دے میری نواؤں میں اثر اور زیادہ (غزل)

 دے میری نواؤں میں اثر اور زیادہ

لفظوں کو برتنے کا ہنر اور زیادہ


کچھ تو مری بے لوث محبت کا بھرم رکھ

للّٰلہ یوں بیداد نہ کر اور زیادہ


تجھ کو نظر انداز کیا جب کبھی میں نے

اٹھتی ہے تری سمت نظر اور زیادہ


ہمت کو شجاعت کو زرہ اپنی بنا لے

دنیا کے مظالم سے نہ ڈر اور زیادہ


اس دہر سے ظلمت کا ہر اک نقش مٹا دے

باطل سے ہو تو سینہ سپر اور زیادہ


شاہین ہے تو کب تری پرواز رکی ہے

کرنا ہے ابھی تجھ کو سفر اور زیادہ


شاماؔ پہ ترا لطف و کرم ہوتا ہے جب جب

جھکتا ہے ترے سجدے کو سر اور زیادہ


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا