یوں اشکوں کو چھپانا پڑ گیا ہے (غزل)

 یوں اشکوں کو چھپانا پڑ گیا ہے

لبوں کو مسکرانا پڑ گیا ہے


یقیں جس پر کیا خود سے زیادہ

اسی کو آزمانا پڑ گیا ہے


وفا کی بات بس رہنے ہی دیجے

یہ قصہ اب پرانا پڑ گیا ہے


کہ جس کو دیکھ کے جیتے تھے اب تک

اسی سے دور جانا پڑ گیا ہے


نہیں ہے تاب اس بے جان تن میں

پہ بار غم اٹھانا پڑ گیا ہے


جو شاماؔ نکلی اپنی جستجو میں

مرے پیچھے زمانہ پڑ گیا ہے


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا