نہ حقیقت نہ خواب جیسی ہے (غزل)
نہ حقیقت نہ خواب جیسی ہے
زندگی تو عذاب جیسی ہے
رات دن اس کو پڑھتی رہتی ہوں
تیری صورت کتاب جیسی ہے
ایک لمحہ اسے ثبات نہیں
ہستی اپنی حباب جیسی ہے
تشنہ کامی ہے عشق کا حاصل
یہ محبت سراب جیسی ہے
اس کا لہجہ ہے نرم ریشم سا
بات اس کی گلاب جیسی ہے
شہرِ دل خواہشوں کا ہے مدفن
کیفیت اضطراب جیسی ہے
وقت کے بے رحم سوالوں کا
زندگی تو جواب جیسی ہے
جو محافظ ہے تیری عصمت کی
وہ حیا خود حجاب جیسی ہے
یہ تری شرمگیں نظر شاماؔ
رخ پہ گویا نقاب جیسی ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں