودار ہونے لگے اور پچاس سال کے اندر اندر پورا اندلس خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ پورے ملک میں متعدد امراء نے خود مختاری کا اعلان کر دیا اور آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے۔ اس دور کو اندلس کی تاریخ میں طوائف الملوکی کے پہلے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
بنو امیہ کی خلافت کے کمزور ہونے کے سبب اندلس میں گیارہویں صدی عیسوی کے آغاز سے ہی طوائف الملوکی کے حالات پیدا ہو گئے جو صدی کے آخر تک قائم رہے۔ مسلم مملکت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی نتیجتاً عیسائی حکمرانوں نے رفتہ رفتہ اسلامی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ جن علاقوں پر عیسائی قبضہ کرتے وہاں مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و ستم ڈھاتے۔ لاچار و بے بس مسلم حکمران محض تماش بین بنے رہے۔ ان ایام میں مراکش میں مرابطون کی حکومت قائم تھی اور ان کا سلطان یوسف بن تاشفین(اکبر شاہ نجیب آبادی نے تاشقین لکھا ہے) مسلمانوں کا خیر خواہ تھا اور امت کی بہبود کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کا جذبہ رکھتا تھا۔ اسے جب اندلس کے مسلمانوں کی حالت زار کی خبر ملی تو بے چین ہو اٹھا۔ اس درمیان اندلس کے کچھ حکمرانوں بالخصوص والی ٔ اشبیلیہ (Seville) معتمد نے اس سے اندلس آنے اور مسلمانوں کی مٹتی شناخت بچانے کی درخواست کی تو یوسف بن تاشفین ۱۰۰ جہازوں کے بیڑے کے ساتھ بارہ ہزار فوج لے کر وارد اندلس ہوا۔ یوسف بن تاشفین کا ساتھ دینے کے لیے اندلس کے بھی کچھ حکمراں جن میں معتمد سر فہرست ہے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ اس طرح کل بیس ہزار (بعض نے تیس ہزار لکھا ہے) سپاہ کا سامنا لیون (Leon) کے شاہ الفانسو چہارم کی ساٹھ ہزار افواج سے ہوا۔ یوسف بن تاشفین نے الفانسو کی افواج کو بری طرح تہہ تیغ کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ الفانسو صرف تین لوگوں کے ساتھ فرار ہوا۔ اتنی بڑی فوج میں چند سو سپاہی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔یہ تصادم معرکۂ زلاقہ کے نام سے معروف ہے۔ اس جنگ میں غیر معمولی فتح سے اندلس میں ایک بار پھر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم ہو گیا۔ اس عظیم کامیابی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اندلس کے مسلم حکمران اپنی نادانیوں سے سبق حاصل کرتے اور متحد ہو جاتے لیکن صد افسوس کہ یوسف بن تاشفین کے واپس جاتے ہی وہ ایک بار پھر آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے۔ ان حالات میں ناچار یوسف بن تاشفین نے اندلس کے علماء اور عوام کے اصرار پر ۱۰۹۱ء میں اندلس کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا، اس طرح ایک بار پھر اندلس میں مستحکم اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ اندلس کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کے بعد یوسف بن تاشفین پندرہ سال حیات رہا۔۱۱۰۶ء میں یوسف کی موت کے بعد اس کے وارثان زیادہ دنوں تک اپنی حکومت قائم نہ رکھ سکے صرف ۵۴ سال تک حکمرانی کے بعد مرابطون کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ ایک مختصر وقفہ ہے پھر بھی ان کے عہد میں اندلس میں امن و امان اور خوش حالی ایک بار پھر سے بحال ہو گئی تاہم علمی و سائنسی تحقیقات جو بنو امیہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے متاثر ہوئی تھی اس میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ مرابطون کے سیاسی زوال کے نتیجے میں:
’’اسلامی اندلس بہت ہی چھوٹے چھوٹے کثیرالتعداد ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ شہر شہر اور قصبے قصبے الگ الگ سلطنتیں قائم ہو گئیں اور سب نے شاہانہ خطاب و لقب اپنے لیے تجویز کر لیے۔ یہاں تک بھی کچھ افسوس کی بات نہ تھی بشرطیکہ سب ایک دوسرے کے دشمن نہ بنتے۔ لیکن سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپس میں ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے پر آمادہ ہو گئے اور تمام اسلامی اندلس لڑائیوں اور ہنگامہ آرائیوں کے شور و غل سے گونج اٹھا‘‘۷؎
مرابطون کی کمزور سیاسی قیادت کے سبب اندلس میں جو طوائف الملوکی کا دور شروع ہوا تھا خوش قسمتی سے وہ زیادہ دن باقی نہ رہا۔ مراکش میں محمد بن عبداللہ تومرت نامی ایک عابد و زاہد شخص نے اپنے مریدین کی تعداد میں خاصہ اضافہ کر لیا اور پھر سیاسی قوت حاصل کرنے کی غرض سے مرابطون سے بر سر پیکار ہوا۔ وہ رفتہ رفتہ مراکش کے ایک بڑے علاقے پر قابض و متصرف ہو گیا۔ اپنی موت سے پہلے اس نے اپنے مرید خاص عبدالمومن نامی شخص کو اپنا جاں نشین مقرر کیا۔ تومرت کی موت کے بعد عبدالمومن نے نہ صرف مراکش بلکہ اندلس پر بھی اپنی حکومت قائم کی۔ عبدالمومن چونکہ اللہ کی کامل توحید کا قائل تھا اور اس کی کسی صفت کو اس کی ذات سے جدا تصور نہیں کرتا تھا اس لیے اس کے مریدین کو موحدون کہا جاتا ہے۔ اس نے مراکش میں اپنی حکومت مستحکم کرنے کے بعد ایک سردار ابو عمران موسیٰ بن سعید کو اندلس روانہ کیا۔مسلم حکمرانوں کی آپسی چپقلش کے سبب اب تک اسلامی اندلس کا ایک بڑا حصہ عیسائیوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔ ابو عمران نے فتح کا آغاز کیا اور کچھ دنوں میں اشبیلیہ (Seville) اور قرطبہ (Cordoba) جیسے بڑے شہر دوبارہ حاصل کر لیے۔ ابو عمران کے اندلس آمد کے تقریباً بارہ برس بعد عبدالمومن اندلس آیا۔ اس کی آمد پر اندلس کے تقریباً سبھی حکمران حاضر خدمت ہوئے اور اطاعت اور فرماں برداری کا یقین دلایا۔ اس طرح سارا اندلس ایک بار پھر ایک مضبوط اسلامی حکومت سے وابستہ ہو گیا۔ مراکش اور اندلس کے اندرونی خطرات سے فارغ ہو کر عبدالمومن نے ایک بڑے جہاد کی تیاری شروع کر دی تاکہ شمالی اندلس سے عیسائی حکومتوں کا خاتمہ کرکے پورے یورپ میں اسلامی حکومت قائم کر سکے۔ اس کے لیے اس نے ہزاروں جہاز بنوائے اور تقریباً پانچ لاکھ فوج تیار کر لی لیکن اس کی زندگی نے وفا نہ کی اور فوجوں کی روانگی کے قبل ہی مالک حقیقی سے جا ملا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابو یعقوب تخت نشیں ہوا۔ عبدالمومن جس مہم کو روانہ کرنا چاہتا تھا ابو یعقوب اندرونی الجھنوں کے باعث اسے عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ اتنا ضرور ہے کہ جن عیسائی ریاستوں نے شرارت کی اس نے ان کی خوب گوشمالی کی۔ ابو یعقوب کی موت کے بعد اس کا بیٹا ابو یوسف تخت نشیں ہوا اور اپنا خطاب منصور باللہ رکھا۔ابو یوسف منصور نے بھی اندلس میں مسلمانوں کی قوت کو کمزور نہ ہونے دیا۔ وہ علماء فضلاء کا بڑا قدردان تھا ساتھ ہی فوج کی حوصلہ افزائی کے لیے انھیں تحفوں سے نوازتا رہتا تھا۔ اپنے باپ کی طرح منصور بھی کبھی اندلس کبھی مراکش میں رہا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا ابوعبداللہ محمد تخت نشین ہوا اور اپنا لقب ناصرالدین اللہ رکھا۔ یہ انتہائی کم ہمت اور بخیل شخص تھا۔ اس نے فوجوں کو دیے جانے والے بونس بند کر دیے۔ وہ ہمیشہ جنگ و پیکار سے پرہیز کرتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو اپنی ہی فوج بادشاہ سے بددل ہو گئی دوسری طرف عیسائیوں نے پورے یورپ سے اندلس کے مسلمانوں کے خلاف بڑی عسکری قوت جمع کر لی۔ مجبوراً ابو عبداللہ کو بھی جہاد کا اعلان کرنا پڑا اور ایک بڑی فوج لے کر میدان جنگ میں آیا۔ اس فوج کی اکثریت اپنے حاکم سے نالاں تھی لہٰذا ایک بڑی فوج کو عیسائیوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی۔ بڑی مشکل سے ابوعبداللہ میدان جنگ سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ شکست کھا کر ابوعبداللہ اشبیلیہ پہنچا اور پھر مراکش چلا گیا جہاں کچھ دنوں بعد اس کا انتقال ہو گیا۔
۱۲۱۲ء میں پیش آنے والی اس جنگ کو معرکۂ العقاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ العقاب کے معرکہ نے اندلس میں مسلمانوں کی جڑیں ہلا دیں۔ مستقبل میں اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے میں اس جنگ کو اہم موڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شاید یہ اندلس کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب فوجی سبقت کے باوجود مسلمان جنگ ہار گئے۔ جنگ میں فتح کے بعد عیسائیوں نے مسلمانوں کی خوب قتل و غارت گری کی۔ یہی شکست موحدون کی حکومت کے زوال کا بھی سبب بنی۔ ابو عبداللہ کے بعد یکے بعد دیگرے اس کے دو بیٹے تخت نشیں ہوئے اس کے بعد ابو عبداللہ کا بھائی عبدالواجد عادل تخت نشیں ہوا لیکن یہ سبھی حکومت کو استحکام نہ بخش سکے۔ بالآخر موحدون کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ العقاب کے معرکہ کے بعد اندلس میں ایک بار پھر طوائف الملوکی کا دور شروع ہو گیا۔ جس کو جہاں موقع ملا خود مختار بن بیٹھا۔ عیسائیوں نے ان ملوک الطوائف کو ہضم کرنا شروع کیا اور ایک ایک کرکے مسلم ریاستیں ان کے قبضے میں چلی گئیں سوائے غرناطہ (Granada) کی ریاست کے جو ۱۴۹۲ء تک قائم رہی۔
موحدون کی حکومت کے خاتمے پر اندلس میں جو طائفے قائم ہوئے ان میں غرناطہ کی ریاست سب سے دیر پا ثابت ہوئی۔ نصر بن یوسف نامی شخص نے (جو کہ ابن الاحمر کے نام سے معروف ہے) ۱۲۳۲ء میں غرناطہ (Garanada) اور مالقہ (Malaga) پر قبضہ کرکے ایک سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس کا خاندان اپنے بانی نصر کی نسبت سے بنو نصر کہلایا۔ اسلامی اندلس کی تاریخ میں کسی ایک خاندان کی یہ سب سے طویل حکمرانی ہے جس کا وقفہ ۲۶۰ سال ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ اندلس کی مسلم ریاستیں عیسائیوں کے قبضے میں جا رہی تھیں ابن الاحمر نے بڑی ہوشیاری سے اپنی ریاست بچائے رکھی۔ اولاً اس نے قسطلہ (Castile) کے عیسائی حکمراں فرڈیننڈ ثالث (Ferdinand III) کو کچھ قلعے دے کر اپنی طرف سے بے فکر رکھا، لیکن جب ایک ایک کر تمام مسلم ریاستوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا تو ان کی نظر ابن الاحمر کی ریاست پر ٹیڑھی ہوئی۔ ابن الاحمر نے انتہائی دانشمندی سے نہ صرف اپنی قوت میں اضافہ کیا بلکہ موحدون کے بعد افریقہ اور مراکش میں قائم ہونے والی حکومت بنی مرین کے بادشاہ یعقوب عبدالحق سے دوستانہ مراسم پیدا کر لیے۔اس دوستی کے نتیجے میں جب بھی ابن الاحمر کو عیسائیوں سے خطرہ لاحق ہوا یعقوب نے فوری مدد کی۔ اس طرح اس نے بار بار عیسائیوں کو پسپائی پر مجبور کیا۔
ابن الاحمر نے غرناطہ میں قصر الحمرا کی بنیاد رکھی جو آج بھی ہسپانیہ میں اسلامی شان و شوکت کا گواہ ہے اور عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے۔ ابن الاحمر کی موت کے بعد اس کا بیٹا ابو عبداللہ محمد معروف بہ محمد فقیہ تخت نشین ہوا۔ شروع میں اس نے باپ کی پیروی کرتے ہوئے مراکش کے حاکم یعقوب عبدالحق مرینی سے رشتہ قائم رکھا جس کا اسے فائدہ بھی ہوا ۔ جب عیسائیوں نے عہد شکنی کر اس کی سلطنت کے خلاف سازش کی تو اس نے مراکش سے امداد طلب کی۔ شاہ مراکش یعقوب نے فوری طور پر اپنے بیٹے کی سربراہی میں فوج روانہ کی اور اس کے پیچھے خود بھی محمد کی مدد کو اندلس پہنچا۔ محمد فقیہ نے مراکش کے شاہ کا استقبال کیا اور ظریفہ نامی قلعہ فوجی چھاؤنی قائم کرنے کے لیے یعقوب کو نذر کیا۔ اس طرح سلطنت غرناطہ عیسائیوں کے شر سے محفوظ ہو گئی، لیکن یعقوب کے دوسری مسلم ریاستوں کے ساتھ دوستانہ مراسم دیکھ کر محمد فقیہ فکر مند ہوا اور عیسائیوں کو مدد دے کر یعقوب کو قلعہ ظریفہ سے بے دخل کرنے کی ترغیب دی۔ اس طرح خود اپنی سلطنت کے لیے بحری مدد کا راستہ بند کر دیا۔ محمد فقیہ کے بعد اس کا بیٹا محمد مخلوع تخت نشیں ہوا جسے اس کے بھائی نصر بن محمد نے بغاوت کرکے گرفتار کر لیا اور خود تخت پر قابض ہو گیا۔ بعد میں اس نے بھائی کو قتل کروا دیا۔ نصر بن محمد کے سلطنت سنبھالتے ہی جہاں عیسائی بادشاہوں نے اس کے اوپر یلغار کر دی وہیں مالقہ (Malaga) کے حاکم ابو سعید نے (جو ابن الاحمر کا بھتیجا تھا) علم بغاوت بلند کر دیا۔ اس طرح سلطنت غرناطہ خانہ جنگی کا شکار ہو گئی۔ ابو سعید اور اس کے بیٹے ابوالولید نے اپنے مقبوضہ علاقے بڑھانا شروع کیا۔ بالآخر ابوالولید نے غرناطہ کی فوج کو شکست دے کر تخت نشینی کے پانچ سال بعد نصر بن محمد سے اپنے حق میں تخت سلطنت سے دست برداری لکھوا لی۔
ابوالولید غرناطہ کے تخت پر ۱۳۱۴ء میں جلوہ افروز ہوااور مستحکم حکومت قائم کر لی۔ ابھی تک مسلمانوں کی خانہ جنگی سے محظوظ ہو رہے عیسائیوں کو اب یہ فکر ہوئی کہ اب پہلے سے بھی زیادہ جری اور مضبوط سلطان تخت نشیں ہو گیا لہٰذا انھوں نے اندلس سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کے لیے پورے یورپ میں کروسیڈ (مقدس جنگ) کا اعلان کر دیا۔ تمام یورپ سے جنگجو مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کے جنون میں طلیطلہ (Toledo) میں جمع ہونے لگے۔ اس طرح دو لاکھ سے زائد کا لشکر طلیطلہ میں جمع ہو گیا جس میں پچیس عیسائی حکمرانوں کی افواج مع سرداران شامل تھی۔ پوپ اعظم نے ہر سردار کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یورپ سے مسلمانوں کو یکسر مٹا دینے کی دعا کے ساتھ روانہ کیا۔ ادھر جب ابوالولید کو اتنی بڑی جنگی تیاری کا علم ہوا تو اس نے مراکش سے مدد طلب کی جو اسے نہ مل سکی، آخر کار وہ چار ہزار پیادہ اور ڈیڑھ ہزار سوار کل ساڑھے پانچ ہزار کی قلیل سی جماعت کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا۔ البسیرہ (Vega de Granada) کے مقام پر دونوں فوجوں کا سامنا ہوا۔ تیرہ مسلمانوں کی شہادت کے مقابلے ایک لاکھ سے زائد عیسائی جن میں بڑے بڑے سپہ سالار شامل تھے موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ جنگ کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں تاہم اتنا بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یورپین مؤرخین نے اس جنگ کی تفصیلات میں حقائق کی پردہ پوشی کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جنگ البسیرہ (Battle of Vega)کے نام سے مشہور یہ جنگ ۲۵؍جون ۱۳۱۹ء کو وقوع پذیر ہوئی۔
غرناطہ کی اسلامی ریاست میں متعدد نشیب و فراز آئے، کبھی کوئی سلطان مستحکم حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا اور عیسائی علاقے بھی فتح کیے، کبھی خانہ جنگی، اپنوں کی غداری اور نا اہل حکمرانوں نے سلطنت کو کافی نقصان پہنچایا۔ پھر بھی بنو نصر کی حکومت کا اندلس کی پرجوش اور متحد عیسائی مملکتوں کے درمیان ۱۴۹۲ء تک قائم رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ایک طویل وقفے سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم سیدھے سقوط غرناطہ پر پہنچتے ہیں۔ سقوط غرناطہ سے کوئی پندرہ سولہ برس قبل خاندان بنو نصر میں سے ابوالحسن اپنے باپ کی موت کے بعد تخت نشیں ہوا۔ عرصۂ دراز کے بعد غرناطہ کو ایک بہادر اور بے خوف حکمران ملا تھا۔ ان دنوں اسلامی مملکت سمٹ کر صرف غرناطہ اور اس کے گرد و پیش تک محدود ہو گئی تھی اور عیسائی حکمرانوں کو خراج ادا کرتی تھی۔ دوسری طرف اس سے قبل ۱۴۶۹ء میں عیسائی ریاست آراغون (Aragon) کی ملکہ ازابیلا (Isabella) اور قسطلہ (Castile) کے شاہ فرڈیننڈ (Ferdinand) نے آپس میں شادی کرکے دونوں ریاستوں کو ضم کردیا تھا۔ دونوں ہی حکمران انتہائی متعصب اور اسلام دشمنی میں پیش پیش رہنے والے تھے۔ دونوں کا مقصد اندلس سے مسلمانوں کا مکمل خاتمہ تھا۔ ایسے میں ابوالحسن نے عیسائیوں کو خراج دینا بند کر دیا اور جب فرڈیننڈ نے خراج کا مطالبہ کیا تو ابوالحسن نے انتہائی جرأت مندانہ اور تاریخی جواب دیا۔ اس نے کہا ’’غرناطہ کے ٹکسال میں عیسائیوں کو دینے کے لیے سکوں کے بجائے فولاد کی وہ تلواریں تیار ہوتی ہیں جو ان کی گردنیں اتار سکیں‘‘۔ ابوالحسن کے اس جواب نے فرڈیننڈ اور ازابیلا کو حواس باختہ کر دیا اور انھوں نے کچھ عرصے کے لیے خاموشی اختیار کر لی لیکن اسلامی ریاست کو اندلس سے نیست و نابود کرنے کی تیاری میں لگے رہے۔
آخر کار غرناطہ کے سرحدی مقام لوشہ (Loja) میں فرڈیننڈ اور ابوالحسن کی فوجیں متصادم ہوئیں۔ تعداد و قوت میں کمتر ہونے کے باوجود ابوالحسن نے فرڈیننڈ کو شکست فاش دی۔ ادھر ابوالحسن عیسائیوں کو دھول چٹا رہا تھا ادھر اس کا بیٹا غرناطہ میں باپ کے خلاف بغاوت کر بیٹھا۔ جب ابوالحسن کو خبر ملی کہ اس کے بیٹے ابو عبداللہ محمد نے خودمختاری کا اعلان کر دیا ہے تو مجبوراً مالقہ (Malaga) چلا آیا۔ چھوٹی سی اسلامی ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، مغربی حصے پر سلطان ابوالحسن کی حکومت قائم رہی جب کہ مشرقی حصے یعنی غرناطہ و اس کے قرب جوار پر اس کا بیٹا ابو عبداللہ محمد قابض ہو گیا۔ عیسائی اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے مالقہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے مقابلے کے لیے ابو الحسن اپنی فوج لے کر مالقہ سے باہر آیا اور عیسائیوں کو شکست سے دوچار کیا۔ ایک طرف ابوالحسن عیسائیوں سے برسرپیکار تھا دوسری طرف اس کا بیٹا ابو عبداللہ محمد مالقہ پر حملہ کرکے اسے باپ سے چھین لینے کے لیے روانہ ہوا۔ ابوالحسن نے اسے بھی شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کیا۔ بیٹے کو شکست دے کر ابوالحسن مالقہ واپس آیا تو اس پر فالج کا حملہ ہو گیا اور بصارت جاتی رہی۔ باپ کی طرف سے بے فکر ہو کر ابو عبداللہ محمد نے فوج جمع کی اور عیسائی علاقوں پر یلغار کر دی۔ ایک عیسائی سردار نے اسے جنگ میں دھوکہ دیا اور گھات لگا کر حملہ کیا۔ساری فوج ماری گئی ، ابو عبداللہ گرفتار ہوا اور شاہ قسطلہ کے پاس بھیج دیا گیا۔ غرناطہ کے عوام بے یارومددگار رہ گئے تو وہ سلطان ابوالحسن کے پاس مالقہ پہنچے اور اس سے غرناطہ آنے اور نظام حکومت سنبھالنے کی درخواست کی۔ اپنی خرابیٔ صحت کے سبب ابوالحسن نے اس سے پرہیز کرتے ہوئے اپنے بھائی ابو عبداللہ زغل کو غرناطہ کا حاکم مقرر کیااور خود کو حکومت سے الگ کرکے گوشہ نشینی اختیار کی۔
ابو عبداللہ زغل نے تخت نشیں ہوکر سلطنت کا انتظام و انصرام درست کیا۔ اس درمیان اس نے فرڈیننڈ کو کراری شکست بھی دی۔ مسلمان اگرچہ بہت کم رقبے پر قابض تھے اور انتہائی کمزور تھے پھر بھی فرڈیننڈ کا خیال تھا کہ اگر مسلمان متحد ہو گئے تو وہ ایک بار پھر پورے اندلس پر قابض ہونے کی قوت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس نے تھوڑے دنوں کے لیے میدان جنگ سے ہٹ کر سازشیں کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ سلطان زغل کا بھتیجا اور سابق سلطان ابوالحسن کا باغی بیٹا ابوعبداللہ محمد فرڈیننڈ کی قید میں تھا اس نے اپنے باپ کے اس باغی کو قید خانے سے نکالا اور اس کو یہ کہہ کر بھڑکایا کہ سلطنت کے اصل وارث اور حق دار تم ہو تمھارا چچا تو غاصب ہے۔ تم اگر اپنے چچا کے خلاف کوشش کرو تو میں تمھاری مدد کروں گا۔ جو علاقے تمھارے قبضے اور تصرف میں آ جائیں گے ان سے تعرض نہ کروں گا البتہ زغل کے علاقے میں اس کے پاس نہیں رہنے دوں گا۔ فرڈیننڈسے شہ پاکر ابوعبداللہ محمد مالقہ آیا اور مالقہ والوں کو سارا ماجرہ کہہ سنایا۔ مالقہ والوں نے یہ سوچ کر کہ اگر اس کو اپنا سلطان بنا لیں تو عیسائیوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں گے اس کی حکومت تسلیم کر لی۔ ابو عبداللہ نے اپنے چچا زغل کو لکھا کہ اگر وہ لوشہ (Loja) کا علاقہ اس کے حوالے کر دے تو وہ اس کے ساتھ صلح کر لے گا اور دونوں مل کر فرڈیننڈ کا مقابلہ کریں گے۔ لوشہ کا علاقہ غرناطہ کے دفاع کے لیے بہت اہم تھا، پھر بھی زغل نے یہ سوچ کر کہ آپس میں اتحاد ہو جائے گا تو مل کر فرڈیننڈ سے با آسانی نمٹ لیں گے لوشہ کا علاقہ ابو عبداللہ کے حوالے کر دیا۔ لوشہ کا قلعہ جسے فرڈیننڈ متعدد کوششوں کے باوجود حاصل نہ کر سکا تھا ابو عبداللہ نے تحفتاً اس کے حوالے کر دیا۔ ادھر جب مالقہ کے لوگوں کو ابو عبداللہ کی اس غداری کا علم ہوا تو انھوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی۔ فرڈیننڈ نے مالقہ کا محاصرہ کر لیا تو سلطان زغل مالقہ والوں کی مدد کے لیے غرناطہ سے نکلا۔ ادھر ابو عبداللہ نے غرناطہ کو خالی پاکر اس پر قبضہ کر لیا۔
ابوعبداللہ کو بیٹا کہہ کر اپنی مقصد براری کے لیے استعمال کرنے والے فرڈیننڈ کی اصلیت اب کھل کر سامنے آگئی۔ اس نے ابوعبداللہ کو کہلا بھیجا کہ غرناطہ کی چابیاں میرے حوالے کر دو اور اندلس سے نکل جاؤ۔ اب ابوعبداللہ کے ہوش ٹھکانے آئے، اس نے اہل غرناطہ سے مشورہ کیا تو الوالعزم مسلمانوں نے جاں بازی کا ثبوت دیتے ہوئے جم کر مقابلہ کرنے کی بات کہی۔ اہل غرناطہ کی فرڈیننڈ کی افواج سے جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں نے غرناطہ کے مضافاتی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اقتدار کی ہوس، اپنوں سے غداری اور دشمنی سے اندلس کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ہر بار قدرت نے غیر متوقع مدد کرکے اندلس سے مسلمانوں کا وجود مٹنے سے بچا لیا لیکن پھر بھی مسلمانان اندلس نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ وہی محمد بن سعد الزغل جو کچھ عرصہ پہلے اتحاد کی خاطر اپنے بھائی ابوالحسن کے حق میں اپنی سلطنت سے دست بردار ہو چکا تھا، حال ہی میں اپنے بھتیجے کو لوشہ کا قلعہ سونپ دیا تھا، اسی بھتیجے کو مضبوط ہوتا نہ دیکھ سکا اور فرڈیننڈ سے جا ملا۔ عیسائیوں نے زغل کی مدد سے غرناطہ کے مضافاتی قلعے ایک ایک کر کے پھر حاصل کر لیے۔ بالآخر غرناطہ پوری طرح سے محصور ہو کر رہ گیا۔ فرڈیننڈ نے زغل کو اس کی غداری کا یہ انعام دیا کہ اس سے کہہ دیا اب تم اندلس چھوڑ کر چلے جاؤ۔ اس طرح زغل مراکش جا کر گمنامی کی موت مرا۔
تمام خطروں سے فارغ ہو کر فرڈیننڈ اور ازابیلا نے اپنی پوری قوت غرناطہ کے محاصرے پر لگا دی۔ غرناطہ کے غیور مسلمان خاص طور پر سپہ سالار موسیٰ بن ابی غسان جان کی بازی لگا کر عیسائیوں پر حملہ کرنے کے خواہش مند تھے لیکن سلطاان ابو عبداللہ محمد ذہنی طور پر شکست قبول کر چکا تھا۔ اس نے فرڈیننڈ سے صلح کی گفتگو شروع کر دی آخرکار ایک صلح نامہ تحریر کیا گیا جس میں مسلمانوں کو جان، مال اور دین کی امان دی گئی تھی۔ (یہ بات دیگر ہے کہ اس پر کتنا عمل ہوا) صلح نامہ کے مطابق سلطان ابو عبداللہ محمد نے خود غرناطہ کی چابیاں ۲؍جنوری ۱۴۹۲ء کو فرڈیننڈ اور ازابیلا کے سپرد کیں۔ اندلس کے پادریٔ اعظم نے قصر الحمرا پر صدیوں سے لہرا رہا اسلامی پرچم اتار کر صلیب نصب کر دی۔ اس طرح اندلس سے آٹھ سو سالہ اسلامی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون۔
تاریخ اندلس کا مطالعہ کرکے دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے، کیا دوبارہ اسپین میں اللہ کا کلمہ بلند ہوگا؟ کیا پھر سے اسلام غلبہ حاصل کر پائے گا؟ موجودہ حالات اور مسلمانوں کی پستی کو دیکھ کر تو مایوسی ہی ہاتھ لگتی ہے۔ لیکن جب ہم اس سوال کا جواب احادیث نبویؐ میں تلاش کرتے ہیں تو بحر ظلمات میں امید کی کرن روشن ہوتی نظر آتی ہے۔ ارشادات نبویؐ ہے :
’’اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصے تک نبوت قائم رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصے تک خلافت قائم ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے۔ پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصے تک بادشاہت ہو گی وہ کچھ عرصے بعد زوال پذیر ہو جائے گی۔ اس کے بعد منہج نبوت پر پھر خلافت قائم ہوگی۔۸؎
’’روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہوگا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہل اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی اس کے مطیع ہو جائیں گے) ۹؎
متذکرہ بالا احادیث سے اس بات کا کامل یقین ہو جاتا کہ نہ صرف اندلس بلکہ تمام عالم پر ایک بار پھر اسلام کی حکمرانی ہوگی۔ اندلس کی اسلامی تاریخ کے کئی گوشے اس مضمون میں تشنہ رہ گئے، خاص طور پر اسلامی اندلس کی علمی، ادبی، سائنسی و تحقیقی خدمات، جدید دنیا آج بھی جن کی ممنون احسان ہے۔ اسباب سقوط بھی تفصیل طلب ہیں لیکن مضمون کی طوالت کے مد نظر دونوں کو آئندہ کے لیے مؤخر کرتی ہوںاور فی الحال اپنی بات کو اپنے ہی ایک قطعہ کے ساتھ ختم کرتی ہوں جو علامہ اقبالؔ کی نظم مسجد قرطبہ پڑھاتے ہوئے بے ساختہ نوک زبان پر آگیا۔
اے اندلس تو حرمت مسلم کا امیں ہے
مایوس نہیں گرچہ مرا دل یہ حزیں ہے
پھر نعرۂ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
اے قرطبہ شاماؔ کو مکمل یہ یقیں ہے
٭٭٭
حواشی
۱؎ اکبر شاہ نجیب آبادی :تاریخ اسلام جلد سوم ص ۲۸
۲؎ ریاست علی ندوی :تاریخ تاریخ اندلس ص۷۷۔۷۶
۳؎ محمد عبداللہ عنان :دولۃ الاسلام فی الاندلس العصر اول ص ۴۶
۴؎ اکبر شاہ نجیب آبادی :تاریخ اسلام جلد سوم ص ۳۶
۵؎ سورۃ التوبہ : آیت ۲۹
۶؎ اکبر شاہ نجیب آبادی :تاریخ اسلام جلد سوم ص۱۷۳
۷؎ اکبر شاہ نجیب آبادی : تاریخ اسلام جلد سوم ص ۲۲۳
۸؎ مسند احمد : حدیث نمبر ۱۲۰۳۴
۹؎ مسند احمد :حدیث نمبر ۱۰۶
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں