جذبات دل کے دل میں دبائے نہیں جاتے (غزل)

 جذبات دل کے دل میں دبائے نہیں جاتے

صدمات محبت کے اٹھائے نہیں جاتے


رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ

دل ایسے مخلصوں کے دُکھائے نہیں جاتے


رکھنا بہت سنبھال کے ان آنسوؤں کو تم

یہ قیمتی گہر یوں لٹائے نہیں جاتے


جو دوڑتے پھرے ہیں رگوں میں لہو کے ساتھ

وہ لوگ کبھی دل سے بھلائے نہیں جاتے


بجھتی ہوئی نظروں کو کوئی خواب اب نہ دو

گھر ریت کے ساحل پہ بنائے نہیں جاتے


ماضی کی قبر میں جنھیں دفنا چکے شاماؔ

دل سے کیوں ان کی یاد کے سائے نہیں جاتے


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا