یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
۲۷؍مئی ۲۰۲۱ کو کیرالہ کے پلکّڑضلع میںپٹاخوں بھرا اناناس کھانے سے ایک حاملہ ہاتھی کی دردناک موت کا افسوسناک معاملہ سامنے آیا۔ اس خبر کو سب سے پہلے این۔ ڈی۔ ٹی۔ وی۔ کی رپورٹر شیلجا ورما نے بریک کیا۔ شیلجا نے یہ خبر ملیالم زبان کی ایک فیس بک پوسٹ سے اخذ کی تھی لیکن اس میں ان سے نادانستہ طور پر دو غلطیاں سرزد ہو گئیں جس پر انھوں نے بعد میں اظہار افسوس کیا اور معافی بھی مانگی۔ پہلی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے اس واقعہ کو ملپورم ضلع کا بتایا جو کہ ایک مسلم اکثریتی ضلع ہے، دوسرے یہ کہ کسی نے جان بوجھ کر اناناس میں پٹاخے بھر کر کھلایا۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی تل کا تاڑ بنانے والی گودی میڈیا اور نفرت کو فروغ دینے والی آئی۔ ٹی۔ سیل فوراً متحرک ہو گئیں اور انھوں نے اسے ملک کے سب سے بڑے المیہ کے طور پر پیش کیا۔ یہاں تک کہ نفرت کی آگ کو ہوا دینے میں مرکزی وزراء بھی فعال ہو گئے۔ یہ بات دیگر ہے کہ یہ وزراء میلوں پیدل ہجرت کرنے والے مزدوروں کے درد، بھوک اور حادثوں سے ہونے والی ان کی موت پر مہر بہ لب رہے۔
بظاہر انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس حادثے کی حقیقت بس اتنی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کسان جنگلی جانوروں سے اپنی فصلوں کی حفاظت کے لئے مختلف تدابیر کرتے ہیں جن میں کانٹے والے تار، خندق، بجلی کے تار اور پھلوں میں بارود بھر کر کھیتوں کی باؤنڈری پر رکھنا شامل ہیں تاکہ ان سے خوفزدہ ہو کر یہ آوارہ جانور کھیتوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ بدقسمتی سے ایسا ہی بارودی پھل اس حاملہ ہاتھی نے کھا لیابارود کے اثر سے پریشان ہو کر اپنی جان بچانے کے لئے وہ دوسرے ضلعے میں چلی گئی اور تین دن تک پانی میں کھڑی رہی، وہیں اس کی موت ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی متعدد جانور جن میں ہاتھی بھی شامل ہیں ایسے حادثات کا شکار ہوتے آئے ہیں۔ جانوروں کا اس طرح اپنی جان گنوانا افسوسناک تو ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ زراعت پیشہ عوام اور جنگلی جانوروں کے درمیان ایسا تصادم ہوتا آیا ہے۔ جانوروں سے بے پناہ محبت کرنے والے کسانوں کے اس عمل کو ان کی سنگدلی سے جوڑ کر نہیںدیکھنا چاہئے بلکہ اس کے پیچھے ان کی بے بسی اور لاچاری کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
اس وقت ملک میں کووڈ۔۱۹؍ وبا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاریاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ عوام الناس خصوصاً محنت کش طبقہ میں حکومت کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسے میں ہمیشہ کی طرح اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے سب سے آسان اور مجرب نسخہ آزمایا گیا، اور وہ نسخہ ہے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا۔ این۔ ڈی۔ ٹی۔ وی۔ نے اپنی اس غلطی کی تصحیح کرتے ہوئے ’’ہاتھی کو پٹاخوں سے بھرا اناناس کھلایا گیا‘‘ کو بدل کر ’’ہاتھی نے پٹاخوں سے بھرا اناناس کھایا‘‘ کر دیا۔ لیکن اسی غلطی کو قصداً دہراتے ہوئے ریپبلک ٹی وی، ہندوستان ٹائمس، ٹائمس ناؤ، دی اکونامک ٹائمس، انڈیا ٹو ڈے، اے این آئی، نیوز نیشن وغیرہ نے اس کی خوب تشہیر کی۔علاوہ ازیں بی جے پی کی نام نہاد حقوق حیوانی کی علمبردار مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ’’ ملپورم مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے جانا جاتا ہے، خاص طور پر جانوروں کے ساتھ۔ کسی ناجائز شکاری کے خلاف کبھی ایکشن نہیں لیا گیا اسی لئے وہ ایسا کرتے آ رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ ملپورم میں رونما ہوا جو کہ مسلم اکثریت والا علاقہ ہے۔ انھوں نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے یہی بیان دہرایا۔ اس کے علاوہ ایمان فروش پاکستان نژاد کناڈائی ادیب طارق فتح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی میں پیش پیش رہتا ہے ،نے سلسلے وار ٹویٹ میں این ڈی ٹی وی کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے مسلمانوں کو براہ راست حاملہ ہاتھی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس سلسلے میں مسلم دشمنی میں پیش پیش رہنے والے کچھ اہم ناموں کے علاوہ مرکزی وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاویڈیکر نے بھی ہندو؍مسلم رنگ دینے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ ملپورم کا ہی ہے۔ اگرچہ بعد کی تحقیقات میں یہ واضح ہو گیا کہ یہ واقعہ پلکڑ کا ہے نہ کہ ملپورم کا، چونکہ ملپورم مسلم اکثریتی ضلع ہے اس لئے معاملے کو جان بوجھ کر مسلم مخالف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس سے قطع نظر کہ یہ واقعہ کس ضلع میں پیش آیا یہ بات زیادہ اہم ہے کہ منّارکڑ ڈیویژنل فارسٹ آفیسر(DFO) کے۔کے۔سنیل کمار نے آلٹ نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مادہ ہاتھی نے پٹاخوں سے بھرا ناناس کھایا تھا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، اس نے کسی پھل کے ساتھ پٹاخہ کھایا ہوگا، ہو سکتا ہے اناناس کے ساتھ۔ لیکن یہ محض ایک مفروضہ ہے، ایسا کوئی ثبوت پوسٹ مارٹم میں سامنے نہیں آیا ہے‘‘۔ دی نیوز منٹ کی رپورٹ کا کہنا ہے ’’معاملے کی جانچ کر رہے محکمۂ جنگلات کے افسر کے مطابق اس طرح کے پٹاخوں کو ملیالم میں پنی پڑکم(سور پٹاخہ) کہتے ہیں جن کا استعمال عام طور پر گوشت کے لئے جنگلی سوروں کا شکار کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ دوسرے معاملوں میں اپنے کھیتوں سے جنگلی سوروں کو دور رکھنے کے لئے کسان اس طرح کے جال لگاتے ہیں، جو کہ غیر قانونی ہے۔‘‘ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف) اور چیف وائلڈ لائف وارڈن سریندر کمار نے دی نیوز منٹ کو بتایا کہ ’’مادہ ہاتھی کے زخم بتاتے ہیں کہ وہ بارود کی وجہ سے زخمی ہوئی یہ ہم پختہ طور پر کہہ سکتے ہیں۔یہ کیسے ہوا اور اس کے پیچھے کون تھا ہم جانچ کر رہے ہیں‘‘۔
تحقیقات کرنے والے ابھی یہ نہیں بتا سکے کہ یہ حادثہ کیسے ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن نفرت کی بنیاد پر اپنی تجارت کرنے والے سیاست داں اور میڈیا ہاؤس اس بات پر مصر ہیں کہ اس حادثے کے ذمہ دار مسلمان ہی ہیں۔ اپنی اس بے بنیاد تھیوری کو ثابت کرنے کے لئے انھوں نے دو جھوٹے نام بھی گڑھ لئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے صحت کے میڈیا ایڈوائزر امر پرساد ریڈی، سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت پٹیل اور ٹی وی اینکر دیپک چورسیا جیسی با رسوخ و معروف شخصیات نے یہ دعویٰ کیا کہ حاملہ ہاتھی کے قتل کے معاملے میں امجد علی اور تمیم شیخ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لئے یہ جھوٹا دعویٰ فیس بک اور وہاٹس ایپ پر خوب شیئر کیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے میں جو گرفتاری ہوئی ہے وہ مسلم نہیں ہے۔ دی کونٹ(the quint) نے پرنسپل چیف کنزروہٹر آف فارسٹ (وائلڈ لائف) اور چیف وائلڈلائف وارڈن سریندر کمار سے بات کی تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ’’ اس معاملے میں صرف ایک گرفتاری ہوئی ہے جس کا نام ولسن ہے‘‘ مزید یہ کہ دی کونٹ نے ڈسٹرکٹ پولیس چیف جی۔ شیوا وکرم سے بھی بات کی تو انھوں نے کہا ’’ہم نے ان مسلمان لوگوں کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ ہم نے ولسن نام کے شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دو مسلمانوں کا نام سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا مقصد محض فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینا ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ حقائق سامنے آنے کے بعد دیپک چورسیا اور امر پرساد ریڈی جیسے لوگوں نے تو اپنے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دئے لیکن نفرت کی جو آگ وہ لگانا چاہتے تھے اس میں وہ کامیاب رہے۔
ایک طرف ہاتھی کے قتل پر میڈیا مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی آئی ٹی سیل مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے میں لگی ہے وہیں دوسری طرف دہلی پولیس دہلی میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے خود مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرا کر انھیں ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک حاملہ ہاتھی جس کی ایک حادثے میں موت ہوئی اس کے لئے جن لوگوں کے دل میں ہمدردی اور انسانیت کا دریا موجزن ہے دوسری طرف ایک بے قصور حاملہ عورت کو جھوٹے معاملے میں پھنسا کر جیل کی کال کوٹھری میں ڈال دیا گیالیکن انسانیت کے نام پر اس کے لئے ہمدردی کے دو بول بولنا تو درکنار اندر ہی اندر خوش ہو رہے ہیں۔ یوں تو صفورا زرگر بے گناہ ہے لیکن اگر اسے قصوروار تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کے اندر جو ننھی سی جان پل رہی ہے اس کا کیا قصور ہے؟ اس کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ کووڈ جیسی وبا کے ماحول میں جبکہ حاملہ عورتوں کو خاص تحفظ کی ضرورت ہے اور وزیر اعظم کی گائڈ لائن میں بھی انھیں حفاظت کے طور پر گھر میں ہی رہنے کی صلاح دی گئی ہے ایسے میں اس کو گرفتار کر کال کوٹھری میں ڈالنے کے خلاف اس زعفرانی بریگیڈ کی طرف سے ایک معمولی بیان تک نہیں آیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہاتھی کے نام پرکھڑا کیا گیا یہ ہنگامہ محض ملک کی ابتر ہوتی صورت حال سے عوام الناس کی توجہ دوسری جانب مبذول کرانے کے ہتھکنڈے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں