بے حسی پہ اے دنی تیری ضرر آتا نہیں (غزل)

 بے حسی پہ اے دنی تیری ضرر آتا نہیں

چشمِ بینا رکھ کے بھی تجھ کو نظر آتا نہیں


مال اور اولاد تیرے امتحاں کی چیز ہیں

آخرت کی راہ میں یہ تیرا گھر آتا نہیں


گر کے جو پہنچے بلندی پر وہی شاہین ہے

گھونسلے میں رہ کے تو یہ بال و پر آتا نہیں


عشق کا حاصل بقا ہے عشق نقشِ نا تمام

گردشِ ایام کا اس پہ اثر آتا نہیں


پاؤں کے نیچے ہیں کانٹے سر پہ تپتی دھوپ ہے

میرے رستے میں کہیں کوئی شجر آتا نہیں


خواب آنکھوں میں سجائے سوچتی ہے ایک ماں

مجھ سے کیوں ملنے مرا نور نظر آتا نہیں


دل کو جو کر لے مسخر حکمراں ہے بس وہی

قلب کی تسخیر کا سب کو ہنر آتا نہیں


جو ہیں اعلیٰ ظرف وہ طوفاں سے گھبراتے ہیں کب

کیسی ہو موجِ بلا ان کو خطر آتا نہیں


ہو رہی پامال تیری عزت و ناموس آہ

ہوش میں تو کس لئے اے بے خبر آتا نہیں


شاماؔ اپنے گیت سے تو قوم کو بیدار کر

یوں تو سوکھی ٹہنیوں پر پھر ثمر آتا نہیں


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا