تصور مرا ہو بہ ہو بن گیا وہ (غزل)
تصور مرا ہو بہ ہو بن گیا وہ
مرا دل مری آرزو بن گیا وہ
ہر اک سانس گاتی ہے نغمہ اسی کا
کہ میری رگوں میں لہو بن گیا وہ
اسی سے ہیں آباد تنہائیاں بھی
مرے واسطے رنگ و بو بن گیا وہ
نہیں مال و زر کی مجھے کوئی خواہش
سراپا مری جستجو بن گیا وہ
اسے بھول جاؤں یہ ممکن نہیں ہے
کہ شاماؔ مری گفتگو بن گیا وہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں