زندگی کے بار کو ہنس کر اٹھانا چاہیے (غزل)
زندگی کے بار کو ہنس کر اٹھانا چاہیے
درد سینے میں چھپا کر مسکرانا چاہیے
دشمنی کی آگ سے نفرت کا اٹھتا ہے دھواں
پیار کی بارش سے یہ شعلہ بجھانا چاہیے
جس جگہ انسانیت کی لہلہاتی ہو فصل
بس وہیں سے ہم کو اپنا آب و دانہ چاہیے
جانے والی ہے خزاں آنے ہی والی ہے بہار
ہر دل مضطر کو یہ مژدہ سنانا چاہیے
یہ جہاں تو آخرت کی کِشت ہے سنیے جناب
جب جہاں جیسے ملے نیکی کمانا چاہیے
کیا ہوا گر پر شکستہ ہے پرندِ زندگی
حوصلوں کے پنکھ سے اس کو اڑانا چاہیے
دشمنی کی رسم ہو یا دوستی کی ہو قسم
ہو کوئی رشتہ دیانت سے نبھانا چاہیے
کیوں ہے شاماؔ زندگی کی تلخیوں سے دل فگار
راہ کیسی ہو کٹھن بڑھتے ہی جانا چاہیے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں