سر زمین دکن میں اردو صحافت
انیسویں صدی میں اردو صحافت کی تاریخ در اصل قومی و سیاسی بیداری کی تاریخ ہے، جو ملک کی تحریک آزادی کے شانہ بہ شانہ ترقی پذیر ہوتی ہے۔ اس دور کے اردو اخبارارت نے قومی تحریکات خصوصاً ۱۸۵۷ء میں ہونے والی جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کی وجہ سے حکومت برطانیہ نے ہندوستانی پریس کو اپنا صریح دشمن مانتے ہوئے اس کی روز افزوں ترقی روکنے کے لیے کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا۔ کیوں کہ اس وقت کے زیادہ تر اخبار بلا واسطہ یا بالواسطہ آزادی کے خواہاں تھے، اور جد و جہد آزادی کی تحریک کو تقویت پہنچا رہے تھے۔ ان اخبارات میں حب الوطنی کے جذبے سے لبریز ایسے مضامین اور ترانے شائع ہوتے تھے جو عوام کے دلوں میں دبے ہوئے بغاوت کے شعلوں کو ہوا دیتے تھے، چنانچہ ان اخبارات اور ان کے صحافیوں کو انگریزوں کے قہر و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ لیکن انگریز حکام کی تمام تر چیرہ دستیوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود ۲۸؍مارچ ۱۸۲۲ء میں کلکتہ سے جاری ہونے والے اخبار ’جامِ جہاں نما‘ سے اردو اخبارات کی اشاعت کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا اور ملک گیر سطح پر چھوٹے بڑے اخبارات و رسائل کی اشاعت کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو گیا۔
اس دور میں ہندوستان کی تاریخ کا اردو زبان و ادب اور صحافت کے حوالے سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ سر زمین دکن اردو زبان و ادب کے آغاز و ارتقاء میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس وقت پورے جنوبی ہند میں جو اردو بول چال یا ادب میں رائج تھی اسے دکنی کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں لسانی سطح پر جب شمال و جنوب میں باہمی ربط و ضبط قائم ہوا اور فورٹ ولیم کالج کی لسانی و ادبی سرگرمیوں نے اردو نثر کے حسن و سادگی کو فروغ بخشا تو دکنی زبان کو بھی سنورنے اور نکھرنے کا موقع ملا۔ جس کے نتیجے میں دکنیت پر اردوئیت غالب آ گئی اور دکن میں اس کا رواج عام ہو گیا۔ ایسے میں کلکتہ سے شائع ہونے والے اخبارات و رسائل کی ملک گیر شہرت و مقبولیت نے دکن کی اردو صحافت کو بھی متاثر کیا۔
جہاں تک دکن میں اردو صحافت کی ابتداء کی بات ہے تو اس ضمن میں ٹیپو سلطان کے دور حکومت میں شائع ہونے والے ’فوجی اخبار‘ کو اولیت کا شرف حاصل ہے جس کا اجراء ۱۷۹۴ء میں ہوا۔ امداد صابری کے مطابق اردو کا یہ پہلا اخبار ٹیپو سلطان کے حکم سے ان کی فوج کے لیے سری رنگاپٹنم سے جاری کیا گیا تھا۔ بعض محققین نے دکن کی صحافتی تاریخ میں ’سفیر کرناٹک‘ اخبار کا بھی ذکر کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ’فوجی اخبار‘ اور نہ ’سفیر کرناٹک‘ کا کوئی شمارہ اب تک دریافت ہو پایا ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی بات قطعیت سے نہیں کہی جا سکتی۔ مگر یہ بات حقیقت ہے کہ مدراس میں لیتھو گرافی کے پریس کا قیام کلکتہ میں پریس کے قیام کے بعد وقوع پذیر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ شمالی ہند مثلاً دہلی اور لکھنؤ وغیرہ میں پریس کا قیام دکن کے بعد ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے ’جنوبی ہند میں اردو صحافت‘ کے مصنف ڈاکٹر افضل الدین اقبال کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ء سے پہلے ہی دکن میں کئی ایک مطابع قائم ہو چکے تھے۔ دکن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ حالات کا بغور مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے اردو اخبار کے اشاعت کی ناگزیر فضا ۱۸۴۱ء سے بہت پہلے قائم ہو چکی تھی۔
دکن میں اردو صحافت کا بغور جائزہ لینے پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ سر زمین دکن میں اردو صحافت کی تاریخ بہت تابناک رہی ہے۔ دکن میں اردو صحافت کا باقاعدہ آغاز ۱۸۴۱ء میں ’جامع الاخبار‘ کی اشاعت سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا جس کے مدیر سید رحمت اللہ تھے۔ لیکن’دکن میں اردو‘ کے مصنف مولوی نصیرالدین ہاشمی کے مطابق دکن کا پہلا اردو اخبار غالباً ’عمدۃالاخبار‘ ہوگا جس کی اشاعت ۱۷۹۶ء اور ۱۸۰۲ء کے مابین ہوئی ہوگی۔ جب کہ ڈاکٹر عبدالحق سابق صدر شعبۂ اردو مدراس یونیورسٹی اپنے تحقیقی مقالے میں ۱۸۴۸ء میں شائع ہونے والے ’اعظم الاخبار‘ کو دکن کا پہلا اردو اخبار بتاتے ہیں۔
مذکورہ بالا اخبارات کے علاوہ جن اخباروں کا شمار جنوبی ہند کے اولین اخبارات میں ہوتا ہے ان میں ہفت روزہ ’مخزن الاخبار‘ ۱۸۵۰ء، ’تعلیم الاخبار‘ ۱۸۵۱ء، ’شمس الاخبار‘ ۱۸۵۱ء، ’صبح صادق‘ ۱۸۵۴ء، ’طلسم حیرت‘ ۱۸۵۶ء خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے والے یہ اخبارات اپنی شستہ وصاف ستھری زبان اور دیگر گونا گوں خصوصیات کے باعث دکن کے علاوہ ملک کے دوسرے حصوں مثلاً دہلی، رامپور اور آگرہ وغیرہ میں بھی بہت مقبول تھے۔ خاص طور پر ’’جامع الاخبار‘‘ جس نے سماجی اصلاح کا بیڑا اٹھاتے ہوئے معاشرتی قباحتوں پر نہایت بے باکانہ تبصرے شائع کیے۔ اس اخبار کی دلیرانہ جرأت مندی کا یہ عالم تھا کہ اس نے برٹش حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں، معاشی استحصال، مکروفریب اور جبرواستبداد کے کریہہ چہرے کو بے نقاب کیا۔
اگر ہم ریاست کرناٹک میں اردو صحافت کی بات کریں تو یہاں سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’قاسم الاخبار‘ کو کرناٹک کا پہلا اخبار قرار دیا جاتا ہے جو ۱۸۶۰ء میں بنگلور سے جاری ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کرناٹک میں اردو صحافت کا باقاعدہ آغاز ’قاسم الاخبار‘ سے ہوتا ہے جو اپنے دور کا مقبول ترین اخبار تھا لیکن اس کی زبان پر دکنی کے اثرات زیادہ تھے۔ اس ضمن میں اخبار ’انجمن پنجاب‘ لاہور کے ۵؍فروری ۱۸۷۶ء کے شمارے میں شائع شدہ تبصرے کا یہ اقتباس قابل ذکر ہے:
’’بنگلور میں اخبار بڑے چار ورق پر چھپتا ہے۔ کاغذوخط اس کا نہایت عمدہ ہے۔ ایڈیٹر صاحب اس کے ہر ہفتہ میں ایک دو مضامین لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے معاونین ہیں جو ہر قسم کے مضامین لکھا کرتے ہیں۔ یہ اخبار مدراس کی طرف خوب بکتا ہے۔ ایک خرابی بڑی یہ ہے کہ اردو وہاں کی محض خراب ہے۔ عبارت اخبار کے ایڈیٹر کی لکھی ہوئی بہ اعتبار اردو اہل دہلی کے غیر فصیح ہوتی ہے۔ مالک ایڈیٹر اس کے منشی محمد قاسم ممدوح لائق اور بیدار مغز آدمی اور شاعر ہیں۔ اخبار پندرہ سال سے چھپتا ہے اور سب مدراسی اخباروں سے بہتر ہے۔‘‘
تقریباً پچاس سال تک ’قاسم الاخبار‘ کا صحافتی سفر جاری رہا اور شاید آگے بھی جاری رہتا اگر انگریزوں کی بے جا پابندیاں نہ ہوتیں، بہر حال اس اخبار نے کرناٹک میں اخبار بینی کا ماحول عام کیا۔ لوگوں کو خبروں کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ اس اخبار نے کرناٹک میں اردو صحافت کے لیے راہ ہموار کی اور وہاں یکے بعد دیگرے اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ قائم ہوا، جن مین ’طلسم کرتان‘ ، ’منشور محمدی‘ ، ’میسور اخبار‘، ’باد صبا‘ اور ’احسن الاخبار‘ وغیرہ کے نام تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ خاص کر ’’طلسمِ کرتان‘‘ جو اگست ۱۸۶۵ء میں منظر عام پر آیا اور بہت جلد اس نے کامیابی اور شہرت حاصل کر لی۔ اس اخبار کے متعلق مولوی عبدالحق نے اپنے مضمون ’’انیسویں صدی میں اردو اخبار‘‘ مطبوعہ ماہنامہ اورنگ آباد میں لکھا ہے کہ اختر شہنشاہی میں اس اخبار کا ذکر ہے اور اس کو بنگلور کا ہفتہ وار بتایا گیا ہے۔
اگرچہ حکومت کی بے اعتنائی اور مالی وسائل کی کمی کے باعث ان اخبارات کی عمریں قلیل رہی ہیں لیکن ان سے تحریک پاکر ریاست کرناٹک کے بیشتر اضلاع مثلاً گلبرگہ، بیدر، بیجاپور، رائے پور، بنگلور، میسور، ٹمکور، ہبلی اور شیموگہ وغیرہ سے بھی اردو اخباروں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہوا۔ اس مختصر سے مقالہ میں ان تمام اخباروں کا ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔
حیدرآباد میں اردو صحافت کا آغاز سہ ماہی رسالہ سے ہوتا ہے جو ایک طبی رسالہ تھا۔ جس کے سنہ اشاعت اور مدت اشاعت کے متعلق محققین میں اختلاف رائے ہے۔ اس سہ ماہی کی اشاعت کے بعد ہفت روزہ اور پھر روزناموں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ حیدرآباد سے جاری ہونے والے اردو کے پہلے ہفت روزہ کے سلسلے میں بھی محققین میں اختلاف ملتا ہے۔ ’اردو صحافت انیسویں صدی میں‘ کے مصنف ڈاکٹر طاہر مسعود ’آصف الاخبار‘ کو حیدرآباد کا پہلا اخبار قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا۔ اس کے مالک و مدیر نارائن راؤ تھے۔ جن کے متعلق نصیرالدین ہاشمی کا قول ہے:
’’یہ امر خصوصیت سے قابل تذکرہ ہے کہ حیدرآباد کا پہلا ہفتہ وار اردو اخبار جاری کرنے والے ایک ہندو بزرگ تھے جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی، بلکہ یہ صرف حیدرآباد کے ماحول کا اثر اور عوام کی ضروریات کے باعث ہے کیوں کہ عام بول چال کے علاوہ اردو کو ادبی حیثیت بھی حاصل ہو گئی تھی۔ اسی وجہ سے ہفتہ وار اخبار کی اجرائی ہوئی تو وہ تلنگی یا مرہٹی کے بجائے اردو میں ہوئی۔ ’آصف الاخبار‘ میں خبروں کے علاوہ ادبی مضامین کی شمولیت بھی ہوتی تھی۔‘‘ ۱؎
بدر شکیب ۱۸۷۷ء میں شائع ہونے والے ’’خورشید دکن‘‘ کو حیدرآباد کا پہلا اخبار تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حیدرآباد کا سب سے پہلا اخبار ’خورشید دکن‘ ہے جو پہلے ۱۸۷۷ء میں بہ ادارت مرزا کاظم جاری ہوا اور ۱۸۷۸ء میں بند ہو گیا۔‘‘ ۲؎
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید بھی ’خورشید دکن‘ کو ہی حیدرآباد کی اردو صحافت کا پہلا اخبار مانتے ہیں۔ ۳؎
’خورشید دکن‘ کی مانند ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۳ء کے مابین صحافت حیدرآباد میں ’مفید عام‘ ’رحمانی‘ ’دارالطبع‘ اور ’متین کرتان‘ وغیرہ ایسے اخبارات ہیں جن کا ذکر ’تاریخ اختر شہنشاہی‘ میں ملتا ہے۔
حیدرآباد میں روزناموں کی ابتداء ۱۸۸۳ء میں ’ہزار داستان‘ کے اجراء کے ساتھ ہوتی ہے۔ پہلی مرتبہ سید حسن بلگرامی کی ادارت میں نکلنے والے اس روزنامہ کو جناب اختر حسن نے حیدرآباد کا پہلا اردو روزنامہ قرار دیا ہے۔ ۴؎
اختر حسن کی طرح بدر شکیب بھی ’ہزار داستان‘ کو حیدرآباد سے شائع ہونے والا پہلا روزنامہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق:
’’حیدرآباد کا پہلا اردو روزنامہ ’ہزار داستان‘ ہے جو ۱۸۸۳ء میں محمد سلطان عاقل دہلوی کی ادارت میں جاری ہوا اور پانچ سال تک نکلتا رہا۔‘‘ ۵؎
یہ حقیقت ہے کہ ’ہزار داستان‘ ۱۸۸۳ء میں شائع ہوا اور یہ بھی سچ ہے کہ محمد سلطان عاقل دہلوی اسی زمانے میں ’ہزار داستان‘ سے منسلک ہوئے لیکن اس سنہ میں یہ اخبار روزنامہ نہ ہوکر ہفت روزہ تھا جو دو برس بعد روزنامہ کی صورت میں شائع ہونے لگا۔ اس سلسلے میں نصیرالدین ہاشمی لکھتے ہیں:
’’اس دور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ روزانہ اخبار بھی شائع ہونے لگے اور یہ اخبار ’ہزار داستان‘ہے۔ پہلے ہفتہ وار شائع ہوتا تھا مگر ۱۸۸۵ء سے روزانہ شائع ہونے لگا۔ اس کے ایڈیٹر غالب کے شاگرد محمد سلطان عاقل تھے۔‘‘ ۶؎
بعض محققین ’پیک آصفی‘ کو حیدرآباد کا پہلا روزنامہ قرار دیتے ہیں جو یکم جنوری ۱۸۸۴ء میں جاری ہوا تھا۔ سنہ اشاعت کے پیش نظر ’پیک آصفی‘ حیدرآباد کا پہلا روزنامہ قبول کیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ ’ہزار داستان‘ کے روزنامہ قرار پانے کے ایک برس قبل بطور روزنامہ جاری کیا گیا تھا۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد سے شائع ہونے والے روزناموں میں ’پیک آصفی‘ اور ’ہزار داستان‘ کے علاوہ ’سفیر دکن‘ ’مشیر دکن‘ اور ’صحیفہ‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنھوں نے حیدرآباد کی اردو صحافت کو بلندی عطا کی۔ اس سلسلے میں جناب اختر حسن جنھوں نے اپنے مضمون ’حیدرآباد کی اردو صحافت کے سو سال: سیاسی اور سماجی آئینہ میں‘ میں حیدرآباد کی اردو صحافت کی ایک صدی کو پانچ ادوار میں منقسم کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’انیسویں صدی کے آخری سال یا بیسویں صدی کے آغاز سے حیدرآباد کی اردو صحافت کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ مولوی امجد علی اشہری نے ۱۸۹۹ء میں روزنامہ ’سفیر دکن‘ جاری کیا۔ اسی سال ’مشیر دکن‘ بھی وجود میں آیا جو آج بھی جاری ہے۔ انیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں متعدد روزنامے نکلے جن کا لب و لہجہ اٹھارویں صدی کے اخبارات و جرائد کے لب و لہجے سے مختلف تھا۔‘‘ ۷؎
مذکورہ بالا روزناموں اور ہفتہ وار اخبارات کے علاوہ جن اخباروں نے اردو صحافت کی بنیادوں کو مستحکم کیا ان میں ’شوکت اسلام‘ (مدیر حاجی فرقان ۱۸۸۴ء)، ’معلم شفیق‘ (مدیر محب حسین ۱۸۸۴ء)، ’اخبار آصفی‘ (مدیر محمد سلطان عاقل۱۸۸۵ء) ’دکن پنچ‘ (مدیر کشن راؤ ۱۸۸۷ء)، ’خیال محبوب‘ (مدیر عبدالسلام عرش۱۸۸۷ء)، ’محبوب القلوب‘ (مدیر عبدالسلام ۱۸۸۹)، ’ملک و ملت‘ (مدیر سید احمد ناطق ۱۸۹۵ء)، ’نظارۂ عالم‘ (مدیر قدرت اللہ مضطر ۱۸۹۶)، ’جام جمشید‘ (مدیر محمد ابراہیم ۱۹۰۱ء) وغیرہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔
حیدرآباد کے اردو اخبارات کے تعمیری کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر طبیب انصاری لکھتے ہیں:
’’حیدرآباد کے اردو اخباروں کا کام صرف یہی نہیں تھا کہ جگہ جگہ کی مختلف خبریں شائع کرکے عوام کی دلچسپی اور ان کی معلومات میں اضافہ کیا جائے بلکہ ان میں اصلاح حال کا شعور پیدا کیا جائے، اور ان کی فکر و رائے کی صحیح سمت میں رہنمائی کی جائے۔ تاکہ ملک و قوم کے مسائل حل کرنے میں رائے عامہ کی تعمیر و تشکیل میں مدد ملے۔ ان ہی اخباروں کی بدولت گھر گھر علم و دانش کے چراغ روشن ہوئے، شعروادب کی محفلیں آراستہ کی گئیں اور جب ابتلاء و مصائب کے طوفان آئے تو ڈگمگائے قدموں کے لیے نئی زمین ہموار کی گئیں۔ اس زمانے کے جرائد و اخبار کہنے کو تو خبر نامے تھے لیکن خبروں کی فراہمی اور اشاعت کچھ اس طرح ہوتی کہ حکومت بھی چونک پڑتی۔‘‘ ۸؎
سر زمین دکن نے اردو زبان ادب کی ترقی و ترویج کے سلسلے میں ہر دور میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ یہاں کی علمی و ادبی، ثقافتی، سیاسی، مذہبی، معاشی و معاشرتی سرگرمیوں کا ٹھیک ٹھیک اندازہ یہاں سے شائع شدہ اخبارات و رسائل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دکن کی صحافت نے ادب اور سماج کے مختلف شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔
حواشی
۱؎ نصیرالدین ہاشمی : دکن میں اردو ص۵۴۱
۲؎ بدر شکیب: اردو صحافت ص ۱۷۴
۳؎ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید: صحافت پاکستان و ہند میں ص ۷۵
۴؎ اختر حسن : بحوالہ حیدرآباد کے اردو روزناموں کی خدمات ص ۳۸
۵؎ بدر شکیب : اردو صحافت ص۱۷۴
۶؎ نصیرالدین ہاشمی : دکن میں اردو ۶۵۸
۷؎ اختر حسن : ’’حیدرآباد کی اردو صحافت کے سو سال سیاسی و سماجی آئینہ میں‘‘مضمون مطبوعہ روزنامہ سیاست مورخہ ۱۵؍اگست ۱۹۵۹ء
۸؎ ڈاکٹر طبیب انصاری : حیدرآباد میں اردو صحافت ص۱۱
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج،
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں