میں رونا چاہتی تو ہوں مگر یوں رو نہیں سکتی (غزل)
میں رونا چاہتی تو ہوں مگر یوں رو نہیں سکتی
کہ اپنی برد باری کو میں ایسے کھو نہیں سکتی
جہاں ہر سمت قتل و خون کے جلاد رقصاں ہوں
میں ایسے شہر میں اک پل سکوں سے سو نہیں سکتی
خطا تم سے ہوئی سرزد تمھیں کو توبہ کرنا ہے
تمھارے داغِ نسیاں چاہ کر بھی دھو نہیں سکتی
حسد سے زندگی انسان کی دشوار ہوتی ہے
میں ایسے خار اپنے راستے میں بو نہیں سکتی
ذہن پر بار ہیں یہ بے حس و بے جان سے رشتے
کہ دوشِ نا تواں پر ان کو اب میں ڈھو نہیں سکتی
مرے اعداء مرے حاسد ستم گر مجھ کو کہتے ہیں
میں چاہوں بھی اگر شاماؔ ستم گر ہو نہیں سکتی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں