بے زمان و مکان لگتا ہے (غزل)

بے زمان و مکان لگتا ہے

یہ سفر بے نشان لگتا ہے


ضرب پڑتے ہی چیخ اٹھتا ہے

جو شجر بے زبان لگتا ہے


میرے اپنوں کی مہربانی سے

گھر بھی مجھ کو مکان لگتا ہے


اک نیا زخم بخش دیتا ہے

جب بھی وہ مہربان لگتا ہے


آپ کے ایک روٹھ جانے سے

روٹھا روٹھا جہان لگتا ہے


مشکلوں کے سفر میں ساتھ ترا

دھوپ میں سائیبان لگتا ہے


شاماؔ کیوں تجھ کو اپنی بستی سے

دشت یہ پر امان لگتا ہے

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا