عصمت کا باغیانہ شعور
تخلیقی اظہار کی سطح پر تانیثیت مختلف زبانوں کے نسائی ادب میں شروع سے ہی موجود رہی ہے۔ خواتین قلم کاروں نے اپنے اپنے عہد کے تناظر میں اس شعور کی ترجمانی کی ہے۔ عہد جدید تک آتے آتے تخلیقی ادب میں خواتین کا رول نہایت اہم اور فعال ہوتا گیا، اور ان کا دائرۂ عمل وسیع ہوتا گیا۔ خواتین نے سیاسی، سماجی، معاشی،جنسی، عالمی تناظر میں اپنی تخلیقات پیش کر کے اپنے سیاسی شعور، سماجی بصیرت اور عصری آگہی کا ثبوت دیا۔نسائی تحریکات کے پس منظر میں تانیثی شعور نے اپنی ایک انفرادی شناخت قائم کر لی ہے۔ اردو ادب میں اس شعور کی بے باک ترجمانی کرنے والی قلم کاروں میں عصمت چغتائی، رشید جہاں ، قرۃالعین حیدر، ممتاز شیریں، رضیہ سجاد ظہیر، رضیہ فصیح احمد، صالحہ عابد حسین، جمیلہ ہاشمی، جیلانی بانو،خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، بانو قدسیہ وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اردو کے نسائی ادب کو ایک نیا روپ ایک نئی سمت اور نیا افق عطا کرنے والی ان خواتین قلم کاروں میں عصمت چغتائی کا نام سر فہرست ہے۔ خواتین کے مسائل کو اگر عصمت کے ادب کا محور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان کے زیادہ تر افسانے اور ناول متوسط طبقے کی خواتین کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور ان سے وابستہ مسائل کو مرکز میں رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ایک انٹرویو میں کہتی ہیں:
’’میرا ہمیشہ سے یہ شوق تھا کہ میں اپنے افسانوں کے ذریعے نچلے متوسط طبقہ کی عورتوں تک پہنچوں، کیونکہ میں لکھتی ہی ان کے لیے تھی۔ اس لیے ہمیشہ اپنے افسانے ایسی میگزین میں بھیجتی تھی جو فلمی ہوں اور عورتوں تک پہنچتی ہوں۔‘‘۱؎
دراصل عصمت کی تانیثیت ان کے اپنے گھرانے سے شروع ہوتی ہے، اور وہیں ان کے اندر باغیانہ شعور کی تخم ریزی ہوتی ہے۔عصمت نے متوسط طبقے کے ایک ایسے خاندان میں جنم لیا جہاں بچوں کی کثرت تھی۔ ایسے میں ہر بچے کی خاطرخواہ نگہداشت ممکن نہ تھی۔ دس بچوں کی ماں کا حالات کے زیر اثر چڑچڑی ہونا اور اپنے ہی بچوں کو وبال جان سمجھنا فطری تھا۔ اس نفسیاتی حقیقت کا اظہار عصمت ان الفاظ میں کرتی ہیں:
’’ہم اتنے سارے بچے تھے کہ ہماری اماں کو ہماری صورت سے بھی قے آتی تھی۔ ایک کے بعد ایک ہم ان کی کوکھ کو روندتے کچلتے چلے آئے تھے۔ الٹیاں اور درد سہہ سہہ کر وہ ہمیں ایک سزا سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھیں۔‘‘۲؎
متوسط طبقے کے ماحول کی پروردہ عصمت اس طبقے کی معاشی لاچاری، ذہنی تصادم، مصالحت پسندی، خود غرضی، ریا کاری اور منافقت جیسی اخلاقی کمزوریوں کی عکاسی کرتے وقت ان کے لیے ذمہ دار عوامل کی نشاندہی کرنا نہیں بھولتیں:
’’…اپنے بچپن میں نے نوکروں کی ایسی درگت دیکھی کہ مجھے آقا اور نوکر کے نام سے نفرت ہو گئی۔میری بہت سی کہانیوں میں نوکروں کے کردار نظر آتے ہیں، کمزور و لاچار نوکر، جھوٹے، مکار، چالباز نوکر، میری کہانیاں نوکروں سے بھری پڑی ہیں۔ میری محدود دنیا میں تفریق نوکر اور آقا کے رشتہ میں نظر آئی۔ اس نے مجھے متاثر کیا جب باقی کی وسیع دنیا سے سابقہ پڑا تو پتہ چلا اونچ نیچ ذات پات صرف ڈھونگ ہے، اصل چیز امیری اور غریبی ہے۔‘‘۳؎
ان کی انتہائی حساس فطرت انھیں زندگی کے ہر پہلو کا عمیق مشاہدہ اور غور و خوض کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ زندگی کے ذاتی تجربات ہر تخلیق کار کی تخلیق کے بنیادی عنصر ہوتے ہیں۔ عصمت بھی اس حقیقت کو قبول کرتی ہیں کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اس ماحول ان حالات کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جن کے درمیان اس کی پرورش و پرداخت ہوتی ہے۔ اپنی زندگی کے واقعات کے متعلق انھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی بے باک فطرت اور باغیانہ شعور کو جاننے سمجھنے میں معاون ہیں۔ کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’بچپن جیسے تیسے بیتا۔ یہ کبھی پتہ نہ چلا کہ لوگ بچپن کے بارے میں ایسے سہانے راگ کیوں الاپتے ہیں۔ بچپن نام ہے بہت سی مجبوریوں کا محرومیوں کا۔ بڑے ہوکر ایک پوزیشن بنتی ہے جو نا انصافیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتی ہے۔‘‘۴؎
’’میری اماں کو میری حرکتیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ میرے انجام کی انھیں سخت فکر تھی۔ یہ مرد مار عورتیں زیب نہیں دیتیں، وہ اتنی گہرائی سے نہ ان باتوں کو سمجھتی تھیں اور نہ سمجھا سکتی تھیں۔ مگر مجھے معلوم ہوا کہ میری اماں کیوں ڈرتی تھیں۔ یہ مرد کی دنیا ہے، مرد نے بنائی اور بگاڑی ہے۔ عورت ایک ٹکڑا ہے اس کی دنیا کا جسے اس نے اپنی محبت اور نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ وہ اسے موڈ کے مطابق پوجتا بھی ہے اور ٹھکراتا بھی ہے۔ عورت کو دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے نسوانی حربوں سے کام لینا پڑتا ہے۔۵؎
عصمت نے جس زوال آمادہ جاگیردارانہ معاشرے میں آنکھیں کھولی تھیںوہاں مرد و زن دونوں کی حیثیت میں، معاشرتی اصول و ضوابط میں بہت فرق تھا۔ مرد تمام بندشوں سے آزاد اور عورت سماج کے بندھنوں میں جکڑی، اپنے ہی گھر میں قید ، اپنے ہی خاندان میں تفریق کا شکار۔ بیٹے اور بیٹی میں یہ فرق عصمت کو منظور نہ تھا۔ پدرانہ نظام معاشرت کی اس دوغلی پالیسی نے انھیں خود سر، ضدی، اکھڑ اور منھ زور بنا دیا۔ تعلیم اور کھیل کود کے دوران بھائیوں سے مار پیٹ، کم سنی میں شادی کے لیے راضی نہ ہونا یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو ان کے باغیانہ مزاج کی نشان دہی کرتی ہیں۔ عصمت کی تانیثیت کی بنیاد روایتی اور کتابی علم نہیں بلکہ ان کی عملی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ انھوں نے زندگی میں جو کچھ دیکھا جو کچھ سہا اسے ہی اپنی تصنیفات کا حصہ بنایا، اور ایک عورت جب اپنے تجربات کو بنیاد بنا کر لکھتی ہے تو اس کا تمام تر تخلیقی سرمایہ اکثر پدرانہ بالادستی کا مخالف اور باغیانہ نسائی شعور سے لبریز ہوتا ہے، جس میں بندشوں کو توڑ کر آزاد ہونے کی آرزو، آزادیٔ اظہار کی تمنا اور سماج سے نا برابری کے داغ کو مٹانے کی خواہش ہوتی ہے۔ عصمت خود لکھتی ہیں:’’میں نے زندگی میں جو جمی ہوئی، پرانی، پٹی ہوئی لکیریں تھیں ان کو مٹا کے ان سے بغاوت کرکے لکھا۔‘‘
اس زمانے میں ہم جنسیت جیسے موضوع پر لکھنے کی جسارت اگر کوئی کر سکا تو وہ عصمت ہی تھیں۔انھوں نے اپنی کہانی لحاف میں نہایت بے باکی سے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، جس کے لیے ان کے حصے میں شہرت اور بدنامی دونوں آئے۔لحاف میں موجود ہم جنسیت کا مقصد نفسانی خواہشات کو برانگیختہ کرنا یا شہوانی جذبات کی تسکین کا سامان مہیا کرانا نہیں بلکہ عصمت سماج کے اس کریہہ چہرے کو بے نقاب کرنا چاہتی ہیں جو اس اخلاقی پستی کے لیے ذمے دار ہے۔ ہم جنسیت کتنی ہی قابل مذمت کیوں نہ ہو لیکن اس سے کہیں زیادہ مذموم وہ طرز معاشرت ہے جس کی کوکھ سے اس کا جنم ہوتا ہے۔ عصمت عورت کی فطرت ،اس کی بے بسی، نفسیاتی پیچیدگیاں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی جنسی گھٹن، اس کے حالات سے پیدا شدہ اخلاقی زوال کو پیش کرتے وقت مرد اساس سماج کے ناسور کی بے رحمی سے جراحی کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں پروفیسر عبدالسلام لکھتے ہیں: ’’عصمت کا موضوع سماج کی خرابیوں اور اس کے افراد کی پوشیدہ کمزوریاں ہیں۔ وہ نوجوانوں خاص طور سے نوجوان لڑکیوں کی فطرت کے ایسے ایسے پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں جنھیں چھونے سے بھی لوگ گریز کرتے تھے۔ ہمدردی اور رعایت کا ان کے یہاں گزر نہیں۔‘‘
آزادیٔ نسواں اور حقوق نسواں کی پر زور وکالت کرنے والی عصمت کو عورت کا مرد کے دست نگر رہنا یا اس کا محکوم رہنا گوارہ نہیں عصمت ایسی عورتوں کو جو محض اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے مردوں کے جبرو تشدد برداشت کرتی ہیں ان کے متعلق کہتی ہیں:
’’وہ عورتیں جو روٹی کپڑے کے لیے اپنے شوہر کی حرام کاریاں اور ذلتیں برداشت کرتی ہیں، بیسوا جیسی ہوتی ہیں کہ وہ پیٹ کی خاطر سودا کرتی ہے۔‘‘ ۶؎
عصمت کے افسانے گیندا، کنواری، دو ہاتھ، سونے کا انڈا، بہو بیٹیاں، آدھی عورت آدھا خواب، مقدس فرض، چوتھی کا جوڑا، چھوٹی آپا، عورت، دلہن، ڈائن، جال، بھول بھلیا، اف یہ بچے، جوان، بچھو پھوپھی، کلیاں، چوٹیں، ایک بات، چھوئی موئی اور ان کے ناول ضدی، ٹیڑھی لکیر، معصومہ، دل کی دنیا وغیرہ ان کی تانیثیت اور باغیانہ شعور کی نشان دہی کرتے ہیں۔
عصمت کی افسانوی دنیا گھر کی چہار دیواری تک محدود ہے تو اس لیے کہ ان کی خواتین کا میدان عمل خانگی زندگی ہے اور وہی ان کا میدان کارزار بھی، جہاں انھیں طرح طرح کے جبر، ظلم اور استحصال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آج بھی خواتین پر ظلم و زیاددتی کے زیادہ تر معاملے گھریلو تشدد سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے ہی گھر میں ان کے وجود کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان کے حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ عصمت اپنے باغیانہ شعور کے ذریعے عورت کو اس کے وجود کا عرفان کرانا چاہتی ہیں۔ اس کے گمشدہ تشخص اس کے غصب شدہ حقوق اسے واپس دلانا چاہتی ہیں۔ ترنم ریاض جو اردو کے نسائی ادب کی ایک قوی آواز ہیں عصمت کے متعلق رقم طراز ہیں:
’’عصمت چغتائی کی تصنیفات نسائی ادب کا وہ پہلا سنگ میل ہیں جہاں سے مردوں کے لاگو کیے گئے اصول اور صدیوں سے تیار کیے گئے فیصلوں کے خلاف یلغار کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ ان کی تخلیقات نسائی حسیت اور نسائی شعور کے اظہار کا پہلا تجربہ ہیں‘‘۷؎
عصمت نے حیات نسواں کے گونا گوں پہلوؤ ںکی عکاسی کرتے ہوئے ان پر ہونے والے ظلم و ستم اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ خواہ وہ کم سنی کی شادی ہو، جہیز کے نام پر کیے جانے والے مظالم ہوں، ازدواجی زندگی کی الجھنیں ہوں، یا جنسی پیچیدگیاں انھوں نے خواتین کی زندگی کے تمام مسائل پر بے خوف و خطر قلم چلایا ہے۔ ازدواجی زندگی کے اذیت ناک حالات کے درمیان ایک عورت کی مزاحمت کو جس پختگی کے ساتھ عصمت نے درج کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ناول دل کی دنیا سے ایک مثال ملاحظہ ہو:
’’ہاں! دماغ خراب نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا؟ انسان ہوں، پتھر نہیں۔ پندرہ برس میں مجھے بھاڑ میں جھونک دیا۔ سہاگ کی مہندی پھیکی نہ پڑی تھی کہ سات سمندر پار چلا گیا۔ وہاں اسے سفید ناگن ڈس گئی۔ پر یہ تو بتاؤ میں نے کیا قصور کیا تھا؟ کسی سے دیدے لڑائے تھے؟ کسی سے یاری کی تھی؟ ‘‘۸؎
عصمت کے نسوانی کردار بے بس اور لاچار نہیں وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ان میں حالات کا مقابلہ کرنے کی بے پناہ ہمت ہے۔ ان کی خواتین ناکام اور غیر مطمئن ازدواجی زندگی کی کڑھن سے گھٹ گھٹ کر جینے کی بجائے اس بے جان رشتے کو توڑ کر اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے اور اس میں خوشیوں کا رنگ بھرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھیں تو پدرانہ نظام کے خلاف عصمت کی یہ ایک بڑی بغاوت ہے۔ ان کے پہلے ناول ضدی کی شانتا ایک ایسی ہی عورت ہے جو اپنے شوہر پورن سے نا امید ہوکر اپنی زندگی قربان کرنے کے بجائے اپنی خوشیوں کے لیے اپنے ارد گرد بنے گئے معاشرتی بندشوں کے جال کو تار تار کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
عصمت نے محض سماجی روایات سے ہی نہیں بلکہ ادبی روایات سے بھی بغاوت کی۔ انھوں نے اپنے تخلیقی سفر کے ہر محا ذپر مردانہ بالادستی کو چیلنج کیا، خواہ موضوع کے انتخاب کے نقطۂ نظر سے ہو یا پھر زبان و بیان کی سطح پر۔ انھوں نے ادب کے بندھے ٹکے فارمولے کو بدلنے کی سعی کی ہے۔ جنسی پہلو کی عکاسی خواتین کے لیے ممنوع تصور کی جاتی تھی لیکن عصمت نسوانی زندگی کے مختلف النوع مسائل کی بازیافت کرتے وقت اس کے جنسی پہلوؤں پر کھل کر بات کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان پر فحش اور جنسی افسانہ نویس ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ فحاشی یا جنسیت کا لیبل لگانے والوں کو عصمت یہ یاد دلانا چاہتی ہیں کہ عورت صرف جنسی تلذذ کا سامان نہیں ہے، وہ بھی گوشت پوست کی بنی ایک انسان ہے، اس کے جسم میں بھی نفسانی خواہشات کی نازک رگیں ہوتی ہیں جو کسی کی محبت کی حرارت سے مشتعل یامتحرک ہو سکتی ہیں ، اس کے اپنے جذبات ہیں، اس کے سینے میں بھی دھڑکتا ہوا دل ہے، اس کے بھی کچھ فطری تقاضے ہیں۔ زبان کے سلسلے میں بھی عصمت کو شدید مخالفت کا سامناکرنا پڑا جس کے متعلق وہ کہتی ہیں ’’…اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ میں بکتی ہوں، کیا واہیات زبان استعمال کرتی ہوں اور یہ ادب نہیں بیہودگی ہے۔‘‘ عصمت جب لکھنے بیٹھتی ہیں تو اپنے تجربات کو بیان کرنے کے لیے وہ زبان مستعار نہیں لیتیں۔ وہ کہتی ہیں ’’جو کردار ہوگا میں اس کی زبان استعمال کرتی ہوںاگر وہ کردار گالی کا استعمال کرتا ہے تو میں گالی ضرور استعمال کروں گی۔‘‘
جدید خواتین قلم کاروں میں تانیثیت، خواتین کو با اختیار بنانے اور آزدیٔ نسواں کے لیے اٹھائی جانے والی تمام آوازوں میں عصمت کی آواز آج بھی سب سے بلند ہے۔ عورت کی نفسیات اور اس کے جذبات کی جیسی نشاندہی عصمت کے حقیقت نگار قلم نے کی ہے اس کے اظہار کے لیے نسائی شعور صدیوں سے بے چین تھا۔ دراصل عصمت سماج کے ٹھیکے داروں کو آئینہ دکھاتی ہیں اور آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ ایسے میں تہذیب و تمدن کے نام نہاد محافظوں کا بوکھلا اٹھنا اور عصمت پر طرح طرح کے الزامات کی بوچھار کرنا فطری تھا۔ پھر بھی عصمت نے جو لکھا بے لاگ لکھا بے خوف لکھا۔ کوئی بھی الزام کوئی بھی مقدمہ ان کے قلم کی باغیانہ دھار کو کند نہ کر سکا۔
حواشی
۱؎ عصمت چغتائی انٹرویو طاہر مسعود ص ۴۳۹
۲؎ عصمت چغتائی : کاغذی ہے پیرہن ص۱۹
۳؎ عصمت چغتائی : کاغذی ہے پیرہن ص۲۰
۴؎ عصمت چغتائی : کاغذی ہے پیرہن ص۲۵
۵؎ عصمت چغتائی : کاغذی ہے پیرہن ص۲۶
۶؎ بحوالہ ذوق نظر حیدرآباد جون ۱۹۸۵ :عصمت چغتائی اور طوائف کا تصور ص ۴۱
۷؎ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب ص۱۲۳
۸؎ عصمت چغتائی : دل کی دنیا ص۹۷
ڈاکٹر جوہی بیگم
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج،
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں