راشدہ خلیل کی شخصیت بزم ادب کے اداریوں کی روشنی میں

محترمہ راشدہ خلیل صاحبہ کا سانحۂ ارتحال اردو ادب وصحافت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اردو دنیا نے ایک قابل بیدار مغز اور باصلاحیت مدیرہ کھودیا ہے۔ بزم ادب سالانہ جریدے کے طور پر محترمہ راشدہ خلیل صاحبہ کا ایک ایسا قابل قدر کارنامہ ہے جسے رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔ موصوفہ کے زیر ادارت دنیائے اردو ادب کو منور کرنے والا علمیت کے بیش بہا جواہر سے مالامال یہ باوقار اور پُر مغز رسالہ خواتین کے لئے کسی عطیۂ الٰہی سے کم نہیں ۔ غالباً صنف نازک کی سر پرستی اور ادارت میں نکلنے والا یہ واحد رسالہ ہے جس میں مرد حضرات کی شمولیت نہیں کے برابر ہے جو سر تا پا خالصتاً خواتین کی ملکیت ہے۔ صنف نازک کے جذبات و احساسات کا آئینہ دار دینی ودنیاوی مشمولات سے مزین یہ جریدہ اپنی مثال آپ ہے۔ اتنے عمدہ ومعیاری رسالے کی اشاعت ومقبولیت اور ہر دل عزیزی کے لئے اس کی مدیرہ محترمہ راشدہ خلیل صاحبہ کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔

محترمہ کی ادارت میں رسالے نے ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی پذیرائی وحوصلہ افزائی کی ہے۔ ایک مدیرہ کی حیثیت سے آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ گلشن اردوزبان و ادب کو سر سبز وشاداب رکھنے کے لئے نئے خون کی آبیاری کتنی ضروری ہے بزم ادب کے بیسویں شمارے (۲۰۱۵) میں رقمطراز ہیںــــ’’ مجھے بے حد خوشی ہے کہ آپ سب قلم کار خواتین نے اپنی نگارشات بہترین اور غیر شائع شدہ ہم کو بھیج کر جریدے کے اصول و معیار کو قائم رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات باعث مسرت ہے کہ اس میں ہماری اردو سے بے حد دلچسپی رکھنے والی خواتین اور اس کی ترویج و اشاعت میں اس کو زندہ وپائندہ رکھنے میں کوشاں اور پیش پیش ہیں۔ اگر آپ تمام قارئین اور قلم کاروں کا تعاون ہمارے شامل حال رہے گا تو ضرور بالضرور آنے والی نسلیں بھی اس سے متعارف ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گی‘‘۔

 اردو زبان و ادب کی ترقی وترویج کے لئے موصوفہ ہمیشہ کوشاں رہیں ، اپنے اداریوں میں اردو کی بقا کے حوالے سے ہمیشہ مثبت اور کار آمد رویہ اپنانے کی وکالت کر تی رہی ہیں۔ ۲۰۰۸ کے شمارے میں لکھتی ہیں’’ اردو زبان کی بقاء اور فروغ صرف اردو داں کی ذمہ داری ہے۔ اردو کو قائم ودائم رکھنے کا خواب جب تک پورا نہیں ہوگا جب تک ہم سب اجتماعی اور انفرادی طور پرٹھوس قدم نہیں اٹھائیں گے۔ نیز ۲۰۱۰کے اداریہ میں تحریر کرتی ہیں’’یہ پرچہ آپ کا ہے ، ہماری یہ محنت ، کوشش، جدو جہد محض اردو داں طبقہ کو زیادہ سے زیادہ اپنی زبان اردو کو نئی نسل تک پہنچانا اور اردو کے شائقین تک پہنچانا ہماری شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والی خواتین کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو صفحۂ قرطاس پر لانا اور اپنے گنج ہائے گراں مایہ کی اپنے طور پر اور عام طور پر اس کی حفاظت ہمارا فرض اولین ہے‘‘۔

 موصوفہ کا اسلوب بیان ان کے مزاج میں انتہائی درجہ کی سادگی بے ریائی اور غیر مصنوعی انداز طبیعت کا ترجمان ہے۔ زبان و بیان پر بے پناہ قدرت کے ساتھ ساتھ ان کے یہاں فکروشعور کی بالیدگی ملتی ہے۔ آپ کا اداریہ ہمیشہ فکر انگیز اور معلوماتی ہوتا ہے۔ اپنے اداریوں کے ذریعے انہوں نے اکثر و بیشتر عصری مسائل وحالات حاضرہ پر تبصرہ کر کے جا بہ جا اصلاح معاشرہ کی سعی کی ہے۔ ۲۰۱۲ کے شمارے میں رقمطراز ہیں’’حسد اور رشک ہماری قوم میں یہ مرض آج کل اس قدر پھیلا ہوا ہے غالباً کسی اور قوم میں نہ ہوگا۔ ملک میں جتنے بھی کام مفید شروع کئے جاتے ہیں ان کے برہم ہونے کی یا نہ ہونے کی وجہ زیادہ تر یہی مرض کارفرما ہوتاہے‘‘۔ وہ صرف مرض بیان کر کے آگے نہیں بڑھ جاتیں بلکہ اس کا علاج بھی تجویز کرتی ہیں۔ اسی اداریہ میں فکر و شعور کو مہمیز کرنے کے لئے بہترین مشورہ دیتی ہیں’’مطالعہ اور مشاہدہ کی عادت ڈالئے اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کیجئے اپنے جذبات اور اپنے  احساسات کے لئے اچھے پیرایہ تلاش کیجئے‘‘۔ مزید یہ کہ خاندانی زندگی کو سنوارنے کے لئے بھی مفید تجاویز پیش کرتی ہیں،’’ضروری ہے کہ خاندان کی مرکزی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات زندگی اور مصروفیات سے وقت نکال کر از سر نو حتی الامکان اپنے رشتوں سے تعلقات قائم کریں‘‘۔ ۲۰۱۱ کے شمارے میں لکھتی ہیں’’انسانی عیبوں کی پردہ پوشی ان ربانی صفات میں سے ہے جس کو اختیار کر کے انسان اللہ کے قریب تر ہوجاتا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی پردہ پوشی کر تے رہیں گے تو یہ نیکی ہم کو اللہ کی رحمت کا حق دار بنائے گی اور اللہ کے بندوںمیں ہمیں احترام کے قابل ٹھہرائے گی ان شاء اللہ‘‘۔

موصوفہ کے اداریوں کے اکثرجملے اقوال زریں کی حیثیت رکھتے ہیں۔چند جملے ملاحظہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔’’خوشحالی میں سخاوت سے دولت ہرگز ضائع نہیں ہوتی‘‘(۲۰۰۸)’’ دانائی، واقفیت اور آگاہی کا نام علم ہے‘‘(۲۰۱۰)۔ ’’علم حاصل کرنا عظیم تر عبادت ہے‘‘(۲۰۱۰)۔’’ اپنی اصلاح دوسروں کی نظر میں ہمیں ہمیشہ اچھا ثابت کرے گی‘‘(۲۰۱۱)۔’’صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوتاہے‘‘(۲۰۱۲)۔’’ کسی بھی کام میں کمال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کے ساتھ روحانی یا جذباتی لگائو پیدا ہوجائے‘‘(۲۰۱۶)۔’’ انسان کا جذبات واحساسات سے عاری ہوکر زندہ رہنا ناممکن ہے‘‘(۲۰۱۶)۔’’دوسروں کی عزت کرنا سیکھئے آپ کو خود بہ خود عزت مل جائے گی‘‘(۲۰۱۶)۔’’ دوسروں کی غلطیوں پر ہماری نگاہ اپنی کوتاہیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتی‘‘(۲۰۱۶)۔’’ عظیم انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کا ہنر جانتا ہے‘‘(۲۰۱۶)۔

محترمہ کی خلاقانہ بصیرت اور فلسفیانہ طرز تحریر ان کے اداریوں کا ایک نمایاں وصف ہے۔ ۲۰۱۰ کے شمارے میں فرماتی ہیں’’ زمانۂ حال ہمیشہ ماضی کی پلکوں کے سائے میں پلتا ہے۔ وہ اس کی اس طرح دیکھ بھال کرتاہے جس طرح ایک چڑیا اپنے بچوں کی نگہداشت آشیانے میں اور آشیانے سے باہر کرتی ہے۔ پھر بچے اپنی اڑان بھرتے ہیں ماضی سے رشتہ توڑنے میں نہ کوئی مصلحت ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ۔ بلکہ اپنا وجود ہی خطرہ میں پڑسکتا ہے‘‘۔ ایک اور جگہ رقمطراز ہیں’’ ہماری طرزِ فکر ہمیشہ مثبت اور مؤثر ہونا چاہئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری زبان ، ہماری ذات سے اگر کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے تو کوئی بات نہیں مگر تلخ کلامی اور دل شکنی سے جتنا دوسروں کو دکھ پہنچ رہا ہے وہ قابل تلافی نہیں ہے‘‘( ۲۰۱۱)۔

۲۰۱۵ کا اداریہ خواتین سے متعلق ان کے فلسفیانہ خیال سے شروع ہوتا ہے۔’’عورت فطرتاً تخیل مزاج ہوتی ہے اس کی گود قو م کے مستقبل کا گہوارہ ہے۔ وہ بچوں کو ننھی منی کہانیاں اور لوریاں سنا کر غیر محسوس طریقہ سے ان کے مزاج کی تربیت کرتی ہے۔ اس طرح بچوں کے معصوم ذہن پر جو نقش منعکس ہوتے ہیں وہ آگے چل کر ان کے کردار سازی میں اہم رول ادا کر تے ہیں ۔۲۰۱۲ کے شمارے میں فطرت انسانی کے ایک کریہہ پہلو پر چوٹ کر تے ہوئے لکھتی ہیں’’ انسان اپنے کو کسی بھی حالت میں کمتر اور پست حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ اس لئے جب اسے کوئی اپنے سے ممتاز نظر آتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ میں کم سے کم اس کے برابر ہوجائوں اور برابری کے دو ہی طریقے ہوسکتے ہیں یا تو وہ خود اتنا ممتاز ہوجائے یا دوسرا شخص گھٹ کر میرے برابر ہوجائے۔ چوں کہ پہلی بات کم نصیب ہوتی ہے اس لئے خوامخواہ دوسرا خیال حسد پیدا کرتاہے‘‘۔

 اسلامی معلومات کے فروغ کے ساتھ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات اور ان کے کردار کو منظر عام پر لانے کا فریضہ بھی موصوفہ بخوبی انجا م دیتی رہی ہیں، ان کے پیش نظر دختران ملت کی صرف دنیوی کامیابی نہیں بلکہ وہ ان کی اخروی کامیابی کی بھی خواہاں ہیں، اس سلسلے میں وہ امہات المومنین ودیگر صحابیات کے ایمان افروز واقعات کو اپنے اداریوں میں مشعل ہدایت کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ مثلاً ۲۰۰۷ کے شمارے میں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے اوصاف جمیلہ کا ذکر کر تے ہوئے یوں رقمطراز ہیں’’ آپ مکہ کی انتہائی صاحب حیثیت اور صاحب جمال خاتون تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ تبلیغ اسلام پر خرچ ہوا۔ اور آپ نے بے حد فراخدلی اور اعلیٰ حوصلگی کے ساتھ اپنا مال بے دریغ مسلمانوں پر خرچ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح سے خدیجۃ الکبریٰ نے سینکڑوں کام مسلمانوں کی منفعت کے لئے کئے‘‘۔  ۲۰۱۵ کے اداریہ میں لکھتی ہیں’’ علم حدیث اور فقہ سے متعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام بلند تر ہے۔ آپ فقہ وحدیث اور دیگر علوم اسلامیہ میں ید طولیٰ رکھتی تھیں‘‘۔ بزم ادب کی قلم کاراور قارئین آپ کے مساعی حسنہ کے معترف ہیں اس ضمن میں ڈاکٹر شہناز صبیح کا مکتوب قابل ذکر ہے۔ فرماتی ہیں’’ بزم ادب ۲۰۱۱ گزشتہ شماروں کی طرح کامیابی سے ہمکنار ہے۔ اس کی انفرادیت اس کی سادگی اور پاکیزہ دینی وادبی مضامین ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلم کارخواتین کے پاکیزہ ماحول اور خیالات کی غماز ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارا آئیڈیل امہات المؤمنین اور دختران رسول ہونا چاہئے‘‘۔

اردو کے نسائی ادب کو تابانی عطا کرنے والا یہ رسالہ محترمہ راشدہ خلیل صاحبہ کی علمی ، فکری، فنی وخلاقانہ صلاحیتوں کا ثمرہ ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحومہ کا لگایا گیا یہ شجر تاصبح قیامت سر سبزوشاداب رہے اور ان کے لئے ثواب جاریہ کا سبب ہو۔ اللہ آپ کی خدمت کو شرف قبولیت بخشے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین۔


 ڈاکٹر جوہی بیگم         

شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج    

الہ آباد

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا