کتنے پر پیچ کتنے گہرے ہیں(غزل)
کتنے پر پیچ کتنے گہرے ہیں
کون کہتا ہے ہم اکہرے ہیں
صرف گفتار پر نہیں قدغن
اب تو جذبات پہ بھی پہرے ہیں
خود اسی نے کیا انھیں پامال
خواب جس نے دیے سنہرے ہیں
وقت بھی جن کو بھر نہ پائے گا
دل کے کچھ زخم اتنے گہرے ہیں
کوئی سنتا نہیں ہے فریادیں
کیا زمانے کے کان بہرے ہیں
شہرِ ماضی میں جا کے دیکھو تو
وقت کے کارواں بھی ٹھہرے ہیں
ان میں اپنا نہیں کوئی شاماؔ
یوں شناسا تو سارے چہرے ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں