جاگتی ہوں میں رات بھر تنہا (غزل)
جاگتی ہوں میں رات بھر تنہا
زندگی ہو رہی بسر تنہا
زندگی کے عجب دوراہے پر
کر گیا مجھ کو راہبر تنہا
ساری خوشیاں تو عارضی ہیں مگر
ہے فقط درد معتبر تنہا
کتنے تارے فلک پہ ہیں لیکن
چاند کرتا ہے کیوں سفر تنہا
جس کی شاخیں تھیں سب پہ سایہ فگن
رہ گیا آج وہ شجر تنہا
قافلے منزلوں پہ جا پہنچے
رہ گئی دل کی رہ گزر تنہا
خواب پلکوں پہ سو گئے سارے
جاگتی رہ گئی نظر تنہا
شامؔا خوشیاں تو بانٹ دیتی ہوں
اشک پیتی ہوں میں مگر تنہا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں