تیر نفرت کا دیکھو اثر کر گیا (غزل)

 تیر نفرت کا دیکھو اثر کر گیا

ذہن میں دشمنی کا زہر بھر گیا


امن کا جو پیمبر رہا عمر بھر

اک درندے کی گولی سے وہ مر گیا


عمر بھر جو رہا موت سے بے خطر

زندگی سے وہی آج کیوں ڈر گیا


نام تیرا عقیدت سے لے گا جہاں

کام ایسا تو کوئی اگر کر گیا


جس کی صورت سے وحشت تھی ہم کو کبھی

آج دل میں وہی اپنے گھر گیا


جبر سہتے رہیں اور کچھ نہ کہیں

ایسے جینے سے اپنا تو جی بھر گیا


بے وفائی کا الزام دے کر مجھے

وہ مرے عشق کو معتبر کر گیا


اس کے ترکِ تعلق کا اک فیصلہ

میری ہستی کو زیر و زبر کر گیا


ٹھوکریں کھا رہے ہیں یوں ہی در بدر

عشق شاماؔ ہمیں بے ہنر کر گیا


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا