نئی صبحیں بنا لوں گی نئی شامیں بنا لوں گی (غزل)
نئی صبحیں بنا لوں گی نئی شامیں بنا لوں گی
میں اپنی زندگی کو اک نئے قالب میں ڈھالوں گی
شکستہ پر ہوں میں لیکن، مری ہمت ہے فولادی
میں اپنے حوصلوں سے آسماں کو بھی جھکا لوں گی
بنا کر قوت بازو کو ہی پتوار میں اپنے
اے بحر زندگی اک دن ترے ساحل کو پا لوں گی
نہیں کچھ غم اگر گرداب میں میرا سفینہ ہے
عصائے عزم سے میں اک نیا رستہ بنا لوں گی
مری راہیں بہت مشکل، بڑی پر خار ہیں لیکن
انہی راہوں پہ چل کے دیکھنا منزل کو پا لوں گی
عزائم سے مرے شاماؔ اندھیرے ہار جائیں گے
افق پر زندگی کے اک نیا سورج اگا لوں گی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں